Monday, February 8, 2021
The Teaching Of Shame | Modesty | The Condemnation Of Immorality | The Blessed Hadiths
Sunday, February 7, 2021
Valentine's Day Background And Style Of Celebrating This Day
Valentine's Day (In The Light Of Quran And Hadith)
Monday, February 1, 2021
Quran e Pak Ki Zaroorat | Quran Ki Ahmiyat Aur Fawaid
قرآن پاک کی ضرورت، اہمیت اور فوائد
قرآن کریم وحی الہٰی ہے، یہ قُربِ خداوندی کا ذریعہ ہے، رہتی دنیا تک کےلیے نسخۂ کیمیاء ہے، تمام علوم کا سرچشمہ ہے، یہ ہدایت کا مجموعہ، رحمتوں کا خزینہ اور برکتوں کامنبع ہے، یہ ایسا دستور ہے جس پر عمل پیرا ہوکر تمام مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، ایسا نور ہے، جس سے گمراہی کے تمام اندھیرے دور کیے جاسکتے ہیں ایسا راستہ ہے، جو سیدھا اللہ پاک کی رضا اور جنّت تک لے جاتا ہے، اصلاح و تربیت کا ایسا نظام ہے جو انسان کا تزکیہ کرکے (یعنی انسان کو پاک کرکے) اسے مثالی بنادیتا ہے، ایسادرخت ہے جس کے سائے میں بیٹھنے والا قلبی سکون محسوس کرتاہے، ایساباوفا ساتھی ہے جو قبر میں بھی ساتھ نبھاتا ہے اور حشر میں بھی وفا کا حق اداکرے گا۔ آئیے جانتے ہیں کہ قرآن کریم کیوں نازل ہوا؟ اس کی اہمیت کیاہے؟ اس کے فوائد وثمرات کیاہیں؟
ضرورت:
انسان طبعی طور پر مل جل کر رہنے والاہے اور ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کےلیے خوراک، کپڑوں اور مکان کی جبکہ افزائش نسل کےلیے نکاح کی ضرورت ہے۔ ان چار چیزوں کے حصول کےلیے اگر کوئی قانون اور ضابطہ نہ ہوتو ہرزور آور اپنی ضرورت کی چیزیں طاقت کے ذریعہ کمزور سے حاصل کرلے گا، لہٰذا عدل وانصاف کو قائم کرنے کی غرض سے کسی قانون کی ضرورت ہے اور یہ قانون اگر کسی انسان نے بنایا تو وہ اس قانون میں اپنے تحفظات اور اپنے مفادات شامل کرے گا، اس لیے ضروری ہے کہ یہ قانون انسان کا بنایا ہوا نہ ہو تاکہ اس میں کسی کی جانبداری کا شائبہ اور وہم و گمان نہ ہو ایسا قانون صرف خدا کا بنایا ہوا قانون ہو سکتاہے۔ جس کا علم خدا کے بتلانے سے ہوگا اور اللہ پاک نے پوری انسانیت کی ہدایت و فلاح کےلیے یہ قانون قرآن کی صورت میں عطا فرمایاجس کی تفسیر اس امت کے علماء نے احادیثِ رسول واقوالِ صحابہ کی روشنی کی اور ہمارے لیے اس کا سمجھنا مزید آسان بنا دیا چنانچہ
اہمیت:
حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھاہے۔ (تفسیر قرطبی)
فوائد وثواب:
قرآن پاک پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں۔
(۱)…حدیث مبارکہ میں ہے کہ ’’النَّظْرُ فِی الْمُصْحَفِ عِبَادَۃٌ‘‘ یعنی قرآن پاک کو دیکھنا عبادت ہے۔(شعب الایمان)
(۲)…قرآن پاک پڑھنے سے بیماریوں سے شفاء حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ رب العزّت کا فرمان ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ۔ ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا۔
(۳)… قرآن کریم پر عمل بلندی اور اس سے انحراف تنزلی کا باعث ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَاماً وَیَضَعُ بہ اٰخَرِیْن۔ یعنی اللہ پاک اس کتاب کے سبب کتنی قوموں کو بلندی عطاکرتاہے اور کتنوں کو پست کرتاہے۔ (مسلم )
(۴)… رحمت والے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَابِ اﷲِ فَلَہ حَسَنَۃٌ وَ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا لَااَقُوْلُ المٓ حَرْفٌ وَلٰکِنْ اَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ یعنی جس نے قرآن کریم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ہرنیکی دس نیکیاں، میں نہیں فرماتا کہ الٓم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف اور لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔(جامع الترمذی (
