مسجدِ
نبوی کی تعمیر
مدینہ شریف میں کوئی ایسی جگہ نہیں
تھی جہاں مسلمان باجماعت نماز پڑھ سکیں اس لیے مسجد کی تعمیر وہاں بہت ضروری تھی۔
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قیام گاہ کے قریب ہی ”بنو
نجار“ کا ایک باغ تھا۔ اس کی زمین اصل میں دو یتیموں کی تھی آپ نے ان دونوں یتیم
بچوں کو بلایا، انہوں نے زمین مسجد کے لئے نذر کرنی چاہی مگر اللہ کے آخری نبی
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے پسند نہیں فرمایا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی
اللہ عنہ کے مال سے آپ نے اس کی قیمت ادا فرمائی۔ زمین ہموار کر کے خود آپ نے اپنے
دستِ مبارک سے مسجد کی بنیاد ڈالی اور کچی اینٹوں کی دیوار اور کھجور کے ستونوں پر
کھجور کی پتیوں سے چھت بنائی جو بارش میں ٹپکتی تھی اس مسجد کی تعمیر میں صحابۂ
کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خود رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی
اینٹیں اٹھا اٹھا کر لاتے تھے۔❶ یہیں پر اذان کی ابتدا ہوئی۔ شروع میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ
عنہ مسلمانوں کو نماز کیلئے بلایا کرتے تھے پھر حضرت عبد اللہ بن زید انصاری اور
دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے خواب میں اذان کے الفاظ سنے۔ آپ کے حکم سے حضرت عبد
اللہ بن زید نے وہ الفاظ حضرت بلال کو سکھائے اور وہ اذان دینے لگے۔❷ اسی دن سے شرعی اذان کا طریقہ شروع ہوا
جو آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔
❶ بخاری،
کتاب الصلاۃ، باب ہل تنبش قبور مشرکی الجاھلیۃ۔۔۔ الخ، 1 / 165 حدیث: 428 والمواہب
اللدنیۃ، ہجرۃ، 1 / 156 تا 161 ملتقطاً و ملخصاً
❷ مواہب اللدنیہ والزرقانی، باب بدء الاذان، 2 /
163
انصار
و مہاجر بھائی بھائی
اس وقت تک مدینہ شریف میں مہاجرین کی
تعداد 45 یا 50 تھی۔ حال ان کا یہ تھا کہ بے سرو سامانی تھی، اہل و عیال، مال
اسباب سب مکہ میں رہ گئے تھے، انصار نے اگرچہ ان کی بڑی مہمان نوازی کی تھی لیکن
مہاجرین دیر تک دوسروں کے سہارے زندگی گزارنا پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے اللہ کے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا یہ حل نکالا کہ مہاجرین و انصار
کے درمیان رشتۂ اخوت قائم کر کے انہیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیا جائے تاکہ یہ
آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ چنانچہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کے بعد ایک دن
حضور علیہ السلام نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین
صحابہ کو جمع فرمایا۔ آپ نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہاجرین تمہارے
بھائی ہیں۔ پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو لوگوں کو بلا کر فرماتے گئے کہ یہ
اور تم بھائی بھائی ہو۔ آپ کے ارشاد فرماتے ہی یہ رشتۂ اخوت بالکل حقیقی بھائی
جیسا رشتہ بن گیا۔ چنانچہ انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کو ساتھ لے جا کر اپنے گھر
کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں اس لئے
ہمارے گھروں کا سامان بھی آدھا آپ کا ہو اور آدھا ہمارا۔❶
❶بخاری، کتاب
مناقب الانصار، باب اخاء النبی۔۔۔ الخ، 2 / 555 حدیث: 3781 ملخصاً
قبلہ
کی تبدیلی
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم جب تک مکہ میں رہے کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ ہجرت
کے بعد آپ مدینہ شریف میں حکمِ الٰہی سے سب نمازوں میں ”بیت المقدس“ کو قبلہ بناتے۔ اسی طرح 16 یا 17
مہینے گزر گئے۔ آپ کے دل میں یہی تمنا تھی کہ کعبہ ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ چنانچہ
