ہجرتِ
مدینہ
مدینہ شریف میں اتنے لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے گویا مسلمانوں کو ایک پناہ گاہ مل گئی۔ آپ نے صحابۂ کرام کو عام اجازت دے دی کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی۔❷ ان کے بعد دوسرے لوگ بھی مدینہ روانہ ہونے لگے۔ جب کفار کو پتہ چلا تو انہوں نے ہجرت کرنے والوں کو روکنے کی کوششیں شروع کر دیں مگر چھپ چھپ کر لوگوں نے ہجرت کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے میں بہت سے صحابۂ کرام مدینہ شریف ہجرت کر گئے۔ اب مکہ شریف میں صرف وہ لوگ رہ گئے جو یا تو کافروں کی قید میں تھے یا پھر غربت کی وجہ سے ہجرت نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ابھی تک اللہ کریم کی طرف سے ہجرت کا حکم نہیں ہوا تھا تو آپ مکہ میں ہی رہے۔ آپ کے حکم سے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ابھی تک مکہ شریف میں رکے ہوئے تھے۔
❷ المواہب
اللدنیة، المقصد الاول، ذکر ہجرتہ، 1 / 143
کافروں
کا اجتماع
قریش کے کافر اس تمام صورتحال سے بڑے
پریشان ہوئے، یہ دیکھ کر کہ مدینہ کے لوگ اسلام لا چکے ہیں اور بڑھتے جا رہے ہیں
جبکہ مکہ کے لوگ بھی وہاں ہجرت کر رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ حضور علیہ السلام بھی
مدینہ چلے جائیں اور وہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی کر دیں۔ یہ
خطرہ محسوس کر کے کفارِ مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے ”دارُ الندوہ“ میں ایک مشورہ
کیا۔ کفار کے تمام بڑے بڑے دانشور اس اجتماع میں شریک تھے۔ مختلف تجاویز دی گئیں
جن میں سے ابو جہل کی دی گئی تجویز پر سب کا اتفاق ہوا۔ اس کا مشورہ یہ تھا ہر
قبیلے سے ایک ایک جوان کو تلوار دی جائے وہ سب ایک ساتھ آپ پر حملہ کر کے معاذَ
اللہ آپ کو شہید کر دیں۔ تمام قبائل کے لوگ اس میں شریک ہوں گے تو بنو ہاشم کسی سے
بھی جنگ نہ کر سکیں گے اور خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے۔ سب نے اس بات پر
اتفاق کیا اور ان کی مجلس ختم ہو گئی۔ حضرت جبریل امین اللہ کریم کا حکم لے کر
نازل ہو گئے اور اس واقعے کی خبر دی اور کہا کہ آج رات آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں
اور ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جائیں۔
ہجرتِ
مصطفٰے
کافروں نے رات کے وقت اپنے طے شدہ
منصوبے کے مطابق آپ کے مکانِ عالی شان کو گھیر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ آپ سو
جائیں تو وہ حملہ آور ہوں۔ اس وقت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے۔ کافر
اگرچہ آپ کے دشمن تھے مگرانہیں آپ کی امانت و دیانت پر پورا بھروسہ تھا۔ یہی وجہ
تھی کہ وہ اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھواتے تھے۔ اس وقت بھی کئی امانتیں آپ کے مکانِ
عالی شان میں موجود تھیں۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت
علی سے فرمایا: تم میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو جاؤ! میرے چلے جانے کے بعد
یہ تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔ آپ نے خاک کی ایک
مٹھی لی اور اس پر سورۂ یٰسین شریف کی ابتدائی کچھ آیات تلاوت فرما کر وہ خاک
کفار کی طرف پھینک دی اور اس مجمع میں سے صاف نکل گئے، کسی نے بھی آپ کو نہ
پہچانا۔❶ پھر آپ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ ثور پہنچے
اور تین دن اور تین راتیں وہاں قیام فرمایا۔❷ اس کے بعد آپ مدینہ شریف تشریف لے گئے۔
❶
المواہب اللدنیة، المقصد الاول، ذکر ہجرتہ، 1 / 144 ملخصاً
❷ بخاری،
کتاب مناقب الانصار، باب ہجرۃ النبی۔۔۔ الخ، 2 / 593، حدیث: 3905 ملخصاً
مدینے
کے والی مدینے میں
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی آمد کی خبر اہل مدینہ کو مل چکی تھی اور وہ آپ کے انتظار میں