قارئین کرام! دنیا کا ہروہ انسان جو کامیاب زندگی گزارنا چاہتاہے قرآن کریم اس کےلیے ایک ایسالائحۂ عمل، جس پر عمل کے ذریعہ وہ معاشرہ میں ایک اچھا مقام حاصل کرسکتاہے اوراس کی بدولت معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
Wazu ke Faraiz
وضو کے فرائض
اللہ پاک نے ہمیں اس دنیا میں اپنی عبادت کے لئے بھیجا۔ اسلام میں کثیر عبادات کا مکمل انحصار طہارت و پاکیزگی پر ہے۔ جس طرح روح کو نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے ذریعے پاک و صاف کیا جاتا ہے، اسی طرح بدن کو ربِ کائنات کی بارگاہ میں حاضر کرنے سے پہلے پاک و صاف کرنا ضروری ہے۔
وضو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید میں وضو کرنے کا نہ صرف واضح حکم موجود ہے بلکہ نماز کے لئے وضو کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ: اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹِوں تک پاؤں دھوؤ۔ (پارہ 6، المائدہ:6)
وضو کی تعریف:
نماز یا اس جیسی کوئی عبادت ادا کرنے کے لئے چہرہ، پیشانی (میں جہاں سے بال اُگتے ہیں) سے تھوڑی کے نیچے اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک دھونے اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونے اور سر پر مسح کرنے کو وضو کہتے ہیں۔
وضو کے چار فرائض ہیں:
· چہرہ دھونا۔
· کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا۔
· چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
· ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔ (بہارِ شریعت، 1/288)
وضو کے فرائض میں دھونے کا ذکر ہے، آیئے دھونے کی تعریف ملاحظہ فرمایئے:
دھونا کسے کہتے ہیں؟
جسم کے کسی حصے کو دھونے کا یہ مطلب ہے کہ اُس عُضْوْ کے ہر حصّے پر کم از کم دو قطرے پانی بہہ جائے۔ صرف بھیگ جانے یا پانی کو تیل کی طرح چپڑ لینے یا ایک قطرہ بہ جانے کو دھونا نہیں کہیں گے نہ اِس طرح وُضو یا غسل ادا ہو گا۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ، 1/218)
وضو سے پہلے بِسْمِ اللہ کہنے کی فضیلت:
وضو سے پہلے بِسْمِ اللہ کہنے کی عادت بنانی چاہئے، چنانچہ دو حدیثوں کا خُلاصہ ہے: جس نے بِسْمِ اللہ کہہ کر وُضو کیا اس کا سر سے پاؤں تک سارا جسم پاک ہوگیا اور جس نے بغیر بِسْمِ اللہ کہے وُضو کیا اُس کا اُتنا ہی بدن پاک ہوگا جتنے پر پانی گزرا۔ (سُننِ دارقُطنی 6/109،حدیث229،228)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے ابوہریرہ! جب تم وُضو کرو تو بسم اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کہہ لیا کرو، جب تک تمہارا وُضو باقی رہے گا، اُس وقت تک تمہارے فرشتے یعنی کِراماً کاتِبِین تمہارے لئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔ (اَلْمُعْجَمُ الصَّغیر لِلطَّبَرَانِی)
Make The Following Announcement Before The Funeral Of An Adult
Madani Pearls In Relation To Funeral Salah
- So-and-so must be the Imām of my funeral Ṣalāĥ’ the Shar’ī ruling about such a will
- Baĥār-e-Sharī’at, vol. 1, pp. 837;
- Ālamgīrī, vol. 1 pp. 163, etc.
- The Imām should stand before the chest of the corpse
- What if burial occurs without offering funeral Ṣalāĥ?
- Funeral Ṣalāĥ of someone buried under the rubble
- Delaying the funeral Ṣalāĥ, to increase attendees
- (Baĥār-e-Sharī’at, vol. 1, pp. 830; Rad-dul-Muḥtār, vol. 3, pp. 173, etc.)