Monday, August 10, 2026

غزوۂ خیبر سے غزوۂ موتہ تک: فتوحات، عمرۃُ القضاء اور عظیم اسلامی معرکے

غزوۂ خیبر اور اس کے اسباب

محرم الحرام کے مہینے میں غزوۂ خیبر کا معرکہ ہوا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ سات ہجری کا واقعہ ہے۔ ”خیبر“ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ یہاں کے یہودی بڑے دولت مند، مالدار اور جنگوں کے ماہر تھے۔ انہوں نے یہاں بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے، جن میں سے آٹھ قلعے بڑے مشہور ہیں۔ ان آٹھ قلعوں کے مجموعے کو ”خیبر“ کہا جاتا ہے۔

شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ خیبر، 3 / 243 ملخصاً

جنگِ خندق میں جن کافروں نے مدینہ شریف پر حملہ کیا تھا ان میں خیبر کے یہودی سب سے آگے تھے۔ یہی اس جنگ کو بھڑکانے والے اور اس جنگ کی بنیاد رکھنےوالے تھے۔ انہوں نے ہی مکہ کے کافروں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کرنے پر ابھارا تھا اور ان کی مالی امداد کی تھی۔ غزوۂ خندق میں ہونے والی رسوائی نے انہیں مزید غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے دوسرے قبائل کو ساتھ ملا کر پھر سے مدینہ شریف پر حملہ کی سازشیں شروع کر دیں۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جب ان کی سازشوں کا علم ہوا تو سولہ سو صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے لشکر کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے۔

1.      سیرتِ مصطفےٰ، ص 381 ملخصاً

2.      خیبر (Khaybar) مدینہ شریف سے شمال کی جانب تبوک (Tabuk) جانے والے راستے پر واقع ہے، مدینہ شریف سے اس کا فاصلہ تقریباً 153 کلومیٹر ہے۔ یہاں کی زمین زرخیز اور علاقہ عمدہ کھجوروں کی پیداوار کیلئے مشہور تھا۔ یہاں اتنی کثرت سے باغات تھے کہ شہر نظر نہیں آتا تھا۔ اب نیا شہر قدیم علاقے سے ہٹ کر واقع ہے۔

رات کے وقت آپ خیبر کی حدود میں داخل ہوئے، آپ کی عادتِ مبارک تھی کہ رات کے وقت کسی قوم پر حملہ نہیں فرماتے تھے، نمازِ فجر کے بعد شہر میں داخل ہوئے۔ یہودیوں نے قلعوں میں رہ کر جنگ لڑنے کا منصوبہ بنایا۔ آہستہ آہستہ تمام قلعے فتح ہو گئے۔ خیبر کا سب سے بڑا اور مضبوط قلعہ ”قموص“ تھا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فتح فرمایا۔ خیبر میں ہونے والے معرکوں میں 93 یہودی قتل ہوئے جبکہ 15 صحابۂ کرام علیہم الرضوان شہید ہوئے۔ فتح کے بعد یہودیوں نے درخواست کی کہ انہیں خیبر سے نہ نکالا جائے اور زمین بھی ان کے قبضے میں رہنے دی جائے، یہاں کی پیداوار کا آدھا حصہ ان سے لے لیا جائے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کی درخواست منظور فرمائی۔ جب غلہ تیار ہو گیا تو آپ نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو اس کی تقسیم کیلئے بھیجا۔ انہوں نے غلے کو دو حصوں میں برابر برابر تقسیم کیا اور یہود سے کہا جو حصہ چاہو لے لو۔ اس تقسیم پر وہ حیران ہو کر کہنے لگے: زمین و آسمان اسی عدل کی وجہ سے قائم ہیں۔ خیبر کی فتح کے ساتھ دیگر کئی علاقے بھی فتح ہوئے، بعض مقامات پر جنگ ہوئی اور بعض علاقے بغیر جنگوں کے فتح ہوئے۔

1.      شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ خیبر، 3 / 352-353 ملخصاً

2.      فتوح البلدان، ص 33-35 ملخصاً

3.      شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ خیبر، 3 / 303 ملخصاً

عُمرۃُ القَضاء کی ادائیگی

حدیبیہ کے مقام پر جو صلح ہوئی تھی اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اگلے سال آکر عمرہ کریں گے اور تین دن تک مکہ شریف میں ٹھہریں گے۔ ایک سال مکمل ہونے پر ماہِ ذوالقعدہ سن 7 ہجری میں اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اعلان کر دیا کہ جو لوگ پچھلے سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب چلیں۔ شہید ہونے والوں کے سوا باقی تمام صحابہ نے یہ سعادت حاصل کی۔ آپ 2 ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ شریف روانہ ہوئے۔ 60 اونٹ بھی قربانی کیلئے ساتھ تھے۔ جب اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حرمِ مکہ میں داخل ہوئے تو بعض کفار قریب کے پہاڑوں پر چڑھے یہ منظر دیکھ رہے تھے، آپس میں کہنے لگے: یہ بھلا کیسے طواف کریں گے ان کو تو بھوک اور بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ آپ نے حرمِ مکی میں پہنچ کر چادر کو اس طرح اوڑھ لیا کہ آپ کا داہنا کندھا اور بازو کھل گیا۔ اور آپ نے فرمایا: خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرے۔ پھر آپ نے صحابۂ کرام کے ساتھ شروع کے تین پھیروں میں کندھوں کو ہلا ہلا کر اور خوب اکڑتے ہوئے چل کر طواف کیا۔ یہ سنت آج بھی باقی ہے، ہر طواف کرنے والا شروع کے تین پھیروں میں اس پر عمل کرتا ہے۔

1.      شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ خیبر، 3 / 314 ملخصاً

2.      اس کو اضطباع کہتے ہیں۔

3.      اس کو عربی زبان میں ”رَمل“ کہتے ہیں۔

پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صفا و مروہ کی سعی فرمائی اور قربانی کے جانور ذبح فرمائے۔ تین دن تک آپ مکہ شریف میں تشریف فرما رہے، اس کے بعد واپس مدینہ شریف تشریف لے گئے۔ چونکہ یہ عمرہ ایک سال پہلے والے عمرہ کہ وجہ سے تھا اس لیے اسے عمرۃ القضاء کہتے ہیں۔

شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ خیبر، 3 / 315-324 ملخصاً

غزوۂ موتہ کے اسباب

مُؤْتَہ“ ملکِ شام میں ایک مقام ہے۔ اس جنگ کا سبب یہ ہوا کہ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ”بُصریٰ“ کے بادشاہ قیصر کے نام خط لکھ کر حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ روانہ فرمایا۔ راستے میں شر حبیل بن عمرو نے قاصد کو شہید کر دیا۔ جب آپ تک یہ اطلاع پہنچی تو آپ کو سخت صدمہ ہوا۔ اس وقت آپ نے تین ہزار مسلمانوں کا لشکر تیار فرمایا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے سفید رنگ کا جھنڈا باندھ کر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا اور انہیں اس فوج کا سپہ سالار بنایا۔ ساتھ ارشاد فرمایا: اگر یہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابو طالب امیر ہوں گے۔ اگر وہ شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔

1.      بُصریٰ یہ شام کا ایک علاقہ ہے جہاں اس وقت شر حبیل بن عمرو گورنر تھا، یہ ملکِ روم کے بادشاہ قیصر کا باج گزار تھا۔ یاد رہے کہ بُصریٰ اور بَصرہ دو مختلف شہروں کے نام ہیں۔ بصرہ شہر حضرت عمر نے اپنے دورِ حکومت میں فوجی چھاؤنی کے طور آباد کروایا تھا۔

2.      شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ موتہ، 3 / 339-342

غزوۂ موتہ

حضرت زید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جب یہ لشکر روانہ ہوا تو انہیں خبر ملی کہ خود قیصرِ روم ایک لاکھ فوج لے کر موجود ہے۔ اس کے ساتھ مزید ایک لاکھ عیسائی عرب بھی شریک ہو رہے ہیں۔ حضرت زید نے اس پر مشاورت کی کہ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خط لکھ کر مزید فوج کی درخواست کریں یا جنگ میں کود پڑیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارا مقصد فتح یا مالِ غنیمت نہیں ہے۔ بلکہ ہمارا تو مقصد ہی شہادت ہے۔ یہ باتیں سن کر لوگ کہنے لگے: عبداللہ نے سچ کہا، پھر انہوں نے آگے بڑھ کر "مؤتہ" کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، لشکر کو ترتیب دیا گیا اور تمام لشکر لڑائی کیلئے تیار ہو گیا۔

انسانی تاریخ کا عجیب معرکہ یہاں پیش آیا کہ تین ہزار جانبازوں کے مقابلے میں دو لاکھ کا لشکر تھا۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیش گوئی کے مطابق حضرت زید شہید ہوئے تو حضرت جعفر نے پرچمِ اسلام کو اٹھا لیا، یہ شہید ہوئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے پرچم سنبھال لیا۔ آقا علیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مدینہ شریف میں ہی یہ تمام واقعات دیکھ رہے تھے اور بیان فرما رہے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولید نے جھنڈا لیا اور اس قدر بہادری سے لڑے کہ ان کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں۔ انہوں نے کمالِ جنگی مہارت سے اسلامی فوج کو دشمنوں کے محاصرے سے نکالا اور مدینہ واپس لے آئے۔ یہ مسلمانوں کی فتح ہی تھی کہ ایک لاکھ کے لشکر کے مقابلے میں صرف 12 صحابۂ کرام علیہم الرضوان شہید ہوئے، باقی سب صحیح و سالم واپس آ گئے۔ جبکہ دشمن کا نقصان اس سے کہیں زیادہ تھا۔

1.      شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ موتہ، 3 / 344-347 ملخصاً

2.      بعض روایات کے مطابق کافروں کے لشکر کی تعداد دو لاکھ تھی۔ یہ جنگ سات دن تک جاری رہی اور دشمن کی ہلاکتوں کی تعداد بیس ہزار تک بیان کی گئی ہے۔ جبکہ صحابہ کرام میں سے صرف بارہ افراد شہید ہوئے۔

3.      شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ موتہ، 3 / 348-349 ملخصاً

No comments:

Post a Comment