Wednesday, June 3, 2026

The Wise Father

It is narrated that a man’s young son used to sleep beside him on the same bed. One night, the child became extremely restless and could not fall asleep. The father asked, “Are you feeling pain somewhere?” The child replied, “Dear father! I am not in pain. Actually, tomorrow is Thursday, and every Thursday our teacher gives an exam on all the lessons taught during the week. I have not memorized this week’s lessons properly, and I fear that if I fail to answer correctly, my teacher will become upset with me and punish me.” 

Hearing the innocent words of his innocent child, tears filled the father’s eyes. He reflected upon himself and said within his heart, “This child only has to answer for one week’s lessons, yet he is so frightened that he cannot even sleep. But I will have to stand in the court of Allah Almighty on the Day of Judgment and answer for a lifetime of sins. Therefore, I should be far more fearful than him.” 

O lovers of the Prophet! Even today, there are righteous people in this world who are reminded of the Hereafter whenever they observe worldly matters. Here is another incident regarding this.


Ahle-e-Siraat Rooh-e-Ameen Ko Khabar Karein


 اہلِ صِراط رُوحِ امیں کو خبر کریں 

جاتی ہے اُمّتِ نبوی فرش پر کریں


اِن فتنہ ہائے حشر سے کہدو حَذَرْ کریں 

نازوں کے پالے آتے ہیں رہ سے گزر کریں


بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کے

ٹکڑوں سے تو یَہاں کے پلے رُخ کِدھر کریں


سرکار ہم کمینوں کے اطوار پر نہ جائیں 

آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں


ان کی حرم کے خار کشیدہ ہیں کس لئے

آنکھوں میں آئیں سر پہ رہیں دِل میں گھر کریں


جالوں پہ جال پڑ گئے لِلّٰہ وقت ہے

مشکل کشائی آپ کے ناخن اگر کریں


منزل کڑی ہے شان تبسّم کرم کرے

تاروں کی چھاؤں نور کے تڑکے سفر کریں


کلکِ رضا ؔ ہے خنجرِ خونخوار برق بار

اعدا سے کہدو خیر منائیں نہ شر کریں

Aah Ya Ghousah Ya Ghaisah Ya Imdaad Kun


 آہ یا غَوثاہ یا غَیثاہ یا امداد کن

یا حَیَاۃَ الْجُوْدِ یَا رُوْحَ الْمَنَا امداد کن


یَا وَلِیَ الْاَوْلِیَاء اِبْنَ نَبِیِّ الْاَنْبِیَا

اے کہ پایَت بر رِقابِ اَولیا امداد کن


دَست بخشِ حضرتِ حماد زیبِ دستِ خود

از تو دَسْتے خواہَد ایں بے دست و پا امداد کن


مجمعِ ہر دو طَریق و مَرجعِ ہر دو فَریق

فاصِلان و واصِلاں را مُقْتَدا امداد کن


واشیاں بر بندہ از ہر سُو ہُجوم آوَرْدَہ اَنْد

یَا عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْوَغَا امداد کن


بہرِ ’’ لَا خَوْ فٌ عَلَیْہِمْ ‘‘ نَجِّنَا مِمَّا نَخَافْ

بہرِ’’ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْں ‘‘ غمہا زِدا امداد کن


