Monday, August 10, 2026

سفرِ شام، نکاحِ خدیجہؓ اور تعمیرِ کعبہ: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے درخشاں ابواب

دوسرا سفر شام

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابتدائی ہی بہترین کردار کے مالک تھے۔ جب آپ کی عمر مبارک 25 سال ہوئی تو آپ کی صداقت اور دیانت کے ہر طرف چرچے ہونے لگے۔ مکہ کی فضاؤں میں آپ کے لقب صادق وامينہر طرف گونجنے لگے۔ شہر مکہ کی ایک معزز اور مالدار خاتون تھیں جن کا نام تھا خدیجہانہیں ایسے امانت دار شخص کی ضرورت تھی جو ان کا مالِ ملکِ شام لے کر جائے اور وہاں فروخت کرکے نفع کما کر لائے۔ آپ کی امانت و صداقت کی شہرت جب حضرت خدیجہ تک پہنچی تو انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرا امال تجارت ملکِ شام لے کر جائیں! جو تنخواہ میں دوسروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا دگنا (Double) دوں گی۔ آپ نے ان کی یہ درخواست قبول فرمالی اور تجارت کا سامان اور مال لے کر ملکِ شام روانہ ہو گئے۔ اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنها کا غلام میسرہبھی آپ کے ساتھ تھا جو آپ کی خدمت اور دیگر ضروریات پوری کرتا تھا۔ ایک بار پھر جب آپ ملکِ شام کے مشہور شہر بصریپہنچے تو وہاں نسطوراراہب کی عبادت گاہ کے قریب قیام فرمایا۔ وہ راہب میسرہ کو پہلے سے جانتا تھا، اسی بنیاد پر وہ اس کے پاس آیا اور آپ کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا: یہ کون ہیں جو اس درخت کے نیچے اترے ہیں؟ میسرہ نے جواب دیا: یہ شہر مکہ کے رہنے والے ہیں، بنو ہاشم سے تعلق ہے، ان کا نام محمدہے اور لقب امینہے۔ راہب کہنے لگا: سوائے نبی کے آج تک اس درخت کے نیچے کوئی نہیں اترا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا ان کی آنکھوں میں سرخی رہتی ہے؟ میسرہ نے جواب دیا: ہاں ہے اور وہ ہر وقت رہتی ہے۔ یہ سن کرنسطورا کہنے لگا: یہی اللہ کے آخری نبی ہیں، مجھے ان میں وہ تمام نشانیاں نظر آ رہی ہیں جو توریت و زبور میں پڑھی ہیں۔ کاش! میں اس وقت زندہ ہوں جب یہ اپنی نبوت کا اعلان فرمائیں گے، اگر میں زندہ رہا تو ان کی بھرپور مدد کروں گا اور ان کی خدمت میں پوری زندگی گزار دوں۔ اے میسرہ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی ان سے جدامت نہ ہونا، ان کی خدمت کرتے رہنا؛ کیونکہ اللہ پاک نے انہیں نبوت کا شرف عطا فرمایا ہے۔

آپ سامان تجارت بیچ کر جلد واپس تشریف لے آئے۔ جب آپ کا قافلہ مکہ واپس پہنچا تو اس وقت حضرت بی بی خدیجہ مکان کی چھت پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا کہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دو فرشتے دھوپ سے سایہ کئے ہوئے ہیں، اس منظر نے حضرت خدیجہ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ کچھ دن کے بعد انہوں نے اپنے غلام میسرہ سے اس بات کا ذکر کیا تو میسرہ نے بتایا کہ میں تو پورے سفر میں اسی طرح کے مناظر دیکھتا ہوں، پھر میسرہ نے اس طویل سفر میں آپ کی صداقت و دیانت، حُسنِ سلوک و غمخواری، معاملات کو سمجھنے اور کاروباری مہارت کے جو روح پرور مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے وہ بیان کئے، نسطورا راہب جس طرح آپ پر فدا ہوگیا تھا اور آپ کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کی تھیں یہ بتایا، یہ سن کر حضرت خدیجہ کے دل میں آپ کیلئے عقیدت و محبت پیدا ہوگئی۔

