Sunday, August 16, 2026

خاموشی کی برکتیں: زبان کی حفاظت، فضول گفتگو سے بچنے اور گھریلو امن کا اسلامی نسخہ

کینسر کی مریضہ صحت یاب ہو گئیں

الحمدُ للہ! دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول کی بھی کیا خوب برکتیں ہیں، ان برکتوں کا اندازہ لگانے کے لئے ایک ”مدنی بہار“ سنئے اور جھومئے: اولڈ کانپور (ہند) کے ایک اسلامی بھائی کی خوش بختی کہ انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستگی نصیب ہوئی۔ ان کی نانی جان کی طبیعت بہت ناساز تھی، بہتیرا علاج کروایا مگر شفانہ مل سکی۔ ڈاکٹروں نے کہا: ”انہیں سرطان (یعنی CANCER) ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ خبر بھی سنا دی کہ یہ چند دنوں کی مہمان ہیں۔“ اس خبرِ وحشت اثر سے یہ گھبرا گئے، انہوں نے اللہ رَبُّ العِزَّت کے بھروسے نانی جان کی صحت یابی کی دعا مانگنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی اور رو رو کر دُعا کی: ”یا اللہ پاک! یہاں جو بھی تیرا محبوب (یعنی پیارا) بندہ ہے اس کے صدقے میری پیاری نانی جان کو صِحّت کی نعمت عطا فرما۔“ اگلے روز جب نانی جان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ اجتماع میں عاشقانِ رسول کے درمیان مانگی جانے والی دُعا کی برکت یوں ظاہر ہوئی کہ ان کی نانی جان اب نہ صرف بیٹھ رہی تھیں بلکہ تندرست ہو کر چل پھر رہی تھیں۔

تِرا شکر مولا دیا دینی ماحول | نہ چھوٹے کبھی بھی خدا دینی ماحول

سلامت رہے یاخدا دینی ماحول | بچے بد نظر سے صدا دینی ماحول

(وسائلِ بخشش، ص647)

کوئی بیماری لاعلاج نہیں

سُبْحٰنَ اللہ! اللہ پاک ہر شے پر قدرت رکھتا ہے، وہ چاہے تو کینسر بھی ٹھیک ہو جائے۔ یقیناً بڑھاپے اور موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ ہاں! یہ بات الگ ہے کہ کئی اَمراض کا علاج اَطِبّا (یعنی ڈاکٹرز) اب تک دریافت نہیں کر پائے۔ لہٰذا یہ کہنے کے بجائے کہ ”فلاں مرض کا علاج نہیں ہے“ مناسب یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ ہمارے پاس اس بیماری کا علاج نہیں یا ڈاکٹرز ابھی تک اس مرض کا علاج دریافت نہیں کر سکے۔ بہرحال ربِّ کریم چاہے تو دوا شفاکا ذریعہ (ذ-ری-عہ) بنے ورنہ عین ممکن ہے کہ وہی دواموت کا سبب بن جائے! اور یہ بھی اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ماہر ڈاکٹر کی طرف سے ملنے والی درست دوا کے باوجود کسی مریض کو منفی اثر (REACTION) ہو جاتا ہے۔

کینسر کا روحانی علاج

اوّل و آخر گیارہ (11) بار دُرُودِ ابراہیم اور درمیان میں ”سورۂ مُزَّمِّل“ پڑھ کر پانی پر دم کیجئے، ضرورتًا دوسرا پانی ملاتے رہئے، مریض وہی پانی سارا دن پیئے، یہ عمل چالیس (40) دن تک بلا ناغہ کرتے رہئے، اِنْ شَآءَ اللہ شفاحاصل ہو گی۔ (دوسرا بھی پڑھ کر دم کر کے مریض کو پلا سکتا ہے)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

بیوقوف جب تک خاموش رہتا ہے پہچانا نہیں جاتا

خاموش رہنے سے بعض اوقات لوگوں پر دھاک بیٹھی رہتی ہے، لوگ عِزَّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جو ہر وقت بولتا رہتا ہے اس کا رُعب ختم ہو جاتا ہے اور اس کی بات کا ”وَزْن“ بھی نہیں رہتا۔ چنانچہ ابراہیم نَخَعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جو شخص غور کرے تو وہ تمام اَہْلِ مجلس سے اَشْرَف (یعنی شریف ترین) اور زیادہ رُعب دار اُس شخص کو پائے گا جو اکثر خاموش رہتا ہو، کیونکہ خاموشی عالم کے لیے زینت ہے اور جاہل کے لیے پردہ۔

(تنبیہ المغترین، ص190)

آدھی رات تک اگر سورج نہ ڈوبے تو؟ (واقعہ)

