1.
خاندانِ
مصطفٰے کا یہ نقشہ ”السیرۃ النبویہ لابن ہشام جلد 1، المواہب اللدنیہ جلد 1، سبل
الہدٰی والرشاد جلد 1، شرح الزرقانی علی المواہب جلد 4“ کے مختلف صفحات کی مدد سے
تیار کیا گیا ہے۔
2.
حضور صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچاؤں کی تعداد میں اختلاف ہے ہم نے تمام نام ذکر کر
دیے ہیں شروع کے 9 ناموں پر سیرت نگاروں کا اتفاق ہے جبکہ آخری 3 نام صاحبِ مواہب
اللدنیہ نے ”ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربیٰ“ کے حوالے سے ذکر فرمائے ہیں۔
امہات
المؤمنین
|
نامِ مبارک |
نبیِ پاک سے نکاح |
عمر بوقتِ نکاح |
نبیِ پاک کے ساتھ گزارے |
عمر بوقتِ وصال |
|
سیدہ
خدیجہ بنت خویلد |
28
سال قبلِ
ہجرت |
40
سال |
25
سال |
65
سال |
|
سیدہ
سودہ بنت زمعہ |
3
قبلِ ہجرت |
--- |
14
سال |
--- |
|
سیدہ
عائشہ بنت ابو بکر صدیق |
نکاح:3
قبل ہجرت، رخصتی: 1ھ |
نکاح
کے وقت 6 سال، رخصتی کے وقت 9 سال |
10
سال |
65
سال |
|
سیدہ
حفصہ بنت عمر فاروق |
3
ہجری |
21
سال |
8
سال |
63
سال |
|
سیدہ
زینب بنت خزیمہ |
3
ہجری |
29
سال |
8
ماہ |
30
سال |
|
سیدہ
امِ سلمہ بنت ابو امیہ |
4
ہجری |
28
سال |
7
سال |
84
سال |
|
سیدہ
زینب بنت جحش |
5
ہجری |
37
سال |
6
سال |
53
سال |
|
سیدہ
امِ حبیبہ بنت ابو سفیان |
6
ہجری |
32
سال |
5
سال |
69
سال |
|
سیدہ
جویریہ بنت حارث |
5
ہجری |
19
سال |
6
سال |
70
سال |
|
سیدہ
میمونہ بنت حارث❷ |
7
ہجری |
36
سال |
4
سال |
80
سال |
|
سیدہ
صفیہ بنت حی |
7
ہجری |
16
سال |
4
سال |
59
سال |
اولادِ
اطہار
|
اسمِ شریف |
ولادت |
شوہر |
اولاد |
تاریخِ وصال |
عمر بوقتِ وصال |
|
سیدنا
قاسم |
--- |
--- |
--- |
--- |
--- |
|
سیدہ
زینب |
33
ولادت❸ |
ابو
العاص بن ربیع |
علی،
بی بی امامہ |
8
ہجری |
31
سال |
|
سیدہ
رقیہ |
33
ولادت |
پہلے
عتبہ بن ابو لہب، پھر سیدنا عثمان غنی |
عبد
اللہ |
رمضان
2ھ |
22
سال |
|
سیدہ
امِ کلثوم |
34
ولادت |
پہلے
عتیبہ بن ابو لہب، پھر سیدنا عثمان غنی |
کوئی
نہیں |
شعبان
9 ہجری |
28
سال |
|
سیدہ
فاطمہ |
35
ولادت |
علی
المرتضیٰ |
حسن،
حسین، محسن، رقیہ، زینب، امِ کلثوم، رقیہ |
3
رمضان 11
ہجری |
29
سال |
|
سیدنا
عبد اللہ |
بعدِ
بعثتِ نبوت |
--- |
--- |
4
ولادت |
بچپن
میں |
|
سیدنا
ابراہیم❹ |
ذوالحجہ
8 ہجری |
--- |
--- |
10
ربیع الاول
10 ہجری |
17
یا 18 ماہ |
1.
یہ معلومات
”شرح الزرقانی علی المواہب جلد 4، اسد الغابہ جلد 7، سبل الہدٰی والرشاد جلد 4 اور
المختصر الکبیر فی سیرۃ الرسول“ سے لی گئی ہیں۔
2.
بی بی
جویریہ اور بی بی میمونہ دونوں کا اصل نام برّہ تھا، حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے یہ نام تبدیل فرمادیے۔ ان دونوں کے والد کا نام بھی حارث ہے مگر
یہ دونوں الگ الگ شخصیات ہیں۔
3.
ولادت سے
ولادتِ نبوی مراد ہے۔
4.
