اولاد کو ادب سکھائیے
والدین
کو بھی چاہیے کہ اپنی اولاد کے حُقوق کا خیال رکھیں، انہیں ماڈرن بنانے کے بجائے
سُنّتوں کا چلتا پھرتا نمونہ بنائیں، ان کے اخلاق سنواریں، بُری صحبت سے دُور
رکھیں، سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے وابستہ کریں۔ فلموں ڈراموں، گانے باجوں اور
برے رسم و رواج سے بھر پور، یادِ خدا و مصطفےٰ سے دور کرنے والے فُحش فنکشنوں سے
بچائیں۔ آج کل شاید ماں باپ اولاد کے حُقوق یہی سمجھتے ہیں کہ ان کو دُنْیَوی
تعلیم مل جائے، ہُنر اور مال کمانا آجائے۔ آہ! اپنے لِختِ جگر کے لباس اور بدن کو
میل کچیل سے بچانے کا تو ذِہن ہوتا ہے مگر بچّے کے دل ودماغ اور اعمال وافعال کی
پاکیزگی کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔
الله
عَزَّوَجَلَّ محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهٌ عَنِ الْعُيُوب صَلَّى اللهُ تعالى
عليه واله وسلم کا فرمانِ عالیبرانشان ہے:
”کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے وہ اس کے
لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے افضل ہے۔“
( ترمذی ج ۳ ص ۳۸۲ حدیث ١٩٥٨ )
اور ارشاد ہے کہ ”کسی
باپ نے اپنی اولاد کو کوئی چیز ایسی نہیں دی جو اچھے ادب سے بہتر
ہو ۔“
(أيضاً ص ۳۸۳ حدیث ١٩٥٩)
گھروں میں مَدَنی ماحول
نہ ہونے کی ایک وجہ
افسوس!
آج کل ہم میں سے اکثر کے گھروں میں مَدَنی ماحول بالکل نہیں ہے۔ اس میں کافی حد تک
ہمارا اپنا بھی قصور ہے ۔ گھر والوں کے ساتھ ہماری بے تکلّفی، ہنسی مذاق، تُو تزاڑ
اور بد اخلاقی اور حد دُرجہ بے توجُّہی اس کے اسباب ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ تو
ہمارے بعض اسلامی بھائی انتہائی عاجزی اور مسکینی سے پیش آتے ہیں مگر گھر میں شیر
بَبَر کی طرح دُہاڑتے ہیں، اس طرح گھر میں وقار قائم ہوتا ہی نہیں اور اہل خانہ بے
چارے اصلاح سے اکثر محروم رہ جاتے ہیں۔ خبردار! اگر آپ نے اپنے اخلاق نہ سنوارے،
گھر والوں کے ساتھ عاجزی اور خندہ پیشانی کا مُظاہرہ کر کے ان کی اصلاح کی کوشش نہ
کی تو کہیں جہنم میں نہ جا پڑیں ۔
الله
تبارک و تعالی پارہ 28 سُورَةُ التَّحْرِيم کی آیت 6 میں ارشاد فرماتا ہے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ
آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
ترجمہ کنز الايمان
اے ایمان والو! اپنی
جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
اہل خانہ کو دوزخ سے
کیسے بچائیں؟
اس آیت کریمہ کے تَحْت خَزائِنُ الْعِرْفان میں
ہے:
الله
تَعَالَى اور اس کےرسول صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم کی فرمانبرداری اختیار
کر کے، عبادتیں بجا لا کر، گناہوں سے باز رہ کر گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور
بدی سے مُمانَعَت کر کے اور انہیں عُلم و ادب سکھا کر (اپنی جانوں اور اپنے گھر
والوں کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ)
رِشْتَ داروں کا
اِحترام
تمام
رِشْتَ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے ۔ حضرت سَیِّدُ نا عاصم رضی اللہ
تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم نے
فرمایا:
”جس کو یہ پسند ہو کہ
عُمْر میں درازی اور رِزْق میں فراخی ہو اور بُری موت دَفْع ہو وہ الله تَعَالَى
سے ڈرتا رہے اور رِشْتَ داروں سے حُسنِ سُلُوک کرے۔“
(المُستَدْرَک ج ٥ ص ۲۲۲ حدیث ۷۳۶۲)
مصطفےٰ
جانِ رَحْمَت، شَمْع بزمِ ہدایت صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم نے فرمایا:
”رِشتہ کاٹنے والا جَنّت میں نہیں جائے گا ۔“
(بخاری ج ٤ ص ۹۷ حدیث ٥٩٨٤)
رِشْتَ داروں سے حُسنِ سُلُوک
کے مَدَنی پھول صِلۂ رَحمی کے معنی
دعوتِ
اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المَدینہ کی مطبوعہ 312 صَفْحات پر مشتمل کتاب،
