Monday, August 10, 2026

فتحِ مکہ، عفوِ مصطفیٰ ﷺ اور غزوۂ حنین کے ایمان افروز واقعات

فتحِ مکہ کے اسباب

حدیبیہ میں ہونے والی صلح کے مطابق مسلمانوں اور کفارِ قریش کے درمیان 10 سال تک جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدہ کی رو سے قبیلہ بنو بکر نے قریش سے اتحاد کر لیا اور بنو خزاعہ مسلمانوں سے مل گئے۔ ان دونوں قبیلوں کے درمیان کافی عرصے سے دشمنی تھی۔ ایک دفعہ بنو بکر نے قریش کے ساتھ مل کر مسلمانوں کےاتحادی قبیلے بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔ بنو خزاعہ کے لوگ بچنے کیلئے حرم کعبہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے وہاں بھی انہیں نہ چھوڑا۔ اس حملے میں بنو خزاعہ کے 23 لوگ قتل ہوئے۔ بنو خزاعہ نے رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مدد کی درخواست کی۔ آپ نے قریش کی طرف پیغام بھیجا کہ تین میں سے کوئی بات مان لو:

شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ فتح الاعظم، 3 / 276-380 ملخصاً

1.     مقتولوں کی دیت ادا کرو!

2.     یا پھر بنو بکر سے اتحاد ختم کر دو!

3.     یا پھر یہ اعلان کر دو کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہو گیا۔

یہ شرائط سن کر قریش کے نمائندے نے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قاصد کے واپس جاتے ہی قریش کو احساس ہو گیا کہ ان سے بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے فوراً ابو سفیان کو پہلے کی طرح نیا معاہدہ کرنے مدینہ شریف روانہ کر دیا۔ مگر ان کی نہ سنی گئی۔ مایوس ہو کر ابو سفیان نے مسجدِ نبوی میں کھڑے ہو کر اپنی طرف سے معاہدہ کی تجدید کا اعلان کیا مگر کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ انہوں نے مکہ جا کر ساری صورتِ حال سردارانِ قریش کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کوئی جواب دیا؟ ابو سفیان نے کہا: نہیں۔ تو کفارِ قریش کہنے لگے: یہ تو کچھ بھی نہ ہوا، نہ تو یہ صلح ہے کہ ہمیں اطمینان ہو، نہ یہ اعلانِ جنگ ہے کہ ہم تیاری کریں۔ اسی دوران اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بڑی راز داری اور خاموشی سے جنگ کی تیاری فرمائی، مقصد یہ تھا کہ اہل مکہ کو خبر نہ ہونے پائے اور بے خبری میں ان پر حملہ کیا جائے۔

 شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ فتح الاعظم، 3 / 384-386 ملخصاً و ملتقطاً

رسولِ خدا کا مکہ میں داخلہ

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہجرت کے آٹھویں (8th) سال رمضان المبارک کی 10 تاریخ کو کم و بیش دس ہزار کا لشکر لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بعض قبائل راستے میں ساتھ ہوئے تو لشکر کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی۔ مکہ میں داخلے سے پہلے رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا۔ ایک حصے میں آپ خود موجود تھے جبکہ دوسرا حصہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں دے کر اسے دوسرے راستے سے مکہ میں داخلے کا حکم فرمایا۔ مکہ شریف کی زمین پر پہنچتے ہی آپ نے جو پہلا فرمان جاری فرمایا وہ یہ تھا:

1.      شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ فتح الاعظم، 3 / 395 ملخصاً

2.      بخاری، کتاب المغازی، باب این رکز النبی، 3 / 102، حدیث: 4280

·        جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کیلئے امان ہے۔

·        جو اپنا دروازہ بند کر لے اس کیلئے امان ہے۔

·        جو کعبہ میں داخل ہو جائے اس کیلئے امان ہے۔

·        جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے امان ہے۔

 شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ فتح الاعظم، 3 / 417-422 ملخصاً

آپ کے اس اعلانِ رحمتِ نشان سے ہر طرف امن و امان کی فضا پیدا ہو گئی۔ خون کا ایک قطرہ بھی بہنے کا امکان نہ رہا۔ لیکن قریش کے بعض افراد نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر پر حملہ کر دیا جس سے تین مسلمان شہید ہوئے اور کم وبیش 12 کافر بھی قتل ہوئے۔ آپ نے جب دیکھا کہ تلواریں چل رہی ہیں اور تیر پھینکے جا رہے ہیں تو اس بارے میں پوچھا کہ جنگ سے منع کرنے کے باوجود تلواریں کیوں چل رہی ہیں تو عرض کی گئی: پہل کفار کی طرف سے ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: رب کی تقدیر یہی ہے، خدا نے جو چاہا وہی بہتر ہے۔

شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ فتح الاعظم، 3 / 416-417 ملخصاً

