Sunday, July 26, 2026

Ihtiram-e-Muslim aur Islami Muashray ke Sunehri Usool (اِحْتِرَامِ مُسْلِم)


اِحْتِرَامِ مُسْلِم

دُرُود شریف کی فضیلت

 سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ تَقَرُّب نشان ہے: ”قیامت کے روز لوگوں میں میرے نزدیک تر وہ ہوگا جس نے مجھ پر زیادہ دُرُود شریف پڑھے ہوں گے۔

 ترمذی ج ۲ ص ۲۷ حدیث ٤٨٤

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب! صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى مُحَمَّد

 کھوٹا سکّہ

 حضرت سَیِّدُنا شیخ ابو عبدُالله خَیّاط رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اُجرت میں کھوٹا رِسّکہ دے جاتا، آپ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ چپ چاپ لے لیتے ۔ ایک بار آپ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ کی غیر موجودگی میں شاگرد نے آتش پرست سےکھوٹا رِسّکہ نہ لیا۔ جب واپس تشریف لائے اور معلوم ہوا تو شاگرد سے فرمایا: تو نے کھوٹا دِرہم کیوں نہیں لیا؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا رِسّکہ ہی دیتا ہے اور میں بھی جان بوجھ کر لے لیتا ہوں تاکہ یہ وہی رِسّکہ کسی دوسرے مسلمان کو نہ دے آئے ۔

 (إحياءُ العُلُوم ج ۳ ص ۸۷ مُلخّصاً)

دعوتِ اسلامی کیا چاہتی ہے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! پہلے کے بزرگوں میں اِحترامِ مسلم کا جذبہ کس قَدَر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا تھا۔ کسی انجانے مسلمان بھائی کو اتفاقی نقصان سے بچانے کے لیے بھی اپنا خسارہ گوارا کر لیا جاتا تھا، جبکہ آج تو بھائی ہی بھائی کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی دورِ اسلاف کی یاد تازہ کرنا چاہتی ہے۔ ”دعوتِ اسلامی‘‘ نفرتیں مٹاتی اور مَحَبّتوں کے جام پلاتی ہے۔ ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سنتوں کی تربیت کے لیے سفر اور روزانہ ”فکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیْعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں کے ذمّے دار کو جَمْع کروانے کا معمول بنائے۔ اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مَصطَفٰے صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلّم اِحترامِ مسلم کا جذبہ بیدار ہوگا۔ اگر ایسا ہو گیا تو اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ ہمارا مُعاشرہ ایک بار پھر مدینہ منورہ زَادَهَا اللَّهُ شَرَفًا وَتَعْظِيمًا کے دلکش و خوشگوار، خوشبودار اور سدا بہار رنگ برنگے پھولوں سے لدا ہوا حسین گلزار بن جائے گا۔

طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے

دیکھو گے چمن والو جب عہدِ خزاں آیا

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى مُحَمَّد

تین شَخْص جَنّت سے (ابتدائی) محروم

والدین و دیگر ذوى الْأَرْحَام (یعنی جن کے ساتھ خونی رشتہ ہو دَرجہ بدرجہ) معاشرے میں سب سے زیادہ اِحترام وحُسنِ سُلُوک کے حقدار ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ اس کی طرف اب دھیان کم دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ عوام کے سامنے اگرچہ انتہائی مُنْکَسِرُ الْمِزاج و ملنسار گردانے جاتے ہیں مگر اپنے گھر میں بالخصوص والدین کے حق میں نہایت ہی تند مزاج و بد اخلاق ہوتے ہیں۔ ایسوں کی توجہ کے لیے عَرْض ہے، حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ الله ابنِ عُمَر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم، نورِ مجسّم، شاہِ بنی آدم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے: ”تین شخص جَنّت میں نہیں جائیں گے، ماں باپ کو ستانے والا اور دَیُوث اور مُردانی وضع بنانے والی عورت۔“

(مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج ۸ ص ۲۷۰ حدیث ١٣٤٣٢)

دَیُوث کی تعریف

 بیان کردہ حدیثِ پاک میں ماں باپ کو ایذا دینے والے کے ساتھ ساتھ دَیُوث کے بارے میں بھی وعید ہے کہ وہ جَنّت سے محروم کر دیا جائے گا۔ ”دَیُوث‘‘ یعنی وہ شخص جو اپنی بیوی یا کسی مَحْرَم پر غیرت نہ کھائے۔

(دُرِّمُختار ج ۶ ص ۱۱۳)

