Sunday, July 26, 2026

Majalis ke Adaab aur Ihtiram-e-Muslim

 

دوسروں سے چھُپا کر بات کرنا

حضرتِ سیدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه کا بیان ہے کہ رسولِ اکرم، رحمتِ عالم، نورِ مجسّم، شاہِ بنی آدم، نبیِّ مُحْتَشَم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

 ”جب تم تین ہو تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر چپکے چپکے باتیں نہ کریں جب تک مجلس میں بہت سے لوگ نہ آجائیں، یہ اس وجہ سے کہ اس تیسرے کو رَنج پہنچے گا۔“

(بخاری ج ٤ ص ١٨٥ حدیث ٦٢٩٠)

(کہ شاید میرے متعلق کچھ کہہ رہے ہیں یا یہ کہ مجھے اس لائق نہ سمجھا جو اپنی گفتگو میں شریک کرتے وغیرہ)

گردن پھلانگنا

جو لوگ جُمُعہ کو پہلے سے اگلی صفوں میں بیٹھ چکے ہوں، دیر سے آنے والے کو اُن کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں۔

چنانچہ سرکارِ مدینہ منورہ، سردارِ مَکَّہ مکرمہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:

”جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اُس نے جہنّم کی طرف پل بنایا۔“

(ترمذی ج ۲ ص ٤٨ حدیث ٥١٣)

اس کے معنی یہ ہیں کہ اس پر چڑھ کر لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔

 (حاشیہ بہارِ شریعت ج اص ٧٦٢، ٧٦١)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نمازِ جمعہ کےلیے جلد مسجد میں حاضر ہو جانا چاہئے، اگر دیر ہوگئی، خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں جہاں پہنچا تھا وہیں رک جائے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مول شاہ احمد رضا خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: بحالتِ خطبہ چل حرام ہے۔ یہاں تک علمائے کرام دُجَهُمُ اللهُ السَّلام فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں جہاں تک پہنچا وہیں رک جائے، آگے نہ بڑھے کہ یہ عمل ہوگا اور حالِ خطبہ میں کوئی عَمَل رَوا (یعنی جائز) نہیں ۔

(فتاوی رضویہ مُخَرَّجہ ج ٨ ص ٣٣٣)

مزید فرماتے ہیں: خطبے میں کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا (بھی) حرام ہے۔

 (ايضاً ص ٣٣٤)

دو کے بیچ میں گھسنا

اگر دو آدمی پہلے سے بیٹھے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے درمیان جاگھسنا بداخلاقی اور احترامِ مسلم کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

چنانچہ شہنشاہِ مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:

”کسی شخص کےلیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر جدائی کردے۔“

(یعنی ان کی اجازت کے بغیرمیان بیٹھ جانا حلال نہیں)

 حضرتِ سیدُنا حُذیفہ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه کی روایت کے مطابق جو حلقے کے بیچ جا بیٹھے ایسا آدمی سرکارِ دو عالم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی زبانی ملعون ہے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا یہ بھی فرمان ہے کہ

ایک شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھ جائے مگر بیٹھنے والے کشادگی کردیا کریں۔

(مسلم ص ١١٩٩ حدیث ٢١٢٧)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهٌ عَنِ الْعُيُوب صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:

جو شخص اپنی مجلس سے اٹھے اور پھر واپس آجاۓ تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ حقدار ہے۔

(ايضاً حدیث ٢١٧٩)

صف میں چادر رکھ کر جگہ روکنا

 میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: کوئی شخص مسجد میں آیا ایک جگہ بیٹھا پھر وُضو کےلیے گیا اور اپنا کپڑا وہاں چھوڑ گیا،دوسرا شخص اُس کپڑے کو اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے کہ بیٹھنے والے کا قبضہ سابق (یعنی پہلے سے) ہوگیا ہے۔ (مگر یہ قبضہ تھوڑی دیر کےلیے ہے جیسا کہ آگے چل کر اعلی حضرت فرماتے ہیں:) ایسا قبضہ تھوڑی دیر کےلیے مُسْلِم (یعنی مانا جاتا) ہے (کہ) کپڑا رکھ کر وُضو کو جانے میں، نہ یہ کہ مسجد میں اپنی کوئی چیز رکھ دیجیے اور وہ جگہ ہمیشہ آپ کےلیے مخصوص ہوجاۓ کہ جب آئیے دوسروں پر تَقَدُّم (یعنی فوقیت) پائیے، یہ ہرگز نہ جائز نہ مقبول۔

