غزوۂ
بنو نضیر
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے
مقامِ بئرِ معونہ سے واپسی پر دو ایسے کافروں کو قتل کر دیا تھا جنہیں اللہ کے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پناہ دے چکے تھے۔ یہ سمجھے کہ انہوں نے
بئرِ معونہ پر شہید ہونے والے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کا بدلہ لے لیا ہے لیکن
بعد میں انہیں حقیقت معلوم ہوئی۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان
دو کافروں کا خون بہا دینے کا اعلان فرمایا۔ اسی بارے میں گفتگو کرنے آپ قبیلۂ
بنو نضیر کے یہودیوں کے پاس تشریف لے گئے کیونکہ آپ کا معاہدہ انہی سے تھا۔ انہوں
نے بظاہر بڑے اخلاق کا مظاہرہ کیا مگر یہ چال چلی کہ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو صحابۂ کرام کے ساتھ ایک دیوار کے نیچے بڑے احترام سے
بٹھایا اور ایک شخص کو اوپر بھیجا کہ وہ اوپر سے ایک وزنی پتھر ان پر گرا دے تاکہ
یہ سب شہید ہو جائیں۔ اللہ کریم نے آپ کو اس منصوبے کی خبر دی، آپ فوراً وہاں سے
چپ چاپ اٹھے اور صحابہ کے ہمراہ واپس چلے آئے اور مدینہ شریف تشریف لا کر یہودیوں
کی اس سازش کے بارے میں صحابۂ کرام کو بتایا۔ انصار و مہاجرین سے مشورے کے بعد آپ
نے ان یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ تم نے سازش کر کے معاہدہ توڑ دیا، اس لیے اب دس
دن کے اندر مدینہ شریف سے نکل جاؤ۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا تو آپ لشکر لے کر
نکلے اور
یہودیوں کے
قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ 15 دن تک رہا۔ اس دوران آپ نے قلعے کے آس پاس کے
کچھ درختوں کو بھی کٹوا دیا تاکہ ان میں چھپ کر یہودی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ تنگ آ
کر وہ یہودی اس بات پر تیار ہو گئے کہ وہ اپنا مکان اور قلعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن
اپنا جتنا سامان اونٹوں پر لاد کر لے جا سکتے ہیں وہ لے جائیں گے۔ آپ نے ان کی یہ
شرط منظور فرمائی اور سوائے دو افراد کے جو مسلمان ہو گئے تھے بنو نضیر کے سب
یہودی 600 اونٹوں پر اپنا مال و سامان لاد کر ایک جلوس کی شکل میں گاتے بجاتے
مدینہ سے نکلے اور کچھ تو خیبر میں جبکہ کچھ ملکِ شام میں جا کر آباد ہو گئے۔❶
❶شرح الزرقانی
علی المواہب، بئر معونہ و حدیث بنو النضیر، 2 / 497-520 ملخصاً و ملتقطاً
غزوۂ
بنو مصطلق و واقعۂ افک
شہرِ مدینہ سے کافی دور قبیلۂ خزاعہ کا ایک
خاندان ”بنو مُصْطَلِق“❷ آباد تھا۔ ماہِ شعبان سن 5 ہجری میں اس قبیلے کے سردار نے مدینہ
شریف پر چڑھائی کا ارادہ کیا تو آپ لشکر لے کر اس کے مقابلے کیلئے نکلے۔ جب ان لوگوں
کو آپ کی آمد کی خبر ہوئی تو ان کا سردار بھاگ گیا، قبیلہ کے دوسرے لوگوں نے
مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر جب مسلمانوں نے ایک ساتھ مل کر حملہ کیا تو دس کافر
مارے گئے۔ ایک مسلمان نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جبکہ کثیر مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ اسی
غزوہ میں قیدیوں کے ساتھ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بھی تھیں جنہیں حضورِ اکرم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی زوجیت میں قبول فرمایا اور مسلمانوں نے اس
خوشی میں تمام قیدیوں کو رہا کر دیا۔
❷اب مدینہ شریف
سے اس جگہ کا فاصلہ تقریباً 261 کلومیٹر ہے۔
اسی غزوہ سے جب آپ واپس آنے لگے تو
ایک مقام پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کسی سبب پیچھے رہ گئیں۔ بعد میں اللہ
کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آ کر مل گئیں۔ اس کو بنیاد بنا کر
منافقین نے معاذ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگائے اور اللہ پاک نے
خود قرآنِ کریم کی سورۂ نور کی آیت نمبر 11 تا 20 میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ
عنہا کی پاکی بیان کی اور منافقین کے بہتانوں کو جھوٹ قرار دیا۔
غزوۂ
خندق اور اس کا سبب
سن 5 ہجری میں غزوۂ خندق کا واقعہ
پیش آیا۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بنو نضیر کے یہودیوں
کو معاہدوں کی خلاف ورزی کی بنا پر مدینہ پاک سے نکال دیا تھا۔ ان میں سے کچھ خیبر
جا کر آباد ہو گئے تھے۔ وہاں جا کر خیبر کے یہودیوں کو ساتھ ملا کر انہوں نے عرب
کے مشرکین کو آپ کے خلاف جنگ پر ابھارا اور ہر طرح کی امداد کا یقین دلایا۔ تمام
کفارِ عرب نے اتحاد کر کے مسلمانوں سے جنگ لڑنے کا ارادہ کر لیا اسی وجہ سے اسے
غزوۂ احزاب (تمام جماعتوں کی جنگ) بھی کہتے ہیں۔ دشمن کی تعداد 10 ہزار تھی، اس
لیے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ مناسب یہ ہے کہ شہر کے اندر
رہ کر دفاع کیا جائے۔ جس طرف سے کافروں کے حملے کا خطرہ ہے اس طرف ایک خندق کھود
لی جائے۔ مدینہ کے تین طرف چونکہ مکانات کی تنگ گلیاں اور کھجوروں کے جھنڈ تھے اس
لیے ان تینوں جانب سے حملہ کا امکان نہیں تھا۔ صرف ایک طرف کا علاقہ تھا جو کھلا
ہوا تھا لہذا یہ طے ہوا کہ اسی طرف گہری خندق کھودی جائے۔ چنانچہ 8 ذوالقعدہ سن 5
ہجری کو اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تین ہزار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر خندق
کھودنے میں مصروف ہو گئے۔ آپ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے خندق کی حد بندی فرمائی
اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم فرمادی۔ تقریباً بیس دن میں یہ خندق تیار
ہو گئی۔ خندق 300 میٹر لمبی اور 9 میٹر چوڑی تھی جبکہ خندق کی گہرائی 5 میٹر تھی۔
اس زمانے میں خندق کا جنگ میں استعمال
اہلِ عرب کے لئے ایک نیا تجربہ ثابت ہوا اور اس غزوہ میں کامیابی کے اسباب میں سے
ایک سبب یہ خندق بنی۔ کافروں کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر کافر
حیران رہ گئے۔ انہوں نے مدینہ شریف کا محاصرہ کر لیا اور تقریباً ایک مہینے تک
گھیر اڈالے رہے۔ یہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ قائم رہا کہ اللہ کے آخری نبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے کئی کئی فاقے کیے۔
چند کافروں نے ایک جگہ سے خندق پار کر
لی مگر جب ان کے بڑے بڑے لڑاکے قتل کر دیئے گئے تو باقی واپس بھاگ گئے۔ اس جنگ میں
مسلمانوں میں سے چھ افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ابو سفیان جو اس وقت کافروں کے
لشکر کے سالار تھے، شدید سردی، طویل محاصرے اور فوج کے راشن کے ختم ہو جانے سے تنگ
آ گئے۔ ایسے میں اللہ پاک نے ان پر ایسی آندھی مسلط فرمادی جن سے کافروں کے لشکر
کی دیگیں الٹ پلٹ ہو گئیں، خیمے اکھڑ گئے۔ الغرض! ایسی صورتحال پیش آئی کہ کافروں
کے پاس سوائے بھاگنے کے اور کوئی راستہ نہ بچا۔
غزوۂ
بنو قریظہ
غزوۂ خندق کے دوران ہی بنو قریظہ نے
معاہدہ توڑ کر کافروں کا ساتھ دیا۔ اس کی سزا دینے کیلئے آپ غزوۂ خندق کے فوراً
بعد بنو قریظہ کی طرف لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ 25 دن کے محاصرے کے بعد انہوں نے
ہتھیار ڈال دیئے اور کہا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں جو
فیصلہ کریں گے وہ یہ تسلیم کریں گے۔ حضرت سعد کے فیصلےکے مطابق ان کے لڑنے والوں کو
قتل کر دیا گیا، خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کے اموال کو مجاہدین
میں تقسیم کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ بنو قریظہ نے خود ہی حضرت سعد بن معاذ کو بطورِ
ثالث منتخب کیا تھا اور پھر ان کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا، جبکہ حضرت سعد کا فیصلہ
بنو قریظہ کی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں تھا۔
No comments:
Post a Comment