غزوۂ
احد کے اسباب اور لشکروں کی تعداد
جنگِ بدر سے جاتے ہی کافروں نے بدلہ
لینے کیلئے اگلی جنگ کی تیاری شروع کر دی تھی۔ پورا ایک سال انہوں نے جنگ کی تیاری
کی۔ ہجرتِ نبوی کے تیسرے سال شوال کے مہینے میں کفارانِ قریش پوری تیاری کر کے ایک
بڑا اور ہر لحاظ سے مضبوط لشکر لے کر جنگ کے ارادے سے نکلے۔ ابو سفیان (جو اس وقت
تک ایمان نہیں لائے تھے وہ) اس لشکر کے سپہ سالار بنے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو خفیہ طور پر ایمان قبول کر چکے
تھے اور مکہ میں رہتے تھے انہوں نے ایک خط لکھ کر کافروں کے لشکر کی خبر دی۔❶
❶کتاب المغازی
للواقدی، غزوہ احد، 1 / 203
جب آپ نے تحقیقات کروائیں تو معلوم
ہوا کہ کافروں کا لشکر مدینہ کے بہت قریب آ چکا ہے۔ اس صورتحال میں آپ نے صحابۂ
کرام علیہم الرضوان سے مشورہ فرمایا۔ بزرگ صحابہ نے یہ رائے دی کہ شہر کے اندر رہ
کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے لیکن نوجوان میدان میں نکل کر لڑنا چاہتے تھے۔ آپ نے
یہ رائے سن کر ہتھیار سجائے اور باہر تشریف لائے۔ اتنے میں تمام لوگ شہر کے اندر
رہ کر ہی کافروں سے جنگ لڑنے پر متفق ہو گئے۔ مگر آپ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی
کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ہتھیار
پہن کر اتار
دے یہاں تک کہ اللہ پاک اس کے اور اس کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ لہذا اب
نامِ خدا لے کر میدان میں نکل پڑو۔ آپ اس جنگ میں ایک ہزار کی فوج لے کر مدینہ سے
باہر نکلے۔ راستے میں عبد اللہ بن ابی منافق بہانے سے اپنے 300 لوگوں کو لے کر
اسلامی لشکر سے الگ ہو گیا۔ اب اسلامی لشکر کی تعداد 700 ہو گئی۔ آپ نے لشکر کا
معائنہ فرمایا اور کم عمر صحابہ کو واپس لوٹا دیا۔❶
❶شرح الزرقانی
علی المواہب، باب غزوہ احد، 2 / 394 تا 419 ملخصاً و ملتقطاً
لشکروں
کا آمنا سامنا
مشرکین 12 شوال کو ہی مدینہ شریف کے
قریب احد پہاڑ پر پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم جمعہ کے دن 14 شوال کو مدینہ سے روانہ ہوئے اور 15 شوال کو ہفتے کے دن فجر
کے وقت احد پہنچے۔ نمازِ فجر کے بعد آپ نے صف بندی فرمائی۔ صف بندی کے وقت آپ نے
اپنی پشت پر احد پہاڑ کو رکھا۔ لشکر کے پیچھے پہاڑ میں ایک درہ یعنی تنگ راستہ تھا
جس میں سے گزر کر کفارِ قریش مسلمانوں کی صفوں پر پیچھے سے حملہ آور ہو سکتے تھے۔
اس لیے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس درہ کی حفاظت کیلئے 50 تیر
اندازوں کا ایک دستہ مقرر فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو اس دستے
کا افسر بنایا اور یہ حکم دیا کہ ہماری شکست ہو یا فتح مگر تم لوگ اپنی اس جگہ کو
مت چھوڑنا۔
جنگ
کا معرکہ
جب جنگ کا آغاز ہوا اور مسلمانوں نے
شجاعت و بہادری کے ایسے ایسے جوہر دکھائے کہ کفار شکست کھاتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔
اس دوران ایک غلطی سے جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ وہ تیر انداز جنہیں پہاڑی پر مقرر کیا
گیا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ جیت مل چکی ہے تو وہ بھی دیگر صحابہ کے ساتھ مالِ
غنیمت جمع کرنے آ گئے۔ ان کے سربراہ نے روکا لیکن انہوں نے سوچا کہ اب تو جنگ ختم
ہو چکی اب رکنے کا کیا فائدہ؟ حضرت خالد بن ولید جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے
انہوں نے جب وہ درہ پہرہ داروں سے خالی دیکھا تو پیچھے سے حملہ کر دیا۔ حضرت عبد
اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ
نے اس درہ پر
چند صحابہ کے ساتھ انتہائی دلیرانہ مقابلہ کیا مگر یہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ جنگ
کا نقشہ بدلتا ہوا دیکھ کر بھاگتی ہوئی کفارِ قریش کی فوج بھی پلٹ پڑی۔ اس اچانک
حملے سے پورا منظر تبدیل ہو گیا۔❶
❶الاکتفا، ذکر
مغازی الرسول، غزوہ احد، 1 / 377
غزوۂ
احد کے کچھ واقعات
جنگ کے دوران ایک کافر نے آپ کے چہرۂ انور پر
تلوار ماری جس سے خود کے کچھ ٹکڑے آپ کے مبارک چہرہ میں چھب گئے۔ پتھر لگنے کی وجہ
سے آپ کے مبارک دانتوں کے کچھ کنارے بھی شہید ہوئے۔ اور نیچے کا مقدس ہونٹ بھی
زخمی ہو گیا۔ کافروں نے اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو شہید
کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اپنے ناپاک مقصد کو پورا نہ کر سکے۔ بعد میں صحابۂ
کرام علیہم الرضوان نے بڑھ چڑھ کر آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
حفاظت کی۔ جب جنگ ختم ہوئی تو کافر وہاں سے چلے گئے جبکہ مسلمانوں نے اپنے شہدا کی
تلاش شروع کر دی اور شہدا کو دیکھ کر مسلمان بڑے پریشان ہوئے۔ اس غزوہ میں شہدا کی
تعداد 70 تھی۔ جن میں سے چار مہاجر جبکہ 66 انصاری صحابہ شامل تھے۔ ان تمام شہدا
کو احد پہاڑ کے دامن میں دفن کیا گیا۔ دو دو شہید ایک ایک قبر میں دفن کئے جاتے۔
اس جنگ میں تیس کافر بھی مارے گئے۔❷
❷شرح الزرقانی
علی المواہب، باب غزوہ احد، 2 / 419 ملخصاً و ملتقطاً و مدارج النبوت، قسم سوم،
باب چہارم، 2 / 133 مفہوماً
واقعۂ
رجیع
ہجرت کے چوتھے سال یہ دردناک واقعہ
پیش آیا۔ قبیلۂ عضل و قارہ کے چندآدمی اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمارے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ہے
آپ کچھ صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو بھیج دیں جو انہیں اسلام سکھائیں۔ آپ نے دس
صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت کو ان کے ساتھ کر دیا۔ جب یہ قافلہ رجیع❶ کے مقام پر پہنچا تو کافروں نے دھوکے
بازی کر ڈالی۔ اور دھوکے سے ان میں سے آٹھ مسلمانوں کو شہید کر ڈالا جبکہ دو کو کفار
نے مکہ لے جا کر فروخت کر ڈالا۔❷
❶عسفان اور مکہ
کے درمیان ایک جگہ کا نام رجیع ہے۔ عسفان مدینہ سے 380 اور مکہ سے 93 کلومیٹر دور
ہے۔
❷مدارج النبوت،
قسم سوم، باب چہارم، 2 / 138 ملخصاً
واقعۂ
بئرِ معونہ
ماہِ صفر 4 ہجری میں ”بئرِ معونہ“ کا
مشہور واقعہ پیش آیا۔ عامر بن مالک جو بہادری میں مشہور تھا وہ اللہ کے آخری نبی
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس کو اسلام کی دعوت
دی، نہ تو اس نے قبول کی اور نہ ہی نفرت کا اظہار کیا۔ بلکہ اپنے ساتھ چند منتخب
صحابہ کو بھیجنے کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے نجد کے کافروں کی طرف سے
خطرہ ہے۔ اس نے کہا کہ میں آپ کے اصحاب کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہوں۔ آپ نے
70 صحابہ کو بھیج دیا۔
جب یہ صحابہ مقامِ بئرِ معونہ پر پہنچے
تو ان کے قافلہ سالار آپ کا خط لے کر عامر بن طفیل کے پاس گئے جو عامر بن مالک کا
بھتیجا تھا۔ اس نے انہیں بھی دھوکے سے شہید کروا دیا اور قریب کے قبائل کو ملا کر
ان صحابۂ کرام علیہم الرضوان پر حملہ کر دیا۔ صرف ایک صحابی حضرت عمرو بن امیہ کو انہوں نے چھوڑ دیا باقی تمام صحابۂ کرام
علیہم الرضوان کو شہید کر دیا۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر جب یہ تمام واقعہ اللہ کے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سنایا تو آپ کو شدید صدمہ ہوا۔
No comments:
Post a Comment