ایک دن اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قبیلۂ بنی سلمہ کی مسجد
میں نمازِ ظہر پڑھ رہے تھے کہ حالتِ نماز ہی میں یہ وحی نازل ہوئی:
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي
السَّمَاۤءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا ۖ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ
الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ (
ہم
دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے
اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجدِ حرام کی طرف۔
پ2، البقرۃ: 144
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے نماز ہی میں اپنا چہرہ بیت المقدس سے پھیر کر خانہ کعبہ کی طرف کر لیا
اور تمام مقتدیوں نے بھی آپ کی پیروی کی۔ اس مسجد کو جہاں یہ واقعہ پیش آیا ”مسجدِ
قبلتین“ کہتے ہیں اور آج بھی یہ مسجد اور اس کے دونوں محراب موجود ہیں۔ یہ مسجد
شہرِ مدینہ سے تقریباً دو کلومیٹر دور شمال مغرب کی طرف واقع ہے۔ اس واقعے کو
”تحویلِ قبلہ“ کہتے ہیں۔ تحویلِ قبلہ سے یہودیوں اور منافقین کے گروہ کو بہت تکلیف
ہوئی۔❶
کافروں
کی سازشیں اور مسلمانوں کے اقدامات
مسلمان جب ہجرت کر کے مدینہ آ گئے اب
چاہیے تو یہ تھا کہ مکہ کے کفار اب اطمینان سے بیٹھے رہتے مگر ان کا غصہ مزید بڑھ
گیا۔ اب یہ لوگ اہل مدینہ کے بھی دشمن ہو گئے۔ انصار کے رئیس عبد اللہ بن ابی کے
پاس انہوں نے خط لکھا کہ تم مسلمانوں کو مدینہ سے نکال دو، یا تم ان کو قتل کر دو
ورنہ ہم تم پر حملہ کر کے تمہیں اپنی تلواروں کا مزہ چکھائیں گے۔❷ اسی طرح قبیلۂ اوس کے سردار جب عمرہ
کرنے مکہ گئے تو انہیں بھی مکہ کے کافروں نے دھمکیاں دیں۔ کافروں نے صرف دھمکیوں
پر بس نہیں کیا بلکہ مدینہ شریف پر حملے کی باقاعدہ تیاریاں شروع کر دیں۔ انہوں نے
تمام قبائل میں یہ بات پہنچادی کہ ہم مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو ختم کر دیں
گے۔ ان حالات کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنی حفاظت کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہو
گیا تھا—
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اب
تک حکمِ الٰہی کے مطابق صرف دلائل اور نصیحت سے دوسروں کو دین کی دعوت دیتے رہے
اور کافروں سے ملنے والی تکلیفوں پر صبر کا مظاہرہ فرماتےے۔ لیکن ہجرت کے بعد جب
سارا عرب اور یہودی مسلمانوں کے دشمن ہو گئے اور انہیں مٹانے کیلئے طرح طرح سازشیں
کرنی شروع کر دیں تو اللہ کریم نے مسلمانوں کو یہ اجازت دی کہ جو لوگ جنگ کی ابتدا
کریں تم بھی ان سے جنگ کر سکتے ہو۔
❶مدارج النبوت،
قسم دوم، باب دوم، 2 / 73 ملخصاً
❷ سنن ابی داود، کتاب الخراج والافئی۔۔۔ الخ، باب فی خبر النضیر، 3 / 212
حدیث: 3004
ان حالات میں آقا کریم علیہ السلام نے
دو باتوں کی طرف توجہ فرمائی:
1.
اہل مکہ کے جو تجارتی قافلے شام جاتے
تھے انہیں روکا جائے اور یہ راستہ بند کیا جائے تاکہ وہ لوگ صلح پر راضی ہوں۔
2.
اطراف کے جتنے بھی قبائل ہیں ان سے
صلح کے معاہدے کئے جائیں تاکہ کفارِ مدینہ شریف پر حملہ کی جرات نہ کر سکیں۔
اسی وجہ سے آپ خود بھی اطراف کے قبائل
کی طرف تشریف لے جاتے اور چھوٹے چھوٹے لشکر بھی بھیجتے جو کفارِ مکہ کی نقل و حرکت
پر نظر بھی رکھتے اور قبائل سے امن و امان کے معاہدے بھی کرتے۔ اسی سلسلے میں
کفارِ مکہ اور ان کے اتحادیوں سے مسلمانوں کا ٹکراؤ شروع ہوا اور چھوٹی بڑی
لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہی لڑائیوں کو تاریخِ اسلام میں ”غزوات و سرایا“ کا
نام دیا جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment