Sunday, July 26, 2026

Silah Rahmi aur Rishtedaron ke Huqooq

 

رشتے دار دوسرے مُلک میں ہوں تو کیا کرے؟

اگر یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتے والوں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط و کتابت جاری رکھے تاکہ بے تعلقی پیدا نہ ہو پائے اور ہو سکے تو وطن آئے اور رشتے داروں سے تعلّقات تازہ کرلے، اس طرح کرنے سے مَحَبَّت میں اضافہ ہوگا۔

(رَدُّ المُحتار ج ۹ ص ٦٧٨)

 فِی زمانہ رابطہ نہایت آسان ہے، خط پہنچنے میں کافی دیر لگتی، ہو سکے تو فون اور ای میل کے ذَرِیْعے بھی رابطہ رکھا جا سکتا ہے کہ یہ بھی اِزْدِیَادِ حُب (یعنی محبّت بڑھانے) کے ذرائع ہیں۔

قَطْعِ رَحْم کی ایک صورت

 جب اپنا کوئی رِشتہ دار کوئی حاجت پیش کرے تو اس کی حاجت روائی کرے، اس کو رد کر دینا قَطْعِ رَحْم (یعنی رشتہ کاٹنا) ہے۔

(دُرِّ مَختار، ص ۳۲۳)

 یاد رہے! قَطْعِ رَحْم یعنی رشتہ کاٹنا حرام ہے۔

صِلَةُ رَحْم یہ ہے کہ وہ توڑے تب بھی تم جوڑو

 صِلۂ رَحْمِی (رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک) اسی کا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مُکافاة یعنی بدلا کرنا ہے کہ اس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اس کے پاس بھیج دی، وہ تمہارے یہاں آیا تم اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتًا صِلۂ رَحْم (یعنی کامل دَرَجے کا رشتے داروں سے حُسنِ سلوک) یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے، بے اعتنائی (بے ۔ اِغ ۔ تے۔ نائی۔ یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مُراعات (یعنی لحاظ و رعایت) کرو۔

(رَدُّ المُحتار ج ۹ ص ٦٧٨)

ناراض رشتے داروں سے صُلْح کرلیجئے

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میری آپ سے مَدَنی التجا ہے کہ اگر آپ کی کسی رشتے دار سے ناراضی ہے تو اگرچہ رشتے داری کا قُصور ہو صُلْح کے لیے خود پہل کیجئے اور خود آگے بڑھ کر خندہ پیشانی کے ساتھ اُس سے مل کر تعلّقات سنوار لیجیے۔ ہاں اگر کوئی شرعی مصلحت مانع (یعنی رکاوٹ) ہے تو بے شک صُلْح نہ کی جائے۔ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سنتوں کی تربیت کے لیے سنتوں بھرا سفر اور روزانہ ”فکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیْعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں کے ذمّے دار کو جَمْع کروانے کی برکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِطَفْیْلِ مَصطَفْے صَلَّى اللهُ تعالی عليه واله وسلم اِحترامِ مسلم کا آپ کے اندر وہ دَرْد پیدا ہوگا کہ تمام روٹھے ہوئے رشتے داروں سے نہ صرف صُلْح ہو جائے گی بلکہ وہ اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے بھی وابستہ ہو جائیں گے۔ سب شکر رنجیاں دور ہوں گی میاں قافلے میں چلیں قافلے میں چلو

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى مُحَمَّد

یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی فضیلت

 جس بچے یا بچی کا باپ فوت ہو جائے اُس کو یتیم کہتے ہیں۔ جب بچّہ بالغ یا بچی بالغہ ہو گئی تو اب یتیم کے احکام خَتْم ہوئے۔ یتیموں کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کا بھی بڑا ثواب ہے۔

چنانچہ رسول کریم، رءوفٌ رَّحیم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عَظِيم ہے:

”جو شخص یتیم کے سر پر مَحْض اَللّٰه عَزَّوَجَلَّ کے لیے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گُزراہوال بال کے مقابل میں اُس کے لیے نیکیاں ہیں اور جو شخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے پر احسان کرے میں اور وہ جَنّت میں (دو انگلیوں کو ملا کر فرمایا) اس طرح ہوں گے۔“

(مُسند امام احمد بن حنبل ج ۸ ص ۲۷۲ حدیث ۲۲۲۱۵)

 یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے سے دل کی سختی دور ہوتی ہے۔

چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضیَ اللهُ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی۔

نَبِیِّ رَحْمَت، شَفِیْعِ اُمَّت صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:

”یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔“

(ايضاً ج ۳ ص ۳۳۵ حدیث ۹۰۲۸)

بے چین دلوں کے چین، رَحْمَتِ دارِین صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:

 ”لڑکا یتیم ہو تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں آگے کی طرف لے آئے اور نیچے کا باپ ہو تو ہاتھ پھیرنے میں گردن کی طرف لے جائے۔“

(مُعجم أوسط ج ۱ ص ۳۵۱ حدیث ۱۲۷۹)

 عورت سے نبھانے کی کوشش کیجئے

مَرْد کو چاہیے کہ اپنی زَوْجہ کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کرے اور اُس کو حکمتِ عملی کے ساتھ چلائے۔

چنانچہ میٹھے میٹھے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ حکمت نشان ہے:

”بشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے تمہارے لیے کسی طرح سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تم اس سے نفع چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی نفع حاصل کر سکتے ہو اور اگر اس کو سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ ڈالو گےاور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے۔“

(مسلم ص ۷۷۵ حدیث ۱۴۶۸)

زَوْجہ کے ساتھ نُرْمی کی فضیلت

معلوم ہوا کچھ نہ کچھ خلافِ مزاج حرکتیں اس سے سرزد ہوتی ہی رہیں گی۔ مَرْد کو چاہئے کہ صَبْر کرتا رہے۔

نبیوں کے سرور، حُسنِ اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ روح پرور ہے:

”کامل ایمان والوں میں سے وہ بھی ہے جو عُمدہ اخلاق والا اور اپنی زَوْجہ کے ساتھ سب سے زیادہ نَُرْم طبیعت ہو۔“

(ترمذی ج ۴ ص ۲۷۸ حدیث ۲۶۲۱)

عورت کے ساتھ درگزر کا معاملہ رکھنے

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک میں اُن لوگوں کے لئے دعوتِ فکر ہے جو بات بات پر اپنی زَوْجہ کو جھاڑتے بلکہ مارتے ہیں۔ ایک صِنْفِ نازِک پر قُوّت کا مظاہرہ کرنا اور خواہ مخواہ رُعب جھاڑ نامردانگی نہیں۔ اگرچہ عورت کی بھول ہو تب بھی درگزر سے کام لینا چاہئے کہ جب عورت سے کثیر منافع بھی حاصل ہوتے ہیں تو اُس کی نادانیوں پر صَبْر بھی کرنا چاہئے ۔

نبی رَحْمَت، شَفِیْعِ اُمَّت صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:

 ”مؤمن مرد مومنہ عورت سے دشمنی نہیں رکھ سکتا۔ اگر اس کی ایک خصلت بُری لگے گی تو دوسری پسند آ جائے گی۔“

(مُسلم ص ۷۷۵ حدیث ۱۴۶۹)

Apne Ghar Walon ko Dozakh se Bachane ka Tariqah (اہل خانہ کو دوزخ سے کیسے بچائیں؟)

 

اولاد کو ادب سکھائیے

والدین کو بھی چاہیے کہ اپنی اولاد کے حُقوق کا خیال رکھیں، انہیں ماڈرن بنانے کے بجائے سُنّتوں کا چلتا پھرتا نمونہ بنائیں، ان کے اخلاق سنواریں، بُری صحبت سے دُور رکھیں، سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے وابستہ کریں۔ فلموں ڈراموں، گانے باجوں اور برے رسم و رواج سے بھر پور، یادِ خدا و مصطفےٰ سے دور کرنے والے فُحش فنکشنوں سے بچائیں۔ آج کل شاید ماں باپ اولاد کے حُقوق یہی سمجھتے ہیں کہ ان کو دُنْیَوی تعلیم مل جائے، ہُنر اور مال کمانا آجائے۔ آہ! اپنے لِختِ جگر کے لباس اور بدن کو میل کچیل سے بچانے کا تو ذِہن ہوتا ہے مگر بچّے کے دل ودماغ اور اعمال وافعال کی پاکیزگی کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔

الله عَزَّوَجَلَّ محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهٌ عَنِ الْعُيُوب صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم کا فرمانِ عالیبرانشان ہے:

 ”کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے وہ اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے افضل ہے۔“

( ترمذی ج ۳ ص ۳۸۲ حدیث ١٩٥٨ )

اور ارشاد ہے کہ ”کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی چیز ایسی نہیں دی جو اچھے ادب سے بہتر ہو ۔“

(أيضاً ص ۳۸۳ حدیث ١٩٥٩)

گھروں میں مَدَنی ماحول نہ ہونے کی ایک وجہ

 افسوس! آج کل ہم میں سے اکثر کے گھروں میں مَدَنی ماحول بالکل نہیں ہے۔ اس میں کافی حد تک ہمارا اپنا بھی قصور ہے ۔ گھر والوں کے ساتھ ہماری بے تکلّفی، ہنسی مذاق، تُو تزاڑ اور بد اخلاقی اور حد دُرجہ بے توجُّہی اس کے اسباب ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ تو ہمارے بعض اسلامی بھائی انتہائی عاجزی اور مسکینی سے پیش آتے ہیں مگر گھر میں شیر بَبَر کی طرح دُہاڑتے ہیں، اس طرح گھر میں وقار قائم ہوتا ہی نہیں اور اہل خانہ بے چارے اصلاح سے اکثر محروم رہ جاتے ہیں۔ خبردار! اگر آپ نے اپنے اخلاق نہ سنوارے، گھر والوں کے ساتھ عاجزی اور خندہ پیشانی کا مُظاہرہ کر کے ان کی اصلاح کی کوشش نہ کی تو کہیں جہنم میں نہ جا پڑیں ۔

الله تبارک و تعالی پارہ 28 سُورَةُ التَّحْرِيم کی آیت 6 میں ارشاد فرماتا ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ

ترجمہ کنز الايمان

اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

اہل خانہ کو دوزخ سے کیسے بچائیں؟

 اس آیت کریمہ کے تَحْت خَزائِنُ الْعِرْفان میں ہے:

الله تَعَالَى اور اس کےرسول صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم کی فرمانبرداری اختیار کر کے، عبادتیں بجا لا کر، گناہوں سے باز رہ کر گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور بدی سے مُمانَعَت کر کے اور انہیں عُلم و ادب سکھا کر (اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ)

رِشْتَ داروں کا اِحترام

تمام رِشْتَ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے ۔ حضرت سَیِّدُ نا عاصم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم نے فرمایا:

”جس کو یہ پسند ہو کہ عُمْر میں درازی اور رِزْق میں فراخی ہو اور بُری موت دَفْع ہو وہ الله تَعَالَى سے ڈرتا رہے اور رِشْتَ داروں سے حُسنِ سُلُوک کرے۔“

(المُستَدْرَک ج ٥ ص ۲۲۲ حدیث ۷۳۶۲)

مصطفےٰ جانِ رَحْمَت، شَمْع بزمِ ہدایت صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم نے فرمایا:

 ”رِشتہ کاٹنے والا جَنّت میں نہیں جائے گا ۔“

(بخاری ج ٤ ص ۹۷ حدیث ٥٩٨٤)

 رِشْتَ داروں سے حُسنِ سُلُوک کے مَدَنی پھول صِلۂ رَحمی کے معنی

 دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المَدینہ کی مطبوعہ 312 صَفْحات پر مشتمل کتاب، ”بہارِ شریعت حِصَّہ (16) ‘‘ صَفْحہ 201 تا 203 پر ہے: صِلۂ رَحْم کے معنی رشتے کو جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں کے ساتھ نیکی اور سُلُوک کرنا۔ ساری اُمّت کا اس پر اتفاق ہے کہ صِلۂ رَحْم واجب ہے اور قَطْع رَحْم (یعنی رشتہ توڑنا) حرام ہے۔

کن رِشْتَ داروں سے صِلۂ واجب ہے؟

جن رشتے والوں کے ساتھ صِلۂ (رَحْم) واجب ہے وہ کون ہیں؟ بعض علما نے فرمایا: وہ ذُو رَحْم مَحْرَم ہیں اور بعض نے فرمایا: اس سے مراد ذُو رَحْم ہیں، مُحْرَم ہوں یا نہ ہوں۔ اور ظاہر یہی قول دُوم ہے، احادیث میں مُطْلَقاً (یعنی بغیر کسی قید کے) رِشتے والوں کے ساتھ صِلۂ (یعنی سُلُوک) کرنے کا حکم آتا ہے، قرآنِ مجید میں مُطْلَقاً (یعنی بلا قید) ذَوِی الْقُرْبٰی (یعنی قرابت والے) فرمایا گیا مگر یہ بات ضرور ہے کہ رشتے میں چونکہ مختلف دَرَجات ہیں (اسی طرح) صِلۂ رَحْم (یعنی رشتے داروں سے حُسنِ سُلُوک) کے دَرَجات میں بھی تفاوت (یعنی فرق) ہوتا ہے۔ والدین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے، ان کے بعد ”ذُو رَحْم مَحْرَم کا، (یعنی وہ رشتے دار جن سے نسبی رشتہ ہونے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو) ان کے بعد بَقِیَّہ رشتے والوں کا علی قَدْرِ مَراتب ۔ (یعنی رشتے میں نزدیکی کی ترتیب کے مطابق)

