Monday, September 14, 2009

The Hidden Wisdom and Virtues of Sending Durood upon the Prophet ﷺ | درودِ پاک کی پوشیدہ حکمتیں اور فضائلِ مصطفیٰ ﷺ

پوشیدہ عِلْم

ایک مرتبہ صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوان نے عرض کی: ”یا رَسُولَ الله صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم! آپ صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم کی کیا رائے ہے اس فرمانِ باری عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ

نبی اکرم صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:

إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْمَكْتُومِ، لَوْلَا أَنَّكُمْ سَأَلْتُمُونِي عَنْهُ مَا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ

یعنی بے شک یہ پوشیدہ عِلْم سے متعلق بات ہے اگر تم لوگ مجھ سے اس بارے میں سُوال نہ کرتے تو میں تمہیں کچھ نہ بتاتا۔

إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ وَكَّلَ بِي مَلَكَيْنِ لَا أُذْكَرُ عِنْدَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ فَيُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا

بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے لیے دو فرشتے مُقَرَّر فرما دیئے ہیں، جس مُسلمان کے سامنے میرا ذِکر کیا جائے اور وہ مجھ پر دُرُود بھیجے،

قَالَ ذَانَاكَ الْمَلَكَانِ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَقَالَ اللَّهُ وَمَلَائِكَتَهُ جَوَاباً لِذَيْنِكَ الْمَلَكَيْنِ: اٰمِين

تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ تیری مَغْفِرت فرمائے“ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتے ان کے جواب میں آمین کہتے ہیں۔

(كنز العمال، كتاب الاذكار، الباب السابع في القرآن وفضائله، ۱/ ۱۷، الجزء الثاني، حديث: ۳۰۲۳)

حضرت سَيِّدُ نا جلالُ الدِّين سُيوطی شافعی عَلَيْهِ رَحْمَةُ اللَّهِ الْقَوی ”تفسير دُرِّ منثور‘‘ میں ابنِ نَجَّار اور ابنِ مَرْدُویَه کے حوالے سے بیان کرده روایت میں مزید اضافہ نقل فرماتے ہیں:

وَلاَ أُذْكَرَ عِنْدَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ فَلاَ يُصَلِّيَ عَلَيْ إِلَّا

اور جس مسلمان کے سامنے میرا ذِکر کیا جائے اور وہ مجھ پر دُرُود نہ بھیجے

قَالَ ذَلِكَ الْمَلَكَانِ: لَا غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، وَقَالَ اللَّهُ وَمَلَائِكَتَهُ لِذَيْنِكَ الْمَلَكَيْنِ: آمِين

تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: اللہ عَزَّوَجَلَّ تیری مَغْفِرت نہ فرمائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتے ان کے جواب میں ”آمین‘‘ فرماتے ہیں۔

(درمنثور، پ ۲۲، الاحزاب، تحت الآية ۵۷، ۴/ ۶۵۳)

مُفَسِّرِ شہیر حكيمُ الأُمَّت حضرت مُفتى احمديار خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الحَنَّان کا ارشاد

’’مذكوره آيت كريمہ (يعنی آيتِ دُرُود) سرکارِ مدينه صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم كى صَرِیح نعت ہے۔ اس میں ایمان والوں کو پیارے مصطفٰے صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم پر دُرُودوسلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآن کریم میں کافی احکام صادر فرمائے مثلاً نماز، روزہ، حج، وغیرہ وغیرہ مگر کسی جگہ یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ یہ کام ہم بھی کرتے ہیں، ہمارے فرشتے بھی کرتے ہیں اور ایمان والو! تم بھی کیا کرو، صرف دُرُود شریف کیلئے ہی ایسا فرمایا گیا ہے۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے، کیونکہ کوئی کام بھی ایسا نہیں جو خود عَزَّوَجَلَّ کا بھی ہو اور بندے کا بھی۔ یقیناً اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کے کام ہم نہیں کرسکتے اور ہمارے کاموں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ بُلند و بالا ہے۔“

اگر کوئی کام ایسا ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بھی ہو، ملائکہ بھی کرتے ہوں اور مسلمانوں کو بھی اُس کا حُکم دیا گیا ہو تو وہ صرف اور صرف آقاۓ دو جہاں صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنا ہے۔ جس طرح ہلالِ عید پر سب کی نظریں جمع ہو جاتی ہیں اسی طرح مَدینہ کے چاند پر ساری مَخلوق کی اور خُود خالق کی بھی نظر ہے۔

(شانِ حبیب الرّحمن، ص ۱۸۳ ملخصاً)

برادرِ اعلیٰ حضرت، حضرت مُولانا حسن رضا خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الرَّحْمَن کے نعتیہ اشعار

اپنے نعتیہ ديوان ”ذوقِ نعت“ میں کیا خُوب ارشاد فرماتے ہیں:

جِنکے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حُسن و جَمال

اے حَسیں! تیری اَدا اُس کو پسند آئی ہے

(ذوق نعت، ص ۵۷)

ایسا تجھے خالق نے طَرْح دار بنایا

يُوسُف کو تیرا طالبِ دِیدار بنایا

(ذوق نعت، ص ۴۲)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب! صَلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَى مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ آیتِ کریمہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور فرشتوں کے دُرُود بھیجنے کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی دُرُودوسلام بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگرچہ ایک ہی لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور مؤمنین کی طرف کی گئی ہے لیکن منسوب الیہ کے اعتبار سے اس کا معنیٰ مختلف ہے۔ چنانچہ امام بغوی عَلَيْهِ رَحْمَةُ اللَّهِ القوی فرماتے ہیں: ”اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کا دُرُود ہے رَحمت نازل فرمانا، جبکہ فرشتوں کا اور ہمارا دُرُود دعائے رَحمت کرنا ہے۔“

