Saturday, August 15, 2026

A Practice for Waking Up on Time in the Morning | Subah Waqt Par Uthne Ka Amal ( صبح وقت پر اٹھنے کا عمل)

سورۂ کھف کی آخری 4 آیتیں

(اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) سے ختمِ سورت تک رات میں یا صبح جس وقت جاگنے کی نیت سے پڑھیں آنکھ کھلے گی۔ اِنْ شَآءَ الله

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا (107)

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا (108)

قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا (109)

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا (110)

بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔ تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں ۔  تو فرماؤ ظاہر صورتِ بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔

(پ16، الکهف: 107 تا 110)

(الوظیفة الکریمة، ص33)

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک جو لوگ ایمان لائے۔} اس سے پہلے کافروں  کی جہنم میں  مہمانی کا ذکر ہوا اور اب یہاں  سے وہ چیز بیان کی جا رہی ہے جس سے ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے کی ترغیب ملتی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک جو لوگ دنیا میں  ایمان لائے اور  اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اچھے اعمال کئے تو ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغات ہیں ۔

( تفسیرکبیر، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۷ / ۵۰۲، روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۵ / ۳۰۵، ملخصاً)

 جنتی نعمتیں  اور سب سے اعلیٰ جنت:

            یاد رہے کہ اہلِ جنت کے لئے  اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں  تیار کی ہیں  وہ انسان کے تَصَوُّر سے بھی زیادہ ہیں ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘

(سجدہ:۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو کسی جان کو معلوم نہیں  وہ آنکھوں  کی ٹھنڈک جو ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں  چھپا رکھی ہے۔

            اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں  نے اپنے نیک بندوں  کے لئے ایسی نعمتیں  تیار کر رکھی ہیں  جنہیں  نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا خطرہ گزرا۔‘‘ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو

’’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ‘‘

(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنّۃ وانّہا مخلوقۃ، ۲ / ۳۹۱، الحدیث: ۳۲۴۴)

            اور زیر ِتفسیر آیت میں  جس جنت کا ذکر ہوا، اس کے بارے میں  حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مانگو تو فردوس مانگو، کیونکہ وہ جنتوں  میں  سب کے درمیان اور سب سے بلند ہے اور اس پر رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کاعرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں  جاری ہوتی ہیں ۔

( بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللّٰہ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۵۰، الحدیث: ۲۷۹۰)

حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  ارشاد فرمایا ’’جنت میں  سو درجے ہیں ، ہر دو درجوں  کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اور فردوس سب سے اوپر والا درجہ ہے، اس سے جنت کی چار نہریں  پھوٹتی ہیں ، اس سے اوپر عرش ہے اور جب تم  اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس ہی مانگا کرو۔

( ترمذی، کتاب صفۃ الجنّۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنّۃ، ۴ / ۲۳۸، الحدیث: ۲۵۳۹)

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’فردوس بلند جنت ہے، درمیانی اور سب سے بہتر جنت ہے۔

( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المؤمنین ۵ / ۱۱۸، الحدیث: ۳۱۸۵)

            حضرت کعب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ’’ فردوس جنتوں  میں  سب سے اعلیٰ ہے اس میں  نیکیوں  کا حکم کرنے والے اور بدیوں  سے روکنے والے عیش کریں  گے۔

( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۳ / ۲۲۷)

{لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا:ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں  گے۔} یعنی دنیا میں  انسان کیسی ہی بہتر جگہ میں  ہو، وہ اس سے اور اعلیٰ و ارفع جگہ کی طلب رکھتا ہے لیکن یہ بات وہاں  جنت میں  نہ ہوگی کیونکہ وہ جانتے ہوں  گے کہ  اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں  بہت اعلیٰ و ارفع جگہ حاصل ہے۔

( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۵ / ۳۰۶)

قُلْ : تم فرمادو۔}  اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر    اللہ  تعالیٰ کے علم و حکمت کے کلمات لکھے جائیں   اور اُن کے لئے تمام سمندروں   کا پانی سیاہی بنادیا جائے اور تمام مخلوق لکھے تو وہ کلمات ختم نہ ہوں   اور یہ تمام پانی ختم ہوجائے اور اتنا ہی اور بھی ختم ہوجائے ۔ مُدَّعا یہ ہے کہ اس کے علم و حکمت کی کوئی انتہاء نہیں ۔ شانِ نزولحضرت  عبد اللہ  بن عباس  رَضِیَ   اللہ   تَعَالٰی   عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ یہودیوں   نے کہا: اے محمد!  ( صَلَّی   اللہ   تَعَالٰی   عَلَیْہِ   وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )  آپ کا خیال ہے کہ ہمیں   حکمت دی گئی اور آپ کی کتاب میں   ہے کہ جسے حکمت دی گئی اُسے خیرِ کثیر دی گئی، پھر آپ کیسے فرماتے ہیں   کہ تمہیں   تھوڑا علم دیا گیا ہے! اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ جب آیت ِکریمہ  ’’  وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا  ‘‘   نازل ہوئی تو یہودیوں   نے کہا کہ ہمیں   توریت کا علم دیا گیا اور اس میں   ہر شے کا علم ہے، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ مدعا یہ ہے کہ ہر شے کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اور یہ    اللہ  تعالیٰ کے علم سے اتنی بھی نسبت نہیں   رکھتا جتنی ایک قطرے کو سمندر سے ہو۔ ( 

 خازن، الکہف، تحت الآیۃ : ۱۰۹، ۳ / ۲۲۷-۲۲۸ ) 

{قُلْ:تم فرماؤ۔} حضرت عبد اللہ بن عباس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو  عاجزی کی تعلیم دی اور انہیں یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں بھی تمہاری طرح آدمی ہوں (یعنی جیسے تم انسان ہو اسی طرح میں بھی انسان ہوں ) البتہ مجھے (تم پر) یہ خصوصیت حاصل ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے اور وحی کے سبب اللہ تعالیٰ نے مجھے اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔

( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۳ / ۲۲۸)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’(کافر) انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنا سا بشر مانتے تھے اس لئے ان کی رسالت سے منکر تھے کہ

’’مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ-وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ‘‘

(یس:۱۵)

تم تو ہمارے جیسے آدمی ہواور رحمٰن نے کوئی چیز نہیں  اتاری، تم صرف جھوٹ بول رہے ہو۔

واقعی جب ان خُبَثاء کے نزدیک وحی ِنبوت باطل تھی تو انہیں اپنی اسی بشریت کے سواکیا نظر آتا؟لیکن اِن سے زیادہ دل کے اندھے وہ (ہیں جو) کہ وحی ونبوت کا اقرار کریں اور پھر انہیں ( یعنی انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو ) اپنا ہی سا بشر جانیں ، زید کو’’قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ‘‘ سوجھا اور ’’ یُوْحٰۤى اِلَیَّ‘‘ نہ سوجھا جو غیر متناہی فرق ظاہر کرتا ہے، زید نے اتناہی ٹکڑا لیا جوکافر لیتے تھے، انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشریت جبریل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مَلکیت سے اعلیٰ ہے، وہ ظاہری صورت میں ظاہر بینوں کی آنکھوں میں بشریت رکھتے ہیں جس سے مقصود خلق کا اِن سے اُنس حاصل کرنا اور ان سے فیض پانا (ہے) ولہٰذا ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ‘‘

(انعام:۹)

اور اگرہم فرشتے کو رسول کرکے بھیجتے تو ضرور اسے مردہی کی شکل میں بھیجتے اور ضرور انھیں  اسی شبہ میں رکھتے جس دھوکے میں اب ہیں ۔


Treatment Through the Verses of Healing | Ayat-e-Shifa Se Ilaaj (آیاتِ شفاء سے علاج)

کسی بھی قسم کی بیماری، مشکل یا پریشانی کے وقت قرآنِ پاک کی درج ذیل چھ آیاتِ شفاء پڑھ کر دم کر لیجیے یا پانی پر دم کر کے مریض کو پلا دیجیے یا کسی پرچے پر لکھ کر تعویذ بنا کر پہن لیجیے، اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس کی برکت سے تمام بیماریوں سے شفاء حاصل ہو گی:

وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مَّؤْمِنِيْنَ

(پ۱۰، التوبة: ۱۴)

وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِ

(پ۱۱، يونس: ۵۷)

یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-

(پ۱۴، النحل: ۶۹)

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ

(پ۱۵، بنی اسرائیل: ۸۲)

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ

(پ۱۹، الشعراء: ۸۰)

قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ

(پ۲۴، حم السجدة: ۴۴)

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ(14)

تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا۔

{ قَاتِلُوْهُمْ : تم ان سے لڑو۔}  ارشاد فرمایا کہ تم ان سے لڑو،  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا وعدہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں سے قتل کے ذریعے انہیں عذاب دے گا اور انہیں   قید میں مبتلا کر کے   ذلیل ورسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا اور ان پر غلبہ عطا فرمائے گا اور ایمان والوں کے دلوں کو ٹھنڈا کردے گا۔  

( مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ:  ۱۴ ، ص ۴۲۸ ) 

                تاریخ شاہد ہے کہ  اللہ  تعالیٰ نے یہ سارے وعدے پورے فرمائے اور تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی دی ہوئی ساری خبریں سچ ثابت ہوئیں اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نبوت کا ثبوت واضح تر ہوگیا۔ اس  آیت سے معلوم ہوا کہ کفار سے اپنا بدلہ لینا جس سے مسلمانوں کے دلوں کا رنج نکلے جائز ہے بلکہ بعض اوقات بدلہ لینا ضروری ہے مگر ظلم و زیادتی نہ ہو۔ 

(پ۱۰، التوبة: ۱۴)

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(57)

اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔

{  یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ : اے لوگو!۔}  اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے نصیحت، شفا،ہدایت ا ور رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب اُن فوائدِ عظیمہ کی جامع ہے۔ 

قرآنِ مجید کے عظیم فوائد : 

