Sunday, July 26, 2026

Akhlaq-e-Mustafa ﷺ ki Roshan Jhalakiyan aur Sunnat-e-Nabawi

 

اخلاقِ مصطفٰے صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی جھلکیاں

 میٹھے میٹھے آقا، مکے مدینے والے مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم یقیناً تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ مکرم، معظم اور محترم ہیں اور ہر حال میں آپ کا احترام کرنا ہم پر فرضِ اعظم ہے۔ اب آپ حضرات کی خدمت میں سیدُ المُرسلین، صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے اخلاقِ حَسَنَه کی چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کروں گا جو بالخصوص احترامِ مسلم کیلئے ہماری رہنما ہیں۔

·   سلطانِ دو جہان صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم ہر وقت اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور صرف کام ہی کی بات کرتے۔

·        آنے والوں کو مُحَبَّت دیتے، ایسی کوئی بات یا کام نہ کرتے جس سے نفرت پیدا ہو۔

·        قوم کے معزز فرد کا لحاظ فرماتے اور اُس قوم کا سردار مقرر فرمادیتے۔

·   لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی تلقین فرماتے، صحابہ کرام رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ ا9 کی خبرگیری فرماتے

·   لوگوں کی اچھی باتوں کی اچھائی بیان کرتے اور اس کی تقویت فرماتے، بُری چیز کو بُری بتاتے اور اُس پر عمل سے روکتے۔

·        ہر معاملے میں اعتدال (یعنی میانہ روی) سے کام لیتے

·   لوگوں کی اصلاح سے کبھی بھی غافل نہ فرماتے، آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم اٹھتے بیٹھتے (یعنی ہر وقت) ذکرُ اللہ کرتے رہتے۔

·   جب کہیں تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ مل جاتی وہیں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین فرماتے

·   اپنے پاس بیٹھنے والے کے حقوق کا لحاظ رکھتے، آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر رہنے والے ہر فرد کو یہی محسوس ہوتا کہ سرکار صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں

·   خدمت مبارک میں حاضر ہو کر گفتگو کرنے والے کے ساتھ اُس وقت تک تشریف فرماتے جب تک وہ خود نہ چلا جاۓ

·        جب کسی سے مُصافَحہ فرماتے (یعنی ہاتھ ہلاتے) تو اپنا ہاتھ کھینچنے میں پہل نہ فرماتے۔

·        سائل (یعنی مانگنے والے) کو عطا فرماتے،

·        آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی سخاوت و خوش خلقی ہر ایک کے لیے عام تھی،

·   آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی مجلس علم، بردباری، حیا، صُبر اور امانت کی مجلس تھی،

·   آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی مجلس میں شور و غل ہوتا نہ کسی کی تذلیل (یعنی بے عزتی) ہوتی،

·   آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کی مجلس میں اگر کسی سے کوئی بھول ہو جاتی تو اُس کو شہرت نہ دی جاتی،

·        جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ فرماتے،

·        آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کسی کے چہرے پر نظریں نہ گاڑتے تھے،

·        آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے،

·        سلام میں پہل فرماتے،

·        بچوں کو بھی سلام کرتے،

·   جو آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کو پکارتا، جواب میں ”لَبَّیْکَ“ (یعنی میں حاضر ہوں) فرماتے،

·        اہل مجلس کی طرف پاؤں نہ پھیلاتے۔

·        اکثر قبلہ رو بیٹھتے،

·   اپنی ذات کےلیے کبھی کسی سے بدلہ نہ لیتے، بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دینے کے بجاۓ مُعاف فرمادیا کرتے،

·   راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں جہاد کے سوا کبھی کسی کو اپنے مبارک ہاتھ سے نہ مارا، نہ کسی غلام کو نہ کسی عورت (یعنی زَوْجہ وغیرہ) کو مارا۔

·   گفتگو میں نرمی ہوتی، آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک بروزِ قیامت لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کو اس کی بدکلامی کی وجہ سے لوگ چھوڑ دیں۔

·   آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم بات کرتے تو (اس قدر ٹھہر ائو ہوتا کہ) لفظوں کو گننے والا گن سکتا تھا۔

·        طبیعت میں نرمی تھی اور ہشّاش بشّاش رہتے، نہ چلاتے،

·        سخت گفتگو نہ فرماتے،

·        کسی کو عیب نہ لگاتے،

·        بَجُل نہ فرماتے،

·        اپنی ذات والا کو بالخصوص تین چیزوں، جھگڑے، تکبُّر اور بے کار باتوں سے بچا رکھتے،

·        کسی کا عیب تلاش نہ کرتے،

·        صرف وہی بات کرتے جو آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کے حق میں) باعث ثواب ہو،

·        مسافریا اجنبی آدمی کے سخت کلامی بھرے سوال پر بھی صَبْر فرماتے،

·        کسی کی بات کو نہ کاٹتے،

·        البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز کرنے لگتا تو اس کو منع فرماتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔

·        سادگی کا عالم یہ تھا کہ بیٹھنے کےلیے کوئی مخصوص جگہ بھی نہ رکھی تھی،

·        کبھی چٹائی پر تو کبھی یوں ہی زمین پر ہی آرام فرما لیتے،

·        کبھی قَهْقَهہ (یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ دوسرے لوگ ہوں تو سُن لیں) نہ لگاتے،

·   صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوَان فرماتے ہیں: آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم سب سے زیادہ مسکرانے والے تھے (یعنی موقع کی مناسبت سے)۔

·   حضرت عبدُاللہ بن حارث رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔

یا الہی! جب بہیں آنکھیں حساب جُرم میں

اُن تبسّم ریز ہونٹوں کی دُعا کا ساتھ ہو

(حدائق بخشش شریف)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سُنَّت کی فضلیت اور چند سُنَّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔

تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبُوَّت، مَصْطَفٰے جانِ رَحْمَت، شَمْعِ بزمِ ہدایت، نَوْشۂ بزمِ جَنَّت صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم کا فرمانِ نشان ہے:

جس نے میری سُنَّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جَنَّت میں میرے ساتھ ہوگا۔

(ابن عساکر ج ۹ ص ٣٤٣)

سینینہ تری سُنَّت کا مدینہ بنے آقا

جَنَّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيب!        صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمُحَمَّد

No comments:

Post a Comment