(شرح السنة للامام بغوى، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبی، ۲/ ۳۸۰)

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مذکورہ آیتِ مبارکہ میں یہ خبر دی ہے کہ ہم ہر آن اور ہر گھڑی اپنے پیارے محبوب صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم پر رَحمتوں کی بارش برساتے ہیں۔ یہاں ایک سُوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ خو د ہی رَحمتیں نازل فرما رہا ہے تو ہمیں دُرُود شریف پڑھنے یعنی رَحمت کے لیے دُعا مانگنے کا کیوں حکم دیا جا رہا ہے، کیونکہ مانگی وہ چیز جاتی ہے جو پہلے سے حاصل نہ ہو، تو جب پہلے ہی سے رَحمتیں اتر رہی ہیں، پھر مانگنے کا حکم کیوں دیا؟

اِس کا جَواب یہ ہے کہ کوئی سُوالی کسی دروازے پر مانگنے جاتا ہے تو گھر والے کے مال واولاد کے حق میں دُعائیں مانگتا ہوا جاتا ہے، سُنّی کے بچے زندہ رہیں، مال سلامت رہے، گھر آباد رہے وغیرہ وغیرہ۔ جب یہ دُعائیں مالِكِ مکان سنتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ یہ بڑا مہذّب سُوالی ہے، بھیک مانگنا چاہتا ہے مگر ہمارے بچوں کی خیر مانگ رہا ہے، خُوش ہو کر کچھ نہ کچھ جھولی میں ڈال دیتا ہے۔ یہاں حُکم دیا گیا: اے ایمان والو! جب تُم ہمارے یہاں کچھ مانگنے آؤ تو ہم تو اولاد سے پاک ہیں، مگر ہمارا ایک پیارا حبیب ہے، محمد مصطفٰے صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم اٌس حبیب صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم کی، اٌس کے اَهلِ بیت (عَلَيْهِمُ الرِّضْوان) کی اور اٌس کے اَصْحاب کی خیر مانگتے ہوۓ، اُن کو دُعا ئیں دیتے ہوۓ آؤ تو جن رَحمتوں کی اُن پر بارش ہو رہی ہے اُس کا تم پر بھی چھینٹا ڈال دیا جاۓ گا۔

(شان حبیب الرحمن، ص ۱۸۲ ملخصاً)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان چھینٹوں میں سے ایک چھینٹا یہ ہے کہ رِوایت میں آتا ہے:

مَنْ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً

یعنی جس نے نبی کریم، رَءُوفٌ رَّحیم عَلَيْهِ اَلفْضْلُ وَالسَّلِیم پر ایک بار دُرُود پاک پڑھا اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتے اس پر سَتّر رَحمتیں نازل فرماتے ہیں۔

(مسند احمد، مسند عبدالله بن عمرو بن العاص، ۲/ ۲۱۴، حديث: ۶۷۲۶)

دُرُود شریف پڑھنا دَر اصل اپنے پرُوَرْدِگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے مانگنے کی ایک اَعلیٰ ترکیب ہے۔

امامِ اَہلِ سُنّت، امام احمد رضا خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الرَّحْمَن کا کلام

میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلِ سُنّت، مُجَدِّدِ دِين وملّت، امام احمد رضا خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الرَّحْمَن اپنے مشہورِ زمانہ نعتیہ دیوان ”حدائقِ بخشش شریف“ میں بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں:

وہی رَبّ ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا

(حدائق بخشش، ص ۳۶۳)

مُفَسِّرِ شہیر حكيمُ الأُمَّت حضرت مُفتى احمديار خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الحَنَّان مزید ارشاد فرماتے ہیں: ”اِس آيتِ مُقَدَّسہ میں مُسلمانوں کو خبردار فرما دیا گیا کہ اے دُرُودوسلام پڑھنے والو! ہرگز ہرگز یہ گمان بھی نہ کرنا کہ ہمارے محبوب صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم پر ہماری رَحمتیں تمہارے مانگنے پر مَوقُوف ہیں اور ہمارے محبوب صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم تمہارے دُرُودوسلام کے مُحتاج ہیں۔ تم دُرُود پڑھو یا نہ پڑھو، ان پر ہماری رَحمتیں برابر برستی ہی رہتی ہیں۔ تمہاری پیدائش اور تمہارا دُرُودوسلام پڑھنا تو اب ہوا۔ پیارے حبیب صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم پر رَحمتوں کی برسات تو جب سے ہے جب کہ ”جب“ اور ”کب“ بھی نہ بنا تھا۔ ”جہاں“، ”وہاں“، ”کہاں“ سے بھی پہلے ان پر رَحمتیں ہی رَحمتیں ہیں۔ تم سے دُرُودوسلام پڑھنوانا یعنی پیارے محبوب صَلَّى الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّم کے لیے دُعائے رَحمت منگوانا تمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے تم دُرُودوسلام پڑھو گے تو اس میں تمہیں کثیراَجر وثواب ملے گا۔“

(شان حبیب الرحمن، ص ۱۸۲ ملخصاً)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب! صَلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَى مُحَمَّد

No comments:

Post a Comment