اے بامْصَارِ کرم دو قرن پیشیں دو حرم

تو بَمُلکِ اَولیا چوں اِیلِیا امداد کن


عِزُّنَا یَا حِرْزَنَا یَا کَنْزَنَا یَا فَوْزَنَا

لَیْثُنَا یَا غَیْثَنَا یَا غَوْثَنَا امداد کن


شاہِ دیں عمرِ سنن ماہِ زمیں مِہْرِ زَمَن

گاہِ کیں بہرِ فتن برقِ فنا امداد کن


طیّب الاخلاق و حق مشتاق و واصل بے فراق

نَــیِّرُ الْاَشْرَاق وَ لَــمَّاعُ السَّنَا امداد کن


مِہرباں تر بَر مَن اَز مَن از من آگَہ تر زِ مَن

چَند گُویَم سَیِّدا جُودُ النَّدیٰ امداد کن


Aankhein Ro Ro Ke Sujaane Waale


 آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

جانے والے نہیں آنے والے


کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے

ارے او چھاؤنی چھانے والے


ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے

دیس کیوں گاتے ہیں گانے والے


ارے بد فَال بُری ہوتی ہے

دیس کا جنگلا سُنانے والے


سُن لیں اَعدا میں بگڑنے کا نہیں 

وہ سلامت ہیں بنانے والے


آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام

او درِ یار کے جانے والے


پھر نہ کروٹ لی مدینہ کی طرف

ارے چل جُھوٹے بہانے والے


نفس میں خاک ہوا تو نہ مِٹا

ہے مِری جان کے کھانے والے


جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے حورو!

طیبہ سے خُلد میں آنے والے


نِیم جلوے میں دو عَالم گلزار

واہ وا رنگ جمانے والے


حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا

کہتے ہیں اگلے زمانے والے


وہی دُھوم ان کی ہے ما شآء اللہ

مِٹ گئے آپ مِٹانے والے


لبِ سیراب کا صَدقہ پانی

اے لگی دل کی بُجھانے والے


ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں 

راہ میں پڑتے ہیں تھانے والے


ہو گیا دَھک سے کلیجَا میرا

ہائے رُخصت کی سُنانے والے


خلق تو کیا کہ ہیں خالق کو عزیز

کچھ عجب بھاتے ہیں بھانے والے


کشتۂ دشت حرم جنّت کی

کھڑکیاں اپنے سِرہانے والے


کیوں رضاؔ آج گلی سُونی ہے

اُٹھ مِرے دُھوم مچانے والے

Un Ki Mehak Ne Dil Ke Ghunche Khila Diye Hain


 اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں 

جس راہ چل گئے ہیں کُوچے بَسا دیے ہیں


جب آگئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں 

جلتے بُجھا دیے ہیں روتے ہنسا دیے ہیں


اِک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا

تم نے تو چلتے پِھرتے مُردے جِلا دیے ہیں


ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو

جب یاد آگئے ہیں سب غم بُھلا دیے ہیں


ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اُٹھتے ہوں گے

اب تو غنی کے دَر پر بِستر جما دیے ہیں


اَسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قُدسیوں کے

ہونے لگی سَلامی پرچَم جھکا دیے ہیں


آنے دو یا ڈُبو دو اب تو تمہاری جانِب

کَشتی تمہیں پہ چھوڑی لنگر اُٹھا دیے ہیں


دُولہا سے اِتنا کہہ دو پیارے سُواری روکو

مشکل میں ہیں براتی پُرخار بادیے ہیں


اللہ کیا جہنّم اب بھی نہ سَرد ہوگا

رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں


میرے کریم سے گر قطرہ کِسی نے مانگا

دریا بہا دیے ہیں دُر بے بہا دیے ہیں


مُلکِ سُخَن کی شاہی تم کو رضاؔ مُسلَّم

جس سَمْت آ گئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں

Four Evils Inspiring Islamic Speech

Four Evils is a thought-provoking Islamic speech by Ameer-e-Ahl-e-Sunnat, Hazrat Allama Maulana Muhammad Ilyas Attar Qadri. This powerful bayan highlights four destructive evils that can damage a person's faith, character, and relationship with Allah Almighty. Through Quranic guidance, blessed Ahadith, and practical examples, the speech explains how sinful habits can negatively affect both individual and social life.

The bayan encourages self-reform, sincere repentance, and adherence to the Sunnah of the Holy Prophet Muhammad ﷺ. It provides valuable lessons on avoiding harmful actions, developing good character, and striving for spiritual excellence. Four Evils serves as an important reminder for Muslims seeking guidance, moral improvement, and success in this world and the Hereafter.

The Excellence of Ṣalāt upon the beloved Prophet ﷺ 

 A pious person was travelling through a forest when night fell. Formidable beasts were roaming everywhere. He felt afraid,but suddenly remembered this blessed Hadith: “Whoever recites ṣalāt upon me once, Allah sends ten mercies upon him. He recited ṣalāt upon the Prophet and slept in a spot; he spent the entire night in peace, and not a single beast even touched him. Then, (regarding this same Hadith), he said: I recited ṣalāt because ten mercies of Allah descend upon the one who recites it once, and when ten mercies of Allah surround me, what beast would dare to even look towards me.

Dear Islamic brothers! This all depends on the firmness of faith. You observed the firmness of faith of that pious person whereas our state is such that though we are believers, our focus remains more towards outward means. May Allah Almighty make our faith firm as well. 

Tuesday, June 20, 2023

اَبْلَق گھوڑے سُوار

حضرتِ سیِّدُنا احمد بن اسحٰق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَزَّاق فرماتے ہیں : میرا بھائی باوجودِ غُربت رِضائے الٰہی کی نِیّت سے ہر سال بَقَرہ عید میں قربانی کیا کرتا تھا ۔ اُس کے انتِقال کے بعد میں نے ایک خواب دیکھا کہ قِیامت برپا ہو گئی ہے اور لوگ اپنی اپنی قَبروں سے نکل آئے ہیں ، یکا یک میرا مرحوم بھائی ایک اَبْلَق( یعنی دو رَنگے چِتکُبرے ) گھوڑے پر سُوارنظر آیا ، اُس کے ساتھ اور بھی بَہُت سارے گھوڑے تھے ۔ میں نے پوچھا : یَا اَخِیْ! مَا فَعَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِکَ؟ یعنی اے میرے بھائی ! اللہ تَعَالٰینے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ کہنے لگا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بَخْش دیا ۔ پوچھا : کس عمل کے سبب؟ کہا : ایک دن کسی غریب بُڑھیاکوبہ نیّتِ ثواب میں نے ایک دِرہم دیاتھا وُہی کا م آگیا ۔ پوچھا : یہ گھوڑے کیسے ہیں ؟ بولا : یہ سب میری بَقَرہ عید کی قربانیاں ہیں اور جس پرمیں سُوار ہوں یہ میری سب سے پہلی قربانی ہے ۔ میں نے پوچھا : اب کہاں کا عَزْم ہے ؟ کہا : جنّت کا ۔ یہ کہہ کر میری نظر سے اَوجَھل ہو گیا

( دُرَّۃُ النَّاصِحِین ص۲۹۰)

 اللّٰہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔


صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

1. نیت کا اخلاص اور غُربت میں قربانی

واقعے کا آغاز ہی ایک بہت بڑے سبق سے ہوتا ہے کہ حضرت احمد بن اسحٰق کے بھائی غریب ہونے کے باوجود صرف اور صرف رضائے الٰہی (اللہ کی خوشنودی) کی نیت سے ہر سال عید الاضحٰی (بقرہ عید) پر قربانی کیا کرتے تھے۔

  • اخلاص کی طاقت: اسلام میں کسی بھی عمل کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ ایک غریب انسان جب اپنی تنگدستی کے باوجود اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے، تو اس کا وہ عمل بارگاہِ الٰہی میں بہت بلند مقام پاتا ہے کیونکہ اس میں نمود و نمائش کا کوئی عنصر نہیں ہوتا۔

  • قربانی کا حقیقی فلسفہ: قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس، مال اور خواہشات کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کا نام ہے۔ اس غریب بھائی نے ثابت کیا کہ بظاہر اسباب کم ہونے کے باوجود دل میں اللہ کی محبت کا جذبہ صادق تھا۔

2. برزخ اور قیامت کا منظر

حضرت احمد بن اسحٰق نے اپنے بھائی کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہو چکی ہے اور لوگ اپنی قبروں سے نکل رہے ہیں۔ یہ منظر نامہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موت کے بعد ایک ایسی زندگی ہے جہاں ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

  • خواب میں بھائی کا ابلق (دو رنگے چتکبرے) گھوڑے پر سوار ہونا اور اس کے ساتھ دیگر بہت سے گھوڑوں کا ہونا، اس بات کی علامت تھا کہ وہ دنیا کے امتحانات سے سرخرو ہو کر ایک معزز اور پرسکون حالت میں ہے۔

3. مغفرت کا سبب: ایک درہم کی فضیلت

جب بھائی سے پوچھا گیا کہ "اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟" تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نے انہیں بخش دیا ہے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب مغفرت کا سبب پوچھا گیا، تو انہوں نے اپنی سالہا سال کی قربانیوں کے بجائے ایک اور مخلصانہ عمل کا ذکر کیا: "ایک دن کسی غریب بڑھیا کو بہ نیتِ ثواب میں نے ایک درہم دیا تھا، وہی کام آ گیا ۔"

اس سے ہمیں درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

  • حقیر عمل کی عظمت: اللہ پاک کے ہاں عمل کی قیمت اس کی مقدار سے نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود تڑپ اور اخلاص سے ناپی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک درہم اس غریب انسان کی کل کائنات ہو، اور اس نے تنگی کے باوجود محض اللہ کے لیے اس بڑھیا کی مدد کی ہو۔

  • مخلوقِ خدا پر رحم: کسی لاچار اور بوڑھی عورت کی مدد کرنا حقوق العباد کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر رحم کرنے والے بہت پسند ہیں، اور بسا اوقات ایک چھوٹا سا نیک عمل انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

4. قربانیوں کا صلہ اور سواری کا اعزاز

بھائی نے بتایا کہ جو گھوڑے ان کے ساتھ تھے، وہ دراصل ان کی زندگی بھر کی بقرہ عید کی قربانیاں تھیں، اور جس خوبصورت ابلق گھوڑے پر وہ سوار تھے، وہ ان کی زندگی کی پہلی قربانی تھی۔

  • احادیث کی روشنی میں: احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ اپنی قربانی کے جانوروں کو موٹا تازہ اور اچھا بناؤ کیونکہ یہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گے۔ یہ خواب اس حدیثِ پاک کی عملی تصدیق پیش کرتا ہے۔

  • پہلی قربانی کا خاص مقام: پہلی قربانی پر سوار ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان پہلی بار نیکی کی راہ پر قدم بڑھاتا ہے، تو اس کا وہ پہلا جذبہ اور ولولہ اللہ کے ہاں بہت خاص اور یادگار بن جاتا ہے۔

5. آخری منزل: جنت کا عزم

جب ان سے پوچھا گیا کہ اب کہاں کا ارادہ ہے، تو انہوں نے کہا: "جنت کا"، اور یہ کہہ کر وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ یہ جملہ ہر مومن کا اصل ہدف ہے۔ دنیا کی مصیبتیں، غربت اور سختیاں عارضی ہیں، لیکن اگر انسان ایمان اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارے، تو اس کا آخری ٹھکانہ جنت ہی ہے جہاں کوئی غم، کوئی تنگی اور کوئی خوف نہیں ہوگا۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

یہ خوبصورت حکایت ہمیں سکھاتی ہے کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ چاہے وہ عید الاضحٰی کی قربانی ہو یا کسی غریب کو دیا گیا ایک درہم، اگر وہ خالص نیت سے کیا گیا ہے تو آخرت کے کٹھن سفر میں وہ انسان کے لیے آسانی اور سواری کی شکل میں ظاہر ہوگا۔

ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں، نیکی کے کسی موقع کو چھوٹا نہ سمجھیں، اور غریبوں کی مدد کے ساتھ ساتھ سنّتِ ابراہیمی (قربانی) کو پورے ذوق و شوق سے زندہ رکھیں۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