Saturday, August 15, 2026

Friday Night and Friday Day Wazaaif (شبِ جمعہ و روزِ جمعہ کے وظائف)

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جس نے شبِ جمعہ سورۂ یٰسٓین کی تلاوت کی اُس کی مغفرت کر دی جائے گی۔

(الترغیب والترہیب، ج1، ص298، حدیث: 4)

یہ مبارک فرمان شبِ جمعہ سورۂ یٰسٓین کی تلاوت کی فضیلت اور اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ جمعہ کا دن اور اس کی رات مسلمانوں کے لیے بڑی برکتوں والی ہے۔ اس موقع پر ہمیں چاہیے کہ دنیاوی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر اللہ تعالیٰ کی عبادت، قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر و اذکار، درودِ پاک اور استغفار میں گزاریں۔ سورۂ یٰسٓین کی تلاوت کرتے وقت اس کے معانی پر غور کرنا اور قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے کا عزم بھی کرنا چاہیے۔ گناہوں سے سچی توبہ، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنا اور نیک اعمال اختیار کرنا مسلمان کی زندگی کو سنوارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ جمعہ کی برکتیں حاصل کرنے، قرآنِ کریم سے محبت کرنے اور کثرت سے تلاوت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جو جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اُس کے لیے دو جمعوں کے درمیان ایک نور روشن کر دیا جاتا ہے۔

(شعب الایمان، ج3، ص111، حدیث: 3044)

یہ مبارک فرمان جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کی فضیلت کو بیان کرتا ہے۔ سورۂ کہف کی تلاوت دل کو قرآن کی روشنی سے منور کرتی اور انسان کو آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جمعہ کے دن فرصت نکال کر سورۂ کہف کی تلاوت کریں، اس کے مضامین اور نصیحتوں پر غور کریں اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم سے سچی محبت، جمعہ کی برکتیں حاصل کرنے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جو جمعہ کے دن یا رات میں سورۂ دُخان پڑھے گا اللہ جنّت میں اُس کے لیے ایک گھر بنائے گا۔

(المعجم الکبیر، ج8، ص 201، حدیث: 8026)

یہ مبارک فرمان جمعہ کے دن اور رات قرآنِ کریم کی تلاوت کی فضیلت اور اس کے عظیم اجر کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ سورۂ دُخان کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے مضامین، اللہ تعالیٰ کی قدرت، آخرت کی جواب دہی اور نیک اعمال کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے۔ قرآنِ کریم صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ ہدایت اور اصلاحِ زندگی کے لیے بھی نازل ہوا ہے۔ ہمیں اس فضیلت کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنِ پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم سے محبت، اخلاص کے ساتھ تلاوت اور جنت میں گھر پانے والے اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   سورۂ قمر کو شبِ جمعہ میں پڑھنے سے دشمنوں پر فتح ملتی ہے اور مرادیں پوری ہوتی ہیں۔

(جنت کی چابیاں، ص59 / مکتبۃ المدینہ کراچی)

سورۂ قمر کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے مضامین اور نصیحتوں پر غور کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ قرآنِ کریم انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت، آخرت کی جواب دہی اور نیک اعمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اپنی حاجات اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگنی چاہیے اور اسی پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی تلاوت، سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   جو شخص جمعہ کے دن نمازِ فجر سے پہلے تین بار

اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِ

پڑھے اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۔

(معجم اوسط، ج5، حدیث: 7177)

یہ مبارک عمل اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے اور اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جمعہ کا دن رحمتوں اور برکتوں والا دن ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس دن کثرت سے استغفار، درودِ پاک، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کریں۔ استغفار کے ذریعے بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری اور محتاجی کا اعتراف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار بنتا ہے۔ صرف زبان سے استغفار کرنے کے ساتھ دل سے گناہوں پر ندامت اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ بھی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ استغفار کرنے، گناہوں سے سچی توبہ کرنے اور اپنی رحمت و مغفرت سے مالا مال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جو مجھ پر شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ سو بار درود شریف پڑھے اللہ پاک اس کی سو حاجتیں پوری فرمائے گا 70 آخرت کی اور 30 دنیا کی۔۔

