Sunday, July 26, 2026

Silah Rahmi ki Ahmiyat aur Rishtedaron ke Huqooq

 

قَطْعِ رحمی حرام ہے“کے 13 حُرُوف کی نسبت سےصِلَةُ رَحْمى کے 13 مَدَنی پھول

فرمانِ الہی عَزَّوَجَلَّ:

وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ

ترجمۂ کنز العيمان

”اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو۔“

اس آیتِ مبارکہ کے تحت ”تفسیر مُظْهَرِی“ میں ہے:

یعنی تم قَطْعِ رَحْم (یعنی رشتے داروں سے تعلُّق توڑنے) سے بچو۔

7 فَرَامِينِ مُصْطَفٰى صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم

 ﴿۱﴾ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ صِلَةُ رَحْمِی کرے

 ﴿۲﴾ قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں تین قسم کےکے لوگ ہوں گے، (ان میں سے ایک یہ ہے) صِلَةُ رَحْمِی کرنے والا

﴿۳﴾ رشتہ کاٹنے والا جَنَّت میں نہیں جائے گا

﴿۴﴾ لوگوں میں سے وہ شخص سب سے اچھا ہے جو کِشْرَت سے قرآن کریم کی تلاوت کرے، زیادہ متقی ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صِلَةُ رَحْمِی (یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ) کرنے والا ہو

﴿۵﴾ بے شک افضل ترین صدقہ وہ ہے جو دشمنی چھپانے والے رشتے دار پر کیا جائے

﴿۶﴾ جس قوم میں قاطع رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو، اُس قوم پر اللہ کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا

﴿۷﴾ جسے یہ پسند ہو کہ اُس کے لیے (جَنَّت میں) محل بنایا جائے اور اُس کے دَرجات بلند کیے جائیں، اسے چاہئے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس سے قَطْعِ تعلُّق کرے یہ اس سے ناطہ (یعنی تعلُّق) جوڑے

(المُسْتَدْرَک ج ۳ ص ۱۲ حدیث ۳۲۱۵)

حضرتِ سَيِّدُنا نافِقیہ ابواللیث سَمَرْقَنْدِی عَلَيْهِ رَحْمَةُ اللَّهِ الْقَوِی فرماتے ہیں، صِلَةُ رَحْمِی کرنے کے 10 فائدے ہیں:

1.    اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا حاصل ہوتی ہے،

2.    لوگوں کی خوشی کا سبب ہے،

3.    فِرِشتوں کو مَسَرَّت ہوتی ہے،

4.    مسلمانوں کی طرف سے اس کی تعریف ہوتی ہے،

5.    شیطان کو اس سے رَنج پہنچتا ہے،

6.    عُمْر بڑھتی ہے،

7.    رِزْق میں بَرَکت ہوتی ہے،

8.    فوت ہو جانے والے آبا و اجداد (یعنی مسلمان باپ دادا) خوش ہوتے ہیں،

9.    آپس میں مَحَبَّت بڑھتی ہے،

10.    وفات کے بعد اس کے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے، کیونکہ لوگ اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں

(تَنْبِیہُ الغافلین ص ۷۳)

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1196 صفحات پر مشتمل کتاب ”بہارِ شریعت“ جلد 3 صفحہ 558 تا 560 پر ہے: صِلَةُ رَحْم کے معنی رشتے کو جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں کے ساتھ نیکی اور سُلُوک کرنا۔ ساری اُمَّت کا اس پر اتفاق ہے کہ صِلَةُ رَحْم ”واجب“ ہے اور قَطْعِ رَحْم (یعنی رشتہ توڑنا) ”حرام“ ہے۔

جن رشتے والوں کے ساتھ صِلَةُ (رَحْم) واجب ہے وہ کون ہیں؟

بعض علمانے فرمایا: وہ ذُو رَحِم مَحْرَم ہیں اور بعض نے فرمایا:

اس سے مراد دُورِ رَحِم ہیں، مَحْرَم ہوں یا نہ ہوں۔ اور ظاہر یہی قول دُوُم ہے، احادیث میں مُطْلَقاً (یعنی بغیر کسی قید کے) رشتے والوں کے ساتھ صِلَةُ (یعنی سُلُوک) کرنے کا حکم آتا ہے، قرآن مجید میں مُطْلَقاً (یعنی بلا قید) ذَوِی الْقُرْبَى (یعنی قرابت والے) فرمایا گیا مگر یہ بات ضرور ہے کہ رشتے میں چونکہ مختلف دَرَجات ہیں (اسی طرح) صِلَةُ رَحْم (یعنی رشتے داروں سے حُسنِ سُلُوک) کے دَرَجات میں بھی تفاوت (یعنی فرق) ہوتا ہے۔ والدین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے، ان کے بعد دُورِ رَحِم مَحْرَم کا، (یعنی وہ رشتے دار جن سے نسبی رشتہ ہونے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کیلئے حرام ہو) ان کے بعد بقیہ رشتے والوں کا علیٰ قَدْرِ مراتب (یعنی رشتے میں نزدیکی کے ترتیب کے مطابق)

(رَدُّ المُحتار ج ۹ ص ٦٧٨)

صِلَةُ رَحْمِی (یعنی رشتے داروں کے ساتھ سُلُوک) کی مختلف صورتیں ہیں، ان کو ہَدِیَّہ و تُحفہ دینا اور اگر ان کو کسی بات میں تمہاری اعانت (یعنی امداد) درکار ہو تو اس کام میں ان کی مدد کرنا، انہیں سلام کرنا، ان کی ملاقات کو جانا، ان کے پاس اُٹھنا بیٹھنا، ان سے بات چیت کرنا،ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا

(دُرَر ج ۱ ص ۳۲۳)

اگر یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتے والوں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط و کتابت جاری رکھے تاکہ بے تعلُّقی پیدا نہ ہونے پائے اور ہو سکے تو وطن آئے اور رشتے داروں سے تعلُّقات تازہ کرلے، اس طرح کرنے سے مَحَبَّت میں اضافہ ہوگا۔

(رَدُّ المُحتار ج ۹ ص ٦٧٨)

فون یا انٹرنیٹ کے ذَرِیْعے بھی رابطے کی ترکیب مُفید ہے

صِلَةُ رَحْمِی (رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک) اسی کا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مُکافاة یعنی بدلا کرنا ہے کہ اس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اس کے پاس بھیج دی، وہ تمہارے یہاں آیا تم اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتًا صِلَةُ رَحْم (یعنی کامل دَرَجے کا صِلَةُ رَحْم) یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے، بے اعتنائی (بے ۔ اِع ۔ تے۔ نائی۔ یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مُراعات (یعنی لحاظ و رعایت) کرو۔ (ايضاً)

مسلمان کو مَحَبَّت سے دیکھنے کا ثواب

فَرْمَانِ مُصْطَفٰى صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم:

جو مسلمان اپنے بھائی سے مُصَافَحہ کرے اور کسی کے دل میں دوسرے سے عداوت نہ ہو تو ہاتھ جُدا ہونے سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں کے گُزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف مَحَبَّت بھری نظر سے دیکھے اور ائُس کے دل میں کینہ نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

(کَنْزُ الْعُمَّال ج ۹ ص ۵۷ حدیث ۲۵۳۵۸)

 

No comments:

Post a Comment