”بہارِ شریعت حِصَّہ (16) ‘‘ صَفْحہ 201 تا 203 پر ہے: صِلۂ رَحْم کے معنی رشتے کو
جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں کے ساتھ نیکی اور سُلُوک کرنا۔ ساری اُمّت کا اس پر
اتفاق ہے کہ صِلۂ رَحْم واجب ہے اور قَطْع رَحْم (یعنی رشتہ توڑنا) حرام ہے۔
کن رِشْتَ داروں سے
صِلۂ واجب ہے؟
جن
رشتے والوں کے ساتھ صِلۂ (رَحْم) واجب ہے وہ کون ہیں؟ بعض علما نے فرمایا: وہ ذُو
رَحْم مَحْرَم ہیں اور بعض نے فرمایا: اس سے مراد ذُو رَحْم ہیں، مُحْرَم ہوں یا
نہ ہوں۔ اور ظاہر یہی قول دُوم ہے، احادیث میں مُطْلَقاً (یعنی بغیر کسی قید کے)
رِشتے والوں کے ساتھ صِلۂ (یعنی سُلُوک) کرنے کا حکم آتا ہے، قرآنِ مجید میں
مُطْلَقاً (یعنی بلا قید) ذَوِی الْقُرْبٰی (یعنی قرابت والے) فرمایا گیا مگر یہ
بات ضرور ہے کہ رشتے میں چونکہ مختلف دَرَجات ہیں (اسی طرح) صِلۂ رَحْم (یعنی رشتے
داروں سے حُسنِ سُلُوک) کے دَرَجات میں بھی تفاوت (یعنی فرق) ہوتا ہے۔ والدین کا
مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے، ان کے بعد ”ذُو رَحْم مَحْرَم کا، (یعنی وہ رشتے دار جن سے
نسبی رشتہ ہونے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو) ان کے بعد بَقِیَّہ رشتے
والوں کا علی قَدْرِ مَراتب ۔ (یعنی رشتے میں نزدیکی کی ترتیب کے مطابق)
(رَدُّ المُحتار ج 9 ص ٦٧٨)
”ذُو رَحْم مَحْرَم‘‘ اور ”ذُو رَحْم‘‘ سے مراد؟
مُفَسِّرِ
شَهیر، حَکیمُ الْأُمَّت، حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ
سُورَةُ الْبَقَرَة کی آیت 83
وَبِالْوَالِدَيْنِ
إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى
ترجمہ کنز الايمان
اور ماں باپ کے ساتھ
بھلائی کرو اور رشتہ داروں سے۔
کے
تحت ”تفسیر نعیمی‘‘ میں لکھتے ہیں: اور قُربیٰ بمعنی قرابت ہے یعنی اپنے اہل قرابت
کے ساتھ احسان کرو، کیونکہ اہل قرابت کا رشتہ ماں باپ کے زَرِیْعے سے ہوتا ہے اور
ان کا احسان بھی ماں باپ کے مقابلے میں کم ہے
اس لیے ان کا حق بھی ماں باپ کے بعد ہے، اس جگہ بھی چند ہدایتیں ہیں: پہلی ہدایت:
ذَوِی الْقُرْبٰی وہ لوگ ہیں جن کا رشتہ بذریعے ماں باپ کے ہو جے ”ذی رَحْم‘‘ بھی
کہتے ہیں، یہ تین طرح کے ہیں: ایک باپ کے قرابت دار جیسے دادا، دادی، چچا، پھوپھی
وغیرہ، دوسرے ماں کے جیسے نانا، نانی، ماموں، خالہ، اخيافی (یعنی جن کا باپ الگ
الگ ہو اور ماں ایک ہو ایسے بھائی اور بہن کا) بھائی وغیرہ، تیسرے دونوں کے قرابت
دار جیسے حقیقی بھائی بہن۔ ان میں سے جس کا رشتہ قوی ہوگا اس کا حق مقدّم ۔ دوسری
ہدایت: اہل قرابت دو قسم کے ہیں ایک وہ جن سے نکاح حرام ہے، انہیں ذی رَحْم
مَحْرَم (یعنی ایسا قریبی رشتہ دار کہ اگر ان میں سے جس کسی کو بھی مرد اور دوسرے
کو عورت فرض کیا جائے تو نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو جیسے باپ، ماں، بیٹا، بیٹی،
بہن، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ، بھانجا، بھانجی وغیرہ) کہتے ہیں جیسے چچا، پھوپھی،
ماموں، خالہ وغیرہ۔ ضرورت کے وقت ان کی خدمت کرنا فرض ہے نہ کرنے والا گنہگار
ہوگا۔ دوسرے وہ جن سے نکاح حلال جیسے خالہ، ماموں، چچا کی اولاد ان کے ساتھ احسان
وسلوک کرنا سُنّتِ مؤکّدہ ہے اور بہت ثواب لیکن ہر قرابت دار بلکہ سارے مسلمانوں
سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا ضروری اور ان کو ایذا پہنچانی حرام۔ (تفسیر عزیزی)
تیسری ہدایت: سُسرالی دُور کے رشتے دار ذی رَحْم نہیں، ہاں ان میں سے بعض مَحْرَم
ہیں جیسے ساس اور دودھ کی ماں، بعض مُحْرَم بھی نہیں، ان کے بھی حقوق ہیں یہاں تک
کہ پڑوسی کے بھی حق ہیں مگر یہ لوگ اس آیت میں داخل نہیں کیونکہ یہاں رُحمی اور
رشتے والے مراد ہیں۔
(تفسیر نعیمی ج ۱ ص ٤٤٧)
No comments:
Post a Comment