ما تَحْتوں کے بارے میں
سُوال ہوگا
ایک
امیر قافلہ ہی نہیں، ہر ایک کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کرنا ضروری ہے
جیسا کہ
الله
عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهٌ عَنِ الْعُيُوب صَلَّى اللهُ
تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے:
”تم میں سے ہر ایک
نگران ہے اور نگرانی کے متعلق سب سے پوچھ گچھ ہوگی، بادشاہ نگران ہے، اُس کی رعایا
کے بارے میں اُس سے سُوال ہوگا اور مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس کی رعایا کے
بارے میں اُس سے سُوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگران ہے اور اس کی
رعایا کے بارے میں اُس سے سُوال ہوگا۔“
( بُخاری ج ۲ ص ۱۱۲ حدیث ۲۴۰۹)
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں مسلسل سفر کی سعادت اور
مَدَنی اِنْحَامَات کا رسالہ پُر کر کے ہر ماہ جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ
شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ
وَآلِهِ وَسَلَّم اپنے ماتحتوں کے احترام کا وہ جذبہ نصیب ہوگا کہ اِنْ شَاءَ
اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ ہر فرد خوش ہو کر آپ کو دُعائے مدینہ‘‘ سے نوازا کرے گا۔ میں
دنیا کی دولت کا مانگتا نہیں ہوں مجھے بھائیو! دو دعائے مدینہ
صَلُّوا عَلَى
الْحَبِيب! صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد
کاموں کی تقسیم
دورانِ
سفر کسی ایک پر سارا بوجھ ڈال دینے کے بجائے کاموں کی آپس میں تقسیم ہونی چاہئے۔
چنانچہ ایک سفر میں صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوَان نے بکری ذبح کرنے کا ارادہ
کیا اور کام تقسیم کر لیا، کسی نے اپنے ذمّے ذبح کا کام لیا تو کسی نے کھال
اُھیڑنے کا نیز کوئی پکانے کا ذمّے دار ہو گیا،
سرکارِ
نامدار صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:
لکڑیاں جَمْع کرنا میرے
ذمّے ہے۔
صحابہ
کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوَان عرض گزار ہوئے:آقا! یہ بھی ہم ہی کر لیں گے۔
فرمایا:
”یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ تم یہ کام (بخوشی)
کر لو گے مگر مجھے یہ پسند نہیں کہ تم لوگوں میں نمایاں رہوں اور الله
عَزَّوَجَلَّ بھی اس کو پسند نہیں فرماتا۔“ (
خلاصة سير سيد البشر لمحب الدين الطبرى ص ۷۵ ملخصاً)
صَلُّوا عَلَى
الْحَبِيب! صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد
دوسروں کو اپنی نِشَسْت
پر جگہ دیجئے
ٹرین
یا بس وغیرہ میں اگر نشستیں کم ہوں تو یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بعض بیٹھے ہی رہیں
اور بعض کھڑے کھڑے ہی سفر کریں۔ ہونا یہ چاہیے کہ موقع محل کی مناسبت سے سارے باری
باری بیٹھیں اور دوسروں کےلیے اپنی نشست ایثار کر کے ثواب کمائیں اور سیٹ ایثار کر
کے اس صورت میں بھی ثواب کمایا جا سکتا ہے جبکہ سیٹ کی بکنگ کروا کر ہو کہ بکنگ
کروانے سے ایثار کرنا کوئی منع نہیں ہوتا۔
حضرت
سَیِّدُ نا عبدُ الله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنه فرماتے
ہیں کہ غزوۂ بدر میں فی اونٹ تین افراد تھے۔ چنانچہ حضرت ابوبابہ اور حضرت علی
رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ
وَآلِهِ وَسَلَّم کی سواری میں شریک تھے۔ دونوں حضرات کا بیان ہے کہ جب سرکارِ
نامدار صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی پیدل چلنے کی باری آتی
تو ہم دونوں عرض کرتے کہ سرکار! آپ سوار ہی رہیں، حضور کے بدلے ہم پیدل چلیں گے۔
ارشاد
ہوتا ہے:
”تم مجھ سے زیادہ طاقتور
نہیں ہو اور میں بہ نسبت تمہارے ثواب سے بے نیاز نہیں ہوں۔“
(یعنی مجھے بھی ثواب چاہئے پھر میں
کیوں پیدل نہ چلوں!)
(شرح السنۃ ج ٥ ص ٥٦٦ حدیث ٢٦٨٠)
مَدَنی قافلے میں سفر
کیجئے
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں مسلسل سفر کی سعادت اور
مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پَُر کر کے ہر مَدَنی ماہ جَمْع کروانے کی بَرَکت سے
اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بطفیلِ مصطفٰے صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ
وَآلِهِ وَسَلَّم اپنی نشست دوسروں کو پیش کرنے کیلئے ایثار کا جذبہ پیدا ہوگا اور
اس کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ سفر حج و دیدارِ مدینہ بھی نصیب
ہوگا اور اثنائ سفر بھی مدینے کے مسافروں کیلئے مَنٰی شریف، مُزْدَلِفہ شریف، عَرَفَات
شریف اور مَكَّه مکرمہ و مدینہ منورہ زَادَهُمَا اللهُ شَرَفًا وَتَعْظِيمًا میں
دیوانگی کے ساتھ نشستیں پیش کرتے رہنے کی سعادتیں ملتی رہیں گی۔ یارب! سوئے مدینہ
مستانہ بن کے جاؤں اُس شمع دو جہاں کا پروانہ بن کے جاؤں
صَلُّوا عَلَى
الْحَبِيب! صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد
زیادہ جگہ نہ گھیرئیے
اجتماعات
وغیرہ میں جہاں لوگ زیادہ ہوں وہاں اپنی سہولت کیلئے زیادہ جگہ گھیر کر دوسروں کے
لیے تنگی کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ چنانچہ سیدنا سہل بن مُعاذ رَضِيَ اللهُ
تَعَالَى عَنْهُمَا کا بیان ہے، میرے والد گرامی رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه فرماتے
ہیں کہ ہم پیارے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے ساتھ
جہاد میں گئے تو لوگوں نے منزلیں تنگ کردیں (یعنی ضرورت سے زیادہ جگہ گھیر لی) اور
راستہ روک لیا۔
اس
پر رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے ایک آدمی کو
بھیجا کہ وہ یہ اعلان کرے،
”بیشک جو منزلیں تنگ کرے
یا راستہ روکے تو اُس کا کچھ جہاد نہیں۔“
(ابوداؤد ج ۳ ص ٥٨ حدیث ٢٦٢٩)
آنیوالے کیلئے سَرکنا سُنَّت هے
جو
لوگ پہلے سے بیٹھے ہوں اُن کے لیے سنت یہ ہے کہ جب کوئی آئے تو اس کے لیے سَرکیں۔
حضرتِ سیدُنا واثلہ بن خَطَّاب رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه سے روایت ہے
کہ ایک شخص تاجدِار مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى
عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى
عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مسجدِ میں تشریف فرماتھے ۔ رَحْمَتِ دو عالم، نورِ
مجسّم، شاہِ بنی آدم، رسولِ مُحْتَشَم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ
وَسَلَّم اس کے لیے اپنی جگہ سے سَرک گئے۔ اُس نے عرض کی: یا رسولَ الله ! صَلَّى
اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم جگہ گشادہ موجود ہے، (آپ صَلَّى اللهُ
تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے سَرکنے کی تکلیف کیوں فرمائی !)
فرمایا:
”مسلمان کا حق یہ ہے کہ
جب اس کا بھائی اسے دیکھے اُس کےلیے سَرک جائے۔“
شُعَبُ الإيمان ج ٦ ص ٤٦٨ حدیث ٨٩٣٣)
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں مسلسل سفر کی سعادت اور ہر
مَدَنی مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پَُر کر کے جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ
اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بطفیلِ مصطفٰے صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ
وَسَلَّم تھوڑی سی جگہ میں بَرَکت ہوگی دوسروں کےلیے سَرکنے کی سُنَّت پر عمل کا
ذِہْن بنے گا اور اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ جَنَّةُ الْبَقِیْع میں کشادہ
ترین جگہ نصیب ہوگی۔ زاہدینِ دنیا بھی رَشْک کرتے عاصی پر میں بقیعِ غرقد میں دفن
ہو اگر جاتا
صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب! صَلَّى اللَّهُ
تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد
No comments:
Post a Comment