Monday, August 10, 2026

سفرِ حیاتِ مصطفٰے ﷺ: ولادتِ باسعادت سے وصالِ ظاہری تک سنہری واقعات


اسلامی سن

عیسوی سن

اہم واقعات

ولادت کا سال

20 اپریل 571ء

12 ربیع الاول کو مکہ میں ولادت / ولادت سے چھ ماہ قبل والد کا وصال

دوسرا سال

572ء

حضرت حلیمہ کے پاس قبیلہ بنو سعد میں رہے۔

تیسرا سال

573ء

مکہ واپسی مگر وبائی وجہ سے قبیلہ بنو سعد میں مزید قیام

چوتھا سال

574ء

قبیلہ بنو سعد میں شقِ صدر / والدہ کے پاس واپسی

عمر مبارک کا چھٹا سال

576-577ء

والدہ اور امِ ایمن کے ساتھ مدینہ سے واپسی پر ابواء کے مقام پر والدہ حضرت آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا انتقال اور تدفین۔

آٹھواں سال

578-579ء

دادا عبد المطلب کا انتقال / چچا ابو طالب کی کفالت کا آغاز

نواں سال

579-580ء

عرب میں شدید قحط جو آپ کی برکت سے دور ہوا۔

دسواں سال

581ء

10 سال کی عمر میں اپنے چچا زبیر کے ہمراہ یمن کا سفر۔

بارہواں سال

583ء

ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کا پہلا تجارتی سفر اور بحیرا راہب سے ملاقات۔

چودہواں سال

584-585ء

حربِ فجار میں شرکت

بیسواں سال

589-590ء

حلفُ الفضول میں شرکت

پچیسواں سال

595ء

حضرت خدیجہ کی فرمائش پر ان کے مال کے ساتھ شام کا دوسرا تجارتی سفر پھر تین ماہ بعد حضرت خدیجہ سے شادی

تیسواں سال

600ء

سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب کی ولادت

تینتیسواں سال

603ء

دوسری شہزادی حضرت رقیہ کی ولادت

پینتیسواں سال

605ء

تعمیرِ کعبہ میں شرکت / حجر اسود کے تنازع کا فیصلہ / حضرت فاطمہ کی ولادت

یکم نبوی

فروری 610ء

عمر مبارک کے چالیسویں سال پہلی وحی کی آمد اور اعلانِ نبوت۔

یکم تا 3 نبوی

610-613ء

تین سال تک خفیہ طور پر دعوتِ اسلام / صاحبزادی حضرت رقیہ کا حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے نکاح

4 نبوی

613-614ء

اعلانیہ تبلیغِ اسلام کا آغاز اور شرک و بت پرستی سے روکنا۔

5 نبوی

615ء

مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کرنے کا حکم فرمایا۔

6 نبوی

616ء

حضرت عمر فاروقِ اعظم اور حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کا قبولِ اسلام

7 نبوی

617ء

خاندانِ بنو ہاشم کا شعبِ ابی طالب میں محاصرے کا آغاز۔

10 نبوی

619-620ء

شعبِ ابی طالب میں بائیکاٹ کا اختتام۔

10 نبوی

619-620ء

اس سال کو عام الحزن کہا جاتا ہے، رَسُوْلُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچا ابو طالب اور زوجہ حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا انتقال ہوا۔

12 نبوی

جولائی 621ء

پہلی بیعتِ عقبہ جب مدینہ کے 12 افراد منیٰ کی گھاٹی میں اسلام لائے / معجزۂ معراج عطا ہوا۔

13 نبوی

جون 622ء

دوسری بیعتِ عقبہ جب مدینہ کے مزید 72 افراد نے منیٰ کی گھاٹی میں آپ کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی / اسی سال ستمبر میں ہجرتِ مدینہ

ربیع الاول یکم ہجری

622ء

قباء میں آمد / تعمیرِ مسجدِ قباء / پہلا جمعہ ادا فرمایا / مدینے میں جلوہ گری / تعمیرِ مسجدِ نبوی / مواخاتِ مدینہ قائم فرمائی / اذان و اقامت کی ابتدا / سیدہ عائشہ سے شادی / حضرت فاطمہ کی شادی

2 ہجری

623-624ء

تبدیلیِ قبلہ / رمضان کے روزوں کی فرضیت / نمازِ عیدین و قربانی کا وجوب / غزوۂ بدر / امام حسن کی ولادت / حضرت رقیہ کی وفات / حضرت امِ کلثوم کی حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے شادی

شوال 3 ہجری

مارچ 625ء

اسی سال غزوۂ احد کا معرکہ پیش آیا / حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی شہادت

4 ہجری

625-626ء

سانحۂ رجیع / بئرِ معونہ / صلوٰۃ الخوف کا حکم / امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی ولادت / حضرت امِ سلمہ اور حضرت زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے شادی / نمازِ قصر اور پردے کا احکام کا نزول

5 ہجری

626-627ء

حضرت جویریہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا سے نکاح / غزوۂ خندق / غزوۂ بنو مصطلق / واقعۂ افک / تیمم کے جواز کا حکم نازل ہوا / غزوۂ بنو قریظہ

6 ہجری

628ء

بیعتِ رضوان / صلحِ حدیبیہ / بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے / شاہِ حبشہ حضرت نجاشی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا قبولِ اسلام

7 ہجری

628-629ء

غزوۂ خیبر / غزوۂ ذات الرقاع / حضرت امِ حبیبہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنَّ سے نکاح / معجزۂ ردّ الشمس / شہزادے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی ولادت / عمرۂ قضا کی ادائیگی

8 ہجری

630ء

فتحِ مکہ / غزوۂ حنین / غزوۂ طائف / غزوۂ موتہ

9 ہجری

631ء

غزوۂ تبوک / مختلف وفود کی بارگاہِ رسالت میں حاضری

10 ہجری

632ء

شہزادے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا وصال / صحابۂ کرام کے عظیم اجتماع کے ساتھ الوداعی حج کی ادائیگی / جیشِ اسامہ کی تیاری / 12 ربیع الاول بروز پیر مطابق 12 جون 632ء کو 63 سال کی عمر میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وصالِ ظاہری، یکم ربیع الاول اور 2 ربیع الاول کو وفاتِ شریف کے بھی اقوال ہیں / حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کے حجرے (یعنی گھر) میں تدفین۔

سیرتِ رسول کے واقعات میں ممکنہ حتمی تواریخ کا اہتمام کیا گیا ہے مگر پھر بھی رد و بدل کا احتمال موجود ہے۔

 

No comments:

Post a Comment