 (رَدُّ المُحتار ج 9 ص ٦٧٨)

ذُو رَحْم مَحْرَم‘‘ اور ”ذُو رَحْم‘‘ سے مراد؟

مُفَسِّرِ شَهیر، حَکیمُ الْأُمَّت، حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَة کی آیت 83

وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى

ترجمہ کنز الايمان

اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں سے۔

کے تحت ”تفسیر نعیمی‘‘ میں لکھتے ہیں: اور قُربیٰ بمعنی قرابت ہے یعنی اپنے اہل قرابت کے ساتھ احسان کرو، کیونکہ اہل قرابت کا رشتہ ماں باپ کے زَرِیْعے سے ہوتا ہے اور ان کا احسان بھی ماں باپ کے مقابلے میں کم ہے اس لیے ان کا حق بھی ماں باپ کے بعد ہے، اس جگہ بھی چند ہدایتیں ہیں: پہلی ہدایت: ذَوِی الْقُرْبٰی وہ لوگ ہیں جن کا رشتہ بذریعے ماں باپ کے ہو جے ”ذی رَحْم‘‘ بھی کہتے ہیں، یہ تین طرح کے ہیں: ایک باپ کے قرابت دار جیسے دادا، دادی، چچا، پھوپھی وغیرہ، دوسرے ماں کے جیسے نانا، نانی، ماموں، خالہ، اخيافی (یعنی جن کا باپ الگ الگ ہو اور ماں ایک ہو ایسے بھائی اور بہن کا) بھائی وغیرہ، تیسرے دونوں کے قرابت دار جیسے حقیقی بھائی بہن۔ ان میں سے جس کا رشتہ قوی ہوگا اس کا حق مقدّم ۔ دوسری ہدایت: اہل قرابت دو قسم کے ہیں ایک وہ جن سے نکاح حرام ہے، انہیں ذی رَحْم مَحْرَم (یعنی ایسا قریبی رشتہ دار کہ اگر ان میں سے جس کسی کو بھی مرد اور دوسرے کو عورت فرض کیا جائے تو نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو جیسے باپ، ماں، بیٹا، بیٹی، بہن، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ، بھانجا، بھانجی وغیرہ) کہتے ہیں جیسے چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ وغیرہ۔ ضرورت کے وقت ان کی خدمت کرنا فرض ہے نہ کرنے والا گنہگار ہوگا۔ دوسرے وہ جن سے نکاح حلال جیسے خالہ، ماموں، چچا کی اولاد ان کے ساتھ احسان وسلوک کرنا سُنّتِ مؤکّدہ ہے اور بہت ثواب لیکن ہر قرابت دار بلکہ سارے مسلمانوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا ضروری اور ان کو ایذا پہنچانی حرام۔ (تفسیر عزیزی) تیسری ہدایت: سُسرالی دُور کے رشتے دار ذی رَحْم نہیں، ہاں ان میں سے بعض مَحْرَم ہیں جیسے ساس اور دودھ کی ماں، بعض مُحْرَم بھی نہیں، ان کے بھی حقوق ہیں یہاں تک کہ پڑوسی کے بھی حق ہیں مگر یہ لوگ اس آیت میں داخل نہیں کیونکہ یہاں رُحمی اور رشتے والے مراد ہیں۔

(تفسیر نعیمی ج ۱ ص ٤٤٧)

Ihtiram-e-Muslim aur Islami Muashray ke Sunehri Usool (اِحْتِرَامِ مُسْلِم)


اِحْتِرَامِ مُسْلِم

دُرُود شریف کی فضیلت

 سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ تَقَرُّب نشان ہے: ”قیامت کے روز لوگوں میں میرے نزدیک تر وہ ہوگا جس نے مجھ پر زیادہ دُرُود شریف پڑھے ہوں گے۔

