(Al-Fatāwā al-Riḍawiyyah, vol. 15, p. 649)
Theological and Scriptural Foundations
·
The Total Number of Rows: The text outlines that the
entire population of Paradise, spanning from the creation of Prophet Adam to
the end of time, will be organized into 120 distinct rows. This specific
organizational layout is derived directly from authentic prophetic traditions (Ahadith).
·
The Dominance of the Final Ummah: Out of these 120
rows, an overwhelming majority—exactly 80 rows—will consist exclusively of the
followers of the Holy Prophet Muhammad صَلَّى اللهُ
تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ.
·
The Collective Total of Past Nations: The remaining 40
rows will encompass the believers from all other past prophets and messengers
combined, including the nations of grand prophets such as Nuh (Noah), Ibrahim
(Abraham), Musa (Moses), and 'Isa (Jesus) عَلَیْہِمُ
السَّلَام.
Deep Spiritual Context and Meaning
This distribution is a manifest sign of Allah Almighty's
divine grace (Bihamdillah Ta'ala)
and a testament to the supreme status of the Final Prophet صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ. In Islamic theology,
the greatness of a prophet is often reflected in the greatness and vastness of
their followers. By making the Muslim Ummah two-thirds (66.6%) of the total population of
Paradise, Allah Almighty honors His Beloved Messenger by allowing his message
to bear the most fruit throughout human history.
This text is anchored in an authentic Hadith narrated by
the noble companion Buraydah and collected in major books of traditions (such
as Sunan At-Tirmidhi and Sunan Ibn Majah), where the
Prophet صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ said: "The
people of Paradise are one hundred and twenty rows, eighty of them are from
this Ummah, and forty are from all the other nations."
Socio-Spiritual Implications for Believers
1.
A Source of Hope and Tidings: For a practicing Muslim,
this text serves as an immense source of spiritual hope (Raja'). It shows that
entry into Paradise is uniquely facilitated and expansive for this Ummah, comforting
believers that they belong to a community destined for ultimate success.
2.
Gratitude and Responsibility: Realizing that two out
of every three people in Paradise will belong to the final Ummah instills a deep
sense of gratitude (Shukr)
toward Allah for creating them within this blessed generation. Concurrently, it
demands a strong sense of responsibility to uphold the core tenets of Islam,
follow the Sunnah, and
actively preserve one's faith.
اہل جنّت کی صفیں
اہلِ جنّت کی ایک سو بیس (120) صفیں ہوں گی
جن میں بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰی اسّی (80) ہماری (یعنی آخری نبی صَلَّی اللہ علیہ
والہ وسلم کی امّت کی) اور چالیس (40) میں باقی سب اُمّتیں۔
(فتاویٰ رضویہ، 15/649)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
علمی اور فکری پہلو
·
اہلِ جنت کی کل
صفیں: اس مقتبس میں واضح کیا گیا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت
تک آنے والے تمام انبیاء کرام کے سچے پیروکار اور مومنین جب جنت میں داخل ہوں گے،
تو ان کی کل 120 صفیں (Rows) بنائی جائیں گی۔ یہ ایک مخصوص اور منظم الٰہی ترتیب ہوگی۔
·
امتِ محمدیہ کا
حصہ: ان 120 صفوں میں سے "بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰی" (اللہ تعالیٰ
کے فضل و کرم سے) اسّی (80) صفیں صرف اور صرف آخری نبی صَلَّى اللهُ تَعَالٰى
عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت پر مشتمل ہوں گی۔ یہ کل جنتیوں کا دو تہائی (Two-Thirds) حصہ بنتا ہے۔
·
سابقہ امتوں کا
حصہ: باقی بچنے والی چالیس (40) صفوں میں دنیا کے آغاز سے لے کر آخر تک آنے
والے تمام دیگر ہزاروں انبیاء اور رسل (مثلاً حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ
اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام) کی امتیں اور ان کے مومنین یکجا ہوں گے۔
روحانی و ایمانی پس منظر
یہ تقسیم بارگاہِ الٰہی میں سرکارِ دو عالم
صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اعلیٰ ترین مقام اور
محبوبیت کی دلیل ہے۔ کسی بھی نبی کی عظمت کا اندازہ اس کے پیروکاروں کی تعداد اور
ان کی کامیابی سے لگایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّى اللهُ تَعَالٰى
عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ منفرد اعزاز بخشا کہ کائنات کی کل جنتی آبادی
کا سب سے بڑا حصہ آپ کی امت کو عطا فرما دیا۔
یہ کلمات براہِ راست احادیثِ مبارکہ پر
مبنی ہیں، جیسا کہ سنن ترمذی، سنن ابنِ ماجہ اور مسندِ احمد میں حضرت بریدہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے ارشاد فرمایا: "اہلِ جنت کی ایک سو
بیس صفیں ہوں گی، جن میں سے اسی صفیں اس امت کی ہوں گی اور چالیس صفیں باقی تمام
امتوں کی ہوں گی۔"
مومنین کے لیے عملی و اخلاقی پیغام
1. امید اور خوشخبری کا پیغام: یہ تحریر عام مسلمانوں کے دلوں میں امید کی شمع
روشن کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت امتِ محمدیہ پر کس قدر وسیع ہے
اور اس امت کے لیے مغفرت اور جنت کے دروازے کس قدر کثرت سے کھلے ہوئے ہیں۔
2. شکر گزاری کا جذبہ: جب ایک مسلمان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بنا مانگے
اتنی عظیم امت میں پیدا فرمایا جو جنت کی صفوں پر چھائی ہوئی ہوگی، تو دل خود بخود
اللہ کی حمد اور شکر گزاری سے لبریز ہو جاتا ہے۔
3. عمل کی ترغیب: یہ اعزاز جہاں خوشی کا باعث ہے، وہیں ہمیں اس بات کی یاددہانی بھی
کراتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالیں۔ اگر ہم اس عظیم
الشان اسی (80) صفوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے عقائد، اعمال اور اخلاق
کو بھی حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لائے ہوئے
احکامات کے مطابق مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ فضیلت سچے ایمان اور نیک اعمال پر استقامت
اختیار کرنے سے ہی مکمل ہوتی ہے۔


No comments:
Post a Comment