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فاتحِ مکہ بن گئے مگر آپ کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ سورۂ فتح کی آیات تلاوت فرماتے اس طرح سرِ مبارک جھکا کر اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگتا تھا۔ آپ نے اونٹنی کو بٹھایا، طواف کیا اور حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ پھر حکم دیا کہ بیتُ اللہ شریف سے تمام بت نکال دیے جائیں۔ جب تمام بتوں سے کعبہ پاک ہو گیا تو آپ اندر تشریف لے گئے اور بیتُ اللہ کے تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔

1.      شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ فتح الاعظم، 3 / 434

2.      بخاری، کتاب المغازی، باب این رکز النبی، 3 / 102، حدیث: 4288 ملخصاً

رسولِ خدا کا کریمانہ برتاؤ

اس کے بعد آپ نے حرمِ کعبہ میں دربارِ عام لگایا، جس میں افواجِ اسلام کے ساتھ ہزاروں کافر بھی موجود تھے۔ ان کافروں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ پر اور آپ کے صحابہ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، راہ میں کانٹے بچھائے، جسمِ اطہر پر نجاستیں ڈالیں، قاتلانہ حملے کیے، آپ کے صحابہ کو شہید کیا، مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا،آپ پر بہتان لگائے اور گالیاں دیں، اَلْغَرَض! وہ کونسا ظلم تھا جو انہوں نے نہ کیا ہو۔ آج وہ سب کے سب مجرموں کی حیثیت سے آپ کے سامنے تھے۔ آپ چاہتے تو ان سے زبردست انتقام لیتے مگر اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کوئی انتقامی کارروائی نہ فرمائی، اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ فَاذْهَبُوْا أَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ "آج تم پر کوئی الزام نہیں ہے، جاؤ! تم سب آزاد ہو۔" طرح طرح کی ایذائیں دینے والے دشمنوں پر فتح پا کر ایسا حسنِ سلوک کرنا اس کی مثال نہیں ملتی۔

شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ فتح الاعظم، 3 / 449 ملخصاً

فتحِ مکہ کے دوسرے دن بھی آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حرمِ کعبہ کے احکامات بیان فرمائے اور قیامت تک کیلئے حرم میں جنگ اور لڑائی کو حرام فرمایا۔ اس موقع پر آپ کے حسنِ سلوک کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی جماعت نے اسلام قبول کیا۔ آپ نے مکہ کے اطراف میں موجود دوسرے بت بھی ختم کروا دیے۔

شرح الزرقانی علی المواہب، ہدم العزیٰ و سواع ومناۃ، 3 / 487-490 ملخصاً

غزوۂ حنین

فتحِ مکہ سے اسلام کا حق ہونا پورے عرب پر ظاہر ہو گیا۔ یوں کئی قبائل اسلام قبول کرنے لگے۔ مگر اس خبر کے بعد قبیلہ ہوازن کے لوگ دیگر چند چھوٹے قبائل کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کی نیت سے نکل پڑے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جب خبر ملی تو آپ 12 ہزار فوج لے کر روانہ ہوئے۔ مکہ اور طائف کے درمیان "حنین" نامی جگہ پر اسلامی لشکر کا کافروں سے سامنا ہوا۔

حنین ایک وادی ہے، جو مکہ شریف سے تقریباً 29 اور مدینہ شریف سے 462 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

شروع میں مسلمانوں نے خوب ہاتھ دکھائے اور ایسا حملہ کیا کہ کافروں کی فوج میدان چھوڑ کر بھاگنے لگی۔ مگر ان کی وہ فوج جو گھات لگائے ہوئے تھی اس نے جب حملہ کیا تو اسلامی لشکر میں افراتفری مچ گئی۔ بالآخر مسلمان غالب ہوئے۔ اس غزوہ میں ہزاروں قیدی اور ڈھیروں ڈھیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔

شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ حنین، 3 / 496-531 ملتقطاً ملخصاً

اس کے بعد اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم طائف کی طرف روانہ ہوئے، طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا، محاصرہ دو ہفتے سے زائد جاری رہا مگر خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا تو آپ نے محاصرہ ختم کرنے کا حکم دیا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! ثقیف یعنی طائف والوں کو ہدایت عطا فرما۔ دعائے نبی کی برکت سے 9 ہجری میں طائف کے لوگ مسلمان ہو گئے اور ان کی درخواست پر تمام قیدیوں کو چھوڑ دیا گیا۔ طائف سے واپسی پر غزوۂ حنین کے مالِ غنیمت کو آپ نے مسلمانوں میں تقسیم فرمایا۔ آپ نے دو ہفتوں سے زائد مکہ شریف میں قیام فرمایا اور اس کے بعد واپس مدینہ شریف تشریف لے گئے۔

 شرح الزرقانی علی المواہب، نبذۃ من قسم الغنائم۔۔۔ الخ، 4 / 6-19 ملتقطاً ملخصاً

No comments:

Post a Comment