Monday, August 10, 2026

غزوۂ تبوک، حجِ صدیقی اور سالِ وفود کے ایمان افروز واقعات

sغزوۂ تبوک

ہجرت کے نویں سال ماہِ رجب میں غزوۂ تبوک کا معرکہ پیش آیا۔ مدینہ اور شام کے درمیان ایک جگہ ہے جس کا نام "تبوک" ہے۔ اسے جیش العسرۃ (تنگ دستی کا لشکر) بھی کہا جاتا ہے۔

شرح الزرقانی علی المواہب، غزوہ تبوک، 4 / 65 ملخصاً

اس کا سبب یہ بنا کہ مدینہ میں خبر پہنچی کہ رومیوں اور عرب عیسائیوں نے مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے ایک بڑی فوج تیار کر لی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فوج کی تیاری کا حکم فرمایا۔ اس وقت پورے حجاز میں شدید قحط تھا، سخت گرمی تھی اور گھر سے نکلنا مشکل تھا۔

یہ وہی غزوہ ہے جس میں حضرت ابو بکر نے گھر کا پورا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے گھر کا آدھا سامان لشکر کی تیاری کیلئے پیش کیا۔ جبکہ حضرت عثمانِ غنی اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما نے خصوصی تعاون فرمایا۔ آپ تیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک روانہ ہوئے۔ تبوک پہنچ کر لشکر کو پڑاؤ کا حکم دیا، دور تک رومی لشکر کا کوئی پتا نہیں تھا۔ پھر معلوم ہوا کہ جاسوسوں نے قیصر کو جب لشکرِ اسلام کی شان و شوکت اور تعداد کا بتایا تو ہیبت اور رعب کی وجہ سے وہ لوگ جنگ سے ہمت ہار گئے اور اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیس دن تک تبوک میں قیام فرما کر مدینہ واپس تشریف لائے۔ تبوک اور قریب کے کچھ علاقے اسلامی سلطنت میں داخل ہو گئے۔

1.      ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی بکر وعمر کلیہما، 5 / 380، حدیث: 3695

2.      مدارج النبوت، 2 / 349 ملخصاً

صدیقِ اکبر بطورِ امیرِ حج

غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہجرت کے نویں (9th) سال ذوالقعدہ کے مہینے میں تین سو مسلمانوں کا ایک قافلہ حج کیلئے مکہ مکرمہ روانہ فرمایا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو نقیبِ اسلام اور حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کو معلّم مقرر فرمایا۔ آپ نے اپنی طرف سے قربانی کیلئے 20 اونٹ بھی بھیجے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حرم کعبہ اور عرفات و منیٰ میں خطبہ پڑھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور "سورۂ براءت" کی چالیس آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اعلان کر دیا کہ اب کوئی مشرک خانہ کعبہ میں داخل نہ ہو سکے گا اور نہ کوئی ننگا ہو کر طواف کر سکے گا۔ چار مہینے کے بعد کفار و مشرکین کے لئے امان ختم کر دی جائے گی۔ حضرت ابو ہریرہ اور دوسرے صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے اس قدر زور زور سے اعلان کیا کہ ان کا گلا بیٹھ گیا۔ ان اعلانات کے بعد لوگ فوج در فوج آکر مسلمان ہونے لگے۔

شرح الزرقانی علی المواہب، حج الصدیق بالناس، 4 / 115-116 ملخصاً و بخاری، کتاب المغازی، باب حج ابی بکر بالناس فی سنة تسع، 3 / 128، حدیث: 4363

وفود کی آمد

 9 جری کو وفود کا سال بھی کہا جاتا ہے۔ "وفود" عربی میں "وفد" کی جمع ہے۔ وفد ایک سے زائد افراد کے گروہ کو کہتے ہیں۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تبلیغِ اسلام کیلئے ہر طرف مبلغین کو بھیجا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض تو مبلغین کے سامنے دعوتِ اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جاتے جبکہ بعض قبائل اس بات کے خواہش مند ہوتے کہ براہِ راست بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر جمالِ نبوت کی زیارت کریں اور اپنے اسلام کا اظہار کریں۔ اسی لیے کچھ لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندے بن کر مدینہ شریف آتے اور خود بانیِ اسلام، اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان سے دعوتِ اسلام کا پیغام سن کر اپنے اسلام کا اعلان کرتے اور پھر واپس اپنے اپنے قبیلوں میں جا کر انہیں بھی مسلمان کرتے۔ اس طرح کے وفود مختلف زمانوں میں مدینہ شریف آتے رہے مگر فتحِ مکہ کے بعد تو گویا سارے عرب میں اسلام کا ڈنکا بج اٹھا۔

کثرت سے وفود آنے کی وجہ

بہت سے قبائل پہلے ہی اسلام کی حقانیت کے قائل ہو چکے تھے مگر قریش کے ڈر اور دباؤ کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔ فتحِ مکہ نے اس رکاوٹ کو دور کر دیا۔ اب اسلام کی تعلیمات اور قرآن کے مقدس پیغام نے ہر ایک کے دل پر سکہ بٹھا دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جو پہلے اسلام کی بات سننا گوارا نہیں کرتے تھے اب پروانوں کی طرح شمعِ رسالت، مصطفےٰ جانِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نثار ہونے لگے۔ سچے نبی کی تعلیمات اور کردار سے متاثر ہو کر یہ لوگ گروہ در گروہ آپ کی خدمت میں دور دراز سے وفود کی صورت میں حاضر ہوتے اور اپنی خوشی سے قبولیتِ اسلام کی سعادت پا کر شرفِ صحابیت کا تاج سر پر سجا کر ہمیشہ کی سعادتیں اپنے مقدر میں لکھواتے۔ فتحِ مکہ کے بعد 9 ہجری میں تو اتنی کثرت سے وفود آئے کہ اس سال کا نام ہی ”سَنَۃُ الْوَفُوْد“ یعنی وفود کے آنے کا سال پڑ گیا۔ ایک قول کے مطابق اس سال تقریباً 60 وفود حضور علیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ قبائل سے آنے والے وفود کے استقبال اور ان سے ملاقات کیلئے خاص اہتمام فرماتے۔ ہر وفد کے آنے پر آپ نہایت عمدہ کپڑے زیبِ تن فرما کر تشریف لاتے، ان سے ملاقات کیلئے مسجدِ نبوی میں ایک ستون سے ٹیک لگا کر نشست فرماتے، پھر ہر ایک وفد سے خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ضروری عقائد و احکامِ اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے۔ ان مہمانوں کو اچھے سے اچھے مکانوں میں ٹھہراتے، ان کی مہمان نوازی کا خاص خیال فرماتے اور ہر وفد کو تحائف بھی عطا فرماتے۔

 

مدارج النبوت، 2 / 358-359 ملتقطاً و ملخصاً

وفدِ کندہ

ان وفود میں سے ایک وفدِ کندہ تھا۔ یہ لوگ یمن کے اطراف میں رہتے تھے، اس قبیلے کے 70 یا 80 افراد بہت سج دھج کے مدینہ آئے، بالوں میں کنگھی، ریشم کے جبے پہنے، جسم پر ہتھیار سجائے یہ مدینہ شریف کی آبادی میں داخل ہوئے، جب یہ لوگ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے؟ سب نے عرض کی: ”جی ہاں“۔ آپ نے فرمایا: پھر تم نے ریشمی لباس کیوں پہن رکھا ہے؟ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے ریشمی جبوں کو جسموں سے اتار دیا اور ریشم کے بقیہ ٹکڑے بھی لباسوں سے پھاڑ کر جدا کر ڈالے۔

مدارج النبوت، 2 / 359

وفدِ فزارہ

ان میں سے ایک وفدِ فزارہ تھا۔ یہ بیس افراد کا وفد تھا، یہ حاضرِ خدمت ہوئے اور اپنے اسلام کا اعلان کیا اور بتایا کہ يَا رَسُوْلَ اللہِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ہمارے علاقے میں سخت قحط ہے، اب فقر و فاقہ ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہے، آپ کرم فرمائیں اور بارش کی دعا فرمائیں۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جمعہ کے دن منبر پر دعا فرمادی، فوراً بارش برسنے لگی اور ایک ہفتے تک جاری رہی۔ دوسرے جمعہ کو جب اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو ایک اعرابی نے عرض کیا: يَا رَسُوْلَ اللہِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! بارش کی کثرت کی وجہ سے مویشی ہلاک ہونے لگے، بال بچے بھوک سے بے قرار ہونے لگے اور تمام راستے بند ہو گئے۔ دعا فرمائیں کہ یہ بارش پہاڑوں پر برسے اور کھیتوں پر نہ برسے۔ آپ نے دعا فرمادی تو بادل شہرِ مدینہ سے کٹ گئے۔ یوں آٹھ دن کے بعد مدینہ میں سورج نظر آیا۔

مدارج النبوت، 2 / 359

No comments:

Post a Comment