Monday, August 10, 2026

غارِ حرا سے اعلانِ نبوت تک: آغازِ وحی اور دعوتِ اسلام کا نورانی سفر ﷺ

اب تک کا غیر معمولی کردار

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام زندگی اعلانِ نبوت سے پہلے بھی بہترین اخلاق و عادات کا مجموعہ تھی۔ سچائی، دیانتداری، وفاداری، وعدے کی پابندی، بڑوں کی عظمت، چھوٹوں سے شفقت، کمزوروں سے ہمدردی، مہربانی و سخاوت، دوسروں کی خیر خواهی، رحملی ونرمیُ الأغراض! تمام نیک باتوں اور اچھی عادتوں میں آپ بے مثل و بے مثال تھے۔ حرص، فریب، جھوٹ، بدعہدی، شراب خوری، ناچ گانا، لوٹ مار، چوری، فحش گوئی و غیرہ و غیرہ جیسی بری عادتیں جو زمانہ جاہلیت میں بہت عام تھیں آپ کی ذات گرامی ان تمام باتوں سے پاک وصفی رہی۔ بلکہ آپ کی شان یہ ہے کہ عرب کے اس گرے ہوئے معاشرے میں بھی آپ کی شرافت، امانت، دیانت اور صداقت کا دور دور تک مشہور تھا۔ مکہ کے لوگوں کے دلوں میں آپ کے اخلاق کی وجہ سے آپ کی ایک خاص عزت تھی۔ آپ کی عمر مبارک تقریباً 40 سال ہو گئی لیکن جاہلیت کے تمام بیہودہ، مشرکانہ اور جاہلانہ کاموں سے آپ کا دامن پاک رہا۔ شہر مکہ جہاں بت پرستی ایسی عام تھی کہ خود خانہ کعبہ میں 360 بت موجود تھے جن کی پوجا ہوتی تھی آپ نے بھی ان بتوں کے آگے سر نہیں جھکایا۔ آپ کی گزاری ہوئی اس زندگی کا کمال تھا کہ اعلانِ نبوت کے بعد آپ کے دشمنوں نے بڑی کوشش کی کہ کوئی چھوٹا سا عیب آپ کی زندگی کے کسی دور میں مل جائے، کوئی کمزور بات آپ کی زندگی میں ثابت ہو جائے تو اسے سامنے لا کر آپ کی عزت و وقار پر حملہ کیا جائے اور آپ کو لوگوں کے سامنے کمتر ثابت کیا جائے۔ مگر آپ کے ہزاروں دشمن سوچتے سوچتے تھک گئے لیکن کوئی ایک ایسا واقعہ بھی نہیں مل سکا جس سے آپ کے کردار پر انگلی اٹھاتے ہو۔ اس لیے جیسے ہی آپ نے اعلانِ نبوت فرمایا خوش بخت لوگ آپ کا کلمہ پڑھ کر دل و جان آپ پر قربان کرنے لگے۔

غارِ حرا میں عبادت

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک جب 40 سال ہوئی تو آپ کی ذات اقدس میں ایک نیا انقلاب پیدا ہو گیا۔۔ محبت الہی اور عبادت الہی کا ذوق آپ کو مکی زندگی کی مصروفیات سے نکال کر ایک غار میں لے گیا، وہاں آپ اکیلے رہ کر اللہ کریم کی عبادت میں لگ رہتے۔ کعبہ شریف سے تھوڑی دوری پر واقع غارِ حرامیں کئی کئی دنوں کا کھانا پانی لے کر تشریف لے جاتے اور غار کے پرسکون ماحول میں عبادت اور غور و فکر میں مصروف رہا کرتے۔ جب کھانا پانی ختم ہوتا تو کبھی خود گھر پر آکر لے جاتے اور کبھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنها وہاں پہنچا دیا کرتے، آج بھی یہ نورانی غار اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔

ابتداء وحی اور اعلانِ نبوت

وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی، آپ رات کو نیند کی حالت میں جو خواب دیکھتے بعد میں اس کی تعبیروں واضح ہو جاتی جیسے دن کا اجالا اور سورج کی روشنی۔ چھ ماہ اسی طرح گزر گئے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں جب آپ معمول کے مطابق غارِ حرا کی تنہائیوں میں گوشہ نشین تھے کہ ایک رات تمام فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل امین علیہ السّلام نے رب کا پہلا روح پرور پیغام بصورت وحی آپ تک پہنچایا۔ (1)پھر کچھ عرصہ وحی نازل ہونے کا سلسلہ بند رہا۔ کچھ عرصے بعد آپ کہیں جا رہے تھے کہ کسی نے یا محمدکہہ کر آپ کو پکارا۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو حضرت جبرائیل جو غار میں آئے تھے اب زمین و آسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہیں۔ آپ پر خوف طاری ہوا، آپ گھر آئے کمبل اوڑھ کر لیٹ گئےـ اس وقت یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں:

 (1) ارشاد الساری، کتاب كيف كان بدء الوحی... الخ، باب 3/ 103، تحت الحدیث: 3

يٰاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ قُمْ فَانْذِرْۙ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْۙ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْۙ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْۙ

اے بالا پوش اوڑھنے والے کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو۔

)پ 29، المدثر: 1 تا 5(

(بائیں طرف) جبل نور جہاں غار حرا واقع ہے؛ (دایاں طرف) غار حرا کا داخلی راستہ


غارِ حرا مسجد حرام سے تقریباً 4 کلومیٹر کے فاصلے پر جبلِ نور نامی پہاڑ میں واقع ہے، غار زمین سے تقریباً 350 میٹر سے زیادہ کی بلندی پر ہے۔ اس غار کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے اندر سے خانہ کعبہ کا نظارہ ہر اور است ممکن ہے جبکہ یہ ایسے رخ پر ہے کہ سورج کی شعاعیں اس کے اندر داخل نہیں ہوتیں۔ غار کی لمبائی تقریباً 4 میٹر اور چوڑائی تقریباً 1.5 میٹر ہے۔ سرکارِ عليہِ السَّلام کے دادا حضرت عبدالمطلب بھی رمضان کے مہینے میں اسی غار میں جاکھ عبادت کرتے تھے۔ آج بھی خوش نصیب عاشقان رسول اس غار کی زیارت سے دیدہ و دل منور کرتے ہیں۔

اپنے رب کا یہحکم ملتےہی آپ نے حق کا علم بلند کرنے اور دنیا کو نورِ توحید سے منور کرنے کا پکا ارادہ فرما لیا۔(1)

(1) بخاری، کتاب کیف کان بدء الوحی... الخ، باب 3، 1، 9، حدیث: 4

اللہ کے رسول محمد: تبلیغِ اسلام کا آغاز اور پہلا مرحلہ

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے خفیہ طور پر ان لوگوں کو دعوتِ اسلام دی جن پر آپ کو اعتماد بھی تھا اور جو آپ کے حالات سے واقف تھے۔ ان حالات میں عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ، آزاد مردوں میں حضرت ابو بکر صدیق، لڑکوں میں حضرت علی بن ابی طالب، آزاد کردہ غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ اور غلاموں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہم نے ایمان قبول کیا۔(2)  تبلیغِ اسلام کا یہ سلسلہ خفیہ طریقے سے جاری رہا، جس طرح پیاسا میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی طرف لپکتا ہے ایسے ہی خوش نصیب روحیں دیوانہ وار اس دعوتِ حق کو قبول کرنے کیلئے لپکتیں۔ تین سال کے اس عرصے میں مسلمانوں کی ایک جماعت تیار ہو گئی۔ اس دوران آپ دارِ ارقم میں بھی رہے اور وہاں مسلمانوں کی تربیت فرماتے۔(3)

(2) المواہب اللدنیہ، المقصد الاول، دقائق حقائق بعثہ، 1/ 115

(3) السیرۃ الحلبیہ، باب استخفائه... الخ، 1/ 402

اللہ کے رسول محمد: تبلیغِ اسلام کا دوسرا مرحلہ

تین سال بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ

اور اے محبوب اپنے قریب ترشتہ داروں کو ڈراؤ۔

پ 19، الشعراء: 214

جس میں حکم دیا گیا کہ آپ اپنے قریبی خاندان والوں کو بھی دعوتِ اسلام دیں۔ آپ نے ایک دن صفا پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر قریش والوں کو بلایا۔ قبیلہ قریش کے تمام لوگ جمع ہو گئے تو اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میری قوم! اگر میں تم لوگوں سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین کر لو گے؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر کہا: ہاں! ہاں! ہم آپ کی بات کا یقین کر لیں گے کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا اور امین ہی پایا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ میں تم لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرا رہا ہوں اور اگر تم لوگ ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر اللہ پاک کا عذاب آئے گا۔ یہ سن کر تمام قریش ناراض ہو کر چلے گئے۔ ان میں آپ کا چچا ابو لہب بھی تھا۔ وہ آپ کی شان میں بدزبانی کرنے لگا، آپ نے تو اس گستاخی کا کوئی جواب نہ دیا لیکن آپ کے رب نے اس کی مذمت میں قرآنِ پاک کی ایک مکمل سورت نازل فرمائی۔(1)

 (1) بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الشعراء، باب ولا تخزنی يوم یبعثون، 3/ 294، حدیث: 4770

اللہ کے رسول محمد: تبلیغِ اسلام کا تیسرا مرحلہ

اعلانِ نبوت کے چوتھے سال سورہ حجر کی یہ آیت نازل ہوئی۔

فَاصْدَحْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ

تو اعلانیہ کہو جس بات کا تمہیں حکم ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔

پ 14، الحجر: 94

جس میں اللہ پاک نے حکم فرمایا کہ کھلم کھلا سب کو دین کی تبلیغ فرمائیے۔ اس کے بعد رسولِ کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّمَ اعلانیہ طور پر دین اسلام کی تبلیغ فرمانے لگے اور شرک و بت پرستی کی کھلم کھلا برائی بیان کرنے لگے۔ ایسے ماحول میں تمام قبیلہ بلکہ پورا عرب آپ کی مخالفت کرنے لگا۔(1)

(1) شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، الاجهار بدعوته، 1/ 462

بیت اللہ سے جبلِ نور پر غارِ حرا کا راستہ

No comments:

Post a Comment