              اس آیت میں قرآنِ کریم کے تین عظیم فائدے بیان کئے گئے 

( 1 )…  ’’  مَوْعِظَةٌ  ‘‘اس کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو پسندیدہ چیزکی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ۔ خلیل نے کہا کہ ’’  مَوْعِظَةٌ   ‘‘نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو۔  

( خازن، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۲  /  ۳۲۰

                تفسیر جمل میں ہے کہ ’’   مَوْعِظَةٌ ‘‘ کا معنی ہے وعظ و نصیحت یعنی مُکَلَّف کے سامنے نیک اعمال جو کہ اس کیلئے فائدہ  مند ہیں اور برے اعمال جو کہ اس کے لئے نقصان دِہ ہیں بیان کر کے اسے نصیحت کرنا اسی طرح اچھے عمل کرنے کی ترغیب دینا اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانا بھی اس میں داخل ہے۔  

( جمل، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۳  /  ۳۷۲  

اور قرآنِ کریم سے یہ فائدہ انتہائی احسن طریقے سے حاصل ہوتاہے۔ 

( 2 )…شفاء : اس سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی اَمراض کودور کرتا ہے، دل کے امراض سے مراد مَذموم اَخلاق ، فاسد عقائد اور مُہلِک جہالتیں ہیں ، قرآنِ پاک ان تمام اَمراض کو دور کرتا ہے۔  

( 3 )… قرآنِ کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا ،کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔  

( خازن، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۲  /  ۳۲۰ ، ملخصاً

شریعت ،طریقت اور حقیقت کی طرف اشارہ: 

              علامہ صاوی    رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’   مَوْعِظَةٌ ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ نفع دینے والی چیزوں یعنی اچھے اعمال کی ہدایت اور نقصان دینے والی چیزوں یعنی برے اعمال سے ڈرانا۔’’   مِنْ رَّبِّكُمْ ‘‘   ’’   مَوْعِظَةٌ  ‘‘ کی صفت ہے اور ارشاد فرمایا ’’  وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ‘‘ اس میں سینوں سے مراد دل ہیں اور معنی یہ ہے کہ قرآن وعظ  و نصیحت کرنے والا ہے اورا سی کے ذریعے دلوں کے اَمراض یعنی کینہ ،حسد، بغض اور برے عقائد سے شفاء نصیب ہوتی ہے۔اور ارشاد فرمایا ’’ وَهُدًى ‘‘ یعنی نور جو کہ کامل مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ حق و باطل  میں اِمتیاز کر لیتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں ’’اس آیت میں شریعت ، طریقت اور حقیقت تینوں کی طرف اشارہ ہے۔ شریعت  کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ‘‘ میں ہے، کیونکہ شریعت سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے اور طریقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’  وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ‘‘ میں ہے کیونکہ طریقت باطن کو ہر نا  مناسب چیز سے پاک کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے ’’  وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘ میں ہے کیونکہ  حقیقت ہی کے ذریعے دلوں میں ان اَنوار کی تجلیات پھیلتی ہیں جن کے ذریعے چیزیں اپنی حقیقت کے مطابق نظر آتی ہیں۔  جب دلوں میں ان انوار کی تجلیات آ جائیں تو پھر ہر چیز میں   اللہ  تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے اور ہر چیز علمِ ذوقی کے اعتبار   سے اس کے قریب ہو جاتی ہے،خلاصہ یہ ہے کہ حقیقت طریقت کا ثمرہ ہے اور حقیقت، طریقت اور شریعت کو مضبوطی سے تھامنے  کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے ،اسی لئے کہا گیا ہے کہ حقیقت شریعت کے بغیر باطل ہے اور شریعت حقیقت کے بغیربیکار ہے۔    

( صاوی، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۳  /  ۸۷۶ - ۸۷۷

(پ۱۱، يونس: ۵۷)

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًاؕ-یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(69)

 اور اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لیے نرم و آسان ہیں اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے جس میں لوگوں کی تندرستی ہے بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔

(پ۱۴، النحل: ۶۹)

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا(82)

اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔  

(پ۱۵، بنی اسرائیل: ۸۲)

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ

 اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

{وَ اِذَا مَرِضْتُ: اور جب میں بیمار ہوں ۔} یہاں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ادب کی وجہ سے بیماری کو اپنی طرف اور شفاء کو اللہ تعالٰی کی طرف منسوب فرمایا اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہوتی ہیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳ / ۳۸۹) اس سے معلو م ہوا کہ برائی کی نسبت اپنی طرف اور خوبی و بہتری کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کرنی چاہیے۔

(پ۱۹، الشعراء: ۸۰)

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗؕ-ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّؕ-قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ-وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًىؕ-اُولٰٓىٕكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ(44)

اور اگر ہم اُسے عجمی زبان کا قرآن کرتے تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں کیا کتاب عجمی اور نبی عربی تم فرماؤ وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹَینٹ ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے گویا وہ دُور جگہ سے پکارے جاتے ہیں۔

(پ۲۴، حم السجدة: ۴۴)