Monday, August 10, 2026

وصالِ مصطفیٰ ﷺ: آخری ایام، تدفینِ مبارک اور جمالِ مصطفیٰ ﷺ

مرضِ وفات اور رحلتِ شریف

 ہجرت کے گیارھویں سال 20 یا 22 صفر کو اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جنت البقیع آدھی رات کو تشریف لے گئے، وہاں سے واپس تشریف لائے تو مزاجِ مبارک ناساز ہو گیا۔ کچھ دن تک علالت بہت بڑھ گئی۔ آپ تمام ازواجِ مطہرات کی اجازت سے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرۂ مبارک میں تشریف فرما ہوئے۔ جب کمزوری بہت زیادہ بڑھ گئی تو آپ نے حکم دیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے مصلیٰ پر نماز پڑھائیں۔ چنانچہ سترہ نمازیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائیں۔ وفات سے تھوڑی دیر پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عبد الرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ تازہ مسواک ہاتھ میں لیے حاضر ہوئے۔ آپ نے ان کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ حضرت عائشہ نے سمجھا کہ مسواک کی خواہش ہے۔ انہوں نے فوراً ہی مسواک لے کر اپنے دانتوں سے نرم کی اور دستِ اقدس میں دے دی، آپ نے مسواک فرمائی۔ پیر کے دن، ربیع الاول کے مہینے میں آپ نے رحلت فرمائی۔ مشہور قول کے مطابق 12 ربیع الاول ہجرت کے گیارھویں سال آپ نے ظاہری طور پر اس دنیا سے پردہ فرمایا۔ آپ کے وصالِ ظاہری سے صحابۂ کرام کو بڑا صدمہ ہوا۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے اہل بیت و اہل خاندان نے آپ کی تجہیز و تکفین کی خدمت انجام دی۔

1.      سبل الہدیٰ والرشاد، ابواب مرض رسول الله و وفاتہ۔۔۔ الخ، 12 / 233 و سیرتِ مصطفےٰ، ص 542

2.      مواہب اللدنیہ و شرح الزرقانی، الفصل الاول فی اتمامہ۔۔۔ الخ، 12 / 83 ملخصاً

3.      مواہب اللدنیہ و شرح الزرقانی، الفصل الاول فی۔۔۔ الخ، 12 / 108-110 ملتقطاً و ملخصاً

4.      مواہب اللدنیہ و شرح الزرقانی، الفصل الاول فی اتمامہ۔۔۔ الخ، 12 / 95 ملخصاً

5.      طبقات ابنِ سعد، ذکر کم مرض رسول، 2 / 208 و فتاویٰ رضویہ، 26 / 416

آپ کا جنازۂ مبارک حجرہ شریف کے اندر ہی رہا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی علیہ السلام کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کی تفصیل یوں بیان فرمائی کہ جب اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وصال فرما گئے تو مرد داخل ہوئے اور انہوں نے بغیر امام کے انفرادی طور پر صلوٰۃ و سلام پڑھا، پھر عورتیں داخل ہوئیں تو انہوں نے بھی آپ پر صلوٰۃ و سلام پڑھا۔ پھر بچے گئے انہوں نے بھی ایسے ہی کیا۔ پھر غلام گئے انہوں نے بھی آپ پر صلوٰۃ و سلام پڑھا۔ کسی نے بھی آپ پر امامت نہ کروائی۔ شروع میں صحابۂ کرام علیہم الرضوان میں اختلاف ہوا کہ آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کہاں دفن کیا جائے، اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے یہ سنا ہے کہ ہر نبی اپنی وفات کے بعد اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جس جگہ اس کی وفات ہوئی ہو۔ اس حدیث کو سن کر لوگوں نے اسی جگہ (حجرۂ عائشہ) میں آپ کی قبر تیار کی اور آپ اسی میں مدفون ہوئے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری نے بغلی قبرِ شریف تیار کی، حضرت علی، حضرت فضل بن عباس، حضرت قثم بن عباس اور حضرت عباس رضی اللہ عنہم اجمعین نے جسمِ اقدس کو قبرِ منور میں اتارا۔

1.      مدارج النبوت، 2 / 437 ملخصاً

2.      سنن ابنِ ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ و دفنہ، 2 / 284-286، حدیث: 1628 ملتقطاً

حلیہ مبارک

حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جسمِ اطہر بہت نرم و نازک تھا، میں نے ریشمی کپڑے کو بھی آپ کے بدن سے زیادہ نرم و نازک نہیں دیکھا اور آپ کے جسمِ مبارک کی خوشبو سے زیادہ اچھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی۔ آپ کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کا سایہ نہ تھا۔ سورج، چاند یا کسی بھی روشنی میں سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔

1.      بخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی، 2 / 489، حدیث: 3561

2.      شرح الزرقانی علی المواہب، الفصل الاول فی کمال خلقتہ۔۔۔ الخ، 5 / 524-525

آپ کے دونوں شانوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر مُہرِ نبوت تھی۔

آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا۔ آپ کا معجزہ تھا کہ جب الگ ہوتے تو درازی مائل درمیانہ قد والے ہوتے اور جب اوروں کے ساتھ چلتے یا بیٹھتے تو سب سے بلند دکھائی دیتے۔

3.      شرح الزرقانی علی المواہب، الفصل الاول فی کمال خلقتہ و جمال صورتہ، 5 / 485

آپ کا سر انور بڑا تھا، مبارک زلفیں ہلکی گھنگریالی تھیں۔ آپ کا چہرۂ مبارک جمالِ الٰہی کا آئینہ تھا، یوں چمکتا جیسے چودھویں کا چاند، حضرت انس فرماتے ہیں: نبی علیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چہرۂ مبارک کا رنگ نہ تو چُونے کی طرح بالکل سفید تھا نہ ہی گندمی، بلکہ آپ سرخ و سفید اور چمکدار چہرے کے مالک تھے۔ آپ کے مبارک ابرو دراز اور باریک، دونوں ایسے تھیں کہ دور سے ملی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ ان کے درمیان میں رگ تھی جو غصہ کے وقت ابھر آتی تھی۔

4.      الشمائل المحمدیہ، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ، ص 15

مبارک آنکھیں بڑی بڑی اور قدرتی طور پر سرمگیں تھیں۔ آنکھوں کا معجزہ تھا کہ جس طرح آپ سامنے والی چیزوں کو دیکھ لیا کرتے ایسے ہی اپنے سے پیچھے کی چیزیں بھی دیکھ لیا کرتے۔ آنکھوں کی طرح مبارک کان بھی معجزانہ شان والے تھے، آپ نے خود ارشاد فرمایا: میں ان چیزوں کو دیکھتا ہوں جن کو تم میں سے کوئی نہیں دیکھتا اور میں ان آوازوں کو سنتا ہوں جن کو تم میں سے کوئی نہیں سنتا۔

1.      الشمائل المحمدیہ، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ، ص 19 تا 21

2.      الخصائص الکبریٰ للسیوطی، باب المعجزۃ والخصائص۔۔۔ الخ، 1 / 104

آپ کی پیشانی مبارک روشن اور کشادہ تھی۔ آپ کے مبارک رخسار نرم و نازک اور ہموار تھے، داندانِ اقدس کشادہ اور روشن تھے، جب آپ گفتگو فرماتے تو دونوں اگلے دانتوں کے درمیان سے نور نکلتا تھا، جب آپ اندھیرے میں مسکرا دیتے تو ہر طرف روشنی ہو جاتی۔

3.      الشمائل المحمدیہ، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ، ص 21 تا 26

آپ کی مبارک زبان وحیِ الٰہی کی ترجمان اور فصاحت و بلاغت میں عالیُ الشان۔ بڑے بڑے فصیح آپ کا کلام سنتے تو دنگ رہ جاتے۔ آپ کی مبارک آواز بہت خوبصورت، اس کا کمال تھا کہ خطبوں میں دور اور نزدیک والے سب یکساں اپنی اپنی جگہ پر آپ کا مقدس کلام سن لیا کرتے تھے۔

آپ کے مبارک ہاتھ بہت نرم و نازک اور گوشت سے بھرے ہوئے، جس شخص سے آپ مصافحہ فرماتے وہ دن بھر ہاتھوں کو خوشبودار پاتا۔

4.      شرح الزرقانی علی المواہب، الفصل الاول فی کمال خلقتہ۔۔۔ الخ، 5 / 444-445

آپ کے مبارک قدم چوڑے اور گوشت سے بھرے ہوئے، پاؤں کی نرمی اور نزاکت کا حال یہ تھا کہ پانی نہیں ٹھہرتا تھا۔ آپ چلنے میں بڑے وقار سے قدمِ شریف کو زمین پر رکھتے ، جب چلتے تو یوں لگتا جیسے اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں، ہر قدم جما کر رکھتے۔

1.      الشمائل المحمدیہ، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ، ص 21

2.      الشمائل المحمدیہ، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ، ص 86

No comments:

Post a Comment