حضرت خدیجہ سے نکاح

حضرت خدیجہ مکہ کی مالدار اور بہت محترم و معزز خاتون تھیں۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو اسد بن عبد العزی سے تھا، ان کا سلسلہ نسب تین واسطوں سےرَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتا ہے۔  (1)اہل مکہ انہیں ان کی پاکدامنی کی وجہ سے طاہرہ یعنی پاکباز کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ ان کی عمر اس وقت 40 سال ہو چکی تھی۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے دونوں شوہر انتقال کر گئے تھے۔ بڑے امیر اور کبیر افراد نے ان کو شادی کے پیغامات بھیجے لیکن انہوں نے تمام پیغامات کو واپس کر دیا اور یہ طے کر لیا تھا کہ اب نکاح نہیں کریں گی۔ لیکن آپ کے اخلاق، عادات، برکات اور حیرت انگیز واقعات سن کر ان کا دل آپ کی نکاح کی طرف مائل ہوا۔ انہوں نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ کو بلایا۔ حضرت صفیہ، بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عوام بن خویلد کی بیوی تھیں۔ انہیں بلا کر ان سے آپ کے کچھ ذاتی حالات کے بارے میں معلومات لیں۔ پھر شام کے سفر سے واپسی کے تقریباً تین ماہ بعد انہوں نے آپ کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس رشتہ کو پسند کرنے کی وجہ خود حضرت خدیجہ یوں بیان فرماتی ہیں: میں نے آپ کے اچھے اخلاق اور آپ کی سچائی کی وجہ سے آپ کو پسند کیا۔ آپ نے اس درخواست کو اپنے خاندان کے بڑوں اور اپنے چچاؤں کے سامنے رکھا۔ انہوں نے یہ رشتہ منظور کر لیا۔ آپ کا نکاح ہوا جس میں آپ کے چچا ابو طالب نے خطبہ پڑھایا اور اپنے مال سے بیس اونٹ حق مہر مقرر کیا۔  (2)حضرت خدیجہ تقریباً 25 سال تک حضور علیہ السلام کی خدمت میں رہیں۔ ان کی زندگی میں آپ نے دوسرا نکاح نہ فرمایا۔ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا باقی ساری اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنها سے ہوئی۔ حضرت خدیجہ نے اپنی ساری دولت آپ کے قدموں میں نثار کر دی اور ساری عمر آپ کی خدمت کرتے گزاری۔

 (1) فیضان خدیجۃ الکبریٰ، ص 35-38

(2) شرح الزرقانی علی المواہب، تزویج من خدیجہ، 1/ 370-376 مختصراً

تعمیر کعبہ میں کردار

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک جب 35 برس ہوئی تو زبردست بارش سے حرم کعبہ میں سیلابی پانی آگیا۔ اس سے کعبہ شریف کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور اس کا کچھ حصہ بھی گر گیا۔ قریش نے طے کیا کہ مکمل عمارت کو توڑ کر پھر سے کعبہ کی ایک مضبوط عمارت بنائی جائے جس کا دروازہ بھی بلند ہو اور اس کی چھت بھی ہو۔  (1)چنانچہ قریش نے مل جل کر اس کام کو شروع کر دیا۔ اس تعمیر میں آپ بھی شریک ہوئے اور پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے رہے۔ مختلف قبیلوں نے کعبہ شریف کی عمارت کے مختلف حصے آپس میں تقسیم کر لیے۔ لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مرحلہ آیا تو فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا، قبیلوں کا آپس میں سخت اختلاف ہو گیاْ

 (1) السیرۃ الحلبیۃ، باب بنیان قریش الکعبۃ... الخ، 1/ 204، مختصراً


حجر اسود ایک پتھر ہے جو حضرت آدم علیہ السّلام کے ساتھ جنت سے اتارا گیا۔ اس پتھر کو چومنا، چومنا گناہوں کو مٹاتا ہے۔ اہل عرب میں یہ پتھر بہت محترم سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی یہ پتھر کعبے کی دیوار میں نصب ہے۔

ہر قبیلے کی خواہش تھی کہ حجر اسود کو نصب کرنے کا اعزاز اسے حاصل ہو، اگر کوئی قبیلہ اس میں رکاوٹ بنے تو تلوار کے زور سے اس کا راستہ روکا جائے۔ چار دن اسی بات میں گزر گئے کہ حجر اسود کون نصب کرے گا۔ ایک بوڑھے شخص نے اس جھگڑے کو نکالنے کیلئے تجویز پیش کی کہ کل جو شخص صبح سویرے سب سے پہلے حرم مکہ میں داخل ہو اس سے ہم اپنا فیصلہ کروائیں گے۔ وہ جو فیصلہ دے سب قبائل اسے تسلیم کریں گے۔ اس بات پر تمام قبائل کا اتفاق ہو گیا۔ خدا کی شان کہ صبح کو جو شخص سب سے پہلے حرم مکہ میں داخل ہوا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تھے۔ آپ کو دیکھتے ہی ان کی مسرت کی انتہا رہی، سب کہنے لگے: یہ امین ہیں، یہ جو بھی فیصلہ فرمائیں گے ہم تسلیم کریں گے۔ آپ نے اس جھگڑے کو کمال دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس طرح ختم کیا کہ فرمایا: جو قبیلے حجر اسود رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں وہ اپنا ایک ایک سردار چن لیں۔ انہوں نے اپنے اپنے سردار چن لیے۔ پھر آپ نے اپنی چادر مبارک کو بچھا کر حجر اسود کو اس پر رکھا اور سرداروں سے فرمایا کہ وہ سب مل کر اس چادر کو تھام کر حجر اسود کو اٹھائیں۔ سب نے ایسے ہی کیا اور جب حجر اسود اپنے مقام تک پہنچ گیا تو آپ نے برکت والے ہاتھوں سے اس مقدس پتھر کو اٹھا کر اس کی جگہ رکھ دیا۔ اس طرح آپ کی حکمت اور دانشمندی سے فتنہ و فساد کے شعلے بھی بجھ گئے اور سب کے دلوں میں مسرت و شادمانی کی لہر بھی دوڑ گئی۔(1)

 (1) السیرۃ النبوية لابن ہشام، حدیث بنیان الکعبۃ... الخ، 2/ 13 مختصراً

No comments:

Post a Comment