اپنی پلکیں بچھائے ہوئے تھے، مدینہ کی خواتین اور بچوں تک کی زبانوں پر آپ کی آمد
کا ذکر ہوتا۔ مکہ شریف سے مدینہ کا فاصلہ عموماً 12 دن میں طے ہوتا تھا، یہ دن تو
انہوں نے انتظار کرتے ہوئے گزار دیئے۔ اس کے بعد ان سے رہا نہ گیا اور وہ اپنے شوق
کی تکمیل کیلئے بے قرار ہو کر اجتماعی شکل میں اپنے آقا کے استقبال کیلئے مدینہ سے
باہر ایک میدان میں جمع ہو جاتے اور جب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت کے ساتھ اپنے
گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ہر نئے دن ان کا یہی معمول تھا کہ نئے عزم و یقین کے ساتھ
آتے اور راستے میں سراپا شوق بن کر استقبال کیلئے کھڑے ہو جاتے۔ ایک دن اپنے معمول
کے مطابق اہل مدینہ آپ کی راہ دیکھ کر واپس جا چکے تھے۔ اچانک ایک یہودی نے اپنے
قلعہ سے دیکھا کہ کچھ افراد کا قافلہ آ رہا ہے تو وہ سمجھ گیا اور اس نے زور سے
پکار کر کہا: اے مدینہ والو! تم جس کا روزانہ انتظار کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آ
گیا۔ یہ سن کر تمام انصار بدن پر ہتھیار سجا کر خوشی کے عالم میں اللہ کے آخری نبی
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا استقبال کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے۔
مدینہ شریف سے تین میل کے فاصلہ پر جہاں آج ”مسجدِ قُبا“ ہے آقا کریم علیہ السلام
وہاں 12 ربیع الاول کو تشریف لائے اور قبیلۂ عمرو بن عوف وہ خوش بخت قبیلہ تھا
جسے سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سب سے پہلے اپنی میزبانی کا
شرف بخشا۔ اس قبیلے کے ایک سردار حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے مکان میں آپ
نےقیام فرمایا۔ اکثر صحابۂ کرام جو پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے وہ لوگ
بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی قریش کی امانتیں لوٹا
کر کچھ دن بعد مکہ سے چل پڑے تھے اور وہ بھی اسی مکان میں قیام فرما ہوئے۔❶
❶ لائل النبوۃ
للبیہقی، باب من استقبل رسول اللہ۔۔۔ الخ، 2 / 499-500 ملخصاً و مدارج النبوت، قسم
دوم، باب چہارم، 2 / 63 ملخصاً
مسجدِ قُبا کی تعمیر اور جمعہ کی
ابتدا اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قبا شریف میں سب سے پہلا
کام یہ فرمایا کہ وہاں مسجد تعمیر فرمائی۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کی ایک
ناکارہ زمین تھی جہاں کھجوریں خشک کی جاتی تھیں آپ نے وہ زمین لے کر وہاں مسجد کی
بنیاد رکھی۔ یہ مسجد آج بھی ”مسجدِ قُبا“ کے نام سے مشہور ہے۔❷ دو ہفتوں سے کچھ زائد یہاں رہ کر آپ شہرِ
مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں قبیلۂ بنی سالم کی مسجد میں پہلا جمعہ ادا فرمایا۔
پھر آپ شہرِ مدینہ تشریف لائے۔
❷ وفاء الوفا، الباب الثالث، الفصل العاشر فی دخول
النبی۔۔۔ الخ، 1 / 250 ملخصاً
مدینہ
شریف میں قیام
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم جب قبا سے مدینہ تشریف لائے تو کئی انصاری صحابہ نے عرض کی: ہمارے
ہاں قیام فرمائیں۔ مگر آپ ارشاد فرماتے کہ جس جگہ خدا کو منظور ہو گا اسی جگہ میری
اونٹنی بیٹھ جائے گی۔ جہاں آج مسجدِ نبوی ہے یہاں پر آپ کی سواری بیٹھی۔ اس کے
قریب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مکان تھا ۔ حضرت ابو ایوب انصاری آپ کی
اجازت سے آپ کا سامان اپنے گھر لے گئے اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ان کے گھر قیام فرمایا۔ سات مہینے تک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
نے آپ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔ جب مسجدِ نبوی اور اس کے آس پاس کے کمرے تیار
ہو گئے تو آپ اپنی ازواج کے ساتھ وہاں قیام فرما ہوئے۔
No comments:
Post a Comment