Sunday, July 26, 2026

Huqooq-e-Zaujain, Parosiyon ka Ihtiram aur Islami Akhlaq

 

نمک زیادہ ڈال دیا

 کہتے ہیں: ایک آدمی کی بیوی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈال دیا۔ اسے غصہ تو بُہت آیامگر یہ سوچتے ہوئے غصے کو پی گیا کہ میں بھی تو خطائیں کرتا رہتا ہوں اگر آج میں نے بیوی کی خطا پر سختی سے گرفت کی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بروزِ قیامت الله عَزَّوَجَلَّ بھی میری خطاؤں پر گرفت فرما لے ۔ چنانچہ اس نے دل ہی دل میں اپنی زَوْجہ کی خطا معاف کر دی۔ انتقال کے بعد اس کو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا، الله عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ اُس نے جواب دیا کہ گناہوں کی کثرت کے سبب عذاب ہونے ہی والا تھا کہ الله عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: میری بندی نے سالن میں نمک زیادہ ڈالا تھا اور تم نے اس کی خطا معاف کردی تھی، جاؤ میں بھی اُس کے صلے میں تم کو آج معاف کرتا ہوں۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت اور ہر مَدَنی اِنْحَامَات کا رسالہ پُر کر کے جَمْع کروانے کی برکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مَصطَفْے صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم گھر یو شک ر رنجیاں دُور ہوں گی اور آپ کا گھر خوشیوں کا گہوارہ بنے گا اور اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ آپ کے خاندان کو مدینہ منورہ زَادَهَا اللَّهُ شَرَفًا وَتَعْظِيمًا کا نظارہ نصیب ہوگا۔

سویا ہوا نصیب جگا دیجئے حضور

میٹھا مدینہ مجھ کو دکھا دیجئے حضور

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

شوہر کے حقوق

بیوی کو بھی چاہئے کہ اپنے شوہر کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ چنانچہ

میٹھے میٹھے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے:

 ”قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیپ اور کُسچ لہو (یعنی پیپ پلاعون) بہتا ہو پھر عورت اسے چاہئے تب بھی حق شوہر ادا نہ کیا۔

(مُسند امام احمد بن حنبل ج ۴ ص ۳۱۸ حدیث ۱۲۶۱۴)

 شوہر کا گھر نہ چھوڑئے

 بات بات پر روٹھ کر میکے چلی جانے والی عورت اس حدیثِ پاک کو بار بار اپنے کانوں پر دھرائے اور دل کی گہرائیوں میں اتارے،

سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیثان ہے:

اور (بیوی) بغیر اجازت اُس (یعنی شوہر) کے گھر سے نہ جائے (اگر بلا ضرورت) ایسا کیا تو جب تک تو بہ نہ کرے یا واپس لوٹ نہ آئے الله عَزَّوَجَلَّ اور فرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔

 (کَنْزُ الْعُمَّال ج ۱۶ ص ۱۴۴ حدیث ۴۴۸۰۱ مُلَخَّصاً)

 اکثر عورتیں جہنمی ہونے کا سبب

 بعض خواتین اپنے شوہروں کی سُخْت نافرمانیاں اور ناشکریاں کرتی ہیں اور ذرا کوئی بات بُری لگ جائے تو پچھلے تمام احسانات بھلا کر کوسنا شروع کرتی ہیں۔ جو اسلامی بہنیں بات بات پر لعنت ملامت کرتی اور پھٹکار برستی رہتی ہیں ان کو ڈر جانا چاہئے کہ

سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم ایک بار عید کے روز عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئے خواتین کی طرف گزرے تو فرمایا:

”اے عورتو! صدقہ کیا کرو کیونکہ میں نے اکثر تم کو جہنمی دیکھا ہے۔‘‘

 خواتین نے عَرْض کی:

یا رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم! اس کی وجہ؟

فرمایا:

”اس لئے کہ تم لعنت بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔“ (

( بُخاری ج ۱ ص ۱۲۳ حدیث ۳۰۴)

پڑوسیوں کی اَهَمِّیْت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور بلا مَصْلَحَتِ شَرْعِی ان کے احترام میں کمی نہ کرے۔

ایک شخص نے حضور سراپائے نور، فیض گنجور، شاہِ غُیُور صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی خدمتِ با عظمت میں عرض کی: یا رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم ! مجھے یہ کیوں کر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برا؟

فرمایا:

”جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا، تو بیشک تم نے اچھا کیا اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے بُرا کیا، تو بے شک تم نے بُرا کیا ہے۔“

(ابن ماجه ج ٤ ص ٤٧٩ حدیث ٤٢٢۳)

اعلٰی کردار کی سند

 اللهُ اکبر! پڑوسیوں کی اس قَدْر اَهَمِّیْت کہ ”کیرییکٹر سرٹیفیکیٹ‘‘ ان کے ذَرِیْعے ملے۔ افسوس! پھر بھی آج پڑوسیوں کو کوئی خاطر میں نہیں لاتا۔ عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت اور ہر مَدَنی مَدَنی اِنْحَامَات کا رسالہ پُر کر کے جَمْع کروانے کی بَرَکت سے اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ بِطَفْیْلِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم پڑوسیوں کی اَهَمّیْت دل میں پیدا ہوگی اور ان کے احترام کا ذِہْن بنے گا اور اِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ آپ کامحلہ باغ مدینہ بن جائے گا۔ بہار آئے محلے میں میرے بھی یا رسول الله ادھر بھی تو جھہری برسی کوئی رَحْمَت کے بادل سے

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

امیر قافلہ کیسا ہو؟

سفر میں جو امیر قافلہ ہو اس کو اپنے رُفَقَا کا احترام اور ان کی بُہت زیادہ خدمت کرنی چاہئے ۔

چنانچہ فرمانِ مصطفیٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم:

 ”سفر میں وُہی امیر ہے جو ان کی خدمت کرے، جو شخص خدمت میں بڑھ گیا تو اُس کے رُفَقَا کسی عمل میں اُس سے نہیں بڑھ سکتے ہاں اگر ان میں سے کوئی شہید ہو جائے تو وُہی بڑھ جائے گا۔“

(شُعَبُ الإيمان ج ٦ ص ٣٣٤ حديث ٨٤٠٧)

بچی ہوئی چیزوں کو دوسروں کو دینے کی ترغیب

 ایک موقع پر سرکارِ مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے سفر میں ارشاد فرمایا:

 ”جس کے پاس زائد سواری ہو وہ بے سواری والے کو عطا کر دے اور جس کے پاس بچی ہوئی خُوراک ہو وہ بغیر خوراک والے کو کھلا دے۔‘‘ اور اسی طرح دوسری چیزوں کے متعلق ارشاد فرمایا۔

حضرت سَیِّدُنا ابوسعید خُدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے اِسی طرح مال کی مختلف اقسام ذِکْر فرمائیں حتیٰ کہ ہم نے محسوس کیا کہ بچی ہوئی چیز میں سے کسی کو اپنے پاس رکھ لینے کا حق ہی نہیں ہے۔

( مُسلم ص ۹۵۲ حدیث ۱۷۲۸)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

No comments:

Post a Comment