(شعب الایمان، ج3، ص111، حدیث: 3035)

یہ مبارک فرمان جمعہ کے دن اور رات درودِ پاک کی کثرت کی فضیلت کو بیان کرتا ہے۔ جمعہ مسلمانوں کے لیے رحمت، برکت اور نیکیوں کا خصوصی دن ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس بابرکت موقع پر محبت و عقیدت کے ساتھ کثرت سے درودِ پاک پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کریں۔ درودِ پاک پڑھنے سے دل کو سکون، روح کو تازگی اور حضورِ اکرم ﷺ سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اپنی حاجات پیش کرتے وقت اللہ تعالیٰ ہی سے دعا مانگنی چاہیے اور اُس کی رحمت پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ صرف اپنی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی بھلائی، مغفرت اور سلامتی کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ درودِ پاک پڑھنے، سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کرنے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   جب نمازِ جمعہ کا سلام پھیرے تو حالتِ تشہد میں ہی کسی سے بات کرنے سے قبل سات مرتبہ سُوْرَةُ الْفَاتِحَه، سات مرتبہ سُوْرَةُ الْاِخْلَاص، سات مرتبہ سُوْرَةُ الْفَلَق، سات مرتبہ سُوْرَةُ النَّاس پڑھے، جو شخص ایسا کرے گا ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک محفوظ ہو جائے گا اور یہ وظیفہ اس کے لیے شیطان سے آڑ ہو گا۔

(قوت القلوب، ج1، ص 343 / مکتبۃ المدینہ کراچی)

یہ عمل قرآنِ کریم سے تعلق مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جمعہ کے دن نماز اور تلاوت کے ساتھ ذکر و اذکار، درودِ پاک اور استغفار کا بھی اہتمام کریں۔ خصوصاً معوذتین یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ نیک اعمال میں اخلاص اختیار کرے اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ فرمائے اور قرآنِ کریم کی برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین۔

v   جو جمعہ کے دن یہ کلمات 70 مرتبہ پڑھے اس کے رزق میں برکت ہو گی:

اَللّٰهُمَّ اَغْنِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَ اَکْفِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ

(راہِ علم، ص 93 / مکتبۃ المدینہ کراچی)

یہ نہایت جامع دعا ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے حلال رزق کے ذریعے حرام سے بچنے اور اپنے فضل کے ذریعے تمام مخلوق سے بے نیاز ہونے کی التجا کرتا ہے۔ جمعہ کا دن برکتوں اور رحمتوں والا دن ہے، اس لیے اس دن ذکر و اذکار، درودِ پاک، تلاوتِ قرآن اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ رزق میں برکت کے لیے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا رکھنے کے ساتھ حلال روزی کمانا، سچائی اختیار کرنا، نماز کی پابندی کرنا اور حرام ذرائع سے بچنا بھی ضروری ہے۔ اس دعا کو اخلاص اور یقین کے ساتھ پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق کی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے، حرام سے محفوظ رکھے اور اپنے فضل سے بے نیاز فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   جو کوئی (سال بھر میں جب بھی) نمازِ جمعہ سے قبل تین بار سُوْرَةُ الْقَدْر پڑھتا ہے اللہ عزوجل اس روز کے تمام نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے۔

(فیضانِ سنت، ج1، ص 1129 / مکتبۃ المدینہ)

سورۂ قدر میں شبِ قدر کی عظمت، قرآنِ کریم کے نزول اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں کا ذکر ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ نمازِ جمعہ کی تیاری وقت سے پہلے کرے، پاکیزگی اختیار کرے، اچھے لباس کا اہتمام کرے، درودِ پاک پڑھے، ذکر و اذکار کرے اور نماز سے پہلے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہے۔ ایسے نیک اعمال دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے منور کرتے اور آخرت کے لیے نیکیوں کا ذخیرہ فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں ہر عمل اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جمعہ کی برکتیں نصیب فرمائے، قرآنِ کریم کی محبت عطا فرمائے اور نیک اعمال کی توفیق دے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

يَا بَصِيْرُ

v   جو شخص جمعہ کی نماز سے پہلے 100 مرتبہ پڑھ لے تو اللہ اس کی بصیرت میں اضافہ فرمادے گا اور اسے اچھی باتوں اور نیک کاموں کی توفیق نصیب فرمائے گا۔

(روح البیان، سباء تحت الآیۃ11، 268/7)

 یَا بَصِیْرُ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہے، جس کے معنی ہیں: اے سب کچھ دیکھنے والے! اس ذکر کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور اپنے اعمال کے ہر وقت اس کے علم میں ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس ذکر کے ساتھ اخلاص، عاجزی اور پابندی اختیار کریں، نیکی کی طلب کریں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

يَا مُعِزُّ

v   جو کوئی اسے بعد نمازِ عشاء شبِ جمعہ 140 بار پڑھے مخلوق کی نظر میں اس کی عزت و حرمت اور ہیبت بڑھے گی۔

(مدنی پنج سورہ، ص 269، مکتبۃ المدینہ کراچی)

یَا مُعِزُّ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہے، جس کے معنی ہیں: ”عزت عطا فرمانے والا۔ حقیقی عزت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، اس لیے ذکر کرتے وقت اسی کی بارگاہ سے عزت اور خیر طلب کرنی چاہیے۔ اس وظیفے کو اخلاص، پاکیزہ نیت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ ساتھ ہی فرائض کی پابندی، سنتوں کی پیروی اور اچھے اخلاق اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ 

Friday, August 14, 2026

Baarhwein Ka Noor Dil Pe Chaa Gya (بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

ہر غلامِ مصطفیٰ کہہ رہا ہے مرحبا

انس و جن، فرشتے، حور ہو رہے ہیں سب فدا

انس و جن، فرشتے، حور ہو رہے ہیں سب فدا

شان کی ادا، چہرہ چاند سا

آ گئے نبی، آ گئے نبی (1)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

مستی و سرور میں بزمیِ کائنات ہے

عاشقوں میں دھوم ہے، جشن والی رات ہے

عاشقوں میں دھوم ہے، جشن والی رات ہے

سج گئی زمین، عرش سج گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(2)

 

نورِ نگاہِ انبیا میرے حضور آ گئے

شان و نشانِ کبریا میرے حضور آ گئے

 

سرکار کی آمد: مرحبا!

سردار کی آمد: مرحبا!

مختار کی آمد: مرحبا!

غم خوار کی آمد: مرحبا!

آقا کی آمد: مرحبا!

داتا کی آمد: مرحبا!

مولا کی آمد: مرحبا!

ملجا کی آمد: مرحبا!

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

ربی ہب لی امتی" لب پہ ہے دعا سجی

رب نے بھی کرم کیا، یہ دعا قبول کی

رب نے بھی کرم کیا، یہ دعا قبول کی

پھر نہ کیوں گدا سارے ہوں فدا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(3)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

بی بی آمنہ کا گھر نور سے ہے سر بسر

آ گئے ہیں روشنی میں شام کے محل نظر

آ گئے ہیں روشنی میں شام کے محل نظر

جانِ آمنہ، نورِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(4)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

ہو مبارک آج تاج والے آقا آ گئے

جن کی ملکیت میں دو جہاں سب سما گئے

جن کی ملکیت میں دو جہاں سب سما گئے

مالکِ جہاں، نعمتِ خدا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(5)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

فانیِ حزیں کا گھر بھی قمقموں سے سج گیا

آرزو ہے جھوم کر لبوں پہ آئے یہ صدا

آرزو ہے جھوم کر لبوں پہ آئے یہ صدا

قبر میں تجھے دیکھ کر شہا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(6)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

سرکار کی آمد: مرحبا!

سردار کی آمد: مرحبا!

مختار کی آمد: مرحبا!

سردار کی آمد: مرحبا!

غم خوار کی آمد: مرحبا!

آقا کی آمد: مرحبا!

داتا کی آمد: مرحبا!

مولا کی آمد: مرحبا!

ملجا کی آمد: مرحبا!

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

پرچموں کی ہے بہار، ہے خوشی یہ شاندار

ہر طرف برس رہی ہے رحمتوں کی جو فوار

ہر طرف سماں کیف سے بھرا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(7)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

 (1)یہ اشعار مشہور نعت رسول مقبول ﷺ "بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا" کے ابتدائی مصرعے ہیں۔ ان اشعار میں نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی اور ان کے حسن و جمال کو بیان کیا گیا ہے۔

غلامانِ مصطفیٰ کی خوشی

نبی پاک ﷺ کی آمد پر ان سے محبت کرنے والا ہر امتی اور غلام خوشی اور مسرت کے ساتھ "مرحبا" (خوش آمدید) کہہ رہا ہے۔

تمام مخلوقات کی شیدائیت

آپ ﷺ کی ولادت کی خوشی صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ انس و جن، فرشتے اور حوریں سب آپ ﷺ کے حسن و جمال اور ذات پر فدا ہو رہے ہیں۔

حسن و جمال اور شان

آپ ﷺ کا رخِ انور چاند کی طرح روشن اور چمکتا ہوا ہے اور آپ ﷺ کی ہر ادا بے حد شان دار اور باوقار ہے۔

آمدِ مصطفیٰ ﷺ

کائنات کی تمام مخلوقات مل کر اس بات کا جشن منا رہی ہیں کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ دنیا میں تشریف لے آئے ہیں۔

 (2)یہ خوبصورت اشعار نعتِ پاک کے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت (آمد) کی رات اور اس کی وجہ سے پوری کائنات میں پھیلنے والی خوشیوں کا منظر پیش کیا گیا ہے:

کائنات میں خوشی کی لہر

حضور اکرم ﷺ کی ولادت کی رات پوری کائنات (زمین، آسمان اور تمام مخلوقات) مسرت، خوشی اور ایک خاص سرور (روحانی خوشی) میں ڈوبی ہوئی ہے۔

عاشقوں کی عید اور جشن

آپ ﷺ کے تمام شیدائی اور عاشقِ رسول اس عظیم رات کو عید کی طرح منا رہے ہیں۔ ہر طرف خوشی، ذکرِ نبی اور جشن کا سماں ہے۔

زمین و آسمان کی آرائش

آپ ﷺ کے قدم مبارک کی برکت سے نہ صرف یہ دنیا اور زمین سجائی گئی، بلکہ آسمانوں اور عرشِ معلیٰ پر بھی فرشتوں نے چراغاں اور سجاوٹ کر رکھی ہے۔

 (3)یہ اشعار نبی کریم ﷺ کی اپنی امت کے لیے بے مثال شفقت، محبت اور استجابِ دعا کا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں:

امتی امتی کی پہلی صدا

روایات کے مطابق، ولادتِ با سعادت کے لمحے سے ہی حضور اکرم ﷺ کی مبارک زبان پر اپنی امت کے لیے بخشش کی دعا "ربِّ هَبْ لِي أُمَّتِي" (اے میرے رب! مجھے میری امت عطا فرما/بخش دے) جاری تھی۔ آپ ﷺ نے دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے اپنی امت کو یاد فرمایا۔

قبولیتِ دعا اور کرمِ الٰہی

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی اس التجا کو شرفِ قبولیت بخشا اور امت پر اپنا خاص فضل و کرم فرمایا کہ ان کے آقا کی شفاعت کو ان کا مقدر بنا دیا۔

گداؤں اور امتیوں کی فدائیت:

جب آقا ﷺ کا یہ عالم ہے کہ پیدا ہوتے ہی امت کی بخشش مانگ رہے ہیں، تو پھر ان کے در کے تمام محتاج، منگتے اور غلام (گدا) کیوں نہ ان کے نام اور ذات پر اپنی جان نثار کریں۔

 (4)یہ اشعار نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے وقت ظاہر ہونے والے عظیم معجزات اور انوار و تجلیات کا احاطہ کرتے ہیں:

سیدہ آمنہ کے گھر میں نور کا ظہور

نبی پاک ﷺ کے اس دنیا میں جلوہ گر ہوتے ہی سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کا پورا گھر اور ارد گرد کا ماحول اللہ تعالیٰ کے خاص نور سے سراپا روشن و منور ہو گیا۔

شام (Syria) کے محلوں کا روشن ہونا (معجزہ ولادت)

