غزوہ
اور سریہ کا فرق
وہ جنگی لشکر جس میں اللہ کے آخری نبی
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بذاتِ خود تشریف لے جاتے اسے ”غَزْوَة“ کہتے ہیں۔ جبکہ وہ لشکر جس میں آپ شامل نہیں ہوئے اسے ”سَرِیَّة“ کہتے ہیں۔ غزوہ کی جمع ”غزوات“ اور سریہ کی جمع ”سرایا“ آتی
ہے۔❶
❶مدارج النبوت،
قسم سوم، باب دوم، 2 / 76
غزوات و سرایا کی تعداد کے بارے میں
اختلاف ہے، امام بخاری کی روایت کے مطابق غزوات کی تعداد 19 ہے۔ ان میں سے صرف 19
ایسی غزوات ہیں جن میں جنگ کی نوبت پیش آئی جبکہ اکثری ایسی تھیں جن میں لڑائی کی
ضرورت ہی نہ ہوئی۔❷ جبکہ سرایا کی تعداد 47 یا 56 ہے۔❸
❷بخاری، کتاب
المغازی، باب غزوہ العشیرۃ۔۔۔ الخ، 3 / 3، حدیث: 3949
❸شرح الزرقانی
علی المواہب، کتاب المغازی، 2 / 221
غزوۂ
بدر کے اسباب
مسلمانوں کی کافروں کے ساتھ جو پہلی
سب سے بڑی جنگ ہوئی اسے ”غزوۂ بدر“ کہتے ہیں۔ بدر❹ مدینہ شریف سے کچھ فاصلے پر ایک گاؤں کا نام ہے۔ وہاں ایک کنواں
تھا جس کے مالک کا نام بدر تھا۔ اسی وجہ سے اس جگہ کا نام بدر مشہور ہو گیا۔❺ غزوۂ بدر سے پہلے بھی مسلمانوں اور کافروں
کی چھوٹی موٹی کچھ لڑائیاں ہوئی تھیں۔ ایک دفعہ کافروں کی ایک ٹولی نے تو مدینہ شریف
کی چراگاہوں میں آ کر بھی لوٹ مار مچائی۔ جبکہ ایک لڑائی میں ایک کافر بھی مارا گیا۔
اس کی موت سے مکہ کے کفار آپے سے باہر ہونے لگے۔ انہی کے ردِ عمل کی وجہ سے جنگِ
بدر کا معرکہ پیش آیا۔ جنگِ بدر کا ایک سبب یہ بھی بنا کہ مدینہ شریف میں یہ خبر پہنچی کہ کافروں کا
ایک بڑا قافلہ ملکِ شام سے واپس مکہ جانے والا ہے۔
❹شہرِ مدینہ سے
بدر شریف 113 کلومیٹر دور ہے جبکہ بائی روڈ یہ مسافت تقریباً 152 کلومیٹر ہے۔
❺ شرح الزرقانی
علی المواہب، باب غزوہ بدر الکبریٰ، 2 / 255
اس قافلے میں کافروں کے بڑے بڑے سردار
بھی شریک ہیں اور مالِ تجارت بھی خوب ہے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا کہ کافروں کی ٹولیاں ہماری تلاش میں بھی رہتی ہیں اور ان کی ایک
ٹولی تو شہرِ مدینہ میں ڈاکہ ڈال کر گئی ہے لہٰذا کیوں نہ ہم قریش کے اس قافلے پر
حملہ کر دیں۔ اس طرح ان کی شامی تجارت کا راستہ رک جائے گا اور وہ مجبور ہو کر ہم
سے صلح کر لیں گے۔ آپ کی یہ تجویز سن کر مہاجرین و انصار سب تیار ہو گئے۔ چنانچہ
آپ 12 رمضان 2 ہجری کو بنا کسی خاص بڑی جنگی تیاری کے چل پڑے، جو جس حال میں تھا
اسی حال میں روانہ ہو گیا۔ اس لشکر میں مسلمانوں کے ساتھ نہ زیادہ ہتھیار تھے، نہ
فوجی راشن کی کوئی بڑی مقدار تھی کیونکہ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ اس سفر میں
کوئی بڑی جنگ ہو گی۔
اہلِ مکہ کو جب خبر پہنچی کہ مسلمان
مدینہ سے نکل چکے ہیں تو انہوں نے بھی جنگ کیلئے تیاری شروع کر دی۔ جب آپ کو اس کی
اطلاع ملی تو آپ نے صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے مشورہ فرمایا اور انہیں بتا دیا
کہ ممکن ہے اس سفر میں جنگ کی نوبت آ جائے۔ مہاجرین و انصار دونوں نے آپ کی اطاعت
اور حفاظت کے عزم کا اظہار کیا۔ مدینہ شریف سے ایک میل دور آپ نے لشکر کا جائزہ
لیا اور چھوٹے بچوں کو واپس جانے کا حکم فرمایا۔ کچھ ضروری اقدامات فرما کر آپ بدر
کے میدان کی طرف چل پڑے جہاں سے کفارِ مکہ کے آنے کی خبر تھی۔ اب کل فوج کی تعداد
313 تھی۔ جن میں 60 مہاجر باقی انصار تھے۔ ادھر ابو سفیان کو بھی مسلمانوں کے
نکلنے کی خبر مل گئی تو اس نے
دو کام کئے۔ ایک تو اس نے فوراً ایک
شخص کو مکہ بھیجا کہ وہ قریش کو اس کی خبر کر دے تاکہ وہ اپنے قافلہ کی حفاظت کا
انتظام کریں اور خود راستہ بدل کر قافلہ کو سمندر کی جانب لے کر روانہ ہو گیا۔❶ ابو سفیان کا پیغام پہنچتے ہی قریش اپنے
گھروں سے نکل پڑے۔
❶ شرح الزرقانی علی المواہب، باب غزوہ بدر الکبریٰ، 2 / 263
قریشی سردار ایک ہزار کی تعداد کا
ایسا لشکر لے کر نکلے جس کا ہر سپاہی مسلح تھا۔ فوج کی خوراک کا یہ انتظام تھا کہ
قریش کے مالدار لوگ باری باری روزانہ دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے اور پورے لشکر کو
کھلاتے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے بڑا رئیس تھا اس پورے لشکر کا سپہ
سالار تھا۔ راستے میں انہیں ابو سفیان نے خبر بھیجی کہ ہم نے اپنا قافلہ محفوظ کر
لیا ہے لہٰذا باقی لوگ واپس چلے جائیں۔ اب لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قریش کے بعض لوگ
واپس جانے پر راضی ہو گئے لیکن کچھ نے جنگ کرنے پر اصرار کیا اور بعض قبائل کو اس
پر راضی کر لیا۔
کفارِ قریش مسلمانوں سے پہلے بدر کے
میدان میں پہنچ گئے اور بہترین و مناسب جگہوں پر قبضہ کر لیا۔ جبکہ مسلمانوں کو
جنگی اعتبار سے بہتر جگہ نہ مل سکی۔ خدا کی شان کہ اس دوران بارش ہو گئی جس سے
میدان کی گرد اور ریت جم گئی جس پر مسلمانوں کے لئے چلنا پھرنا آسان ہو گیا اور
کفار کی زمین پر کیچڑ ہو گئی جس سے ان کو چلنے پھرنے میں مشکل ہو گئی۔
جنگِ
بدر میں کون کہاں مرے گا؟
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم اپنے چند جاں نثاروں کے ساتھ رات کے وقت میدانِ جنگ کا معائنہ کرنے
کیلئے تشریف لائے اور چھڑی سے زمین پر لکیریں بناتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ فلاں
کافر اس جگہ قتل ہو گا، فلاں کی لاش یہاں ہو گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جس جگہ آپ نے
فرمایا تھا ہر کافر کی لاش اسی جگہ پائی گئی۔
غزوۂ
بدر کا واقعہ و نتائج 17
رمضان 2 ہجری مطابق 13 مارچ 624 عیسوی کو جمعہ کے دن آپ نے
مجاہدین کو صف بندی کا حکم دیا۔ جنگ کی ابتدا ہوئی مگر اس بے سرو سامانی کے باوجود
صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے شجاعت اور جانبازی کے جوہر دکھائے۔ اسی غزوہ میں ابو