اے عاشقانِ رسول! واقعی زبان بند رکھنے سے بھرم قائم رہتا ہے، انسان جیسے ہی بولنا شروع کرتا ہے، اُس کا ”بھاؤ“ (یعنی سمجھداری کا) پتا چل جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرتِ امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ کے ساتھ ایک شخص بیٹھتا تھا مگر کبھی کچھ بولتا نہیں تھا۔ ایک بار حضرتِ امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ نے اُس سے فرمایا: آپ کبھی کوئی سوال کیوں نہیں کرتے؟ ہمیشہ چپ ہی رہتے ہیں؟ یہ سن کر اُس نے سوال کر دیا: اچھا یہ بتائیے کہ روزہ کب اِفطار کرنا چاہئے؟ فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے۔ وہ بولا: اگر آدھی رات تک سورج غروب ہی نہ ہو تو؟ یہ سوال سن کر حضرتِ امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ ہنس پڑے اور فرمایا: آپ کا خاموش رہنا ہی بہتر تھا، میں نے آپ کی زبان کھلوا کر غلطی کی۔ (

تاریخِ بغداد، 14/ 251)

کاش! میں گونگا ہوتا

اے عاشقانِ رسول! دیکھا جائے تو نابینا فائدے میں رہتا ہے کہ غیر عورتیں، فلمیں ڈرامے، کسی ”ہاف پینٹ“ والے شخص کے کھلے گھٹنے اور رانیں دیکھنے، اَمْرَد پر ”مخصوص لذّت“ والی نظر ڈالنے وغیرہ وغیرہ گناہوں سے بچا رہتا ہے، اسی طرح گونگا بھی زبان کی بے شمار آفتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ، عاشقِ اکبر، حضرتِ صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ (بطورِ عاجزی) فرماتے ہیں: ”کاش! میں گونگا ہوتا مگر ذِکرُ اللہ کی حد تک گوئیائی (یعنی بولنے کی صلاحیت) حاصل رہتی۔

(مرقاۃ المفاتیح، 10/ 87)

کاش! یہ گونگی ہوتی

احیاء العلوم“میں ہے: صحابیِ رسول، حضرتِ ابو دَرْدا رضی اللہ عنہ نے ایک زبان دراز (یعنی زیادہ باتیں کرنے والی) عورت دیکھی تو فرمایا: اگر یہ گونگی ہوتی تو اس کے حق میں بہتر تھا۔

(احیاء العلوم، 3/ 142)

گھر اَمن کا گہوارہ کیسے بنے!

اللہ پاک کے پیارے پیارے سب سے آخری نبی، مَکّی مَدَنی، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیارے صحابی حضرتِ ابو دردا رضی اللہ عنہ کے مبارک ارشاد سے خصوصاً ہماری وہ اسلامی بہنیں درس حاصل کریں جو فضول باتوں، غیر ضروری سوالوں، بدگمانیوں اور غیبتوں وغیرہ سے فرصت نہیں پاتیں، اسلامی بہنیں اگر صحیح معنوں میں خاموش رہنا سیکھ جائیں تو ان کی گھریلو پریشانیاں، رشتے داروں سے ناچاقیاں (یعنی ان بن) اور ساس بہو کی لڑائیاں وغیرہ بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور سارے کا سارا خاندان اَمن کا گہوارہ بن (یعنی پُر سکون ہو) جائے کیونکہ زیادہ تر گھریلو جھگڑے زبان کے غلط استعمال ہی کے سَبَب ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی ایک قابلِ غور پوسٹ

سوشل میڈیا کی ایک توجّہ طلب پوسٹ معمولی فرق کے ساتھ پیش کی جاتی ہے، کسی لڑکی نے پوسٹ کی: اگر شادی کے بعد ماں باپ کو ساتھ رکھنے کا حق بیٹیوں کو مل جاتا تو ملک میں ایک بھی ”اولڈ ہاؤس“ نہ ہوتا۔ اس پر کسی لڑکے نے بھی خوب جواب دیا کہ اگر وہی بیٹیاں شادی کے بعد ساس سسر ہی کو ماں باپ مان لیں تو ملک تو کیا پوری دنیا میں ایک بھی اولڈ ہاؤس باقی نہ رہے۔

اس پوسٹ میں صرف اُن عورتوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جو اپنی ساس نندوں وغیرہ کے سامنے خوب زبان چلاتی ہیں اور گھر کا اَمن تہ و بالا کرتی ہیں، ورنہ معاشرے میں سسرال کے اندر ظلم سہنے والی خواتین کی بھی ایک تعداد ملے گی۔

