وفدِ
قبیلہ سعد بن بکر
ان میں سے ایک وفد قبیلہ سعد بن بکر
کے سردار حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ یہ سرخ و سفید رنگت اور
لمبے بالوں کے مالک ہونے کے ساتھ بڑے خوبصورت آدمی تھے۔ یہ اللہ کے آخری نبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس آئے اور کہا: اے عبد المطلب کے بیٹے! میں آپ سے
چند چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا اور سوالات میں سختی کروں گا۔ آپ مجھ سے ناراض
مت ہو جائیے گا۔ آپ نے فرمایا: تم جو چاہو مجھ سے پوچھ سکتے ہو۔ پھر اس طرح سے
مکالمہ ہوا:
ضمام بن ثعلبہ: میں آپ کو اس خدا کی قسم دے کر جو آپ
اور تمام انسانوں کا پروردگار ہے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو ہماری
طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟
آپ نے فرمایا: ”ہاں“
ضمام بن ثعلبہ: میں آپ کو خدا کی قسم دے کر یہ سوال
کرتا ہوں کہ کیا نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ اللہ پاک نے ہم پر فرض کی ہے؟
آپ نے فرمایا: ”ہاں“
ضمام بن ثعلبہ: آپ نے جو کچھ فرمایا میں اس پر ایمان
لایا اور میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
میری قوم نے مجھے اس لیے آپ کے پاس
بھیجا ہے کہ میں آپ کے دین کو اچھی طرح سمجھ کر اپنی قوم بنی سعد بن بکر تک اسلام
کا پیغام پہنچا دوں۔
پھر یہ اپنے وطن پہنچے اور ساری قوم
کو جمع کر کے پہلے بتوں کی مذمت بیان کی پھر اسلام کی حقانیت پر ایسی زبردست تقریر
فرمائی کہ رات بھر میں قبیلے کے تمام مرد و عورت مسلمان ہو گئے اور ان لوگوں نے
بتوں کو اپنے ہاتھوں سے پاش پاش کر ڈالا، اپنے قبیلے میں مسجد بنا لی اور تمام
اسلامی احکامات پر عمل کرنے والے پکے مسلمان بن گئے۔❶
❶ مدارج النبوت، 2 / 363-364 ملخصاً و ملتقطاً
اور بھی کئی وفد اللہ کے آخری نبی
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دولتِ ایمان سے مشرف
ہوئے۔
الوداعی
حج (حجۃ الوداع)
ہجرت کے دسویں (10th) سال کا سب سے اہم واقعہ حجۃ الوداع ہے۔ یہ
آپ کا آخری حج تھا۔ لوگوں نے آپ کو پورا حج کرتے ہوئے دیکھا۔ ذوالقعدہ کے مہینے
میں آپ نے حج کیلئے روانگی کا اعلان فرمایا۔ آپ نے اس حج میں اپنا مشہور خطبۂ
وداع ارشاد فرمایا۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حج کا
اعلان فرماتے ہی مختلف علاقوں سے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار (124000) پروانائے
شمعِ رسالت، تاجدارِ نبوت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گرد جمع ہوئے۔❷
❷ شرح الزرقانی علی المواہب، حجۃ الوداع، 4 / 146
دنیا سے ظاہرِِ پردہ فرمانے کا اشارہ بھی
آپ نے اس حج میں دے دیا، چنانچہ جمعرات کے قریب آپ نے ارشاد فرمایا: مجھ سے حج کے
مسائل سیکھ لو! شاید اس کے بعد میں دوسرا حج نہ کروں۔❶ آپ ذوالقعدہ کی آخری جمعرات کو مدینہ
شریف سے روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ جو کہ اہل مدینہ کا میقات ہے وہاں پہنچ کر احرام
باندھا اور 4 ذوالحجہ کو مکہ شریف میں داخل ہوئے۔ طواف فرمایا، مقامِ ابراہیم میں
نفل ادا فرمائے، صفا و مروہ کی سعی فرمائی، 8 ذوالحجہ کو منیٰ تشریف لے گئے، پھر 9
تاریخ کو عرفات گئے، یہاں آپ نے کمبل کے ایک خیمے میں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھل
گیا تو آپ اپنی اونٹنی ”قصواء“ پر سوار ہوئے اور خطبہ پڑھا۔ اس خطبے میں آپ نے بہت
سے ضروری احکامات کا اعلان فرمایا اور زمانۂ جاہلیت کی تمام برائیوں اور بیہودہ
رسموں کو مٹانے کا اعلان فرمایا۔❷
1.
