Monday, August 10, 2026

طائف کے مصائب سے بیعتِ عقبہ تک: دعوتِ اسلام، صبرِ مصطفیٰ ﷺ اور مدینہ کی فتحِ دل

سفرِ طائف کے واقعات

حضرت خدیجہ اور ابو طالب کے انتقال کے بعد کافروں کے ظلم و ستم میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان کے اس رویے کے بعد آپ نے ارادہ فرمایا کہ اگر وہ طائف جا کر دعوتِ اسلام دیں اور وہاں کے سردار ایمان قبول کر لیتے ہیں تو اس سے مسلمانوں کو قوت اور طاقت ملے گی۔ یہ سوچ کر آپ نے طائف کے سفر کا ارادہ فرمایا۔ آپ طائف کیلئے پیدل سفر پر نکلے، آپ کے ساتھ صرف آپ کے غلام حضرت زید بن حارثہ تھے۔ طائف پہنچ کر آپ نے کچھ دن آرام کے بعد وہاں کے سرداروں سے ملاقات کی ۔ تین سردار عبدیالیل اور اس کے دو بھائی مسعود اور حبیب کو آپ نے اسلام کی دعوت دی ۔ مگر انہوں نے دعوت قبول کرنے کے بجائے نہ صرف آپ کا مذاق اڑایا بلکہ طائف کے بدمعاش اور شریر لوگ آپ کے پیچھے لگا دیئے جو جلوس کی شکل میں اکٹھے ہو گئے اور آپ کا تعاقب کرنے لگے، یہ لوگ پھبتیاں کستے، نا زیبا جملے کہتے اور اپنے بتوں کے نعرے لگاتے ہوئے آپ کے پیچھے لگ گئے اور آپ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ انہوں نے اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک قدموں کو نشانہ بنایا اور اتنے پتھر مارے کہ پاؤں مبارک زخمی ہو گئے اور خون بہنے لگا۔ اتنا خون بہا کہ آپ کے جوتے خون سے بھر گئے۔ آپ کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ کو پتھروں سے بچانے کیلئے خود آگے آتے اور پتھر اپنے بدن پر لیتے جس سے وہ خود بھی لہولہان ہو گئے۔ جب آپ درد کی شدت کی وجہ سے بیٹھ جاتے تو کوئی شریر آگے بڑھتا اور بڑی بے دردی سے آپ کو جھٹکا دے کر کھڑا کر دیتا اور چلنے پرمجبور کرتا۔ جب آپ چلنے لگتے تو یہ ظالم پھر آپ پر پتھر برساتے، گالیاں دیتے، تالیاں بجاتے اور ہنسی اڑاتے۔ آخر کار آپ نے زید بن حارثہ کے ساتھ قریب میں موجود انگوروں کے باغ میں پناہ لی۔ یہ باغ مشہور کافر اور آپ کے دشمن عتبہ بن ربیعہ کا تھا۔ آپ کی حالت دیکھ کر وہ بھی آپ کو رحم بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس نے آپ کیلئے اپنے غلام کے ہاتھ انگوروں کا خوشہ بھیجا جو آپ نے قبول فرمایا۔ آپ کی باتیں سن کر انگور لانے والا نصرانی غلام عداس آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا۔

 شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، خروجہ الی الطائف، 2 / 49 تا 56، ملخصاً

سب سے سخت دن

بہت عرصہ گزر جانے کے بعد ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا: کیا جنگِ احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں اے عائشہ! وہ دن میرے لئے جنگِ احد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا، جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار ”عبدیالیل“ کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوتِ اسلام کو قبول نہ کیا اور اہل طائف نے مجھ پر پتھراؤ کیا۔ میں اس رنج و غم میں سر جھکائے چلتا رہا یہاں تک کہ مقام ”قرن الثعالب“ میں پہنچ کر میرے ہوش و حواس بجا ہوئے۔ وہاں پہنچ کر جب میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدلی مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے، اس بادل میں سے حضرت جبریل نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ پاک نے آپ کی قوم کا جواب سن لیا اور اب آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہے۔ تاکہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ پھر پہاڑوں کا فرشتہ مجھے سلام کر کے عرض کرنے لگا: اے محمد! اللہ پاک نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں اور میں آپ کا حکم بجا لاؤں۔ اگر آپ کہیں میں ابو قبيس اور قعيقعان یہ دونوں پہاڑ ان کفار پر الٹ دوں تو میں الٹ دیتا ہوں۔ یہ سن کر آپ نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ پاک ان کی نسلوں سے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ پاک کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔

 شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، خروجہ الی الطائف، 2 / 51

جنَّات کا قبولِ اسلام

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اسی سفرِ طائف سے واپسی پر مقام ”نخلہ“ میں تشریف فرما ہوئے۔ رات میں جب آپ نمازِ تہجد میں قرآن پڑھ رہے تھے تو ”نصیبین“ کے جنوں کی ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور قرآن سن کر یہ سب جن مسلمان ہو گئے۔ پھر ان جنّات نے واپس جا کر اپنی قوم کو تبلیغ کی تو مکہ شریف میں جنّات کے بڑے بڑے گروہوں نے اسلام قبول کیا۔ قرآنِ پاک میں سورۂ جن کی ابتدائی آیات میں اللہ پاک نے اس واقعے کا ذکر فرمایا ہے۔