جہل کو دو کم عمر صحابہ حضرت معاذ اور حضرت معوذ رضی اللہ عنہما نے جہنم واصل کیا۔
میدانِ جنگ میں کافروں کے بڑے بڑے سرداروں جیسے ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ کی
ہلاکت سے کفارانِ مکہ کی کمر ٹوٹ گئی۔ انہوں نے حوصلہ ہار دیا، ان کے پاؤں اکھڑ
گئے اور وہ ہتھیار ڈال کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں نے کافروں کو گرفتار کرنا شروع
کر دیا۔ اس جنگ میں کفار کے 70 آدمی قتل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنے۔ ابو سفیان کا
قافلہ تو بچ نکلا مگر مسلمانوں نے اس جنگ میں شاندار کامیابی حاصل کی، جس سے
مسلمانوں کی شان و شوکت میں اضافہ ہوا، اس جنگ میں شکست کی وجہ سے کفارِ مکہ کی
ساری عزت خاک میں مل گئی، ان کی جنگی طاقت فنا ہو گئی اور ان کے بڑے بڑے سردار
مارے گئے۔
فتح کے بعد
تین دن تک آپ نے بدر ہی میں قیام فرمایا اس کے بعد قیدیوں اور اموالِ غنیمت کے
ساتھ مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوئے۔
شہدائے
بدر
جنگِ بدر میں کل 14 مسلمانوں نے جامِ
شہادت نوش فرمایا۔ ان میں چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔ 13 صحابۂ کرام علیہم
الرضوان تو میدانِ بدر ہی میں مدفون ہوئے جبکہ ایک صحابی حضرت عبیدہ بن حارث رضی
اللہ عنہ کا وصال راستے میں ہوا اور آپ کا مزارِ شریف ”صفرا“ کے مقام پر ہے۔❶ اسی مقام پر آپ نے مالِ غنیمت مجاہدین
میں تقسیم فرمایا۔ وہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے وہ
خصوصی شرف اور مرتبے کے مالک ہیں۔ ان تمام کے بڑے فضائل ہیں جن میں سے ایک فضیلت
یہ بھی ہے کہ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: بے شک
اللہ پاک اہل
Bدر سے واقف
ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ تم اب جو عمل چاہو کرو بلا شبہ تمہارے لیے جنت
واجب ہو چکی ہے یا (یہ فرمایا) کہ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔❷
❶شرح الزرقانی
علی المواہب، غزوہ بدر الکبریٰ، 2 / 325-328 ملخصاً و ملتقطاً
❷بخاری، کتاب
المغازی، باب فضل من شهد بدراً، 3 / 12 حدیث: 3983
قیدیوں
کا انجام
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے بدر کے قیدیوں کو صحابۂ کرام میں تقسیم فرمایا کہ وہ ان کے آرام
اور ضروریات کا خیال رکھیں۔ ان قیدیوں کے بارے میں مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ
ان قیدیوں سے چار چار ہزار درہم فدیہ لے کر ان لوگوں کو چھوڑ دیا جائے۔ جو لوگ مفلسی کی وجہ سے فدیہ نہیں دے
سکتے تھے وہ یوں ہی بلا فدیہ چھوڑ دیئے گئے۔ ان قیدیوں میں جو لوگ لکھنا جانتے تھے
ان میں سے ہر ایک کا فدیہ یہ تھا کہ وہ انصار کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھا دیں۔
No comments:
Post a Comment