Saturday, September 19, 2009

DUROOD-E-FATH

دُرُودِ فَاتِح

اَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الْفَاتِحِ لِمَا أُغْلِقَ وَالْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ وَالنَّاصِرِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ وَالْهَادِي إِلَى صِرَاطِكَ الْمُسْتَقِيمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ حَقَّ قَدْرِهِ وَمِقْدَارِهِ الْعَظِيمِO

ALLAHUMMA SALLI WASALLIM WABARIK ALA SAYYIDINA MUHAMMADINIL FAATIHI LIMA UGHLIQA WAL KHAATIMI LIMA SABAKA WAN NAASIRIL HAQQA BIL HAQQI WAL HAADI ILA SIRAATIKAL MUSTAQEEMI SALLAL LAAHU ALAIHI WA ALA AALI WA ASHABIHI HAQQA QADRIHI MIQDAARIHIL AZEEM.

“O Allah! May Thy grace, peace and blessings rest on Muhammad, our Master, who opens that which is closed, and closes that which is preceded, who helps truth with truth, and who guided mankind to Thy straight path. May blessings of Allah be on him and his Family and Companions as according to his exalted position befitting his merit and his high rank”.

”اے اللہ! ہمارے آقا محمد پر تیری رحمت، سلام اور برکتیں نازل ہوں، جو بند دروازوں کو کھولنے والے، پہلے گزرے ہوؤں (یا سبقت لے جانے والوں) کو ختم کرنے والے، حق کی مدد حق کے ساتھ کرنے والے، اور انسانیت کو تیرے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں ان پر، ان کی آل اور ان کے صحابہ پر، جیسی کہ ان کے بلند مقام، ان کی شان اور ان کے اعلیٰ مرتبے کے لائق ہے۔“

Actually, this Durood Shareef is in the Holy Quran; but then it was kept a secret. Hadrat Abu-Bakr Siddique (radi Allahu anhu), the first Caliph of Islam, used to recite it daily without fail. Some narrations say that it is because of this Durood that he was awarded the title of “Siddique” which means “Testifier to the Truth”.

در حقیقت، یہ درود شریف قرآنِ پاک میں موجود تھا؛ لیکن پھر اسے چھپایا گیا (راز رکھا گیا)۔ اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) اسے روزانہ بلاغلطی پڑھا کرتے تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اسی درود کی برکت سے آپ کو ”صدیق“ کا لقب عطا کیا گیا جس کے معنی ”حق کی گواہی دینے والا“ ہیں۔

Hadrat Abul Muqqarab (radi Allahu anhu) says that a man’s total sins will be washed away if he recites Durood-e-Fath for forty days continuously.

حضرت ابوالمقرب (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص لگاتار چالیس دن تک درودِ فتح پڑھے تو اس کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔

Hadrat Shaikh Muhammad Bakari (radi Allahu anhu) says that the recitation of Durood-e-Fath once a day relieves the reciter from the Fire of Hell.

حضرت شیخ محمد بکری (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ دن میں ایک بار درودِ فتح کا ورد پڑھنے والے کو جہنم کی آگ سے نجات دلاتا ہے۔

Hadrat Syed Ahmed Hillam (radi Allahu anhu) says that Durood-e- Fath was the most favourite routine of Hadrat Ghaus-e-Azam, Sheikh Abdul Qaadir Jilani (radi Allahu anhu) of Baghdad Shareef.

حضرت سید احمد حلام (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ درودِ فتح بغداد شریف کے حضرت غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی (رضی اللہ عنہ) کا سب سے پسندیدہ معمول تھا۔

The great Saints also say that Durood-e-Fath is actual and real light.

Hadrat Sheikh Yusuf Bin Ismail (radi Allahu anhu) says that this Durood Shareef is the greatest mystery of Allah. It brings 100% success and happiness to the reciter. In fact, this Durood Shareef brings prosperity and favour and solves all the complex problems by the Grace of Allah. When a man recites this Durood Shareef, the Angels of Allah surround him, mercy covers him and peace starts descending on him.