(فتاوی رضویہ ج ١٦ ص ١٤٨)

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافلوں میں مسلسل سنتوں بھرے سفر کی سعادت اور ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن مَدَنی انعامات کا رسالہ پَُر کر کے جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بطفیل مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مجلس کے آداب، دوسروں کی حق تلفیوں اور دل آزاریوں سے اجتناب اور احترامِ مسلم بجالانے کا ذِہْن بنے گا اور اس مَدَنی تربیت کی برکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ حج و زیارت مدینہ کا شَرَف حاصل ہوگا اور وہاں بھی ان سنتوں پر عمل نصیب ہوگا۔ تیرے دیوانے سب، آئیں سوئے عُرُب دیکھیں سارے حَرَم، تاجدارِ حَرَم

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

دل نہ دکھائیے

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احترامِ مسلم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں ہر مسلمان کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جاۓ اور بلا اجازتِ شرعی کسی بھی مسلمان کی دل شکنی نہ کی جائے۔ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے کبھی کسی مسلمان کا دل نہ دکھایا، نہ کسی پر طنز کیا، نہ کسی کا مذاق اڑایا نہ کسی کو دھتکارا نہ کسی کی بے عزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا، بلکہ لگاتے ہیں اُس کو بھی سینے سے آقا جو ہوتا نہیں منہ لگانے کے قابل

اُسُوۀ حَسَنَه

احترامِ مسلم بجالانے کےلیے ہمیں اپنے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے اُسُوۀ حَسَنَه کو پیش نظر رکھتے ہوۓ اس کی پیروی کرنی ہوگی۔

پارہ 21 سُورَةُ الْأَحْزَاب آیت نمبر 21 میں ارشاد ہوتا ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة

ترجمہ کنز الايمان

بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔

Qiyadat, Khidmat aur Ihtiram-e-Muslim ke Islami Adaab

 

ما تَحْتوں کے بارے میں سُوال ہوگا

ایک امیر قافلہ ہی نہیں، ہر ایک کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کرنا ضروری ہے جیسا کہ

الله عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهٌ عَنِ الْعُيُوب صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے:

”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور نگرانی کے متعلق سب سے پوچھ گچھ ہوگی، بادشاہ نگران ہے، اُس کی رعایا کے بارے میں اُس سے سُوال ہوگا اور مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس کی رعایا کے بارے میں اُس سے سُوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگران ہے اور اس کی رعایا کے بارے میں اُس سے سُوال ہوگا۔“

 ( بُخاری ج ۲ ص ۱۱۲ حدیث ۲۴۰۹)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں مسلسل سفر کی سعادت اور مَدَنی اِنْحَامَات کا رسالہ پُر کر کے ہر ماہ جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم اپنے ماتحتوں کے احترام کا وہ جذبہ نصیب ہوگا کہ اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ ہر فرد خوش ہو کر آپ کو دُعائے مدینہ‘‘ سے نوازا کرے گا۔ میں دنیا کی دولت کا مانگتا نہیں ہوں مجھے بھائیو! دو دعائے مدینہ

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

کاموں کی تقسیم

دورانِ سفر کسی ایک پر سارا بوجھ ڈال دینے کے بجائے کاموں کی آپس میں تقسیم ہونی چاہئے۔ چنانچہ ایک سفر میں صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوَان نے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور کام تقسیم کر لیا، کسی نے اپنے ذمّے ذبح کا کام لیا تو کسی نے کھال اُھیڑنے کا نیز کوئی پکانے کا ذمّے دار ہو گیا،

سرکارِ نامدار صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:

لکڑیاں جَمْع کرنا میرے ذمّے ہے۔

صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوَان عرض گزار ہوئے:آقا! یہ بھی ہم ہی کر لیں گے۔

فرمایا:

 ”یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ تم یہ کام (بخوشی) کر لو گے مگر مجھے یہ پسند نہیں کہ تم لوگوں میں نمایاں رہوں اور الله عَزَّوَجَلَّ بھی اس کو پسند نہیں فرماتا۔“ (

خلاصة سير سيد البشر لمحب الدين الطبرى ص ۷۵ ملخصاً)

 صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!       صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

دوسروں کو اپنی نِشَسْت پر جگہ دیجئے

ٹرین یا بس وغیرہ میں اگر نشستیں کم ہوں تو یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بعض بیٹھے ہی رہیں اور بعض کھڑے کھڑے ہی سفر کریں۔ ہونا یہ چاہیے کہ موقع محل کی مناسبت سے سارے باری باری بیٹھیں اور دوسروں کےلیے اپنی نشست ایثار کر کے ثواب کمائیں اور سیٹ ایثار کر کے اس صورت میں بھی ثواب کمایا جا سکتا ہے جبکہ سیٹ کی بکنگ کروا کر ہو کہ بکنگ کروانے سے ایثار کرنا کوئی منع نہیں ہوتا۔

حضرت سَیِّدُ نا عبدُ الله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنه فرماتے ہیں کہ غزوۂ بدر میں فی اونٹ تین افراد تھے۔ چنانچہ حضرت ابوبابہ اور حضرت علی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی سواری میں شریک تھے۔ دونوں حضرات کا بیان ہے کہ جب سرکارِ نامدار صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی پیدل چلنے کی باری آتی تو ہم دونوں عرض کرتے کہ سرکار! آپ سوار ہی رہیں، حضور کے بدلے ہم پیدل چلیں گے۔

ارشاد ہوتا ہے:

”تم مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور میں بہ نسبت تمہارے ثواب سے بے نیاز نہیں ہوں۔“

(یعنی مجھے بھی ثواب چاہئے پھر میں کیوں پیدل نہ چلوں!)

(شرح السنۃ ج ٥ ص ٥٦٦ حدیث ٢٦٨٠)

مَدَنی قافلے میں سفر کیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں مسلسل سفر کی سعادت اور مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پَُر کر کے ہر مَدَنی ماہ جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بطفیلِ مصطفٰے صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم اپنی نشست دوسروں کو پیش کرنے کیلئے ایثار کا جذبہ پیدا ہوگا اور اس کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ سفر حج و دیدارِ مدینہ بھی نصیب ہوگا اور اثنائ سفر بھی مدینے کے مسافروں کیلئے مَنٰی شریف، مُزْدَلِفہ شریف، عَرَفَات شریف اور مَكَّه مکرمہ و مدینہ منورہ زَادَهُمَا اللهُ شَرَفًا وَتَعْظِيمًا میں دیوانگی کے ساتھ نشستیں پیش کرتے رہنے کی سعادتیں ملتی رہیں گی۔ یارب! سوئے مدینہ مستانہ بن کے جاؤں اُس شمع دو جہاں کا پروانہ بن کے جاؤں

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

زیادہ جگہ نہ گھیرئیے

اجتماعات وغیرہ میں جہاں لوگ زیادہ ہوں وہاں اپنی سہولت کیلئے زیادہ جگہ گھیر کر دوسروں کے لیے تنگی کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ چنانچہ سیدنا سہل بن مُعاذ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا کا بیان ہے، میرے والد گرامی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه فرماتے ہیں کہ ہم پیارے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے ساتھ جہاد میں گئے تو لوگوں نے منزلیں تنگ کردیں (یعنی ضرورت سے زیادہ جگہ گھیر لی) اور راستہ روک لیا۔

اس پر رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ یہ اعلان کرے،

”بیشک جو منزلیں تنگ کرے یا راستہ روکے تو اُس کا کچھ جہاد نہیں۔“

(ابوداؤد ج ۳ ص ٥٨ حدیث ٢٦٢٩)

آنیوالے کیلئے سَرکنا سُنَّت هے

جو لوگ پہلے سے بیٹھے ہوں اُن کے لیے سنت یہ ہے کہ جب کوئی آئے تو اس کے لیے سَرکیں۔ حضرتِ سیدُنا واثلہ بن خَطَّاب رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه سے روایت ہے

 کہ ایک شخص تاجدِار مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مسجدِ میں تشریف فرماتھے ۔ رَحْمَتِ دو عالم، نورِ مجسّم، شاہِ بنی آدم، رسولِ مُحْتَشَم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم اس کے لیے اپنی جگہ سے سَرک گئے۔ اُس نے عرض کی: یا رسولَ الله ! صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم جگہ گشادہ موجود ہے، (آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے سَرکنے کی تکلیف کیوں فرمائی !)

فرمایا:

”مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے اُس کےلیے سَرک جائے۔

شُعَبُ الإيمان ج ٦ ص ٤٦٨ حدیث ٨٩٣٣)

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں مسلسل سفر کی سعادت اور ہر مَدَنی مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پَُر کر کے جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بطفیلِ مصطفٰے صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم تھوڑی سی جگہ میں بَرَکت ہوگی دوسروں کےلیے سَرکنے کی سُنَّت پر عمل کا ذِہْن بنے گا اور اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ جَنَّةُ الْبَقِیْع میں کشادہ ترین جگہ نصیب ہوگی۔ زاہدینِ دنیا بھی رَشْک کرتے عاصی پر میں بقیعِ غرقد میں دفن ہو اگر جاتا

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

Huqooq-e-Zaujain, Parosiyon ka Ihtiram aur Islami Akhlaq

 

نمک زیادہ ڈال دیا

 کہتے ہیں: ایک آدمی کی بیوی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈال دیا۔ اسے غصہ تو بُہت آیامگر یہ سوچتے ہوئے غصے کو پی گیا کہ میں بھی تو خطائیں کرتا رہتا ہوں اگر آج میں نے بیوی کی خطا پر سختی سے گرفت کی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بروزِ قیامت الله عَزَّوَجَلَّ بھی میری خطاؤں پر گرفت فرما لے ۔ چنانچہ اس نے دل ہی دل میں اپنی زَوْجہ کی خطا معاف کر دی۔ انتقال کے بعد اس کو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا، الله عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ اُس نے جواب دیا کہ گناہوں کی کثرت کے سبب عذاب ہونے ہی والا تھا کہ الله عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: میری بندی نے سالن میں نمک زیادہ ڈالا تھا اور تم نے اس کی خطا معاف کردی تھی، جاؤ میں بھی اُس کے صلے میں تم کو آج معاف کرتا ہوں۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت اور ہر مَدَنی اِنْحَامَات کا رسالہ پُر کر کے جَمْع کروانے کی برکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مَصطَفْے صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم گھر یو شک ر رنجیاں دُور ہوں گی اور آپ کا گھر خوشیوں کا گہوارہ بنے گا اور اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ آپ کے خاندان کو مدینہ منورہ زَادَهَا اللَّهُ شَرَفًا وَتَعْظِيمًا کا نظارہ نصیب ہوگا۔

سویا ہوا نصیب جگا دیجئے حضور

میٹھا مدینہ مجھ کو دکھا دیجئے حضور

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

شوہر کے حقوق

بیوی کو بھی چاہئے کہ اپنے شوہر کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ چنانچہ

میٹھے میٹھے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے:

 ”قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیپ اور کُسچ لہو (یعنی پیپ پلاعون) بہتا ہو پھر عورت اسے چاہئے تب بھی حق شوہر ادا نہ کیا۔

(مُسند امام احمد بن حنبل ج ۴ ص ۳۱۸ حدیث ۱۲۶۱۴)

 شوہر کا گھر نہ چھوڑئے

 بات بات پر روٹھ کر میکے چلی جانے والی عورت اس حدیثِ پاک کو بار بار اپنے کانوں پر دھرائے اور دل کی گہرائیوں میں اتارے،

سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیثان ہے:

اور (بیوی) بغیر اجازت اُس (یعنی شوہر) کے گھر سے نہ جائے (اگر بلا ضرورت) ایسا کیا تو جب تک تو بہ نہ کرے یا واپس لوٹ نہ آئے الله عَزَّوَجَلَّ اور فرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔

 (کَنْزُ الْعُمَّال ج ۱۶ ص ۱۴۴ حدیث ۴۴۸۰۱ مُلَخَّصاً)

