Monday, August 10, 2026

بچپنِ مصطفیٰ ﷺ کی برکتیں، حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی سعادت اور شقِ صدر کا ایمان افروز واقعہ

بچپن کے واقعات و برکات

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنها جب اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے کیلئے آپ کے مکان عالی شان پر پہنچیں تو فرماتی ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ سفید کپڑے میں لپٹے ہوۓ ہیں، آپ کے پاس سے خوشبوئیں اُٹھ رہی ہیں، سبز رنگ کا ریشمی کپڑا بچھا ہوا ہے، پیٹھ کے بل آرام فرما رہے ہیں۔ میں نے آہستہ سے قریب ہو کر اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر آپ کے سینہ مبارک پر ہاتھ رکھا تو آپ مسکرانے لگے، اپنی سرگمیں آنکھیں کھول دیں اور مجھے دیکھنے لگے، میں نے محسوس کیا کہ ان آنکھوں سے انوار نکل رہے ہیں اور آسمان کو چھوڑ رہے ہیں۔ بے اختیار ہو کر میں نے آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور آپ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔  (1)

(1) مدارج النبوت، قسم اول، باب اول، بیان حسن خلقت، 2/ 19 ملخصاً

جب آپ رضی اللہ عنها دودھ پلانے بیٹھیں تو نبوت کی برکتیں ظاہر ہونے لگیں۔ خدا کی شان کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنها کے اس قدر دودھ بڑھ گیا کہ آپ اور آپ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن حارث نے خوب پیٹ بھر کر دودھ پیا اور دونوں آرام سے سو گئے۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی رضاعی والدہ کا صرف ایک طرف سے دودھ پیتے، دوسری طرف سے وہ پلانا بھی چاہتیں تب بھی نوش نہ فرماتے کہ وہ بھائی کا حصہ تھا، یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ عدل و انصاف کا بول بالا کریں گے۔ آپ کی برکت سے حضرت حلیمہ کی لاغر اونٹنی جو دودھ سے خالی تھی اس میں بھی خوب دودھ آگیا۔ حضرت حلیمہ کے شوہر نے اِس کا دودھ دوہا اور دونوں میاں بیوی نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا اور وہ رات بڑی راحت و سکون کے ساتھ بسر کی اور رات بھر میٹھی نیند کے مزے لوٹتے رہے۔

جب بیدار ہوۓ تو حضرت حلیمہ کے شوہر حارث بن عبد العزیٰ کہنے لگے: حلیمہ! تم بڑا ہی مبارک بچہ لائی ہو۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنها نے کہا کہ واقعی مجھے بھی یہی امید ہے کہ یہ بچہ بڑا بابرکت ہے اور خدا کی رحمت بن کر ہمیں ملا ہے، عن قریب ہمارا گھر خیر و برکت سے بھر جائے گا۔ (1)

 (1) سیرت حلبیه باب ذكر رضاعه وما اتصل به، 1/ 132 ملخصاً

سیدہ حلیمہ سعدیہ کے گھر کے آثار جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک بچپن گزرا


حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ (جب) ہم رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر مکہ شریف سے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے تو میری خچر  (1)جو پہلے کمزوری کی وجہ سے قافلے والوں سے پیچھے رہ جاتا تھا اب اس قَدَر تیز چلنے لگا کہ کوئی دوسری سواری اس کا مقابلہ نہ کر سکتی۔(2)

1.      خچر گدھے سے بڑا اور گھوڑے سے چھوٹا ہوتا ہے اور بار برداری وسواری کے کام آتا ہے۔ مختلف روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر میں حضرت حلیمہ کے پاس ایک خچر اور ایک اونٹنی تھی۔

2.    مدارج النبوت، قسم دوم، باب اول، 2/ 20 ملخصاً.

بچپن کی کچھ پیاری ادائیں

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنها کے پاس آئے ان کے جانور بڑھنے لگے، ان کی عزت میں اضافہ ہوا اور خیر و برکت نصیب ہونے لگی۔ جب تک آپ وہاں رہے بی بی حلیمہ کا گھر خیر و برکت سے بھرارہا، دن بدن ان انعامات اور برکات میں اضافہ ہوتا رہا اور وہ خوشحالی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنها فرماتی ہیں: دودھ پینے کی عمر میں آپ کی دیکھ بھال میں مجھے بہت آرام تھا۔ آپ دوسرے بچوں کی طرح نہ چیختے چلاتے اور نہ روتے۔ 2 ماہ کی عمر میں آپ گھٹنوں کے بل چلنے لگے؛ 3 ماہ کی عمر میں اٹھ کر کھڑے ہونے لگے، 4 ماہ کی عمر میں دیوار کے ساتھ ہاتھ رکھ کر ہر طرف چلا کرتے، 5 ماہ کی عمر میں چلنے پھرنے کی پوری قوت حاصل کر چکے تھے، 8 ماہ کی عمر میں یوں کلام فرماتے کہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی، 9 ماہ کی عمر میں فصیح باتیں کرنا شروع فرما دیں۔  (3)آپ نے اپنی عمر کے ابتدائی حصے میں جو کلام فرمایا وہ

(3) معارج النبوة، ركن دوم، باب سوم، فصل دوم، ص 55 تا 56

 اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيْراً وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيْرَاً

اللہ سب سے بڑا ہے اور ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ کیلئے ہے

تھا۔ جھولا جھولتے وقت آپ چاند سے باتیں کرتے اور اپنی انگلی سے جس طرف اشارہ فرماتے، چاند اُسی طرف جھک جاتا۔ (1)

 (1) جمع الجوامع، حرف الہمزۃ مع النون، 3/ 212، حدیث: 8361

وجودِ مصطفیٰ کی برکتیں

بی بی حلیمہ رضی اللہ عنها آپ کی برکتوں کو یوں بیان فرماتی ہیں: * میری قبیلہ ”بنو سعد“ قَحْط میں مبتلا تھا، جب میں آپ کو لے کر اپنے قبیلے میں پہنچی تو قَحْط دور ہو گیا، زمین سر سبز، درخت پھل دار اور جانور موٹے تازہ ہو گئے۔ * ایک دن میری پڑوسن مجھ سے بولی: اے حلیمہ! تیرا گھر ساری رات روشن رہتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا: یہ روشنی کسی چراغ کی وجہ سے نہیں، بلکہ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نورانی چہرے کی وجہ سے ہے۔ * میرے پاس 7 بکریاں تھیں، میں نے آپ کا مبارک ہاتھ اُن بکریوں پر پھیرا تو اس کی برکت سے بکریاں اتنا دودھ دینے لگیں کہ ایک دن کا دودھ 40 دن کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔ اتناہی نہیں میری بکریوں میں بھی اتنی برکت ہوئی کہ سات سے 700 ہو گئیں۔ * قبیلے والے ایک دن مجھ سے بولے: ان کی برکتوں سے ہمیں بھی حصہ دو! چنانچہ میں نے ایک تالاب میں آپ کے مبارک پاؤں ڈالے اور قبیلے کی بکریوں کو اُس تالاب کا پانی پلایا تو ان بکریوں نے بچے پیدا کئے اور قوم ان کے دودھ سے خوشحال و مالدار ہو گئی۔ * آپ کو کوئڑ کے کھیلنے کے لئے بلاتے توارشاد فرماتے: مجھے کھیلنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا * میرے بچوں کے ساتھ جنگل جاتے اور بکریاں چرا کیا کرتے تھے۔ ایک دن میرا بیٹا مجھ سے بولا: آئی جان! (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑی شان والے ہیں، جس جنگل میں جاتے ہیں ہرا بھرا ہو جاتا ہے، دھوپ میں ایک بادل ان پر سایہ کرتا ہے، ریت پر آپ کے قدم کا نشان نہیں پڑتا، پتھر ان کے پاؤں تلے خمیر (گندھُے ہوۓ) کی طرح نرم ہو جاتا اور اُس قدم کا نشان بن جاتا ہے، جنگل کے جانور آپ کے قدم چومتے ہیں۔(1)

 (1) الكلام الاوضح في تفسير الم نشرح (انوار جمال مصطفى)، ص 107-109 ملخصاً ملیا

بنو سعد میں قیام کی مدت اور واپسی

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنها اور ان کا خاندان ان قدم قدم پر اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکتوں کو دیکھتا رہا، ان سے خوب فیض پاتا رہا اور اپنا مقدر سنوارتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو سال مکمل ہو گئے، حضرت حلیمہ نے آپ کا دودھ چھڑا دیا اور معاہدے کے مطابق آپ کو آپ کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنها کے پاس لے گئیں، انہوں نے حسب توفیق حضرت حلیمہ کو انعام و اکرام سے نوازا۔ آپ کی برکتیں دیکھ کر حضرت حلیمہ کا دل مچلتا کہ آپ مزید ان کے پاس ان کے قبیلے میں رہیں، عجب اتفاق کہ انہی ایام میں مکہ شریف میں ایک وبائی مرض پھیلا ہوا تھا۔ حضرت حلیمہ نے وبائی بیماری سے بچانے کیلئے حضرت آمنہ کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ حضور کو مزید کچھ مدت کیلئے ان کے قبیلے بھیج دیں۔ یوں حضرت حلیمہ کی دلی مراد پوری ہوئی (یعنی مقصد پورا ہوا) اور ایک بار پھر بی بی آمنہ کے چاند سے ان کا آنگن روشن ہو گیا اور اللہ کے آخری نبی علیہ السلام کے برکت والے وجود کی بدولت ان کا مکان دوبارہ سے رحمتوں اور برکتوں کی کان بن گیا۔آپتقریباً چار سال تک قبیلہ بنو سعد میں برکتیں لٹاتے رہے۔ وہاں آپ نے اپنے رضائی بہن بھائیوں کے ساتھ بکریاں بھی چرائیں۔ بکریاں چراگاہوں میں لے جا کر ان کی دیکھ بھال کرنا یہ تقریباً تمام انبیاۓ کرام علیہم السّلام کی سنت ہے۔ آپ نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں اپنی ایک خصلتِ نبوت کا اظہار فرما دیا۔ قبیلہ بنو سعد میں جب پہلا شق صدر ہوا اس سے گھبرا کر حضرت حلیمہ آپ کو بی بی آمنہ کے پاس لائیں اور ان کے سپرد کر دیا۔ اس کے بعد آپ اپنی والدہ پاک کی گود میں پرورش پانے لگے۔

 سیدہ حلیمہ سعدیہ کے گھر کے آثار اور وہ وادی جہاں شق صدر ہوا تھا۔


شق صدر کا مطلب ہے سینے کو چیر نا۔ فرشتوں نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کو چیر کر دل نکال کر اسے دھویا۔ اس عمل کو شق صدر کہتے ہیں۔ یہ عمل آپ کی زندگی میں چار مرتبہ ہوا۔ پہلی دفعہ چار سال کی عمر میں، دوسری بار دس برس، تیسری دفعہ 40 سال کی عمر میں اور آخری بار معراج پر جانے سے پہلے۔ مشہور ہے کہ کہی بنو سعد کی وہ وادی ہے جہاں شق صدر ہوا تھا۔

No comments:

Post a Comment