ساس بہو کا جھگڑا نمٹانے کا نُسخہ

ساس اگر ڈانٹ ڈپٹ کرتی ہو تو ”بہو“ کو چاہیے کہ صرف اور صرف صبر کرے، جواباً ایک لفظ بھی نہ کہے اور اپنے شوہر کو شکایت بھی نہ کرے، منہ بھی نہ چڑھائے اور اپنے بچوں کو جھاڑ کر یا برتن وغیرہ پچھاڑ کر ان پر بھی غصہ نہ نکالے اور میکے میں بھی کچھ نہ بتائے، اِنْ شَآءَ اللہ الکریم آہستہ آہستہ گھریلو مسائل حل ہو جائیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی بہو اپنی ”ساس“ سے جھگڑا کرتی ہو تو ساس کو چاہئے کہ بالکل جوابی کارروائی نہ کرے، صرف خاموشی اختیار کرے، گھر کے کسی فرد حتّٰی کہ اپنے بیٹے کو بھی شکایت نہ کرے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الکریم اس کہاوت: ”ایک چپ سو سکھ“ کے مطابق سکھ چین پائے گی۔ جی ہاں! اگر صحیح معنوں میں سگِ مدینہ عَفِیَ عَنْہُ کے اس ”نُسخے“ پر عمل کیا گیا تو اِنْ شَآءَ اللہ الکریم جلد ہی ساس بہو کی لڑائی ختم ہو جائے گی اور گھر اَمن کا گہوارہ (یعنی راحتوں بھرا) بن جائے گا۔

خاموشی کی بَرَکت سے دیدارِ مصطفٰے

ایک اسلامی بہن نے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی طرف سے جاری کردہ خاموشی کی اہمیت پر مبنی سنّتوں بھرے بیان کی آڈیو کیسٹ سُن کر خاموش رہنا شروع کر دیا، تین ہی دن میں ان کو اندازہ ہو گیا کہ پہلے وہ کس قدر فالتو باتیں کیا کرتی تھیں! الحمدُ للہ الکریم خاموشی کی برکت سے انہیں اچھے اچھے خواب نظر آنے لگے، فضول باتوں سے بچنے کی کوشش کے تیسرے دن انہوں نے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ سنّتوں بھرے بیان کی ایک مزید آڈیو کیسٹ بنام ”اطاعت کسے کہتے ہیں“ سنی۔ رات جب سوئیں تو الحمدُ للہ الکریم کیسٹ میں بیان کردہ ایک واقعہ انہیں خواب میں دکھائی دینے لگا! ”جنگ کا نقشہ تھا، سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دشمن کی جاسوسی کے لیے اپنے پیارے صحابی حضرت حُذیفہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کرتے ہیں، وہ کفار کے خیموں کے پاس پہنچتے ہیں تو انہیں کفار کے سردار حضرت ابو سفیان (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں، موقع غنیمت جانتے ہوئے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کمان پر تیر چڑھا لیتے ہیں کہ انہیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ حکم یاد آتا ہے کہ ”کفار کو خبر نہ ہو“ چنانچہ اپنے پیارے آقا، مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت (یعنی فرماں برداری) کرتے ہوئے تیر چلانے سے باز رہتے ہیں، پھر حاضر ہو کر تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمتِ بابرکت میں کارکردگی پیش کرتے ہیں۔ الحمدُ للہ الکریم اس خواب میں ان اسلامی بہن کو سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور دو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہما کی صاف صاف زیارت نصیب ہوئی، باقی سب مناظر دھندلے (BLUR) نظر آرہے تھے۔ ”الحمدُ للہ! صرف تین دن کی فضول گوئی سے بچنے کی کوشش سے ان پر آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بہت بڑا کرم ہو گیا، ان کا کہنا تھا: بس میری تمنّا ہے کہ کبھی بھی میری زبان سے کوئی فالتو لفظ نہ نکلے۔

اللہ! کروں میں نہ کبھی فالتو باتیں

بس ذکر میں گزریں مرے دن اور میری راتیں

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

سوچ سمجھ کر بولیں: خاموشی میں سلامتی ہے

بات کو فضُولیات سے پاک کرنے کا بہترین نسخہ

گفتگو میں کمی لانے کے خواہش مندوں کیلئے اپنی بات کو فضُول لفظوں اور مختلف خرابیوں سے پاک کرنے کے لئے ”احیاء العلوم“ میں کچھ اس طرح لکھا ہے: گفتگو کی چار قسمیں ہیں:

﴿1﴾ مکمل نقصان دہ بات ﴿2﴾ مکمل فائدہ مند بات ﴿3﴾ ایسی بات جو نقصان دہ بھی ہو اور فائدہ مند بھی اور ﴿4﴾ ایسی بات جس میں نہ فائدہ ہو نہ نقصان تو پہلی قسم کی بات جو کہ مکمل یعنی ساری کی ساری نقصان دہ ہے اُس سے ہمیشہ بچنا ضروری ہے اور اسی طرح تیسری قسم والی بات کہ جس میں نقصان و فائدہ دونوں ہیں، اس سے بھی بچنا لازم ہے اور جو چوتھی قسم ہے وہ فضُولیات میں شامل ہے کہ اُس کا نہ فائدہ ہے نہ نقصان، لہٰذا ایسی بات میں وقت ضائع کرنا بھی ایک طرح کا نقصان ہی ہے، اس کے بعد صرف دوسری ہی قسم کی بات رہ جاتی ہے یعنی باتوں میں سے تین چوتھائی (یعنی 75%) قابلِ استعمال نہیں ہیں اور دوسری قسم کی بات جو کہ فائدہ مند ہے بس وہی قابلِ استعمال ہے مگر اس قابلِ استعمال بات کے اندر باریک قسم کی ریا کاری، بناوٹ، غیبت، تہمت، جھوٹے مبالغے، ”میں میں کرنے کی آفت“ یعنی اپنی فضیلت و پاکیزگی بیان کر بیٹھنے وغیرہ وغیرہ خطرے موجود ہیں، مزید یہ کہ فائدہ مند گفتگو کرتے کرتے فضول باتوں میں جا پڑنے پھر اس کے ذریعے اور آگے بڑھتے ہوئے خدا نخواستہ اِس میں گناہ ہو جانے وغیرہ وغیرہ کے خوف اور ڈر شامل ہیں اور ان خرابیوں کا شامل ہونا ایسا باریک ہے جس کا اکثر علم نہیں ہوتا، لہٰذا اس قابلِ استعمال بات کے ذریعے بھی انسان خطرات میں گھرا رہتا ہے۔

 (احیاء العلوم، 3/ 138)

دُنیوی بات منہ سے نکل جائے تو کچھ ذِکرُ اللہ کر لینا چاہئے

اللہ پاک کے نیک بندے خالص دُنیوی (غیر فضول) باتوں کو بھی اچھا نہ سمجھتے تھے، جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمہ رحمۃُ اللہِ علیہ جب کوئی دُنیوی بات کہہ دیتے تو اس کے بعد

 ”سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ“

 پڑھتے پھر فرماتے: ”ہمارے اَسلاف (یعنی گزرے ہوئے بزرگِ دین) کسی مجلس (یعنی بیٹھک) میں خالص دنیاوی کلام کرنا اچھا نہ جانتے تھے، جب تک کہ اُس کے ساتھ کوئی نیک بات نہ ملا لیتے۔

  (تنبیہ المغترین، ص190)

جب رحمت کی توجہ ہٹا دی جاتی ہے

باتونی شخص کو تو ڈر جانا چاہئے کہ کہیں اللہ رَبُّ العِزَّت نے میری طرف سے رحمت کی توجہ تو نہیں ہٹا دی! چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ مَعْرُوف کَرْخی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ”انسان کا بے کار باتیں کرنا اللہ پاک کا اُس کو بے مدد چھوڑ دینے کے باعث ہوتا ہے۔

  (تنبیہ المغترین، ص190)

حُسنِ اَخلاق اور دین کی سمجھ سے محروم

مُنافق دنیا داری کے معاملے میں کتنا ہی عَقلمند سہی مگر چونکہ وہ حُسنِ اَخلاق اور دین کی سمجھ بوجھ سے محروم ہوتا ہے اس لیے یقیناً وہ بد نصیب و محروم ہے۔ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ منافق میں دو خصلتیں جمع نہیں ہوتیں: ﴿1﴾ حُسنِ اَخلاق اور ﴿2﴾ دین کی سمجھ۔

 (ترمذی، 4/ 313، حدیث: 2693)

بولنے والا بارہا پچھتاتا ہے

ایک نصیحت آموز عربی شعر کا ترجمہ ہے: ”علم زینت (یعنی خوبصورتی) ہے اور خاموشی سلامتی اور جب کبھی بولنا پڑے تو زیادہ نہ بولو۔ تم نے خاموشی پر کبھی شرمندگی نہیں اٹھائی ہوگی۔ مگر بول کر بہت بار ندامت (یعنی شرمندگی) اٹھائی ہوگی۔

 (تنبیہ الغافلین، ص116)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! واقعی یہ حقیقت ہے کہ خاموش رہنے میں ندامت (یعنی شرمندگی) کا امکان (یعنی CHANCE) بہت کم ہے جب کہ موقع بے موقع ”بول پڑنے“ کی عادت سے بارہا SORRY کہنا پڑتا اور معافی مانگنی پڑتی ہے یا پھر دل ہی دل میں پچھتاوا ہوتا ہے کہ میں یہاں نہ بولا ہوتا تو اچھا تھا کیوں کہ میرے بولنے پر سامنے والے کی جھجھک اڑ گئی، گھری گھری سننی پڑی، فلاں ناراض ہو گیا، فلاں کا چہرہ اتر گیا، فلاں کا دل دکھ گیا، اپنا امپریشن (IMPRESSION) بھی خراب پڑا وغیرہ وغیرہ۔ حضرت محمد بن نَضْر حارثی رحمۃُ اللہِ علیہ سے کتنی پیاری بات بیان کی گئی ہے: ”زیادہ بولنے سے (عزت و) وقار جاتا رہتا ہے۔

  (موسوعة لابن ابی الدنیا، 7/ 60، قول نمبر: 52)

بول کر“ پچھتانے سے ”نہ بول کر“ پچھتانا اچھا

سچ ہے، ”بول کر“ پچھتانے سے ”نہ بول کر“ پچھتانا اچھا اور ”زیادہ کھا کر“ پچھتانے سے ”کم کھا کر“ پچھتانا اچھا کہ جو بولتا رہتا ہے وہ مصیبتوں میں پھنستا رہتا ہے اور جو زیادہ کھانے کا عادی ہوتا ہے وہ اپنا معدہ تباہ کر بیٹھتا، اکثر مٹاپے کا شکار ہو جاتا اور طرح طرح کی بیماریوں کی زد میں رہتا ہے، اگر جوانی میں امراض سے قدرے بچت ہو بھی گئی تو جوانی ڈھلنے کے بعد بسا اوقات ”سراپا مرض“ بن جاتا ہے۔ زیادہ کھانے کے نقصانات اور مٹاپے کے علاج وغیرہ جاننے کے لئے فیضانِ سنّت جلد اوّل کے باب ”بھوک کے فضائل“ کا مطالعہ فرمائیے۔

زیادہ بولنے والے کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے

بُری صُحبت برباد کرتی، بُری جگہ جانے والا بدنام ہوتا اور باتونی آدمی کو آخر کار شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا لُقمان حکیم رحمۃُ اللہِ علیہ کے بارے میں کہا گیا ہے، انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے بیٹے! ﴿1﴾ جو شخص بُرے آدمی کا دوست اور ساتھی بنتا ہے اسے سلامتی نہیں ملتی اور ﴿2﴾ جو بُری جگہ پر جاتا ہے وہ بدنام ہوتا ہے اور ﴿3﴾ جو اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا وہ نادم (یعنی شرمندہ) ہوتا ہے۔

 (تنبیہ الغافلین، ص115)

جو تول کر بولتا ہے فضُول باتوں سے بچ جاتا ہے

عقلمند کی شان یہی ہے کہ سوچ سمجھ کر بات کرے، اپنا وقت فضول ضائع نہ کرے، اپنے معاملات پر پوری توجہ رکھے، اس طرح اُسے فضول باتوں کا موقع ہی کہاں ملے گا! حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذَر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سوال کیا کہ ابراہیمی صحیفوں (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہونے والی آسمانی کتابوں) میں کیا مضامین تھے؟ فرمایا: وہ سب عبرت و نصیحت پر مشتمل تھے (ان میں یہ بھی تھا)، عقلمند پر لازم ہے کہ اپنے زمانے کے حالات سے واقف ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرے۔ باتیں کرنے کے بجائے کام کرے اور اس کا کلام فضول باتوں پر مشتمل نہ ہو۔

 (اللہ والوں کی باتیں، 1/ 319۔ حلیۃ الاولیاء، 1/ 222)

درودِ پاک کی برکتیں، زبان کی حفاظت اور اچھی صحبت کی اہمیت

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِ سَیِّدُنا ابوالمُظَفَّر محمد بن عبد اللہ خَیَّام سَمَرْقَنْدِی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں ایک روز راستہ بھول گیا، اچانک ایک صاحب نظر آئے اور انہوں نے کہا: ”میرے ساتھ آؤ۔“ میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ مجھے گمان ہوا کہ یہ حضرتِ سَیِّدُنا خضر علیہ السلام ہیں۔ میرے اِستفسار (یعنی پوچھنے) پر انہوں نے اپنا نام خضر بتایا، ان کے ساتھ ایک اور بزرگ بھی تھے، میں نے ان کا نام دریافت کیا تو فرمایا: یہ اِلیاس (علیہ السلام) ہیں۔ میں نے عرض کی: اللہ پاک آپ پر رحمت فرمائے، کیا آپ دونوں حضرات نے سرورِ کائنات، شہنشاہِ موجودات، محمدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے عرض کی: سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنا ہوا ارشادِ پاک بتائیے تاکہ میں آپ سے روایت کر سکوں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھے گا اللہ پاک اس کا دل تر و تازہ رکھے گا اور اس کے دل کو مُنَوَّر فرمائے گا اور جو شخص مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھے اُس کا دل نفاق سے اِسی طرح پاک کیا جاتا ہے جس طرح پانی سے کپڑا پاک کیا جاتا ہے نیز جو شخص ”صَلَّی اللہُ عَلٰى مُحَمَّد“ پڑھتا ہے تو لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اگرچہ پہلے نفرت کرتے تھے اور ”صَلَّی اللہُ عَلٰى مُحَمَّد“ پڑھنے والا اپنے اوپر رحمت کے 70 دروازے کھول لیتا ہے۔

(1)... یہ مضمون امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب”گفتگو کے آداب“صفحہ 93 تا 103 سے لیا گیا ہے۔

 (القول البدیع، ص277 ملتقطاً)

زمانے والے ستائیں، دُرُودِ پاک پڑھو

جہاں کے غم جو رُلائیں، دُرُودِ پاک پڑھو

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

نافرمانی کا ایک لفظ بھی دوزخ میں پہنچا سکتا ہے

بعض اوقات مسلمان بے خیالی میں ایسی پیاری پیاری بات کر ڈالتا ہے جس کی خود اُسے بھی خبر نہیں ہوتی اور اللہ کریم اُس سے راضی ہو چکا ہوتا ہے اور کوئی تو بے پروائی میں ایک آدھ ایسی بات بک ڈالتا ہے کہ اُسے اِس کی سُدھ بھی نہیں ہوتی حالانکہ اِس بکواس کی نُحوست سے تباہی اُس کا مقدر بن چکی ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک بندہ کبھی اللہ پاک کی رضا مندی کا کوئی ایسا کلمہ (یعنی سینٹینس-SENTENCE) کہہ دیتا ہے کہ جس کی طرف اُسے دھیان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے اللہ پاک اُس کے بہت سے دَرجات (گریڈز-GRADES) بلند فرما دیتا ہے اور بے شک بندہ کبھی اللہ پاک کی نافرمانی کا کوئی ایسا کلمہ (SENTENCE) کہہ گزرتا ہے کہ اُس کی طرف اُس کو دھیان بھی نہیں ہوتا اور اِس کی وجہ سے دوزخ میں گرتا چلا جاتا ہے۔

 (مشکوۃ، 2/ 189، حدیث: 4813)

بُری صُحْبَت نے برباد کر کے رکھ دیا تھا

اے عاشقانِ رسول! ابھی دل ہلا دینے والی حدیثِ پاک بیان ہوئی، واقعی زبان بہت ہی سوچ سمجھ کر چلانی چاہئے، زبان کی حفاظت کا ذہن بنانے میں دعوتِ اسلامی کا نہایت اہم کردار ہے، ہم سبھی کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں رہتے ہوئے خوب دینی کام کرنے چاہئیں اور ہمیشہ بُری صُحبت سے دور رہنا چاہئے۔ بُری صحبت سے برباد ہونے کے بعد ہدایت ملنے پر عاشقانِ رسول کی صحبتِ بابرکت میں آنے والے ایک خوش نصیب اسلامی بھائی کی ”مدنی بہار“ سنئے چنانچہ کراچی کے علاقے ”گلستانِ جوہر“ کے ایک اسلامی بھائی بڑے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے بد اخلاقی اور گناہوں کے دلدل میں پھنس چکے تھے، انہیں گانے سننے کا بہت زیادہ شوق تھا اور پھر یہ شوق اتنا بڑھا کہ وہ مختلف پروگراموں میں خود گانے گا کر لوگوں سے داد وصول کرنے لگے۔ اس کے علاوہ چرس پینا ان کا معمول تھا، گناہوں کی عادت اتنی زیادہ بڑھ چکی تھی کہ فُحش گوئی (یعنی بے حیائی کی باتیں) کرنا اور جھوٹ بولنا ان کے نزدیک گویا کوئی عیب ہی نہ تھا، خوش قسمتی سے 2005 میں انہیں مدینۃ الاولیا ملتان شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین دن کے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جہاں یہ غوثِ پاک رحمۃُ اللہِ علیہ کے مُرید بھی بنے، لیکن اجتماع سے لوٹنے کے بعد وہ دوبارہ بڑے دوستوں کی صحبت میں جا بیٹھے اور پھر سے گناہوں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ ایک دن اچانک انہیں کوئی ذہنی مرض لاحق ہو گیا جس کی وجہ سے انہیں سورۂ فاتحہ بھی یاد نہ رہی اور وہ اپنے ہی گھر میں پاگلوں کی طرح رہنے لگے، اپنے والدین کو اپنا دشمن سمجھنے لگے، ان کی حالت اتنی خراب ہو گئی کہ اپنے مرض کی وجہ سے نہ وہ کھانا کھا سکتے تھے اور نہ سو سکتے تھے، بالآخر انہیں نفسیاتی ہسپتال میں داخل کروا دیاگیا۔ ان کی امی جان سے اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اور وہ ان کے لئے کثرت سے دعائیں اور وظیفے کرتی رہیں، ایک رات ان کی امی جان کے خواب میں ایک بزرگ تشریف لائے اور کچھ عمل کرنے کو کہا۔ ان کی امی جان بلا ناغہ وہ عمل کرنے لگیں، اُس عمل کی برکت سے آہستہ آہستہ ان اسلامی بھائی کی حالت بہتر ہونے لگی اور وہ جسمانی طور پر صحت یاب ہونے لگے اور الحمدُ للہ ایک دن وہ بھی آیا کہ انہوں نے دعوتِ اسلامی کے سنّتیں سیکھنے سکھانے کے قافلے میں سفر کیا، جہاں انہیں عاشقانِ رسول کی صحبت میں گناہوں سے بچنے کا ذہن ملا اور وہ دینی ماحول میں رَچتے بستے چلے گئے اور دعوتِ اسلامی کے دینی کام کرتے کرتے ڈویژن سطح پر مدنی انعامات (جسے اب ”نیک اعمال“ کہتے ہیں) کے ذمہ دار بھی بنے۔