احادیثِ مبارکہ اور سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ حضور ﷺ کی ولادت کے وقت ایک ایسا عظیم نور ظاہر ہوا جس کی روشنی مکہ مکرمہ سے دور "بصریٰ" (ملکِ شام) کے محلوں اور ایوانوں تک پہنچ گئی اور وہ دور بیٹھے روشن نظر آنے لگے۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اسلام کا نور جلد پوری دنیا میں پھیلے گا۔

جانِ آمنہ اور نورِ الٰہی

آپ ﷺ اپنی والدہ محترمہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کا تارا اور ان کی جان ہیں، اور حقیقت میں اللہ تعالیٰ (کبریا) کے نورِ ہدایت کا مظہر بن کر دنیا میں تشریف لائے ہیں۔

 (5)یہ اشعار رسولِ اکرم ﷺ کی سلطنت، شانِ حاکمیت اور عطائے خداوندی کو نہایت عقیدت کے ساتھ بیان کرتے ہیں:

تاجدارِ مدینہ کی آمد کی مبارکباد

نبی کریم ﷺ کی ولادت پر دنیا کو تبریک و مبارکباد دی جا رہی ہے کہ تمام انبیا اور مخلوقات کے سرتاج، سچے تاجدار اور مالک و آقا اس دنیا میں جلوہ افروز ہو چکے ہیں۔

دونوں جہانوں پر تصرف و ملکیت

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اس کائنات (دنیا اور آخرت) میں وہ مقام و مرتبانہ عطا فرمایا ہے کہ دونوں جہان ان کے زیرِ نگیں اور ملکیت میں آتے ہیں۔ تمام جہانوں کا نظام انہی کے صدقے میں قائم ہے۔

مالکِ جہاں اور سب سے بڑی نعمت

آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جہان کا والی و وارث بنایا ہے اور آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کائنات کے لیے اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان اور عظیم ترین نعمت (نعمتِ عظمیٰ) ہے۔

 (6)یہ اشعار نعت کے خلوص، شاعرا نہ نذرانے اور آخرت کی سب سے بڑی آرزو کا خوبصورت عکاس ہیں:

عاجزی اور میلاد کی خوشی

یہاں "فانی" نعت گو شاعر کا تخلص ہے اور "حزیں" کے معنی غمگین یا عاجز کے ہیں۔ شاعر اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ جیسے ناکارہ اور غمزدہ امتی کے گھر پر بھی سرکارِ دو عالم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں چراغاں (روشنی اور قمقمے) ہو گیا ہے۔

دل کی سب سے بڑی تمنا

شاعر اپنے دل کی سب سے گہری اور شدید خواہش کا اظہار کر رہا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور خوشخبری یہی ہوگی کہ وہ لمحہ آئے جب وہ جھوم کر یہ بات کہہ سکے۔

قبر کا منظر اور آقا ﷺ کی زیارت

اسلامی عقیدے کے مطابق قبر میں میت سے سوال و جواب کے وقت رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا جاتا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ جب قبر کی تنہائی میں آقا ﷺ کا جلوہ اور زیارت نصیب ہو، تو وہ خوشی سے نعرہ لگائے اور پکار اٹھے کہ "میرے آقا و نبی تشریف لے آئے ہیں!"

 (7)یہ اشعار آمدِ مصطفیٰ ﷺ (عید میلاد النبی) کی جشن، مسرت اور برکاتِ میلاد کا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں:

سبز پرچم اور شاندار جشن

نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں عاشقانِ رسول نے جگہ جگہ سبز پرچم اور جھنڈیاں لگا رکھی ہیں، جس سے ہر طرف بہار کا سماں ہے۔ یہ ایک انتہائی شاندار اور بے مثال خوشی کا موقع ہے۔

رحمتوں کی بارش

نبی پاک ﷺ "رحمۃ للعالمین" (تمام جہانوں کے لیے رحمت) بن کر تشریف لائے ہیں۔ آپ ﷺ کی آمد کی برکت سے ہر سو رب العزت کی رحمتوں اور برکتوں کی پھوار برس رہی ہے۔

روحانی سرور اور کیف

حضور اکرم ﷺ کے ذکر اور آمد سے ماحول میں ایک خاص قسم کی روحانی خوشی، سکون اور سرور (کیف) پھیلا ہوا ہے، جس سے ہر دل منور اور شادمان ہے۔