Wednesday, June 3, 2026

Andheri Raat Hai Gham Ki Ghata Isiyan Ki Kaali Hai


 اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تُو ہی والی ہے


نہ ہو مایوس آتی ہے صَدا گورِ غریبَاں سے

نبی اُمّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے


اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے

اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اُجالی ہے


ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر

کہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے


اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا

خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے


زمیں تپتی، کٹیلی راہ، بَھاری بوجھ، گھائل پاؤں 

مصیبت جھیلنے والے تِرا اللہ والی ہے


نہ چَونکا دن ہے ڈھلنے پر تری منزل ہوئی کھوٹی

ارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے


رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اِک میں کیا سبھی کو ہے

تم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے

No comments:

Post a Comment