مسلم، کتاب الحج، باب استحباب رمی الجمرۃ العقبۃ۔۔۔
الخ، ص 675، حدیث: 1297
2.
مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی، ص 489، حدیث: 2950
ملخصاً و ملتقطاً
الوداعی
خطبہ
آپ کے اس خطبے کے چند ارشادات یہ ہیں:
·
تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارے
باپ (حضرت آدم علیہ السلام) ایک ہیں۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی
عربی پر، کسی سفید کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سفید پر کوئی فضیلت نہیں
مگر تقویٰ کے سبب سے۔
·
تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم
مٹی سے بنائے گئے۔ اب فضیلت و برتری کے سارے دعوے، خون و مال کے سارے مطالبے اور
سارے انتقام میرے پاؤں تلے ہیں۔
·
اے لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا
بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
·
کسی کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے
بھائی سے کچھ لے، مگر وہ کہ جس پر اس کا بھائی بھی راضی ہو اور خوشی سے دے۔ اے
لوگو! خود پر اور ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔
·
تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر تا
قیامت اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ، تمہارا یہ شہر محترم
ہے۔
·
اے لوگو! خواتین سے بہتر سلوک کرو!
کیونکہ وہ تمہارے تابع ہیں، اور خود سے کچھ نہیں کر سکتیں۔
·
پھر فرمایا: تم سے ربِ کریم میرے بارے
میں پوچھے گا تو تم کیا کہو گے؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: آپ نے خدا کا پیغام پہنچا
دیا اور رسالت کا حق ادا کر دیا، اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور تین بار فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ اس کے
بعد وحی کے ذریعے دین مکمل ہونے کی سند عطا فرمائی گئی اور پھر اپنے حج کی تکمیل
فرمائی۔❶
❶ مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی، ص 490، حدیث: 2950
ملخصاً و ملتقطاً
الوداعی
خطبہ کی بہاریں
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
کمال بات یہ ہے کہ جب آپ یہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو اس وقت آپ اونٹنی کے کجاوے
پر تشریف فرما تھے۔ یہ آپ کی کمالِ سادگی کی شان تھی۔ آپ کا ارشاد فرمایا ہوا یہ
خطبہ انسانی تاریخ کا سنہرا اور روشن باب ہے۔ اس خطبے میں انسانی حقوق بالخصوص حقوقِ نسواں، غلاموں کے حقوق،
جان، مال، عزت، آبرو کی حفاظت، معاشی اصلاحات، وراثت کے مسائل، قرض و مقروض سے
متعلق احکامات، سیاست اور دین سے متعلق ایسی رہنمائی موجود ہے جس کی اس سے پہلے
مثال نہیں ملتی۔ یہ خطبہ تمام اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور حقوق و فرائض کا عالمی منشور
ہے۔ یہ خطبہ آج بھی مسلمانوں کیلئے گویا آئین اور ابدی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ خطبہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے تھا۔ اس خطبے
میں وہ روشنی ہے جس کی انسانیت کو ضرورت ہے۔ اس خطبے میں ایسا درس ہے جس پر عمل
انسان کو انسانیت کی معراج پر لے جا سکتا ہے۔
موئے
مبارک کی تقسیم
عرفات کے ساتھ ساتھ منیٰ میں بھی آپ
نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں عرفات کے خطبے کی طرح بہت سے مسائل و احکام بیان
فرمائے۔ پھر آپ قربان گاہ تشریف لے گئے۔ قربانی کے سو اونٹوں میں سے کچھ کو اپنے
ہاتھِ مبارک سے نحر فرمایا اور باقی حضرت علی کو نحر کرنے کا حکم فرمایا۔ قربانی
کے بعد آپ نے سر کے بال اتروائے، ان بالوں کا کچھ حصہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی
اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور باقی موئے مبارک مسلمانوں میں تقسیم فرمانے کا حکم
فرمایا۔❶ پھر آپ زمزم کے کنویں پر تشریف لائے اور زم زم نوش فرمایا اور
طوافِ وداع کر کے مہاجرین و انصار کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔❷
1.
سیرۃ الحلبیہ، حجۃ الوداع، 3 / 377 ملخصاً
2.
سیرۃ الحلبیہ، حجۃ الوداع، 3 / 379 ملخصاً و ملتقطاً
No comments:
Post a Comment