مطلب یہ کہ با وجود قدرت اپنی زَوْجہ، ماں، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغیرہ کو گلیوں بازاروں، شاپنگ سینٹروں اور مَخْلُوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھرنے، اجنبی پڑوسیوں،نا محرم رِشْتَ داروں، غیر مُحْرَم ملازموں، چوکیداروں اور ڈرائیوروں سے بے تکلّفی اور بے پردگی سے منع نہ کرنے والے دَیُوث، جنّت سے محروم اور جَہَنَّم کے حقدار ہیں۔ یاد رکھیے! دیگر نامَحْرَموں کے ساتھ ساتھ تایا زاد، پھُپھا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد، چچی، ممانی، بہنوئی، خالو اور پھوپھا نیز دَیُور اور جیٹھ اور بھا بھی کے درمیان بھی شریعت نے پردہ رکھا ہے۔ اگر عورت مذکورہ رشتہ داروں سے بے تکلف رہے گی اور ان سے شُرعی پردہ نہیں کرے گی تو جَنَّم کی حق دار ہے اور شوہر اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کو اس گناہ سے نہیں روکے گا تو شَرعاً وہ ”دَیُوث‘‘ ابتدائے جنّت سے محروم اور عذابِ نار کا مُسْتَحِق ہے۔ جو علانیہ دَیُوث ہے وہ فاسِقُ مُعْلِن، ناقابلِ امامت و مر دودُ الشَّهَادۃ (یعنی گواہی کیلئے نالا ئق) ہے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سنتوں کی تربیت کے لیے سفر اور روزانہ فِکرِ مدینہ کے ذَرِیْعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں کے ذمّے دار کو جَمْع کروانے کا معمول بنائیے۔ اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بے حیائی کا مَرَض دیوثی اور دیگر گناہوں کے امراض بھی اُن میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے صدقے میں دور ہوں گے جن کی حیا سے جھکی ہوئی مبارک نگاہوں کا واسطہ پیش کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں عَرْض کرتے ہیں:

یا الہی! رنگ لائیں جب مری بے باکیاں

اُن کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو

(حدائق بخشش)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَحَمَّد

مَرْدَانہ لباس والی جنّت سے محروم

حدیثِ پاک میں مَردانی وَضْع بنانے والی عورت کو بھی جَنّت سے محروم قرار دیا گیا ہے۔ تو جو عورت مَرْدانہ لباس، یا مَرْدانہ جوتے پہنے یا مَرْدانہ طرز کے بال کٹواے وہ بھی اس وُعید میں داخل ہے۔ آج کل بچوں میں اس بات کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، لڑکے کو لڑکی کا لباس پہنا دیا جاتا ہے جس سے وہ لڑکی معلوم ہوتا ہے جبکہ لڑکی کو مَعَاذَ الله عَزَّوَجَلَّ لڑکے کا لباس مثلاً پینٹ شرٹ، لڑکے کے جوتے اور ہیٹ وغیرہ پہنا دیتے ہیں، بال بھی لڑکے کے جیسے رکھوائے جاتے ہیں کہ دیکھنے میں بالکل لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ صَدْرُ الشَّرِیعہ، بَدْرُ الطَّریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَةُ اللَّهِ عَلْوِ لکھتے ہیں: ”بچوں کے ہاتھ پاؤں میں بلا ضرورت مہندی لگانا جائز ہے۔ عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں میں لگا سکتی ہے مگر لڑکے کے لگائے گی تو گنہگار ہوگی۔“

 (بہار شریعت ج ۳ ص ٤٣٨ )

اپنے بچوں کو ایسے بابا سوٹ بھی مت پہنائیے جن پر انسان یا جانور کی تصویر بنی ہو، بچوں کو نیل پالش بھی نہ لگائیے اور بچوں کی ماں بھی ہرگز نہ لگائے کہ نیل پالش لگی ہونے کی صورت میں اس کے نیچے ناخن پر پانی نہیں بہتا، لہٰذا وُضو اور غُسل نہیں ہوتا۔ بڑے بھائی کا اِحترام والدین کے ساتھ ساتھ دیگر اہل خاندان مثلاً بھائی بہنوں کا بھی خیال رکھناچاہیے۔ والد صاحب کے بعد دادا جان اور بڑے بھائی کا رُتبہ ہے کہ بڑا بھائی والد کی جگہ ہوتا ہے۔

مصطفےٰ جانِ رَحْمَت، شَمْع بزمِ ہدایت، تاجدارِ رسالت، صاحبِ جود و سخاوت صَلَّى اللهُ تعالى عليه واله وسلم کا فرمانِ رَحْمَت نشان ہے:

 ”بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسے والد کا حق اولاد پر۔“

(شُعَبُ الإيمان ج ٦ ص ٢١٠ حديث ٧٩٢٩) 

No comments:

Post a Comment