بزرگانِ دین یہ بھی فرماتے ہیں کہ درودِ فتح عین حقیقت اور حقیقی نور ہے۔

حضرت شیخ یوسف بن اسماعیل (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ یہ درود شریف اللہ کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہ پڑھنے والے کے لیے سو فیصد کامیابی اور خوشی لاتا ہے۔ درحقیقت، یہ درود شریف اللہ کے فضل سے خوشحالی اور عنایت لاتا ہے اور تمام پیچیدہ مسائل کو حل کرتا ہے۔ جب کوئی انسان اس درود شریف کو پڑھتا ہے تو اللہ کے فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، رحمت اسے ڈھانپ لی ہے اور اس پر سکون نازل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

Sweet Islamic brothers! For attaining blessings, progress in recognition (Ma'rifah), and drawing close to the Holy Prophet صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم, there is no better means than the frequent recitation of Durood and Salam. Indeed, sending Durood and Salam upon the Master of Madinah صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم possesses countless virtues and blessings which are impossible to encompass in writing.

Innumerable books have been authored on the subject of Salat and Salam. Scholars continually describe its virtues and fruits. The ink of the pen may run out, and the words of speech may also come to an end, but the Durood and Salam upon the Holy Prophet صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم cannot be fully encompassed. Remember! Durood Shareef is an action that even Allah Almighty Himself performs. Therefore, Allah Almighty states in the Quran-e-Majeed, Furqan-e-Hameed:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلَّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا 

"Indeed, Allah and His angels send blessings upon the Prophet. O you who have believed, ask [ Allah to confer] blessing upon him and ask [ Allah to grant him] peace." 
(Part 22, Al-Ahzab: 56)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حصولِ برکت، ترقّی مَعْرِفت اور حُضُور صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم کی قُر بت پانے کیلئے کثرتِ دُرُودوسلام سے بڑھ کر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یقیناً سرکارِ مدینہ صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم پر دُرُودوسلام بھیجنے کے بے شمار فضآئل و برکات ہیں جنہیں احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔

صلاۃ وسلام کے موضوع پر بے شمار کُتُب تَصنِیف کی جاچکی ہیں۔ اس کے فضآئل و ثمرات علمائے کرام بیان فرماتے رہتے ہیں۔ قلم کی روشنائی تو ختم ہو سکتی ہے، بیان کے الفاظ بھی ختم ہو سکتے ہیں، مگر حُضور صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم پر دُرُود وسلام کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھیے! دُرُود پاک ایسا عمل ہے کہ خود رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ بھی کرتا ہے۔ چنانچہ قُرآن مجید فُرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلَّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا 

 ترجمہ کنزالایمان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام  بھیجو۔

(پ۔۲۲، الاحزاب: ۵۷)

"After the revelation of this blessed verse, the face of the beloved of the Lord of Majesty, the King of Virtuous Dispositions صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم, began to radiate with joy and light, and he stated: 'Congratulate me, because I have been blessed with such a verse that is dearer to me than "dunya wa ma fiha" (meaning, the world and everything in it).'"

(Ruh-ul-Bayan, Part 22, Al-Ahzab, under Verse 56, 7/223)

اس آیتِ مُبارکہ کے نازل ہونے کے بعد محبوبِ رَبّ ذُوالجلال، شَہنشاہِ خوش خصال صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم کا چہرۂ انور خُوشی سے نُور کی کرنیں لُٹانے لگا اور فرمایا: ”مجھے مُبارکباد پیش کرو کیونکہ مجھے وہ آیتِ مُبارکہ عطا کی گئی ہے جو مجھے ”دُنْيَا وَمَا فِيهَا“ (یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے) سے زِیاَدہ محبوب ہے۔“

(روحُ البيان، پ ۲۲، الاحزاب، تحت الآية ۵۶، ۲۲۳/۷)

No comments:

Post a Comment