درودِ
پاک کی فضیلت
اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کا فرمانِ عالیٰ شان ہے:
لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلَا
تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا
اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ اور نہ
ہی میری قبر کو عید بناؤ!
وَصَلُّواعَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ
تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ
اور مجھ پر درودِ پاک پڑھا کرو، بے شک
تمہارا دُرود مجھ تک پہنچتا ہے چاہے تم جہاں بھی ہو۔
(1)
جاہلیت
کی تاریکیاں
اللہ پاک کی عبادت اور اطاعت انسان کی
پیدائش کا بنیادی مقصد ہے۔ دنیا کی رونق اور نفس و شیطان کے دھوکے سے یہ مقصد
نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اس مقصد کو یاد دلانے اور انسان کو سیدھی راہ پر
چلانے کیلئے اللہ کریم نے مختلف زمانوں میں کئی انبیاۓ کرام بھیجےہیں۔ انبیاۓ کرام
انسان کو اس کے مقصدِ حقیقی کی پہچان کرواتے اور اس کی ہدایت و رہنمائی فرماتےہیں۔
یہ انبیا مختلف زمانوں میں مخصوص قوموں اور ملکوں کی طرف بھیجے گئے۔ سب سے آخر میں
اللہ کریم نے اپنے پیارے حبیب، جنابِ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
قیامت تک کیلئے تمام کائنات کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ آپ کی آمد سے پہلے گزشتہ
انبیاۓ کرام کی تعلیمات بھلا دی گئی تھیں، دنیا جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہی
تھی، کئی برائیوں نے دنیا کے سارے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ بالخصوص
عرب سرزمین تو بدترین بدحالی کا شکار تھی۔ ظلم و زیادتی، فحاشی و بے حیائی، لڑائی
جھگڑا، جو اور شراب کی کثرت، قتل و غارتگری، جاہلانہ رسومات، بت پرستی، غرور و
تکبر اور جہالت کے بادل ہر طرف تاریکی پھیلارہے تھے۔
(1)
ابوداؤد، کتاب المناسک، باب زیارة القبور، 2/ 315، حدیث: 2042
ولادتِ
مصطفیٰ کی بہاریں
ایسے ماحول میں اللہ کے آخری نبی،
حضرتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ آپ کی ولادت کے ساتھ ہی
کچھ ایسے واقعات رونما ہوۓ جو اس بات کی خوشخبری تھے کہ وہ زمانہ آپکا ہے کہ جس
میں اسلام کی روشنیاں کفر کی تاریکیوں کو مٹا دیں گی۔ نوشیرواں کے عالیشان محل کا
پھٹنا اور اس کے چودہ کنگروں کا گر جانا، فارس میں مجوسیوں کے عبادت خانے کی صدیوں
سے روشن آگ کا یکدم بجھ جانا، دریائے ساوہ کے موجیں مارتے پانی کا خشک ہو جانا، یہ
اور اس طرح کے کئی واقعات اس بات کی علامت تھے کہ اب عالم کا رنگ بدلا ہے اور نئی
حکومت کا سکہ چلے گا۔
آئی
نئی حکومت سکہ نیا چلے گا
عالم
نے رنگ بدلا صبح شبِ ولادت
ذوق
نعت، ص 95
آمدِ
مصطفیٰ ہو گئی روشن زمانہ ہو گیا
ایسے ماحول میں حضرت آمنہ رضی اللہ
عنها کے بظاہر سادہ سے مکان میں سعادتوں اور مسرتوں کا نور چمکا اور اللہ کے آخری
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلوہ گری ہوئی۔ آپ کی ولادت سے صرف آپ کی والدہ ہی
خوشیوں سے مسرور نہیں ہوئیں بلکہ تمام غمزدوں اور درد کے ماروں کے لبوں پر
مسکراہٹیں پھیل گئیں۔ آپ عرب کے مشہور خاندان کی شاخ بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں۔
آپ کا خاندان ان تمام خاندانوں میں سب سے اعلیٰ ہے،خود اللہ کے آخری نبی صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
اللہ پاک نے
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ”کنانہ“ کو عظمت والا بنایا اور ”کنانہ“
میں سے ”قریش“ کو چُنا اور ”قریش“ میں سے ”بنو ہاشم“ کو منتخب فرمایا اور ”بنو
ہاشم“ میں سے مجھ کو چُن لیا۔
(1)
(1)
مسلم، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی... الخ، ص 962، حدیث: 5938.
