OUR RELIGION (ISLAM)
Thursday, June 4, 2026
The Stubbornness of Satan
Do Not Resemble the Disbelievers
The Death of a Young Doctor
The Reality of Worldly Life
The Recommended Method of Placing Soil upon the Grave
The recommended method is to stand at the head side of the grave and place soil three times with both hands. The first time, recite:
مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ
“We created you from this earth.”
The second time, recite:
وَفِيهَا
نُعِيدُكُمۡ
“And into it We shall return you.”
The third time, recite:
وَمِنۡهَا
نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ
“And from it We shall bring you forth once again.”
After that, the remaining soil may be placed using a shovel or other means.Al-Amaan Qahar Hai Ae Ghous Woh Teekha Tera
الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا
مر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا
بادلوں سے کہیں رُکتی ہے کڑکتی بجلی
ڈھالیں چھنٹ جاتی ہیں اُٹھتا ہے جو تیغا تیرا
عکس کا دیکھ کے منھ اور بپھَر جاتا ہے
چار آئینہ کے بل کا نہیں نیزا تیرا
کوہ سَرمُکھ ہو تو اِک وار میں دو پرَ کالے
ہاتھ پڑتا ہی نہیں بھول کے اوچھا تیرا
اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالِف تیرے
چاہتے ہیں کہ گھٹا دیں کہیں پایہ تیرا
عَقْل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اسے منظور بڑھانا تیرا
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تِرا ذِکر ہے اُونچا تیرا
مِٹ گئے مِٹتے ہیں مِٹ جائیں گے اَعدا تیرے
نہ مِٹا ہے نہ مِٹے گا کبھی چرچا تیرا
تُو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھےا للّٰہ تعالیٰ تیرا
سَمِّ قاتل ہے خدا کی قَسَم اُن کا اِنکار
مُنکرِ فَضْلِ حُضُور آہ یہ لکھا تیرا
میر ے سَیَّاف کے خنجر سے تجھے باک نہیں
چِیر کر دیکھے کوئی آہ کلیجا تیرا
ابنِ زَہر اسے ترے دل میں ہیں یہ زہر بھرے
بَل بے اَو مُنکرِ بے باک یہ زَہرا تیرا
بازِ اَ شْہَب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
دیکھ اُڑ جائے گا ایمان کا طوطا تیرا
شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فِکْر میں ہے
کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجرا تیرا
حق سے بد ہو کے زمانہ کا بھلا بنتا ہے
ارے میں خُوب سمجھتا ہوں مُعَمَّا تیرا
سگِ دَر قہر سے دیکھے تو بِکھرتا ہے ابھی
بند بندِ بدن اے رُو ِبہ دنیا تیرا
غَرض آقا سے کروں عَرْض کہ تیری ہے پناہ
بندہ مجبور ہے خاطِرپہ ہے قبضہ تیرا
حُکْم نافِذ ہے تِرا خامَہ تِرا سیف تِری
دم میں جو چاہے کرے دَور ہے شاہا تیرا
جس کو للکار دے آتا ہو تو اُلٹا پھر جائے
جس کو چَمکار لے ہر پھر کے وہ تیرا تیرا
کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دِیں ایسی کر
کہ یہ سینہ ہو محبت کا خزینہ تیرا
دِل پہ کندہ ہو ترا نام کہ وہ دُزدِ رَجیم
اُلٹے ہی پاؤں پِھرے دیکھ کے طُغرا تیرا
نزع میں ، گَور میں ، ِمیزاں پہ، سر ِپُل پہ کہیں
نہ چُھٹے ہاتھ سے دامانِ مُعلّٰی تیرا
دُھوپ محشر کی وہ جاں سَوز قِیامت ہے مگر
مطمئن ہوں کہ مِرے سر پہ ہے پلّا تیرا
بہجت اس سر کی ہے جو ’’ بَہْجَۃُ الْاَسْرَار‘‘ میں ہے
کہ فَلک وار مُریدوں پہ ہے سایہ تیرا
اے رضاؔ چیست غم ار جملہ جہاں دُشمنِ تُست
کردَہ اَم ما مَنِ خود قِبلَۂ حاجاتے را
Wednesday, June 3, 2026
Andheri Raat Hai Gham Ki Ghata Isiyan Ki Kaali Hai
اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تُو ہی والی ہے
نہ ہو مایوس آتی ہے صَدا گورِ غریبَاں سے
نبی اُمّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے
اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اُجالی ہے
ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر
کہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے
اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا
خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے
زمیں تپتی، کٹیلی راہ، بَھاری بوجھ، گھائل پاؤں
مصیبت جھیلنے والے تِرا اللہ والی ہے
نہ چَونکا دن ہے ڈھلنے پر تری منزل ہوئی کھوٹی
ارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے
رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اِک میں کیا سبھی کو ہے
تم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے