Sunday, July 26, 2026

Majalis ke Adaab aur Ihtiram-e-Muslim

 

دوسروں سے چھُپا کر بات کرنا

حضرتِ سیدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه کا بیان ہے کہ رسولِ اکرم، رحمتِ عالم، نورِ مجسّم، شاہِ بنی آدم، نبیِّ مُحْتَشَم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:

 ”جب تم تین ہو تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر چپکے چپکے باتیں نہ کریں جب تک مجلس میں بہت سے لوگ نہ آجائیں، یہ اس وجہ سے کہ اس تیسرے کو رَنج پہنچے گا۔“

(بخاری ج ٤ ص ١٨٥ حدیث ٦٢٩٠)

(کہ شاید میرے متعلق کچھ کہہ رہے ہیں یا یہ کہ مجھے اس لائق نہ سمجھا جو اپنی گفتگو میں شریک کرتے وغیرہ)

گردن پھلانگنا

جو لوگ جُمُعہ کو پہلے سے اگلی صفوں میں بیٹھ چکے ہوں، دیر سے آنے والے کو اُن کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں۔

چنانچہ سرکارِ مدینہ منورہ، سردارِ مَکَّہ مکرمہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:

”جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اُس نے جہنّم کی طرف پل بنایا۔“

(ترمذی ج ۲ ص ٤٨ حدیث ٥١٣)

اس کے معنی یہ ہیں کہ اس پر چڑھ کر لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔

 (حاشیہ بہارِ شریعت ج اص ٧٦٢، ٧٦١)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نمازِ جمعہ کےلیے جلد مسجد میں حاضر ہو جانا چاہئے، اگر دیر ہوگئی، خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں جہاں پہنچا تھا وہیں رک جائے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مول شاہ احمد رضا خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: بحالتِ خطبہ چل حرام ہے۔ یہاں تک علمائے کرام دُجَهُمُ اللهُ السَّلام فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں جہاں تک پہنچا وہیں رک جائے، آگے نہ بڑھے کہ یہ عمل ہوگا اور حالِ خطبہ میں کوئی عَمَل رَوا (یعنی جائز) نہیں ۔

(فتاوی رضویہ مُخَرَّجہ ج ٨ ص ٣٣٣)

مزید فرماتے ہیں: خطبے میں کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا (بھی) حرام ہے۔

 (ايضاً ص ٣٣٤)

دو کے بیچ میں گھسنا

اگر دو آدمی پہلے سے بیٹھے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے درمیان جاگھسنا بداخلاقی اور احترامِ مسلم کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

چنانچہ شہنشاہِ مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:

”کسی شخص کےلیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر جدائی کردے۔“

(یعنی ان کی اجازت کے بغیرمیان بیٹھ جانا حلال نہیں)

 حضرتِ سیدُنا حُذیفہ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه کی روایت کے مطابق جو حلقے کے بیچ جا بیٹھے ایسا آدمی سرکارِ دو عالم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی زبانی ملعون ہے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا یہ بھی فرمان ہے کہ

ایک شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھ جائے مگر بیٹھنے والے کشادگی کردیا کریں۔

(مسلم ص ١١٩٩ حدیث ٢١٢٧)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهٌ عَنِ الْعُيُوب صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:

جو شخص اپنی مجلس سے اٹھے اور پھر واپس آجاۓ تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ حقدار ہے۔

(ايضاً حدیث ٢١٧٩)

صف میں چادر رکھ کر جگہ روکنا

 میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَيْهِ رَحْمَةُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: کوئی شخص مسجد میں آیا ایک جگہ بیٹھا پھر وُضو کےلیے گیا اور اپنا کپڑا وہاں چھوڑ گیا،دوسرا شخص اُس کپڑے کو اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے کہ بیٹھنے والے کا قبضہ سابق (یعنی پہلے سے) ہوگیا ہے۔ (مگر یہ قبضہ تھوڑی دیر کےلیے ہے جیسا کہ آگے چل کر اعلی حضرت فرماتے ہیں:) ایسا قبضہ تھوڑی دیر کےلیے مُسْلِم (یعنی مانا جاتا) ہے (کہ) کپڑا رکھ کر وُضو کو جانے میں، نہ یہ کہ مسجد میں اپنی کوئی چیز رکھ دیجیے اور وہ جگہ ہمیشہ آپ کےلیے مخصوص ہوجاۓ کہ جب آئیے دوسروں پر تَقَدُّم (یعنی فوقیت) پائیے، یہ ہرگز نہ جائز نہ مقبول۔

(فتاوی رضویہ ج ١٦ ص ١٤٨)

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافلوں میں مسلسل سنتوں بھرے سفر کی سعادت اور ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن مَدَنی انعامات کا رسالہ پَُر کر کے جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بطفیل مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مجلس کے آداب، دوسروں کی حق تلفیوں اور دل آزاریوں سے اجتناب اور احترامِ مسلم بجالانے کا ذِہْن بنے گا اور اس مَدَنی تربیت کی برکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ حج و زیارت مدینہ کا شَرَف حاصل ہوگا اور وہاں بھی ان سنتوں پر عمل نصیب ہوگا۔ تیرے دیوانے سب، آئیں سوئے عُرُب دیکھیں سارے حَرَم، تاجدارِ حَرَم

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

دل نہ دکھائیے

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احترامِ مسلم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں ہر مسلمان کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جاۓ اور بلا اجازتِ شرعی کسی بھی مسلمان کی دل شکنی نہ کی جائے۔ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے کبھی کسی مسلمان کا دل نہ دکھایا، نہ کسی پر طنز کیا، نہ کسی کا مذاق اڑایا نہ کسی کو دھتکارا نہ کسی کی بے عزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا، بلکہ لگاتے ہیں اُس کو بھی سینے سے آقا جو ہوتا نہیں منہ لگانے کے قابل

اُسُوۀ حَسَنَه

احترامِ مسلم بجالانے کےلیے ہمیں اپنے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے اُسُوۀ حَسَنَه کو پیش نظر رکھتے ہوۓ اس کی پیروی کرنی ہوگی۔

پارہ 21 سُورَةُ الْأَحْزَاب آیت نمبر 21 میں ارشاد ہوتا ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة

ترجمہ کنز الايمان

بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔

No comments:

Post a Comment