المواہب اللدنیة، المقصد الاول: ذکر ہجرتہ، 1 / 137-138: ملخصاً ملتقطاً

مدینہ شریف میں اسلام کی روشنی

مکہ شریف سے جانبِ شمال ایک شہر ”یثرب“ تھا جو بعد میں مدینہ قرار پایا۔ آپ کے یہاں تشریف لانے کے بعد اس کا نام ”مدینہ“ ہوا۔ آپ کے اعلانِ نبوت کے وقت یہاں دو قبیلے ”اوس“ و ”خزرج“ کے ساتھ کچھ یہودی بھی رہتے تھے۔ یہ لوگ اگرچہ بت پرست تھے مگر یہودیوں سے سن سن کر انہیں معلوم تھا کہ عنقریب اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آمد ہو گی یوں گویا یہ منتظر تھے کہ کب ان کی آمد ہوتی ہے اور ہم ان پر ایمان لا کر اپنا مقدر سنواریں۔

 شہرِ مدینہ (Madina) کا پورا نام مدینۃ النبی ہے۔ اس شہر کی بنیاد اسلام کے نام پر ہے۔ یہاں مسجدِ نبوی اور حضور علیہ السلام کا روضۂ مبارک ہے۔ اب اس شہر کا رقبہ تقریباً 589 مربع کلومیٹر ہے۔ مکہ شریف سے یہ شہر تقریباً 342 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ آج کل بائی روڈ مسافت 450 کلومیٹر ہے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ظاہری حیات کے تقریباً 10 برس یہاں گزارے۔ یہ شہر عاشقانِ رسول کے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔

اعلانِ نبوت کے گیارہویں (11th) سال رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حج کے موقع پر آنے والے قبیلوں کو دعوتِ اسلام دینے کیلئے منیٰ تشریف لے گئے۔ منیٰ میں جو گھاٹی ہے جہاں آج مسجدُ العقبہ (عربی میں عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں) ہے وہاں آپ تشریف فرما تھے کہ قبیلہ خزرج کے چھ آدمی آپ کے پاس آ گئے۔ آپ نے ان لوگوں سے ان کا نام و نسب پوچھا۔ پھر قرآن کی چند آیتیں سنا کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جس سے یہ لوگ بے حد متاثر ہوئے۔ واپسی میں یہ آپس میں کہنے لگے کہ یہودی اللہ پاک کے جس آخری نبی کی بات کرتے رہے ہیں یقیناً وہ نبی یہی ہیں۔ لہذا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہودی ہم سے پہلے اسلام کی دعوت قبول کر لیں۔ یہ کہہ کر سب ایک ساتھ مسلمان ہو گئے اور مدینہ جا کر اپنے اہلِ خاندان اور رشتہ داروں کو بھی اسلام کی دعوت دی۔

بیعتِ عقبۂ اولیٰ

اگلے برس یعنی اعلانِ نبوت کے بارہویں (12th) سال حج کے موقع پر مدینہ کے مزید 12 افراد منیٰ کی گھاٹی میں چھپ کر اسلام لائے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ تاریخِ اسلام میں اس بیعت کو ”بیعتِ عقبۂ اولیٰ“ (گھاٹی کی پہلی بیعت) کہتے ہیں۔ اس بیعت کو بیعتِ عقبہ اس وجہ سے کہتے ہیں کیونکہ یہ بیعت منیٰ کی پہاڑی میں عقبہ کے قریب ہوئی جسے جمرۂ العقبہ بھی کہتے ہیں۔ ان لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ اسلام کے احکام سکھانے کیلئے کوئی معلّم بھی ان کو دیا جائے۔ آپ نے حضرت

فیضانِ صدیقِ اکبر، ص 199

مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ مدینہ شریف بھیج دیا۔ انہوں نے وہاں جا کر گھر گھر دین کی دعوت دی اور روزانہ کئی افراد ان کی دعوت پر اسلام قبول کرنے لگے۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ ہر طرف دین پھیلنے لگا۔ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بھی ان کی دعوت پر اسلام لائے، ان کے اسلام لاتے ہی ان کا پورا قبیلہ ”اوس“ مسلمان ہو گیا۔

المواہب اللدنیة، المقصد الاول، ذکر ہجرتہ، 1 / 140-142، ملتقطاً

مسجدِ عقبہ

منیٰ شریف

بیعتِ عقبۂ ثانیہ

اس بیعت کے ایک سال بعد یعنی اعلانِ نبوت کے تیرھویں (13th) سال حج کے موقع پر مدینہ کے تقریباً 72 افراد نے منیٰ کی اسی گھاٹی میں اپنے بت پرست ساتھیوں سے چھپ کر اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی اور یہ عہد کیا کہ ہم لوگ آپ کی اور اسلام کی حفاظت کے لئے اپنی جان اور مال سب قربان کر دیں گے۔

 المواہب اللدنیة، المقصد الاول، ذکر ہجرتہ، 1 / 143، ملتقطاً

No comments:

Post a Comment