 ترمذی ج ۲ ص ۲۷ حدیث ٤٨٤

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب! صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى مُحَمَّد

 کھوٹا سکّہ

 حضرت سَیِّدُنا شیخ ابو عبدُالله خَیّاط رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اُجرت میں کھوٹا رِسّکہ دے جاتا، آپ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ چپ چاپ لے لیتے ۔ ایک بار آپ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ کی غیر موجودگی میں شاگرد نے آتش پرست سےکھوٹا رِسّکہ نہ لیا۔ جب واپس تشریف لائے اور معلوم ہوا تو شاگرد سے فرمایا: تو نے کھوٹا دِرہم کیوں نہیں لیا؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا رِسّکہ ہی دیتا ہے اور میں بھی جان بوجھ کر لے لیتا ہوں تاکہ یہ وہی رِسّکہ کسی دوسرے مسلمان کو نہ دے آئے ۔

 (إحياءُ العُلُوم ج ۳ ص ۸۷ مُلخّصاً)

دعوتِ اسلامی کیا چاہتی ہے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! پہلے کے بزرگوں میں اِحترامِ مسلم کا جذبہ کس قَدَر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا تھا۔ کسی انجانے مسلمان بھائی کو اتفاقی نقصان سے بچانے کے لیے بھی اپنا خسارہ گوارا کر لیا جاتا تھا، جبکہ آج تو بھائی ہی بھائی کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی دورِ اسلاف کی یاد تازہ کرنا چاہتی ہے۔ ”دعوتِ اسلامی‘‘ نفرتیں مٹاتی اور مَحَبّتوں کے جام پلاتی ہے۔ ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سنتوں کی تربیت کے لیے سفر اور روزانہ ”فکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیْعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں کے ذمّے دار کو جَمْع کروانے کا معمول بنائے۔ اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مَصطَفٰے صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلّم اِحترامِ مسلم کا جذبہ بیدار ہوگا۔ اگر ایسا ہو گیا تو اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ ہمارا مُعاشرہ ایک بار پھر مدینہ منورہ زَادَهَا اللَّهُ شَرَفًا وَتَعْظِيمًا کے دلکش و خوشگوار، خوشبودار اور سدا بہار رنگ برنگے پھولوں سے لدا ہوا حسین گلزار بن جائے گا۔

طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے

دیکھو گے چمن والو جب عہدِ خزاں آیا

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى مُحَمَّد

تین شَخْص جَنّت سے (ابتدائی) محروم

والدین و دیگر ذوى الْأَرْحَام (یعنی جن کے ساتھ خونی رشتہ ہو دَرجہ بدرجہ) معاشرے میں سب سے زیادہ اِحترام وحُسنِ سُلُوک کے حقدار ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ اس کی طرف اب دھیان کم دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ عوام کے سامنے اگرچہ انتہائی مُنْکَسِرُ الْمِزاج و ملنسار گردانے جاتے ہیں مگر اپنے گھر میں بالخصوص والدین کے حق میں نہایت ہی تند مزاج و بد اخلاق ہوتے ہیں۔ ایسوں کی توجہ کے لیے عَرْض ہے، حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ الله ابنِ عُمَر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم، نورِ مجسّم، شاہِ بنی آدم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: ”تین شخص جَنّت میں نہیں جائیں گے، ماں باپ کو ستانے والا اور دَیُوث اور مُردانی وضع بنانے والی عورت۔“

(مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج ۸ ص ۲۷۰ حدیث ١٣٤٣٢)

دَیُوث کی تعریف

 بیان کردہ حدیثِ پاک میں ماں باپ کو ایذا دینے والے کے ساتھ ساتھ دَیُوث کے بارے میں بھی وعید ہے کہ وہ جَنّت سے محروم کر دیا جائے گا۔ ”دَیُوث‘‘ یعنی وہ شخص جو اپنی بیوی یا کسی مَحْرَم پر غیرت نہ کھائے۔

(دُرِّمُختار ج ۶ ص ۱۱۳)

مطلب یہ کہ با وجود قدرت اپنی زَوْجہ، ماں، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغیرہ کو گلیوں بازاروں، شاپنگ سینٹروں اور مَخْلُوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھرنے، اجنبی پڑوسیوں،نا محرم رِشْتَ داروں، غیر مُحْرَم ملازموں، چوکیداروں اور ڈرائیوروں سے بے تکلّفی اور بے پردگی سے منع نہ کرنے والے دَیُوث، جنّت سے محروم اور جَہَنَّم کے حقدار ہیں۔ یاد رکھیے! دیگر نامَحْرَموں کے ساتھ ساتھ تایا زاد، پھُپھا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد، چچی، ممانی، بہنوئی، خالو اور پھوپھا نیز دَیُور اور جیٹھ اور بھا بھی کے درمیان بھی شریعت نے پردہ رکھا ہے۔ اگر عورت مذکورہ رشتہ داروں سے بے تکلف رہے گی اور ان سے شُرعی پردہ نہیں کرے گی تو جَنَّم کی حق دار ہے اور شوہر اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کو اس گناہ سے نہیں روکے گا تو شَرعاً وہ ”دَیُوث‘‘ ابتدائے جنّت سے محروم اور عذابِ نار کا مُسْتَحِق ہے۔ جو علانیہ دَیُوث ہے وہ فاسِقُ مُعْلِن، ناقابلِ امامت و مر دودُ الشَّهَادۃ (یعنی گواہی کیلئے نالا ئق) ہے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سنتوں کی تربیت کے لیے سفر اور روزانہ فِکرِ مدینہ کے ذَرِیْعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں کے ذمّے دار کو جَمْع کروانے کا معمول بنائیے۔ اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بے حیائی کا مَرَض دیوثی اور دیگر گناہوں کے امراض بھی اُن میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے صدقے میں دور ہوں گے جن کی حیا سے جھکی ہوئی مبارک نگاہوں کا واسطہ پیش کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں عَرْض کرتے ہیں:

یا الہی! رنگ لائیں جب مری بے باکیاں

اُن کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو

(حدائق بخشش)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَحَمَّد

مَرْدَانہ لباس والی جنّت سے محروم

حدیثِ پاک میں مَردانی وَضْع بنانے والی عورت کو بھی جَنّت سے محروم قرار دیا گیا ہے۔ تو جو عورت مَرْدانہ لباس، یا مَرْدانہ جوتے پہنے یا مَرْدانہ طرز کے بال کٹواے وہ بھی اس وُعید میں داخل ہے۔ آج کل بچوں میں اس بات کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، لڑکے کو لڑکی کا لباس پہنا دیا جاتا ہے جس سے وہ لڑکی معلوم ہوتا ہے جبکہ لڑکی کو مَعَاذَ الله عَزَّوَجَلَّ لڑکے کا لباس مثلاً پینٹ شرٹ، لڑکے کے جوتے اور ہیٹ وغیرہ پہنا دیتے ہیں، بال بھی لڑکے کے جیسے رکھوائے جاتے ہیں کہ دیکھنے میں بالکل لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ صَدْرُ الشَّرِیعہ، بَدْرُ الطَّریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَةُ اللَّهِ عَلْوِ لکھتے ہیں: ”بچوں کے ہاتھ پاؤں میں بلا ضرورت مہندی لگانا جائز ہے۔ عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں میں لگا سکتی ہے مگر لڑکے کے لگائے گی تو گنہگار ہوگی۔“

 (بہار شریعت ج ۳ ص ٤٣٨ )

اپنے بچوں کو ایسے بابا سوٹ بھی مت پہنائیے جن پر انسان یا جانور کی تصویر بنی ہو، بچوں کو نیل پالش بھی نہ لگائیے اور بچوں کی ماں بھی ہرگز نہ لگائے کہ نیل پالش لگی ہونے کی صورت میں اس کے نیچے ناخن پر پانی نہیں بہتا، لہٰذا وُضو اور غُسل نہیں ہوتا۔ بڑے بھائی کا اِحترام والدین کے ساتھ ساتھ دیگر اہل خاندان مثلاً بھائی بہنوں کا بھی خیال رکھناچاہیے۔ والد صاحب کے بعد دادا جان اور بڑے بھائی کا رُتبہ ہے کہ بڑا بھائی والد کی جگہ ہوتا ہے۔

مصطفےٰ جانِ رَحْمَت، شَمْع بزمِ ہدایت، تاجدارِ رسالت، صاحبِ جود و سخاوت صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم کا فرمانِ رَحْمَت نشان ہے:

 ”بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسے والد کا حق اولاد پر۔“

(شُعَبُ الإيمان ج ٦ ص ٢١٠ حديث ٧٩٢٩)