اے عاشقانِ صحابہ واہلِ بیت! بیان کردہ مدنی بہار ہمیں دعوتِ فکر دے رہی ہے کہ ہم اپنی صُحبتوں اور دوستیوں پر نظرِ ثانی کر لیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ نیک اعمال سے دوری کی وجہ ہماری بُری دوستی اور گندی صحبت ہو! حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ”بُروں کی صُحْبت فائدہ اور اَچھوں کی صُحْبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی۔ بھٹّی والے سے مُشک نہیں ملے گا، گرمی اور دھواں ہی ملے گا۔ مُشک (کی خوشبو) والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں، مُشک یا خوشبو ہی ملے گی۔مزید فرماتے ہیں: ”حتّیٰ الاِمکان بُری صُحبت سے بچو کہ یہ دین و دنیا برباد کر دیتی ہے اور اچھی صُحبت اختیار کرو کہ اس سے دین و دنیا سُنبل جاتے ہیں۔ سانپ کی صُحبت جان لیتی ہے۔ بُرے یار کی صُحبت ایمان برباد کر دیتی ہے۔

  (مرآۃ المناجیح، 6/ 591)

حضرت مولانا روم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:

صُحبتِ صَالِح تُرَا صَالِح کُند

صُحبتِ طَالِح تُرَا طَالِح کُند

یعنی اچھے کی صُحبت تجھے اچھا اور بُرے کی صُحبت تجھے بُرا بنا دے گی۔

 (مثنوی، دفتر اول، ص22)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

Saturday, August 15, 2026

A Practice for Waking Up on Time in the Morning | Subah Waqt Par Uthne Ka Amal ( صبح وقت پر اٹھنے کا عمل)

سورۂ کھف کی آخری 4 آیتیں

(اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) سے ختمِ سورت تک رات میں یا صبح جس وقت جاگنے کی نیت سے پڑھیں آنکھ کھلے گی۔ اِنْ شَآءَ الله

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا (107)

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا (108)

قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا (109)

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا (110)

بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔ تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں ۔  تو فرماؤ ظاہر صورتِ بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔

(پ16، الکهف: 107 تا 110)

(الوظیفة الکریمة، ص33)

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک جو لوگ ایمان لائے۔} اس سے پہلے کافروں  کی جہنم میں  مہمانی کا ذکر ہوا اور اب یہاں  سے وہ چیز بیان کی جا رہی ہے جس سے ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے کی ترغیب ملتی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک جو لوگ دنیا میں  ایمان لائے اور  اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اچھے اعمال کئے تو ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغات ہیں ۔

( تفسیرکبیر، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۷ / ۵۰۲، روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۵ / ۳۰۵، ملخصاً)

 جنتی نعمتیں  اور سب سے اعلیٰ جنت:

            یاد رہے کہ اہلِ جنت کے لئے  اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں  تیار کی ہیں  وہ انسان کے تَصَوُّر سے بھی زیادہ ہیں ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘

(سجدہ:۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو کسی جان کو معلوم نہیں  وہ آنکھوں  کی ٹھنڈک جو ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں  چھپا رکھی ہے۔

            اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں  نے اپنے نیک بندوں  کے لئے ایسی نعمتیں  تیار کر رکھی ہیں  جنہیں  نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا خطرہ گزرا۔‘‘ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو

’’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ‘‘

(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنّۃ وانّہا مخلوقۃ، ۲ / ۳۹۱، الحدیث: ۳۲۴۴)

            اور زیر ِتفسیر آیت میں  جس جنت کا ذکر ہوا، اس کے بارے میں  حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مانگو تو فردوس مانگو، کیونکہ وہ جنتوں  میں  سب کے درمیان اور سب سے بلند ہے اور اس پر رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کاعرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں  جاری ہوتی ہیں ۔

( بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللّٰہ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۵۰، الحدیث: ۲۷۹۰)

حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  ارشاد فرمایا ’’جنت میں  سو درجے ہیں ، ہر دو درجوں  کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اور فردوس سب سے اوپر والا درجہ ہے، اس سے جنت کی چار نہریں  پھوٹتی ہیں ، اس سے اوپر عرش ہے اور جب تم  اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس ہی مانگا کرو۔

( ترمذی، کتاب صفۃ الجنّۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنّۃ، ۴ / ۲۳۸، الحدیث: ۲۵۳۹)

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’فردوس بلند جنت ہے، درمیانی اور سب سے بہتر جنت ہے۔

( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المؤمنین ۵ / ۱۱۸، الحدیث: ۳۱۸۵)

            حضرت کعب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ’’ فردوس جنتوں  میں  سب سے اعلیٰ ہے اس میں  نیکیوں  کا حکم کرنے والے اور بدیوں  سے روکنے والے عیش کریں  گے۔

( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۳ / ۲۲۷)

{لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا:ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں  گے۔} یعنی دنیا میں  انسان کیسی ہی بہتر جگہ میں  ہو، وہ اس سے اور اعلیٰ و ارفع جگہ کی طلب رکھتا ہے لیکن یہ بات وہاں  جنت میں  نہ ہوگی کیونکہ وہ جانتے ہوں  گے کہ  اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں  بہت اعلیٰ و ارفع جگہ حاصل ہے۔

( روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۵ / ۳۰۶)

قُلْ : تم فرمادو۔}  اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر    اللہ  تعالیٰ کے علم و حکمت کے کلمات لکھے جائیں   اور اُن کے لئے تمام سمندروں   کا پانی سیاہی بنادیا جائے اور تمام مخلوق لکھے تو وہ کلمات ختم نہ ہوں   اور یہ تمام پانی ختم ہوجائے اور اتنا ہی اور بھی ختم ہوجائے ۔ مُدَّعا یہ ہے کہ اس کے علم و حکمت کی کوئی انتہاء نہیں ۔ شانِ نزولحضرت  عبد اللہ  بن عباس  رَضِیَ   اللہ   تَعَالٰی   عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ یہودیوں   نے کہا: اے محمد!  ( صَلَّی   اللہ   تَعَالٰی   عَلَیْہِ   وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )  آپ کا خیال ہے کہ ہمیں   حکمت دی گئی اور آپ کی کتاب میں   ہے کہ جسے حکمت دی گئی اُسے خیرِ کثیر دی گئی، پھر آپ کیسے فرماتے ہیں   کہ تمہیں   تھوڑا علم دیا گیا ہے! اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ جب آیت ِکریمہ  ’’  وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا  ‘‘   نازل ہوئی تو یہودیوں   نے کہا کہ ہمیں   توریت کا علم دیا گیا اور اس میں   ہر شے کا علم ہے، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ مدعا یہ ہے کہ ہر شے کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اور یہ    اللہ  تعالیٰ کے علم سے اتنی بھی نسبت نہیں   رکھتا جتنی ایک قطرے کو سمندر سے ہو۔ ( 

 خازن، الکہف، تحت الآیۃ : ۱۰۹، ۳ / ۲۲۷-۲۲۸ ) 

{قُلْ:تم فرماؤ۔} حضرت عبد اللہ بن عباس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو  عاجزی کی تعلیم دی اور انہیں یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں بھی تمہاری طرح آدمی ہوں (یعنی جیسے تم انسان ہو اسی طرح میں بھی انسان ہوں ) البتہ مجھے (تم پر) یہ خصوصیت حاصل ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے اور وحی کے سبب اللہ تعالیٰ نے مجھے اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔

( خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۳ / ۲۲۸)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’(کافر) انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنا سا بشر مانتے تھے اس لئے ان کی رسالت سے منکر تھے کہ

’’مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ-وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ‘‘

(یس:۱۵)

تم تو ہمارے جیسے آدمی ہواور رحمٰن نے کوئی چیز نہیں  اتاری، تم صرف جھوٹ بول رہے ہو۔

واقعی جب ان خُبَثاء کے نزدیک وحی ِنبوت باطل تھی تو انہیں اپنی اسی بشریت کے سواکیا نظر آتا؟لیکن اِن سے زیادہ دل کے اندھے وہ (ہیں جو) کہ وحی ونبوت کا اقرار کریں اور پھر انہیں ( یعنی انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو ) اپنا ہی سا بشر جانیں ، زید کو’’قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ‘‘ سوجھا اور ’’ یُوْحٰۤى اِلَیَّ‘‘ نہ سوجھا جو غیر متناہی فرق ظاہر کرتا ہے، زید نے اتناہی ٹکڑا لیا جوکافر لیتے تھے، انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشریت جبریل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مَلکیت سے اعلیٰ ہے، وہ ظاہری صورت میں ظاہر بینوں کی آنکھوں میں بشریت رکھتے ہیں جس سے مقصود خلق کا اِن سے اُنس حاصل کرنا اور ان سے فیض پانا (ہے) ولہٰذا ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ‘‘

(انعام:۹)

اور اگرہم فرشتے کو رسول کرکے بھیجتے تو ضرور اسے مردہی کی شکل میں بھیجتے اور ضرور انھیں  اسی شبہ میں رکھتے جس دھوکے میں اب ہیں ۔