یہ شہزادے
بی بی ماریہ سے تھے، ان کے علاوہ آپ کے تمام شہزادے اور شہزادیاں بی بی خدیجہ سے
ہوئیں۔
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کے غزوات و سرايا
رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کے مبارک دور میں ہونے والی جنگوں کی تعداد 100 تک بیان کی جاتی ہے۔ ان میں
سے کثیر ایسی جنگیں ہیں جن میں تلوار اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ایک تحقیق کے
مطابق ان تمام غزوات و سرایا میں 181 صحابۂ کرام نے جامِ شہادت نوش فرمایا جبکہ
202 غیر مسلم ہلاک ہوئے، یوں مقتولین کی کل تعداد 383 ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
دورِ نبوی میں ہونے والی تمام غزوات و سرایا امن و سلامتی کے فروغ کیلئے تھیں۔
غزوات و سرایا کے اعداد و شمار یہ ہیں:
|
غزوہ کا نام |
مسلمان شہداء |
مقتولِ کفار |
غزوہ کا نام |
مسلمان شہداء |
مقتولِ کفار |
|
غزوۂ
بدر |
14 |
70 |
غزوۂ
بنو قریظہ❶ |
- |
- |
|
غزوۂ
سویق |
2 |
- |
غزوۂ
ذی قرد |
2 |
1 |
|
سریہ
سرنولی کعب بن اشرف |
- |
1 |
غزوۂ
بنو مصطلق |
1 |
- |
|
غزوۂ
احد |
70 |
22 |
غزوۂ
خیبر |
20 |
2 |
|
غزوۂ
حمراء الاسد |
- |
1 |
غزوۂ
وادی القریٰ |
1 |
- |
|
سریہ
رجیع |
7 |
- |
غزوۂ
موتہ |
11 |
- |
|
سریہ
بئر معونہ |
27 |
- |
فتحِ
مکہ |
3 |
17 |
|
غزوۂ
خندق |
6 |
3 |
غزوۂ
حنین |
4 |
84 |
|
سریہ
عبد اللہ بن عتیک |
- |
1 |
غزوۂ
طائف |
13 |
- |
کل تعداد:
مسلمان شہداء : 181مقتولِ کفار:
202
1.
یہودیوں کی
عہد شکنی کی سزا دینے کیلئے حضور علیہ السلام لشکر لے کر بنو قریظہ پہنچے، انہوں
نے محاصرے سے تنگ آ کر ہتھیار ڈال دیے اور کہا کہ حضرت سعد بن معاذ ان کے بارے
فیصلہ کریں۔ حضرت سعد کے فیصلے کی روشنی میں ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا گیا۔ یوں
یہ بلاخوفِ میدان جنگ میں نہ ہو سکے۔
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کے عمومی استعمال کی بعض چیزیں❶
قیچی
o
جامع
سرمہ دانی
o
سوتے وقت سرمہ لگانے کے لیے استعمال
فرمایا کرتے تھے
سلائی
o
سرمہ لگانے کے لیے، لکڑی کی تھی
چھڑی
o
ممشوق
صندوقچی
o
شاہِ مقوقس نے تحفے میں بھیجی، سفر
میں ساتھ رہتی تھی اس میں آپ کی یہ 5 چیزیں ہوتیں: کنگھی، سرمہ دانی، قیچی، مسواک،
آئینہ
ٹب
o
کپڑے دھونے کے لیے مٹی کا ایک برتن
پیتل کا بڑا پیالہ
o
سَفْعَہ
عصا
o
اسی وجہ سے آپ کو ”صاحبِ المِخْصَرَہ“
فرمایا گیا
چارپائی
o
تین یا دو کڑے کے گرد میں تھی، صندل،
دوانے جوٹی کی تھی اس کے پائے ساگوان کے تھے
چمڑے کا تکیہ
o
اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی
چمڑے کا بچھونا
o
اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی
مِثْعَب
o
پتھر کا طشت اس سے وضو فرماتے تھے
آئینہ
o
مُدْلَہ
کنگھی
o
ہاتھی دانت کی بنی ہوئی تھی
نعلینِ شریف
o
بچھیا کے چمڑے کے تھے ہر ایک میں دو
تسمے تھے
کرسی
o
جس کے پائے لوہے یا شیشے یا شیشم کی
لکڑی کے تھے
دسترخوان
o
جس پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے
عمامے
o
سفید، دھر خانی، زرد، حلفانی، سفید،
دھاری دار، بصری، سبز
ایک چٹائی
o
جس پر رات میں نماز ادا فرماتے اور دن
میں تشریف فرما ہوتے
شرح الزرقانی علی المواہب، 5 / 93-97
ملتقطاً و ملخصاً
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی سواریاں
|
اونٹنیاں |
خچر |
دراز گوش |
|
قصواء، عضباء، جدعاء |
دُلدُل |
یعفور❶ |
❶سبل الہدٰی والرشاد، باب ذکر دوابہ...، 11 / 419-420، ملتقطاً
اونٹ
o
ثعلب
o
جمل احمر
o
عسکر
o
سہری
o
اور کئی اونٹ جن کے نام معروف نہیں
سفید رنگ کا مرغا
بکریاں
دودھ دینے والی بکریاں 10 تھیں انہیں
سیدہ امِ ایمن چرایا کرتی تھیں
o
بَرَکہ
o
زمزم
o
قَمر
o
وَرْثہ
o
عُجرہ
o
اَطراف
o
سُقیاء
o
اَطلال
o
یَمَن
o
غَوْثَہ یا غَیْثَہ
20 اونٹنیاں دودھ دینے والی تھی جو مدینہ
سے باہر چرا کرتی تھیں اور روزانہ رات کو دو بڑے مشکیزے دودھ کے لائے جاتے❷
❷شرح الزرقانی علی المواہب، 5 / 109-112، ملتقطاً ولخصاً
No comments:
Post a Comment