Thursday, August 6, 2026

شانِ واوصافِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرآنی تذکرہ - 2

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے خاص بندے ہیں

معراج کے موقع پر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو "عبد" کہہ کر یاد فرمایا جو اللہ کے ہاں آپ کے بلند اور خاص مقام کی طرف اشارہ ہے۔

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصی (بیت المقدس) تک۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 15، بنی اسراءیل: 1)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشیر و نذیر ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیک عمل کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں۔

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 45)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داعی إلى الله اور سراجِ منیر ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی طرف بلانے والے اور روشن چراغ ہیں جو تاریکیوں میں راہ دکھاتے ہیں اور آپ تمام انسانیت کے لیے ہدایت کی روشنی ہیں۔

وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا

اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 46)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں پر مہربان اور ہماری بھلائی کے حریص ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کے ساتھ نہایت مہربان اور رحیم ہیں۔ آپ کو مومنوں کی تکلیف ناگوار گزرتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری بھلائی کے لیے بے حد حریص ہیں۔

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 11، التوبہ: 128)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف اللہ کو ناپسند ہے

جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے انہیں دنیا و آخرت میں ملعون قرار دیا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 57)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کی جانوں سے بھی قریب ہیں

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مومنوں کے لیے ان کی جانوں سے زیادہ قریب اور محبوب بنایا ہے۔

النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ

یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 21، الاحزاب: 6)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ایمان کا جزو ہے

اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے بڑھ کر کسی بھی چیز کو عزیز رکھنا ایمان کے منافی ہے۔

قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عوریں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو (انتظار کرو) یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 10، التوبہ: 24)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی اللہ کی محبت کا ذریعہ ہے

جو شخص اللہ کی محبت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرے۔

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 3، آل عمران: 31)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امتوں پر گواہ ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے آپ کی امت کو بھی خاص مقام ملا کہ قیامت میں دوسری امتوں کی گواہی دیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اوپر گواہ و نگہبان ہوں گے۔

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا

اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 2، البقرہ: 143)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثمرہ دعائے ابراہیمی ہیں

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کرتے وقت دعا کی تھی کہ اللہ اس قوم میں ایک نبی مبعوث فرما، اس دعا کی قبولیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں ہوئیٔ۔

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ

اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 1، البقرہ: 129)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشارت عیسیٰ ہیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی پہلے ہی بشارت دے دی تھی۔

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَبَنِي إِسْرَاءِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ

اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 28، الصف: 6)

شانِ واوصافِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرآنی تذکرہ - 1

کائنات کی تمام مخلوقات میں سب سے اشرف، سب سے افضل اور سب سے عظیم ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ آپ تمام انبیاء کے سردار، ساری کائنات کے لیے رحمت اور اللہ کے سب سے محبوب بندے ہیں۔

قرآنِ کریم، جو اللہ کا کلام اور ہر دور کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے، اس میں بے شمار مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف ان الفاظ میں کرایا کہ آپ رحمتہ للعالمین ہیں، خاتم النبیین ہیں، سراجِ منیر ہیں اور انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ کے کامل مرکز ہیں۔

اس مضمون میں قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختلف صفات اور مقامات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت، عظمت اور ادب مزید راسخ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری کائنات کے لیے رہنما ہیں

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ کریم نے آپ کو تمام انسانیت کے لیے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری اور سب سے محبوب پیغمبر ہیں جن کی رسالت پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَآفَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا

اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 22، سبا: 28)

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا

تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 9، الاعراف: 158)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ درود بھیجتا ہے

اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور فرشتے بھی۔ آپ کا ذکر بلند کرنا اللہ کی سنت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے محبوب بندے ہیں۔

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلَّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 56)

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ

اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 30، الم نشرح: 4)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت فرض ہے

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ جو حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیں اسے قبول کرنا اور جس سے روکیں اس سے رکنا ہر مومن پر واجب ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ

اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 5، النساء: 59)

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا

اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔

 ترجمہ کنزالایمان (پ 28، الحشر: 7)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے

اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی ہی اللہ کی بندگی کا عملی مظہر ہے۔

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ

جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 5، النساء: 80)

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 71)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری کائنات کے لیے رحمت ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت انسانوں، جنوں، حیوانات اور کائنات کی ہر مخلوق کے لیے ہے۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 17، الانبیاء: 107)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آخری نبی اور رسول ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں یعنی نبوت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ

محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 40)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امانتِ الہی قرآن کے امین ہیں

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا اور اسے امت تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امانت کو کماحقہ امت تک پہنچایا:

وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ۝ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ

اور بے شک یہ قرآن رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے اُس سے روح الامین لے کر اُترا تمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 19، الشعراء: 192 تا 194)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کے لیے عملی نمونہ کامل ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ مسلمانوں کے لیے مکمل نمونہ عمل ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی ہی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 21، الاحزاب: 21)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کے سب سے اعلیٰ مرکز ہیں

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کو عظیم قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کریمانہ ہی رہتی دنیا تک کے لیے معیارِ خلق ہیں۔

وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ

اور بیشک تمہاری خو بو بڑی شان کی ہے۔

ترجمہ کنزالایمان (پ 29، القلم: 4)