Sunday, July 26, 2026

Silah Rahmi aur Rishtedaron ke Huqooq

 

رشتے دار دوسرے مُلک میں ہوں تو کیا کرے؟

اگر یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتے والوں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط و کتابت جاری رکھے تاکہ بے تعلقی پیدا نہ ہو پائے اور ہو سکے تو وطن آئے اور رشتے داروں سے تعلّقات تازہ کرلے، اس طرح کرنے سے مَحَبَّت میں اضافہ ہوگا۔

(رَدُّ المُحتار ج ۹ ص ٦٧٨)

 فِی زمانہ رابطہ نہایت آسان ہے، خط پہنچنے میں کافی دیر لگتی، ہو سکے تو فون اور ای میل کے ذَرِیْعے بھی رابطہ رکھا جا سکتا ہے کہ یہ بھی اِزْدِیَادِ حُب (یعنی محبّت بڑھانے) کے ذرائع ہیں۔

قَطْعِ رَحْم کی ایک صورت

 جب اپنا کوئی رِشتہ دار کوئی حاجت پیش کرے تو اس کی حاجت روائی کرے، اس کو رد کر دینا قَطْعِ رَحْم (یعنی رشتہ کاٹنا) ہے۔

(دُرِّ مَختار، ص ۳۲۳)

 یاد رہے! قَطْعِ رَحْم یعنی رشتہ کاٹنا حرام ہے۔

صِلَةُ رَحْم یہ ہے کہ وہ توڑے تب بھی تم جوڑو

 صِلۂ رَحْمِی (رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک) اسی کا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مُکافاة یعنی بدلا کرنا ہے کہ اس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اس کے پاس بھیج دی، وہ تمہارے یہاں آیا تم اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتًا صِلۂ رَحْم (یعنی کامل دَرَجے کا رشتے داروں سے حُسنِ سلوک) یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے، بے اعتنائی (بے ۔ اِغ ۔ تے۔ نائی۔ یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مُراعات (یعنی لحاظ و رعایت) کرو۔

(رَدُّ المُحتار ج ۹ ص ٦٧٨)

ناراض رشتے داروں سے صُلْح کرلیجئے

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میری آپ سے مَدَنی التجا ہے کہ اگر آپ کی کسی رشتے دار سے ناراضی ہے تو اگرچہ رشتے داری کا قُصور ہو صُلْح کے لیے خود پہل کیجئے اور خود آگے بڑھ کر خندہ پیشانی کے ساتھ اُس سے مل کر تعلّقات سنوار لیجیے۔ ہاں اگر کوئی شرعی مصلحت مانع (یعنی رکاوٹ) ہے تو بے شک صُلْح نہ کی جائے۔ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سنتوں کی تربیت کے لیے سنتوں بھرا سفر اور روزانہ ”فکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیْعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں کے ذمّے دار کو جَمْع کروانے کی برکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِطَفْیْلِ مَصطَفْے صَلَّى اللهُ تعالی عليه واله وسلم اِحترامِ مسلم کا آپ کے اندر وہ دَرْد پیدا ہوگا کہ تمام روٹھے ہوئے رشتے داروں سے نہ صرف صُلْح ہو جائے گی بلکہ وہ اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے بھی وابستہ ہو جائیں گے۔ سب شکر رنجیاں دور ہوں گی میاں قافلے میں چلیں قافلے میں چلو

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى مُحَمَّد

یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی فضیلت

 جس بچے یا بچی کا باپ فوت ہو جائے اُس کو یتیم کہتے ہیں۔ جب بچّہ بالغ یا بچی بالغہ ہو گئی تو اب یتیم کے احکام خَتْم ہوئے۔ یتیموں کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کا بھی بڑا ثواب ہے۔

چنانچہ رسول کریم، رءوفٌ رَّحیم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عَظِيم ہے:

”جو شخص یتیم کے سر پر مَحْض اَللّٰه عَزَّوَجَلَّ کے لیے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گُزراہوال بال کے مقابل میں اُس کے لیے نیکیاں ہیں اور جو شخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے پر احسان کرے میں اور وہ جَنّت میں (دو انگلیوں کو ملا کر فرمایا) اس طرح ہوں گے۔“

(مُسند امام احمد بن حنبل ج ۸ ص ۲۷۲ حدیث ۲۲۲۱۵)

 یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے سے دل کی سختی دور ہوتی ہے۔

چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضیَ اللهُ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی۔

نَبِیِّ رَحْمَت، شَفِیْعِ اُمَّت صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:

”یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔“

(ايضاً ج ۳ ص ۳۳۵ حدیث ۹۰۲۸)

بے چین دلوں کے چین، رَحْمَتِ دارِین صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:

 ”لڑکا یتیم ہو تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں آگے کی طرف لے آئے اور نیچے کا باپ ہو تو ہاتھ پھیرنے میں گردن کی طرف لے جائے۔“

(مُعجم أوسط ج ۱ ص ۳۵۱ حدیث ۱۲۷۹)

 عورت سے نبھانے کی کوشش کیجئے

مَرْد کو چاہیے کہ اپنی زَوْجہ کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کرے اور اُس کو حکمتِ عملی کے ساتھ چلائے۔

چنانچہ میٹھے میٹھے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ حکمت نشان ہے:

”بشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے تمہارے لیے کسی طرح سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تم اس سے نفع چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی نفع حاصل کر سکتے ہو اور اگر اس کو سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ ڈالو گےاور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے۔“

(مسلم ص ۷۷۵ حدیث ۱۴۶۸)

زَوْجہ کے ساتھ نُرْمی کی فضیلت

معلوم ہوا کچھ نہ کچھ خلافِ مزاج حرکتیں اس سے سرزد ہوتی ہی رہیں گی۔ مَرْد کو چاہئے کہ صَبْر کرتا رہے۔

نبیوں کے سرور، حُسنِ اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ روح پرور ہے:

”کامل ایمان والوں میں سے وہ بھی ہے جو عُمدہ اخلاق والا اور اپنی زَوْجہ کے ساتھ سب سے زیادہ نَُرْم طبیعت ہو۔“

(ترمذی ج ۴ ص ۲۷۸ حدیث ۲۶۲۱)

عورت کے ساتھ درگزر کا معاملہ رکھنے

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک میں اُن لوگوں کے لئے دعوتِ فکر ہے جو بات بات پر اپنی زَوْجہ کو جھاڑتے بلکہ مارتے ہیں۔ ایک صِنْفِ نازِک پر قُوّت کا مظاہرہ کرنا اور خواہ مخواہ رُعب جھاڑ نامردانگی نہیں۔ اگرچہ عورت کی بھول ہو تب بھی درگزر سے کام لینا چاہئے کہ جب عورت سے کثیر منافع بھی حاصل ہوتے ہیں تو اُس کی نادانیوں پر صَبْر بھی کرنا چاہئے ۔

نبی رَحْمَت، شَفِیْعِ اُمَّت صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:

 ”مؤمن مرد مومنہ عورت سے دشمنی نہیں رکھ سکتا۔ اگر اس کی ایک خصلت بُری لگے گی تو دوسری پسند آ جائے گی۔“

(مُسلم ص ۷۷۵ حدیث ۱۴۶۹)

No comments:

Post a Comment