مشہور قول کے مطابق واقعہ اصحابِ فیل
کے 55 دن کے بعد جب ربیع الاول کا مہینہ تھا، بارہویں تاریخ تھی، پیر کا دن تھا،
صبح صادق کی سہانی گھڑی تھی، رات کی سیاہی چھپٹ رہی تھی اور دن کا اجالا پھیلنے
لگا تھا، 571 عیسوی کے اپریل کی 20 تاریخ تھی جب مکہ (2) شریف میں اپنی والدہ کے
گھر آپ کی ولادت ہوئی۔
(3)
(2)
مکہ
(Makkah) کا
پورا نام مکہ مکرمہ ہے۔ یہ دنیا کے چند اہم اور قدیم ترین شہروں میں سے ہے۔ دنیا
بھر کے مسلمانوں کا قبلہ کعبۂ اللہ یہیں واقع ہے جسے حضرت ابراہیم اور ان کے
صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اب اس شہر کا رقبہ 760 مربع
کلومیٹر ہے۔ یہ شہر سطح سمندر سے 277 میٹر کی بلندی اور تقریباً 80 کلومیٹر کے
فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کا موسم نسبتاً گرم ہے؛ گرمیوں میں شدید گرمی پڑتی ہے اور
درجہ حرارت عام طور پر 40 سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ظاہری حیات کے تقریباً 53 سال یہاں گزارے
(3)
مدارج النبوت، قسم دوم، باب اول، 2/ 14 ملخصاً.
پرنور
ہے زمانہ صبح شبِ ولادت
پردہ
اٹھا ہے کس کا صبح شبِ ولادت
ذوق
نعت، ص 93
نسبِ
مصطفیٰ
والدِ ماجد کی طرف نسبِ شریف یہ ہے:
1.
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
2.
بن عبد الله
3.
بن عبد المطلب
4.
بن هاشم
5.
بن عبد مناف
6.
بن قُصَىّ
7.
بن کِلاب
8.
بن مُرَّة
9.
بن کُعَب
10.
بن لُؤَىّ
11.
بن غالب
12.
بن فِہر
13.
بن مالک
14.
بن نَضْر
15.
بن کِنانہ
16.
بن خُزَیمہ
17.
بن مُدْرکَہ
18.
بن الیاس
19.
بن مُضَر
20.
بن نِزار
21.
بن مَعَدّ
22.
بن عدنان۔ (1)
(1)
السیرۃ النبوية لابن ہشام، ذكر سر و نسب النزکی من محمد... الخ، 1/ 89-103 ملخصاً.
جبکہ والدہ ماجدہ کی طرف سے نسب شریف
یوں ہے:
1.
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
2.
بن آمنه
3.
بنت وہب
4.
بن عبد مناف
5.
بن زُہرہ
6.
بن کلاب (2)
(2)
السیرۃ النبوية لابن ہشام، اولاد عبد المطلب، 1/ 238.
والدینِ
مصطفیٰ
آپ کے والد گرامی حضرت عبداللہ رضی
اللہ عنہ ہیں۔ یہ سیرت و صورت دونوں میں بے مثال تھے۔ ان کا وصال آپ کی ولادت سے
قبل 25 سال کی عمر میں ہوا۔ (3) جبکہ آپ کی والدہ
ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنها ہیں۔ یہ اپنے نسب و شرف میں قریش کی تمام خواتین
میں سب سے افضل تھیں۔ والد کے وصال کے بعد انہوں نے اپنے شہزادے کی پرورش کی۔
(3)
مدارج النبوت، قسم دوم، باب اول، 2/ 12-14 ملخصاً
دودھ
پلانے (رضاعت) کا بیان
مکہ کے معزز لوگوں کا یہ رواج تھا کہ
وہ اپنے بچوں کو ماں کی گود
میں پلٹا
دیکھنے کے بجاۓ صحرا میں رہنے والے قبیلوں کے پاس بچپن گزارنے کیلئے بھیجتے۔ اس کی
وجہ یہ تھی کہ دیہات کی خالص غذائیں کھا کر بچوں کے اعضا اور جسم مضبوط ہوں اور ان
کی خالص عربی سیکھ کروہی اسی فصاحت و بلاغت سے کلام کرنے والے بن جائیں۔ اسی وجہ
سے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنها
کے سپرد کر دیا گیا۔ ان کا تعلق قبیلہ ”بنو سعد“ (1) سے تھا جو بنو ہوازن کی ایک
شاخ تھا، یہ قبیلہ عربیت اور فصاحت میں اپنا جواب نہیں رکھتا تھا۔ حضرت حلیمہ اپنے
قبیلے کی خواتین کے ساتھ مکہ میں بچے کو رضاعت پر لینے کیلئے آئیں۔ حضرت حلیمہ کی
قسمت کا ستارہ اپنے عروج پر تھا کہ آپ کو دو سال تک دودھ پلانے کی سعادت ان کے حصے
میں آئی۔ (2)
(1) بنوسعد
مکہ سے براستہ طائف شخصان نامی گاؤں سے 15 سے 20 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ
علاقہ مکمل طور پر بنجر نہیں ہے، کہیں کہیں زراعت ممکن ہے۔ یہاں کی آب و ہوا اور
موسم بہت صحت افزاء ہے، حضرت حلیمہ کے گاؤں کا نام "شوحظہ" ہے، اسے
"شُحطہ" بھی کہا جاتا ہے۔ مکہ سے اس کا بائی روڈ فاصلہ تقریباً 153
کلومیٹر ہے.
(2) شرح
الزرقاني علی المواهب، من خصائص، 1/ 278 مأخوذاً.
دودھ
پلانے کی برکتیں
بعض روایات کے مطابق بی بی حلیمہ کے
علاوہ مزید 6 خوش قسمت خواتین نے آقا کریم علیہ السلام کو دودھ پلانے کا شرف حاصل
کیا، ان تمام عورتوں کو دولتِ ایمان نصیب ہوئی۔ (3) جبکہ حضرت حلیمہ کو دودھ پلانے
کی خدمت کا یہ انعام ملا کہ اُن کا پورا گھرانہ دولتِ ایمان سے مالامال ہوا۔
(3) سیرت حلبیه، باب ذكر رضاعه وما اتصل به، 1/
124 ملخصاً
حضرت حلیمہ کے شوہر حضرت حارث (رضی
اللہ عنہ)، صابز ادے عبداللہ بن حارث
(رضی
اللہ عنہ)(1)
اور دو
صاحبزادیاں انیسہ بنت حارث اور جدامہ بنت حارث ہیں۔ جُدامہ بنت حارث ہی شیماء کے
نام سے مشہور ہیں جو اللہ کے آخری نبی علیہ السلام کی بڑی رضاعی بہن تھیں اور آپ
کو گود میں کھلاتی اور لوریاں دیتی تھیں (2)۔
1. یہ
صاحب ایمان اور اللہ کے آخری نبی علیہ السلام کی صحبت بابرکت سے فیض پانے والے تھے
اور آپ کی خدمت میں حاضر بھی ہوئے۔ (فتاوی رضویہ 30/ 293 ملخصاً).
2. طبقات
ابن سعد: 1/ 89
No comments:
Post a Comment