Monday, August 10, 2026

صلحِ حدیبیہ سے عالمی دعوتِ اسلام تک: بیعتِ رضوان، فتحِ مبین اور سلاطینِ عالم کو دعوت

عمرہ کا ارادہ اور عجیب معجزہ

ہجرت کے چھٹے (6th) سال ذوالقعدہ کے مہینے میں اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 1400 صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ آپ کو اندیشہ تھا کہ کفارِ مکہ ہمیں عمرہ ادا کرنے سے روکیں گے اس لیے آپ نے پہلے ہی قبیلۂ خزاعہ کے ایک شخص کو مکہ بھیج دیا تھا تاکہ وہ کفارِ مکہ کے ارادوں کی خبر لائے۔ جب آپ کا قافلہ مقامِ ”عسفان“ کے قریب پہنچا تو وہ شخص یہ خبر لے کر آیا کہ کفارِ مکہ نے تمام قبائلِ عرب کے کافروں کو جمع کر کے یہ کہہ دیا ہے کہ مسلمانوں کو ہرگز ہرگز مکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ کفارِ قریش نے اپنے ساتھ ملے ہوئے تمام قبائل کو جمع کر کے ایک فوج تیار کر لی اور مسلمانوں کا راستہ روکنے کے لئے مکہ سے باہر نکل کر ایک مقام پر پڑاؤ ڈال دیا۔ جس راستے پر کافروں کی فوج تھی اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس راستے سے ہٹ کر سفر فرمانے لگے اور عام راستے سے کٹ کر آگے بڑھے اور مقامِ ”حدیبیہ“ میں پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔ یہاں پانی کی بے حد کمی تھی۔ ایک ہی کنواں تھا۔ وہ چند گھنٹوں ہی میں خشک ہو گیا۔ جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پیاس سے بے تاب ہونے لگے تو آپ نے ایک بڑے پیالے میں اپنا دستِ مبارک ڈال دیا اور آپ کی مقدس انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہو گیا۔ پھر آپ نے خشک کنویں میں اپنے وضو کا استعمال فرمایا ہوا پانی اور اپنا ایک تیر ڈال دیا تو کنویں میں اس قدر پانی ابل پڑا کہ پورا لشکر اور تمام جانور اس کنویں سے کئی دنوں تک سیراب ہوتے رہے۔

بیعتِ الرضوان

مقامِ حدیبیہ میں پہنچ کر اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دیکھا کہ کفارِ قریش لشکر لے کر جنگ کے لئے آمادہ ہیں جبکہ آپ اور آپ کے صحابہ حالتِ احرام میں ہیں۔ اس لیے آپ نے مناسب سمجھا کہ ان سے صلح کی گفتگو کی جائے۔ اسی کام کیلئے آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا۔ یہ شہرِ مکہ تشریف لے گئے اور کفارِ قریش کو صلح کی دعوت دی۔ کافروں نے ان سے کہا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں کہ آپ کعبہ کا طواف کریں، صفا و مروہ کی سعی کریں لیکن ہم محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو ہرگز کعبہ میں نہ آنے دیں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بغیر میں کبھی بھی عمرہ نہیں کروں گا۔ بات بڑھ گئی اور کافروں نے آپ کو مکہ میں روک لیا۔ حدیبیہ کے میدان میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ کفارِ قریش نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ آپ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔ یہ فرما کر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم سب لوگ میرے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کرو کہ آخری دم تک تم لوگ میرے وفادار رہو گے۔ تمام صحابہ نے یہ عہد لے کر آپ کی بیعت کی، یہی وہ بیعت ہے جس کا نام تاریخِ اسلام میں ”بیعتِ الرضوان“ ہے۔ اس درخت اور اس کے نیچے ہونے والی بیعت کا ذکر قرآنِ پاک میں دو مقامات سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 7 اور سورۃ الفتح کی کئی آیات میں آیا ہے۔ یہ بیعت ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر غلط تھی، وہ حیات تھے اور ٹھیک تھے۔

صلحِ حدیبیہ اور اس کی وجوہات

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے صحابہ عمرہ کے ارادے سے چلے تھے۔ اسی وجہ سے قربانی کے جانور بھی آپ کے ساتھ تھے۔ مگر کافروں نے قسمیں اٹھا لیں کہ ہم اپنے جیتے جی مسلمانوں کو کعبہ شریف تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ جب آپ کی طرف سے صلح کا پیغام لے کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لے گئے تو قریش نے بھی آپ کی خدمت میں کچھ لوگ بات چیت کیلئے بھیجے مگر بات نہ بن سکی۔ پھر قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح کی شرائط طے کرنے کیلئے بھیجا جس کے نتیجے میں صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی کچھ شرائط یہ ہیں:

1.     مسلمان اس سال بغیر عمرہ کے واپس چلے جائیں۔

2.     آئندہ سال عمرہ کیلئے آسکتے ہیں مگر مکہ میں صرف تین دن رہیں گے۔

3.     آئندہ 10 سال تک کوئی لڑائی نہیں کی جائے گی۔

4.     قبائلِ عرب جس کے ساتھ چاہیں دوستی کا معاہدہ کر سکتے ہیں۔

5.     مکہ سے کوئی مسلمان مدینہ چلا گیا تو اسے واپس کرنا ضروری ہو گا۔

قرآنِ پاک میں اس صلح کو ”فتحِ مبین“ فرمایا گیا۔ بظاہر یہ معاہدہ مسلمانوں کے خلاف تھا مگر اس کے بعد ہونے والے واقعات نے بتا دیا کہ یہی صلح بعد میں ہونے والی فتوحات کی کنجی ثابت ہوئی۔

سلاطین کے نام دعوتِ اسلام

صلحِ حدیبیہ کے بعد ہر طرف امن و سکون کی فضا ہو گئی۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم چونکہ تمام جہان کی طرف نبی ہیں، اس لیے آپ نے ارادہ فرمایا کہ اسلام کا پیغام تمام دنیا میں پہنچایا جائے۔ چنانچہ آپ نے مختلف بادشاہوں کی طرف قاصدوں کے ذریعے خط روانہ فرمائے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:

قاصد کا نام

شہر / ملک

بادشاہ / امیر

رویہ و نتیجہ

حضرت دحیہ کلبی

بیت المقدس

ہرقل (قیصرِ روم)

اسلام کی حقانیت کا قائل ہوا مگر سلطنت کی لالچ میں کلمہ پڑھنے سے محروم رہا۔

حضرت عبد اللہ بن حذافہ

تیسفون

کسریٰ (خسرو پرویز)

خط کو پھاڑ ڈالا، اس کے بیٹے نے اسے قتل کر ڈالا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

حضرت عمرو بن امیہ

اکسوم

اصحمہ نجاشی

خط کی تعظیم کی اور اسلام قبول کر لیا۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ

اسکندریہ

مقوقس (شاہِ مصر)

خط کی تعظیم کی، مگر مسلمان نہ ہوا؛ قیمتی تحائف آپ علیہ السلام کی طرف بھیجے۔

حضرت علاء بن حضرمی

بحرین

منذر بن سادیٰ

خط کی تعظیم کی اور قوم کے اکثر افراد کے ساتھ اسلام قبول کیا۔

1.      بخاری، کتاب بدء الوحی، باب 6، 1 / 12، حدیث: 7 ملخصاً

2.      سبل الہدیٰ والرشاد، ابواب ذکر رسلہ۔۔۔ الخ، الباب الحادی والعشرون۔۔۔ الخ، 11 / 362 ملخصاً

3.      سبل الہدیٰ والرشاد، ابواب ذکر رسلہ۔۔۔ الخ، الباب السابع والعشرون۔۔۔ الخ، 11 / 365

4.      سبل الہدیٰ والرشاد، ابواب ذکر رسلہ۔۔۔ الخ، الباب الخامس۔۔۔ الخ، 11 / 348-349

5.      شرح الزرقانی علی المواہب، واما کتبتہ الی الملوک وغیرہم، 5 / 34-36 ملخصاً

قاصد کا نام

شہر / ملک

بادشاہ / امیر

رویہ و نتیجہ

حضرت عمرو بن عاص

عمان

جلندی کے دو بیٹے جعفر اور عبد

خط کی تعظیم کی، دونوں نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت سلیط بن عمرو

یمامہ

ہوذہ بن علی

خط کی تعظیم کی، قاصد کا بھی احترام کیا، مگر حکومت کے بدلے میں اسلام قبول کرنے کی شرط رکھی جو منظور نہ فرمائی۔

حضرت شجاع بن وہب

غوطہ (دمشق)

حارث بن ابی شمر غسانی

مغرور خط کو پڑھ کر برہم ہو گیا اور اپنی فوج کو تیاری کا حکم دے دیا۔ اس وجہ سے ”غزوۂ موتہ“ اور ”غزوۂ تبوک“ جیسے معرکے پیش آئے۔

1.      شرح الزرقانی علی المواہب، واما کتبتہ الی الملوک وغیرہم، 5 / 37-43 ملخصاً

2.      مدارج النبوت، 2 / 228-229، ملخصاً

3.      سبل الہدیٰ والرشاد، ابواب ذکر رسلہ۔۔۔ الخ، الباب الحادی والعشرون۔۔۔ الخ، 11 / 358-359 ملخصاً، سیرتِ مصطفےٰ، ص 373 

No comments:

Post a Comment