Monday, February 1, 2021

Forgiveness Of The Funeral Participants

Dear Islamic brothers! Did you notice how beneficial the participation in the funeral Ṣalāĥ of the pious people is! Whenever we get a chance or even better, making effort to get such a chance, we should participate in the funeral Ṣalāĥs of the Muslims. Our participation in the funeral of a pious person may bring about our forgiveness in the Hereafter. How immense is Allah’s mercy! He عَزَّوَجَلَّ forgives not only the deceased one but also the attendees of his funeral! Therefore, Sayyidunā ‘Abdullāĥ Bin ‘Abbās رَضِىَ الـلّٰـهُ تَعَالٰی عَـنْهُمَا reports that the Beloved and Blessed Prophet صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم said, ‘The very first reward given to the true believer on his death is that all the participants of his funeral Ṣalāĥ are forgiven.’

(Attarghīb Wattarĥīb, vol. 4, pp. 178, Ḥadīš 13)

A Shroud Thief

A shroud thief participated in the funeral Ṣalāĥ of a woman and noted the whereabouts of her grave in the graveyard. At night, he dug the grave with the intention of stealing the shroud. All of a sudden, the blessed woman spoke, ‘سُـبْحٰـنَ الـلّٰــه عَزَّوَجَلَّ! A Maghfūr (pardoned) person is stealing the shroud of a Maghfūraĥ woman! Listen, Allah عَزَّوَجَلَّ has forgiven me and all those who offered my funeral Ṣalāĥ and you are also among the pardoned ones.’ Listening to this, he immediately closed the grave and repented sincerely. 
(Shu’ab-ul-Īmān, vol. 7, pp. 8, Ḥadīš 9261)

May Allah عَزَّوَجَلَّ bless them and forgive us without any accountability for their sake!

The Forgiveness Of The Devotees As Well

After the death of Sayyidunā Bishr Ḥāfī عَـلَیۡهِ رَحۡـمَةُ الـلّٰـهِ الۡـکَافِی, Qāsim Bin Munabbiĥ عَـلَيْهِ رَحْـمَةُ الـلّٰـهِ الـرَّافِـع saw him in dream and asked, ‘How did Allah عَزَّوَجَلَّ treat you?’ He رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْه replied, ‘Allah عَزَّوَجَلَّ forgave me and told me, ‘O Bishr! I have forgiven you as well as all those who attended your funeral Ṣalāĥ.’ I then requested, ‘O Rab عَزَّوَجَلَّ, forgive even those who love me.’ Allah عَزَّوَجَلَّ said, ‘I have forgiven all those who would love you till the Day of Judgement.’ 
(Tārīkh Dimashq li Ibn ‘Asākir, vol. 10, pp. 225)

May Allah عَزَّوَجَلَّ bless them and forgive us without any accountability for their sake!

Increased Birth Rates Through Surgery

سُوال : اَخبار میں یہ خبر آئی ہے کہ گزشتہ 15 سالوں میں آپریشن کے ذَریعے بچوں کی پیدائش میں خطرناک حد تک اِضافہ ہوا ہے ۔ اَعداد و شُمار کے مُطابق صِرف 2015ء میں تین کروڑ بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذَریعے کی گئی جو اس سال پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کا 21 فیصد ہے اور ان میں سے تقریباً 44 لاکھ 55 ہزار بچوں کی پیدائش میں آپریشن کی ضَرورت ہی نہیں تھی ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لاکھوں خواتین غیر ضَروری طور پر آپریشن کے مَرحلے سے گزر کر خود کو خطرے میں ڈال رہی ہیں ۔ ایسی صورتِ حال میں کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : جب میرا لڑکپن تھا تو اس وقت میں نے آپریشن کا نام ہی نہیں سُنا تھا ، سب کی سب ڈلیوریاں نارمل ہوتی تھیں اور ہسپتال جانے کی ضَرورت ہی پیش نہ آتی تھی ۔ اس دور میں عام طور پر ڈلیوریاں گھروں پر ہوتی تھیں اور دائیاں (Midwives) گھروں پر آتی تھیں اور اپنے تجربات کی بِنا پر آپریشن کے بغیر نارمل ڈلیوری کیا کرتی تھیں ۔ اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ایک غیر مسلم دائی کو اپنے کسی کیس میں یہ معاملہ پیش آیا کہ ڈلیوری نہیں ہو پا رہی تھی اور مریضہ کو بہت دُشواری اور تکلیف کا سامنا تھا ۔ اس دائی نے کمرے کے دَروازے سے باہر نکل کر اِس طرح کہا : ” اے مسلمانوں کے غوثِ پاک! میں نے سُنا ہے کہ آپ اپنے مُریدوں کی مدد کرتے ہیں ، اگرچہ میں تو مسلمان نہیں ہوں لیکن یہ عورت مسلمان ہے ، آپ کی مُریدنی ہے اور آپ کو ماننے والی ہے اس کا مسئلہ حَل نہیں ہو پا رہا آپ اس کا مسئلہ حَل فرما دیجیے ! “ یہ کہنے کے بعد جب وہ دائی اَندر گئی تو نارمل ڈلیوری ہو گئی ۔ غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کی یہ کَرامت دیکھ کر وہ دائی مسلمان ہو گئی ۔

Whoever Bathed The Dead Person Must Bathe Later Or Not ?

میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا ضروری نہیں البتہ مستحب ہے کہ وہ غسل کر لے،اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ میّت کو غسل دینے سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی اور نہ ہی میّت کو غسل دینے والے شخص پر غسل فرض ہوتا ہے۔البتہ میّت کو غسل دینے کے بعد نہا لینا مستحب ہے۔اگر کوئی میّت کو غسل دینے کے بعد نہیں نہاتا تو وہ گُناہ گار نہیں ہے۔(ملفوظات امیر اہلسنت،قسط 215،ص 5،مکتبۃ المدینہ،کراچی) غسل میت کے بعد غسال(غسل دینے والے) کو غسل کرنا مستحب ہے۔

(تجہیز و تکفین کا طریقہ،ص 90،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

Sunday, January 31, 2021

Ruling On Expenses For Furnishing And Burial Of The Deceased

 سُوال : شادی شُدہ بہنوں یا  بیٹیوں کا اِنتقال ہو جائے تو ہمارے یہاں اُن کی  تجہیز و تکفین کا خرچ والدین اُٹھاتے ہیں ، اس کا  کیا حکم ہے ؟نیز ان کے اِیصالِ ثواب کے لیے کی جانے والی قرآن خوانی وغیرہ میں ہونے والے اَخراجات کا کیا حکم ہے ؟

جواب : مَیِّت کو کفن دینا فرضِ کفایہ  ہے ، يوں ہی مَیِّت کو دَفن کرنا بھی فرضِ کفایہ ہے ۔ (درمختار  مع  ردالمحتار ، کتاب الصلٰوة ، باب صلا ة  الجنازة ، ۳ /  ۱۲۱- ۱۶۳ دار المعرفة بیروت)مَیِّت نے جو مال چھوڑا اس میں سے بھی کفن  دے سکتے ہیں اور اگر خاندان میں سے کوئی دوسرا شخص اپنے طور پر کفن دینا چاہے تو وہ بھی دے سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ اگر خاندان میں  کوئی کفن دینے والانہیں تو کوئی بھی مسلمان کفن دے دے تو فرضِ کفایہ  اَدا ہو جائے گا ۔ اَلبتہ عورت نے اگرچہ مال چھوڑا اُس کا کفن شوہر کے ذِمَّہ ہے بشرطیکہ موت کے وقت کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے عورت کا نفقہ شوہر پر سے ساقِط ہو جاتا ۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۲۰ ، حصہ : ۴ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

Is It Better To Recite Tasbeeh With The Tongue Or In The Heart?

 سُوال : ذِکر و اَذکار ىا نماز کے بعد تسبىحِ فاطمہ زبان سے پڑھنا بہتر ہے ىا بغىر زبان ہلائے دِل میں پڑھنا افضل ہے ؟ (سوشل میڈیا کے ذَریعے بلوچستان سے سُوال)

جواب : جہاں کچھ پڑھنا ہوتا ہے تو وہاں زبان سے پڑھنا ضَروری ہے اور آواز بھی اتنى ہو کہ عُذر نہ ہونے کی صورت میں اپنے کانوں سے سُن لے ۔  لہٰذا تسبىحِ فاطمہ بھى زبان سے پڑھنى ہو گى ۔