پسندیدہ
غذائیں
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ مبارک سادگی و زہد کا مکمل نمونہ تھی، اس لیے کبھی لذیذ
غذاؤں کی طرف توجہ نہیں فرمائی، یہاں تک کہ زندگی بھر کبھی چپاتی تناول نہ فرمائی۔
اس کے باوجود آپ غذا کے بارے میں بڑے نفیس مزاج کے مالک تھے۔ عرب میں ایک کھانا جو
گھی، پنیر اور کھجور ملا کر پکایا جاتا ہے، اسے ”حَیس“ کہتے ہیں، اسے آپ بڑی رغبت
سے تناول فرماتے۔❸
1.
سنن کبریٰ
للنسائی، 2 / 114، حدیث: 2631
سالنوں میں آپ کو گوشت، سرکہ، شہد،
روغنِ زیتون اور کدو شریف خصوصیت کے ساتھ مرغوب تھے۔ کھجور اور ستو بھی بکثرت
تناول فرماتے۔ آپ کو ٹھنڈا میٹھا پانی بہت مرغوب تھا، دودھ میں کبھی پانی ملا (کچی
لسی بنا) کر اور کبھی خالص دودھ نوش فرماتے، آپ جو کچھ بھی نوش فرماتے تین سانس
میں نوش فرماتے۔❹
2.
رسولِ کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی غذاؤں سے متعلق مزید تفصیل کے لیے ”ماہنامہ
فیضانِ مدینہ“ (ربیع الاول 1440ھ) کے مضمون ”پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی پیاری غذائیں“ کا مطالعہ فرمائیں۔
پسندیدہ
لباس
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم زیادہ تر سوتی لباس زیبِ تن فرماتے، کسی خاص لباس کی پابندی نہیں
فرماتے تھے۔ جُبّہ❶ (Gown)،
قَبَا❷، پہرہن❸، تہبند❹، حلہ، چادر، عمامہ، ٹوپی، موزہ❺ ان سب کو آپ نے شرف بخشا اور زیبِ تن
فرمایا ہے۔ رنگوں میں سفید کپڑا آپ کو زیادہ پسند تھا، ایک روایت کے مطابق سبز رنگ
بھی آپ کو بہت پسند تھا۔
1.
ایک طرح کا
ڈھیلا کوٹ جس کی آستین کلائی سے اوپر رہتی ہے، اس کی لمبائی گریبان سے پاؤں تک
ہوتی ہے۔ عموماً علماء یہ لباس استعمال کرتے ہیں۔
2.
ایک کوٹ
نما لباس جو آگے سے کھلا ہوتا ہے اور لباس کے اوپر پہنا جاتا ہے۔
3.
اس سے مراد
کرتا/پوشاک ہے۔
4.
اس سے مراد
دھوتی ہے یعنی وہ کپڑا جو پاجامے کی جگہ باندھا جاتا ہے، ہمارے ہاں دیہات میں
استعمال کی جاتی ہے۔
5.
یہاں چمڑے
کے موزے مراد ہیں۔
مبارک
سواریاں
رَسُوْلُ اللّٰہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کو گھوڑے کی سواری بہت پسند تھی۔ اس کے علاوہ آپ نے اونٹ، خچر اور
دراز گوش پر بھی سواری فرمائی ہے۔❻
6.
رسولِ کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواریوں سے متعلق مزید تفصیل کے لیے ”ماہنامہ
فیضانِ مدینہ“ (ربیع الاول 1440ھ) کے مضمون ”رسولِ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی سواریاں“ کا مطالعہ فرمائیں۔
عادات
و اخلاقِ مبارکہ
حُسنِ صورت کے ساتھ حُسنِ سیرت میں
بھی آپ بے مثل و بے مثال تھے۔ آپ کمزوروں کی مدد فرمانے والے تھے، اپنوں تو کیا
دشمنوں پر بھی نرمی فرماتے،
عاجزی و
انکساری فرمانے والے، اپنی ذات کیلئے نہ غصہ کرتے نہ انتقام لیتے، مریضوں کی عیادت
فرماتے، غمزدوں کی غمخواری فرماتے، امیر ہو یا غریب سب سے یکساں برتاؤ فرماتے، سب
کی دعوت قبول فرماتے، اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند فرماتے، تمام جہان میں سب
سے بڑھ کر عادل اور پاک دامن تھے۔ آپ ٹھہر ٹھہر کر بڑے وقار سے گفتگو فرماتے،
گفتگو میں اتنی روانی اور نکھار ہوتا کہ کوئی جملے گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ آپ
بڑے حیا دار تھے، آپ کی امانت و صداقت کے دشمن بھی معترف تھے۔
آپ کے اخلاق اتنے عالیشان تھے کہ خود
ربِ کریم نے ارشاد فرمایا:
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ؕ
اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو۔
پ 29، القلم، آیت: 4
فضائل
و خصائص
تمام انبیاء میں سب سے بڑا مرتبہ اللہ
کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ہے۔ قرآن و حدیث میں آپ کے بے شمار
فضائل و خصائص بیان ہوئے ہیں، آئیے ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے:
·
دیگر انبیاءِ کرام کسی خاص قوم کی طرف
بھیجے جاتے، آپ تمام مخلوق انسان و جن، بلکہ ملائکہ، حیوانات، جمادات (بے جان
اشیا) سب کی طرف مبعوث ہوئے۔
·
جس طرح انسان پر آپ کی اطاعت فرض ہے
اسی طرح ہر مخلوق پر آپ کی فرمانبرداری ضروری ہے۔
·
آپ فرشتوں، انسانوں، جنات، حُور و
غلمان، حیوانات و جمادات، غرض تمام جہان کیلئے رحمت ہیں، مسلمانوں پر تو نہایت ہی
مہربان ہیں۔
·
نبی علیہ السلام خاتم النبیین ہیں،
یعنی اللہ کریم نے سلسلۂ نبوت آپ پر ختم کر دیا، آپ کے زمانہ میں یا بعد کوئی نبی
نہیں ہو سکتا، جو آپ کے زمانہ میں یا آپ کے بعد کسی کو نبوت ملنا مانے یا جائز
جانے وہ کافر ہے۔
·
آپ تمام مخلوقِ الٰہی میں سب سے افضل
ہیں۔ اوروں کو فرداً فرداً (یعنی ایک ایک کر کے) جو کمالات عطا ہوئے آپ میں وہ سب
جمع کر دیے گئے، ان کے علاوہ آپ کو وہ کمالات بھی ملے جن میں کسی کا حصہ نہیں،
بلکہ اوروں کو جو کچھ ملا حضور علیہ السلام کے صدقے بلکہ آپ کے ہاتھوں سے ملا۔
·
آپ کے خصائص میں سے معراج ہے، جب آپ
مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک اور وہاں سے ساتوں آسمان اور کرسی و عرش تک، بلکہ
عرش سے بھی اوپر رات کے تھوڑے سے حصے میں جسمانی حالت میں تشریف لے گئے۔ وہاں وہ
قربِ خاص حاصل ہوا کہ کسی انسان و فرشتے کو کبھی نہ حاصل ہوا ہے نہ ہو گا، جمالِ
الٰہی سر کی آنکھوں سے دیکھا، کلامِ الٰہی بلا واسطہ سنا اور آسمان و زمین کے ذرے
ذرے کو ملاحظہ فرمایا۔
·
آپ کی محبت مدارِ ایمان، بلکہ ایمان
اسی محبت ہی کا نام ہے، جب تک آپ کی محبت ماں باپ اولاد اور تمام جہان سے زیادہ نہ
ہو، آدمی مسلمان نہیں ہو سکتا۔
·
آپ کی اطاعت عین اطاعتِ الٰہی ہے،
بلکہ اللہ پاک کی اطاعت سرکار علیہ السلام کی اطاعت کے بغیر ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ
آدمی اگر فرض نماز میں ہو اور آپ اسے یاد فرمائیں، فوراً جواب دے اور حاضرِ خدمت
ہو، یہ شخص کتنی ہی دیر تک نبی علیہ السلام سے کلام کرے، بدستور نماز میں ہے، اس
سے نماز میں کوئی خلل نہیں۔
·
آپ کی تعظیم و توقیر جس طرح اس وقت
تھی کہ آپ اس عالم میں ظاہری نگاہوں کے سامنےتشریف فرما تھے، اب بھی اسی طرح فرضِ
اعظم ہے۔ جب آپ کا ذکر آئے تو بکمالِ خشوع و خضوع و انکسار بادب سنے اور نامِ پاک
سنتے ہی درود شریف پڑھنا واجب ہے۔❶
❶بہارِ شریعت، 1 / 76، حصہ: 1
·
اللہ کریم نے آپ کو بے شمار معجزات
عطا فرمائے۔ چاند کے دو ٹکڑے کر دینا، ڈوبا سورج پلٹا دینا، لکڑیوں کو بلب کی
مانند روشن کر دینا، لعابِ دہن (یعنی تھوکِ مبارک) سے کھاری کنوؤں کو میٹھا کر
دینا، دور دراز کے افراد کی امداد کرنا، انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دینا، اشارے
پر بارش کا برسنا، شجر و حجر سے کلام فرمانا، تھوڑا سا کھانا اور دودھ کثیر جماعت
کیلئے پورا کر دینا، درختوں کا چل کر آپ کی سلامی کیلئے آنا اور جانوروں کا انسانی
بولی بولنا سمیت آپ کے کثیر معجزات ہیں۔ قرآنِ پاک بھی آپ کے معجزات میں سے ہے۔
No comments:
Post a Comment