Monday, August 10, 2026

شانِ مصطفیٰ ﷺ قرآن و حدیث کی روشنی میں — عظمتِ رسول ﷺ کے روشن دلائل

قرآنی آیات اور شانِ مصطفےٰ

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل کا ایک روشن باب یہ بھی ہے کہ خود اللہ رب العٰلمین نے آپ کی عظمت و شان قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں:

بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر گناہوں کی معافی چاہنے کا حکم

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا ؕ (

اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو اے حبیب! تمہاری بارگاہ میں حاضر ہو جاتے پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (بھی) ان کی مغفرت کی دعا فرماتے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، مہربان پاتے۔

پ5، النساء:64

تمام آیات کا ترجمہ کنز العرفان سے لیا گیا ہے۔

آمدِ مصطفےٰ کی خوشخبری اور ان پر ایمان لانے کا حکم

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَکُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ؕ

اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس یہ رسول حق کے ساتھ تشریف لائے تو ایمان لاؤ، تمہارے لیے بہتر ہو گا۔

پ6، النساء:170

 

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان و عظمت کا بیان

یٰۤاَهْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ؕ قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ ۙ

اے اہل کتاب! بیشک تمہارے پاس ہمارے رسول تشریف لائے، وہ تم پر بہت سی وہ چیزیں ظاہر فرماتے ہیں جو تم نے)اللہ کی) کتاب سے چھپا ڈالی تھیں اور بہت سی معاف فرما دیتے ہیں، بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آ گیا اور ایک روشن کتاب۔

پ6، المائدہ:15

رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اوصاف اور امت پر شفقت کا بیان

لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ

 بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔

پ11، التوبہ:128

 نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک معراج کا بیان

سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیۡ بٰرَکْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۟

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔

پ15، بنی اسرائیل:1

نبی علیہ السلام کی شانِ رحمت کا بیان

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۟

اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔

پ17، الانبیاء:107

نبی علیہ السلام کی رسالتِ عامہ کا بیان

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ

اور اے محبوب! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔

پ22، سبا:28

اللہ پاک اور فرشتوں کا نبی علیہ السلام پر درود اور مسلمانوں کو درود و سلام کا حکم

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰۤئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ۟

 بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

پ22، الاحزاب:56

رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان و عظمت کا بیان

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰی ۙ﴿۱﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی ۙ﴿۴﴾

تارے کی قسم، جب وہ اترے۔ تمہارے صاحب نہ بہکے اور نہ ٹیڑھا راستہ چلے۔ اور وہ کوئی بات خواہش سے نہیں کہتے۔ وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔

پ27، النجم:1-4

قسموں کے ساتھ آپ کی شان کا بیان

وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی ؕ﴿۴﴾ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾

چڑھتے دن کے وقت کی قسم۔ اور رات کی جب وہ ڈھانپ دے۔ تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ناپسند کیا۔ اور بیشک تمہارے لیے ہر پچھلی گھڑی پہلی سے بہتر ہے۔ اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔

پ30، الضحیٰ:1-5

رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر انعامِ الٰہی کا بیان

وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ؕ﴿۴﴾

اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کر دیا۔

پ30، الم نشرح:4

آپ کو عطائے کوثر کا بیان

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾

اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔

پ30، الکوثر:1

شانِ مصطفٰے احادیث کی روشنی میں

احادیثِ مبارکہ میں بھی کئی مقامات پر اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود اپنے فضائل بیان فرمائے ہیں—چند ایسی احادیث ملاحظہ فرمائیے:

تمام بنی آدم کے سردار

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:

اَنَا سَیِّدُ وَلَدِ اٰدَمَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا فَخْرَ وَ بِیَدِیۡ لِوَاۤءُ الْحَمْدِ وَ لَا فَخْرَ وَ مَا مِنْ نَّبِیٍّ یَّوْمَئِذٍ اٰدَمُ فَمَنْ سِوٰہُ اِلَّا تَحْتَ لِوَاۤئِیۡ

میں روزِ قیامت تمام آدمیوں کا سردار ہوں، اور اس پر کوئی فخر نہیں ہے، میرے ہاتھ میں لوائے حمد کا پرچم ہو گا، اور اس پر کوئی فخر نہیں ہے۔ قیامت کے دن (حضرت) آدم اور ان کے سوا جتنے ہیں سب میرے پرچم تلے ہوں گے۔

 ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبی، 5 / 325، حدیث: 3635

No comments:

Post a Comment