 اکثر عورتیں جہنمی ہونے کا سبب

 بعض خواتین اپنے شوہروں کی سُخْت نافرمانیاں اور ناشکریاں کرتی ہیں اور ذرا کوئی بات بُری لگ جائے تو پچھلے تمام احسانات بھلا کر کوسنا شروع کرتی ہیں۔ جو اسلامی بہنیں بات بات پر لعنت ملامت کرتی اور پھٹکار برستی رہتی ہیں ان کو ڈر جانا چاہئے کہ

سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم ایک بار عید کے روز عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئے خواتین کی طرف گزرے تو فرمایا:

”اے عورتو! صدقہ کیا کرو کیونکہ میں نے اکثر تم کو جہنمی دیکھا ہے۔‘‘

 خواتین نے عَرْض کی:

یا رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم! اس کی وجہ؟

فرمایا:

”اس لئے کہ تم لعنت بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔“ (

( بُخاری ج ۱ ص ۱۲۳ حدیث ۳۰۴)

پڑوسیوں کی اَهَمِّیْت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور بلا مَصْلَحَتِ شَرْعِی ان کے احترام میں کمی نہ کرے۔

ایک شخص نے حضور سراپائے نور، فیض گنجور، شاہِ غُیُور صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی خدمتِ با عظمت میں عرض کی: یا رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم ! مجھے یہ کیوں کر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برا؟

فرمایا:

”جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا، تو بیشک تم نے اچھا کیا اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے بُرا کیا، تو بے شک تم نے بُرا کیا ہے۔“

(ابن ماجه ج ٤ ص ٤٧٩ حدیث ٤٢٢۳)

اعلٰی کردار کی سند

 اللهُ اکبر! پڑوسیوں کی اس قَدْر اَهَمِّیْت کہ ”کیرییکٹر سرٹیفیکیٹ‘‘ ان کے ذَرِیْعے ملے۔ افسوس! پھر بھی آج پڑوسیوں کو کوئی خاطر میں نہیں لاتا۔ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت اور ہر مَدَنی مَدَنی اِنْحَامَات کا رسالہ پُر کر کے جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم پڑوسیوں کی اَهَمّیْت دل میں پیدا ہوگی اور ان کے احترام کا ذِہْن بنے گا اور اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ آپ کامحلہ باغ مدینہ بن جائے گا۔ بہار آئے محلے میں میرے بھی یا رسول الله ادھر بھی تو جھہری برسی کوئی رَحْمَت کے بادل سے

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

امیر قافلہ کیسا ہو؟

سفر میں جو امیر قافلہ ہو اس کو اپنے رُفَقَا کا احترام اور ان کی بُہت زیادہ خدمت کرنی چاہئے ۔

چنانچہ فرمانِ مصطفیٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم:

 ”سفر میں وُہی امیر ہے جو ان کی خدمت کرے، جو شخص خدمت میں بڑھ گیا تو اُس کے رُفَقَا کسی عمل میں اُس سے نہیں بڑھ سکتے ہاں اگر ان میں سے کوئی شہید ہو جائے تو وُہی بڑھ جائے گا۔“

(شُعَبُ الإيمان ج ٦ ص ٣٣٤ حديث ٨٤٠٧)

بچی ہوئی چیزوں کو دوسروں کو دینے کی ترغیب

 ایک موقع پر سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے سفر میں ارشاد فرمایا:

 ”جس کے پاس زائد سواری ہو وہ بے سواری والے کو عطا کر دے اور جس کے پاس بچی ہوئی خُوراک ہو وہ بغیر خوراک والے کو کھلا دے۔‘‘ اور اسی طرح دوسری چیزوں کے متعلق ارشاد فرمایا۔

حضرت سَیِّدُنا ابوسعید خُدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے اِسی طرح مال کی مختلف اقسام ذِکْر فرمائیں حتیٰ کہ ہم نے محسوس کیا کہ بچی ہوئی چیز میں سے کسی کو اپنے پاس رکھ لینے کا حق ہی نہیں ہے۔

( مُسلم ص ۹۵۲ حدیث ۱۷۲۸)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد