|
اسلامی سن |
عیسوی سن |
اہم واقعات |
|
ولادت
کا سال |
20
اپریل 571ء |
12 ربیع الاول کو مکہ میں ولادت /
ولادت سے چھ ماہ قبل والد کا وصال |
|
دوسرا
سال |
572ء |
حضرت حلیمہ کے پاس قبیلہ بنو سعد
میں رہے۔ |
|
تیسرا
سال |
573ء |
مکہ واپسی مگر وبائی وجہ سے قبیلہ
بنو سعد میں مزید قیام |
|
چوتھا
سال |
574ء |
قبیلہ بنو سعد میں شقِ صدر / والدہ
کے پاس واپسی |
|
عمر
مبارک کا چھٹا سال |
576-577ء |
والدہ اور امِ ایمن کے ساتھ مدینہ
سے واپسی پر ابواء کے مقام پر والدہ حضرت آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا انتقال
اور تدفین۔ |
|
آٹھواں
سال |
578-579ء |
دادا عبد المطلب کا انتقال / چچا
ابو طالب کی کفالت کا آغاز |
|
نواں
سال |
579-580ء |
عرب میں شدید قحط جو آپ کی برکت سے
دور ہوا۔ |
|
دسواں
سال |
581ء |
10 سال کی عمر میں اپنے چچا زبیر کے
ہمراہ یمن کا سفر۔ |
|
بارہواں
سال |
583ء |
ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کا پہلا
تجارتی سفر اور بحیرا راہب سے ملاقات۔ |
|
چودہواں
سال |
584-585ء |
حربِ فجار میں شرکت |
|
بیسواں
سال |
589-590ء |
حلفُ الفضول میں شرکت |
|
پچیسواں
سال |
595ء |
حضرت خدیجہ کی فرمائش پر ان کے مال
کے ساتھ شام کا دوسرا تجارتی سفر پھر تین ماہ بعد حضرت خدیجہ سے شادی |
|
تیسواں
سال |
600ء |
سب سے بڑی شہزادی حضرت زینب کی
ولادت |
|
تینتیسواں
سال |
603ء |
دوسری شہزادی حضرت رقیہ کی ولادت |
|
پینتیسواں
سال |
605ء |
تعمیرِ کعبہ میں شرکت / حجر اسود کے
تنازع کا فیصلہ / حضرت فاطمہ کی ولادت |
|
یکم
نبوی |
فروری
610ء |
عمر مبارک کے چالیسویں سال پہلی وحی
کی آمد اور اعلانِ نبوت۔ |
|
یکم
تا 3 نبوی |
610-613ء |
تین سال تک خفیہ طور پر دعوتِ اسلام
/ صاحبزادی حضرت رقیہ کا حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے نکاح |
|
4
نبوی |
613-614ء |
اعلانیہ تبلیغِ اسلام کا آغاز اور
شرک و بت پرستی سے روکنا۔ |
|
5
نبوی |
615ء |
مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کرنے کا حکم
فرمایا۔ |
|
6
نبوی |
616ء |
حضرت عمر فاروقِ اعظم اور حضرت امیر
حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کا قبولِ اسلام |
|
7
نبوی |
617ء |
خاندانِ بنو ہاشم کا شعبِ ابی طالب
میں محاصرے کا آغاز۔ |
|
10
نبوی |
619-620ء |
شعبِ ابی طالب میں بائیکاٹ کا
اختتام۔ |
|
10
نبوی |
619-620ء |
اس سال کو عام الحزن کہا جاتا ہے،
رَسُوْلُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچا ابو طالب اور زوجہ حضرت
خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا انتقال ہوا۔ |
|
12
نبوی |
جولائی
621ء |
پہلی بیعتِ عقبہ جب مدینہ کے 12
افراد منیٰ کی گھاٹی میں اسلام لائے / معجزۂ معراج عطا ہوا۔ |
|
13
نبوی |
جون
622ء |
دوسری بیعتِ عقبہ جب مدینہ کے مزید
72 افراد نے منیٰ کی گھاٹی میں آپ کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی / اسی سال ستمبر میں
ہجرتِ مدینہ |
|
ربیع
الاول یکم ہجری |
622ء |
قباء میں آمد / تعمیرِ مسجدِ قباء /
پہلا جمعہ ادا فرمایا / مدینے میں جلوہ گری / تعمیرِ مسجدِ نبوی / مواخاتِ مدینہ
قائم فرمائی / اذان و اقامت کی ابتدا / سیدہ عائشہ سے شادی / حضرت فاطمہ کی شادی |
|
2
ہجری |
623-624ء |
تبدیلیِ قبلہ / رمضان کے روزوں کی
فرضیت / نمازِ عیدین و قربانی کا وجوب / غزوۂ بدر / امام حسن کی ولادت / حضرت
رقیہ کی وفات / حضرت امِ کلثوم کی حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے شادی |
|
شوال
3 ہجری |
مارچ
625ء |
اسی سال غزوۂ احد کا معرکہ پیش آیا
/ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی شہادت |
|
4
ہجری |
625-626ء |
سانحۂ رجیع / بئرِ معونہ / صلوٰۃ
الخوف کا حکم / امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی ولادت / حضرت امِ سلمہ اور
حضرت زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے شادی / نمازِ قصر اور پردے کا
احکام کا نزول |
|
5
ہجری |
626-627ء |
حضرت جویریہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا
سے نکاح / غزوۂ خندق / غزوۂ بنو مصطلق / واقعۂ افک / تیمم کے جواز کا حکم
نازل ہوا / غزوۂ بنو قریظہ |
|
6
ہجری |
628ء |
بیعتِ رضوان / صلحِ حدیبیہ /
بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے / شاہِ حبشہ حضرت نجاشی رَضِیَ اللّٰہُ
عَنْہُ کا قبولِ اسلام |
|
7
ہجری |
628-629ء |
غزوۂ خیبر / غزوۂ ذات الرقاع /
حضرت امِ حبیبہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنَّ سے نکاح /
معجزۂ ردّ الشمس / شہزادے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی ولادت / عمرۂ
قضا کی ادائیگی |
|
8
ہجری |
630ء |
فتحِ مکہ / غزوۂ حنین / غزوۂ طائف
/ غزوۂ موتہ |
|
9
ہجری |
631ء |
غزوۂ تبوک / مختلف وفود کی بارگاہِ
رسالت میں حاضری |
|
10
ہجری |
632ء |
شہزادے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ
عَنْہُ کا وصال / صحابۂ کرام کے عظیم اجتماع کے ساتھ الوداعی حج کی ادائیگی /
جیشِ اسامہ کی تیاری / 12 ربیع الاول بروز پیر مطابق 12 جون 632ء کو 63 سال کی
عمر میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وصالِ ظاہری، یکم ربیع
الاول اور 2 ربیع الاول کو وفاتِ شریف کے بھی اقوال ہیں / حضرت عائشہ رَضِیَ
اللّٰہُ عَنْہَا کے حجرے (یعنی گھر) میں تدفین۔ |
سیرتِ رسول کے واقعات میں ممکنہ حتمی تواریخ کا اہتمام
کیا گیا ہے مگر پھر بھی رد و بدل کا احتمال موجود ہے۔
No comments:
Post a Comment