Monday, August 10, 2026

ظلم و ستم سے عامُ الحزن تک: صبرِ مصطفیٰ ﷺ اور اسلام کی سربلندی کی داستان

اللہ کے رسول محمد: کافروں کا آپ پر ظلم و ستم

اسلام کی علٰی الإعلان تبلیغ شروع ہوتے ہی ظلم و ستم کی جان سوز آندھیاں چل پڑیں۔ کفار مکہ بنو ہاشم کے انتقام اور جنگ کے خطرے کی وجہ سے اللہ کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّمَ کو شہید تو نہ کر سکے لیکن جتنا ہو سکا انہوں نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے. آپ کو کاہن، جادوگر، پاگل، دیوانہ کہتے اور آپ کی شانِ عظمت نشان میں گستاخانہ جملے بکتے، تہبتیاں کَستے، کبھی کوڑا کرکٹ اچھالتے تو کبھی دروازہ رحمت پر جانوروں کا خون ڈالتے، کبھی راستوں میں کانٹے بچھاتے تو کبھی بدنِ انور کو نشانہ بناتے۔

ایک دفعہ جب آپ حرم کعبہ میں سجدہ کر رہے تھے تو اسی حالت میں عقبہ نامی ایک کافر نے مبارک پیٹھ پر بچہ دان (یعنی وہ کھال جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے) رکھ دیا، کافر منظر دیکھ کر ہنسنے لگے اور خوشی سے باؤلے ہو رہے تھے، پھر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور اس بچہ دان کو وہاں سے ہٹایا۔(1)

(1) بخاری، کتاب الصلوة، باب المرأة تطرح عن المصلى... الخ، 1/ 193، حدیث: 520

ایک بار رسولِ رحمت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّمَ حرم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ نامی ایک کافر نے آپ کے گلے میں چادر کا پھندہ ڈال کر اس زور سے کھینچا کہ آپ کا دم گھٹنے لگا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ منظر دیکھ کر آگے بڑھے اور اور اس کافر کو دھکے دے کر ہٹایا۔ بعد میں کافروں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر بھی تشدد کیا۔(2)

 (2) بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ما لقي النبي واصحابه... الخ، 2/ 575 حدیث: 3852

اللہ کے رسول محمد: صحابہ کرام پر کافروں کا ظلم و ستم

اللہ کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ ساتھ کافروں نے صحابہ کرام پر بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے.

ایک دفعہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حرم کعبہ میں خطبہ دینا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر مشرکین اور کفار مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ حضرت صدیق اکبر کو اتنا مارا کہ ان کا چہرہ خون سے بھر گیا۔ ناک کان سب لہو لہان ہو گئے اور ان کا چہرہ پہچان میں نہ آتا تھا۔ حضرت ابو بکر بیہوش ہو گئے اور دیر تک بیہوش رہے۔(1)

 (1) تاریخ ابن عساکر، رقم 3398، عبدالله يقال عتيق... الخ، 30/ 49

حضرت خباب رضی اللہ عنہ اس زمانے میں اسلام لائے جب صرف چند ہی آدمی مسلمان ہوئے تھے۔ قریش نے ان کو بے حد ستایا۔ یہاں تک کہ آگ کے انگارو پر ان کو لٹایا اور ایک شخص ان کے سینے پر پاؤں رکھ کر کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ ان کی پیٹھ سے پگھلنے والی چربی سے وہ کوئلے بجھ گئے۔ زندگی بھر ان کی پیٹھ پر ان کو لوں کے داغ رہے۔ ایک بار حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں وہ داغ دیکھے تو ان کا دل بھر آیا اور روپڑے۔(2)

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے گلے میں رسی باندھ کر بازاروں میں گھسیٹایا جاتا۔ ان کی پیٹھ پر لاٹھیوں کی بارش کی جاتی، دوپہر کے وقت تیز دھوپ میں گرم گرم ریت پر ان کو لٹا کر اتنا بھاری پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیا جاتا تھا کہ ان کی زبان باہر نکل آتی تھی۔

 (2) طبقات ابن سعد، رقم: 43، خباب بن الارت، 3/ 122-123

اس حال میں بھی یہ اَحَدُ اَحَدُ کے نعرے لگاتے تھے۔(1)

: (1) شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، اسلام حمزہ، 1/ 498

ایسا نہیں تھا کہ صرف مردوں کو ہی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا بلکہ وہ خواتین جو اسلام قبول کرتے انہیں بھی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا۔ حضرت عمار بن یاسر کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا وہ خوش بخت خاتون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ بوڑھی تھیں ابو جہل نے انہیں نیزہ مار کر شہید کر دیا تھا۔  (2)اسلام کی پہلی شہید ہونے کا اعزاز انہیں حاصل ہے۔

(2) شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، اسلام حمزہ، 1/ 496

اللہ کے رسول محمد: ہجرت حبشہ

جب کفارِ قریش مسلمانوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آئے بلکہ ان کے مظالم میں اضافہ ہونے لگا تو اللہ کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّمَ نے اپنے جان نثار صحابہ کو اجازت دی کہ وہ ہجرت کر کے حبشہ  (3)چلے جائیں۔(4)  حبشہ کا بادشاہ نجاشی عیسائی دین پر عمل کرتا تھا اور انصاف پسند اور نرم دل تھا۔ چنانچہ اعلانِ نبوت کے پانچویں سال گیارہ مرد اور چار عورتوں کے ایک قافلے نے اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ اسے ہجرتِ اولٰی کہتے ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد مزید کئی صحابہ و صحابیات نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔

(3) موجودہ افریقی ملک ایتھوپیا (Ethiopia) کے کچھ علاقے جنہیں اہل عرب حبشہ سے موسوم کرتے تھے۔ یہاں شاہ حبشہ نجاشی کی حکومت تھی جو بعد میں سعادت اسلام سے مشرف ہوئے، ان کا مزار ایتھوپیا میں ہی ہے

(4) شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، الهجرة الاوالى الى الحبشة، 1/ 502

یہاں تک کہ حبشہ ہجرت کرنے والوں کی تعداد 82 افراد تک پہنچ گئی۔ (1)یہ دیکھ کر قریش نے حبشہ کے بادشاہ کی طرف ایک وفد بھیجا، جس نے بادشاہ سے اصرار کیا کہ وہ ان مسلمانوں کو قریش کے حوالے کر دے مگر کفار کی یہ کوششیں ناکام ہوئیں۔(2)

(1) شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، الهجرة الثانية الى الحبشة... الخ، 2/ 31

(2) شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، الهجرة الاوالى الى الحبشة، 1/ 506

ہجرت حبشہ کے راستے کا نقشہ

حبشہ میں موجود مسجد نجاشی

اللہ کے رسول محمد: شعبِ ابی طالب کا محاصرہ

کفارِ مکہ کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے وحشیانہ ظلم و ستم سے اسلام کی تحریک کو یا تو ختم کر دیں گے یا کمزور کر دیں گے، لیکن ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی، اس صورتحال سے وہ آپے سے باہر ہونے لگے۔

تمام سردارانِ قریش اور مکہ کے دوسرے کفار نے یہ اسکیم بنائی کہ اللہ کے آخری نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ وَسَلَّمَ اور آپ کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے۔ چنانچہ اس تجویز کے مطابق تمام قبائلِ قریش نے یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنو ہاشم کے خاندان والے حضور علیہ السّلام کو ہمارے حوالے نہ کر دیں، کوئی شخص بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے، کوئی شخص ان لوگوں کے ہاتھ کسی قسم کی خرید و فروخت نہ کرے، کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام کلام اور ملاقات نہ کرے، کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے دے۔ منصور بن عکرمہ نے اس معاہدہ کو لکھا اور تمام سردارانِ قریش نے اس پر دستخط کر کے اس دستاویز کو کعبہ کے اندر لٹکا دیاـ ابو لہب کے سوا تمام بنو ہاشم ابو طالب کی وہ گھاٹی جس کو شعب ابی طالب کہتے ہیں اس میں محصور ہو گئے۔ ان میں غیر مسلم بھی شامل تھے جو صرف اپنے خاندانی تعلق کی وجہ سے آپ کے ساتھ شریک ہوئے۔  (1)تین سال تک تمام بنو ہاشم اس گھاٹی میں رہے۔ یہ تین سال کا زمانہ اس قدر سخت تھا کہ بنو ہاشم درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے پکا پکا کر کھاتے تھے۔ بھوک سے بلکتے ہوئے ننھے بچے اس قدر زور زور سے روتے کہ ان کی آوازیں دور دور تک سنائی دیتیں۔

 (1) شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، دخول الشعب وخبر الصحيفة، 2/ 12 تا 14

مگر ان سخت دل کافروں نے ہر طرف سے گھاٹی پر پہرہ بٹھایا ہوا تھا کہ کھانے پینے کی کوئی شئے اندر نہ پہنچے۔ تین سال اسی حالت میں گزر گئے تو اللہ کریم نے اپنے حبیب علیہ السلام کو خبر دی کہ اس معاہدے کو دیمک اس طرح چاٹ گئی ہے کہ خدا کے نام کے سوا اس میں کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ نے یہ خبر ابو طالب کو دی اس نے کفارِ قریش کو جا کر کہا: اے گروہِ قریش! میرے بھتیجے نے مجھ کو اس طرح خبر دی ہے۔ تم اپنا معاہدہ لاؤ! اگر یہ خبر صحیح نکلی تو تم اس ظلم و سختی سے باز آؤ اور اگر غلط نکلی تو میں اپنے بھتیجے کو تمہارے حوالے کر دوں گا۔ وہ اس پر راضی ہو گئے اور جب جا کر دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے کہ جیسا آپ نے ارشاد فرمایا تھا بحرف بحرف اسی طرح معاملہ تھا۔

 سیرتِ مصطفٰے، ص 139

 شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، الهجرة الثانیة۔۔۔ الخ، 2 / 37 ملخصاً

عام الحزن یعنی غم کا سال اعلانِ نبوت کے دسویں سال جبکہ شعبِ ابی طالب کے محاصرے کو ختم ہوئے ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ ابو طالب کی وفات سے آپ کو بہت صدمہ ہوا۔ ابو طالب کی وفات کو ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کی زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی دنیا سے پردہ فرما گئیں۔ مکہ میں یہ دو ہستیاں ایسی تھیں جو آپ علیہ السلام کے بہت قریب تھیں۔ قدم قدم پر انہوں نے آپ کی حمایت و مدد کی۔ جب آپ نے کفر و شرک کے تاریک اندھیروں میں توحید کی شمع روشن کی تو کفار نے جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا یہ دونوں ہستیاں ہی اس مشکل وقت میں آپ کا سہارا بنیں۔

  شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، وفاۃ خدیجة وابى طالب، 2 / 38

ان کی وفات کے حادثے ایک ہی سال میں بڑی قلیل مدت میں واقع ہوئے اور آپ کو اس سے بہت رنج و غم ہوا، اس لیے آپ نے اس سال کو غم کا سال یعنی ”عام الحزن“ قرار دیا۔

 شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الاول، وفاۃ خدیجة وابى طالب، 2 / 48 تا 49

No comments:

Post a Comment