رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے خاص بندے ہیں
معراج کے موقع پر اللہ نے آپ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو "عبد" کہہ کر یاد فرمایا جو اللہ کے ہاں آپ کے بلند
اور خاص مقام کی طرف اشارہ ہے۔
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً
مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى
پاکی
ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصی (بیت
المقدس) تک۔
ترجمہ
کنزالایمان (پ 15، بنی اسراءیل: 1)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشیر و نذیر ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیک عمل
کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں۔
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا
وَنَذِيرًا
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر
اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔
ترجمہ
کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 45)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داعی إلى الله اور سراجِ منیر ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی
طرف بلانے والے اور روشن چراغ ہیں جو تاریکیوں میں راہ دکھاتے ہیں اور آپ تمام
انسانیت
کے لیے ہدایت
کی روشنی ہیں۔
وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ
وَسِرَاجًا مُنِيرًا
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا
اور چمکا دینے والا آفتاب۔
ترجمہ
کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 46)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں پر مہربان اور ہماری بھلائی کے حریص ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کے
ساتھ نہایت مہربان اور رحیم ہیں۔ آپ کو مومنوں کی تکلیف ناگوار گزرتی ہے اور آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری بھلائی کے لیے بے حد حریص ہیں۔
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ
عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ
رَحِيمٌ
بے
شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے
تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
ترجمہ
کنزالایمان (پ 11، التوبہ: 128)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف اللہ کو ناپسند ہے
جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے انہیں دنیا و آخرت میں ملعون قرار دیا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ
وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس
کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں۔
ترجمہ
کنزالایمان (پ 22، الاحزاب: 57)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کی جانوں سے بھی قریب ہیں
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو مومنوں کے لیے ان کی جانوں سے زیادہ قریب اور محبوب بنایا ہے۔
النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ
أَنْفُسِهِمْ
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے
زیادہ مالک ہے۔
ترجمہ
کنزالایمان
(پ
21، الاحزاب: 6)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ایمان کا جزو ہے
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی محبت سے بڑھ کر کسی بھی چیز کو عزیز رکھنا ایمان کے منافی ہے۔
قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ
وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا
وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ
مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ
اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
تم
فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عوریں اور
تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا ڈر ہے اور تمہارے
پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری
ہوں تو راستہ دیکھو (انتظار کرو) یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں
کو راہ نہیں دیتا۔
ترجمہ
کنزالایمان
(پ
10، التوبہ: 24)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی اللہ کی محبت کا ذریعہ ہے
جو شخص اللہ کی محبت حاصل کرنا چاہتا
ہے اسے چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرے۔
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ
فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
اے
محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ
اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
ترجمہ
کنزالایمان
(پ
3، آل عمران: 31)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امتوں پر گواہ ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
برکت سے آپ کی امت کو بھی خاص مقام ملا کہ قیامت میں دوسری امتوں کی گواہی دیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان
کے اوپر گواہ و نگہبان ہوں گے۔
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا
لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا
اور
بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور
یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔
ترجمہ
کنزالایمان
(پ
2، البقرہ: 143)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثمرہ دعائے ابراہیمی ہیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ
کعبہ تعمیر کرتے وقت دعا کی تھی کہ اللہ اس قوم میں ایک نبی مبعوث فرما، اس دعا کی
قبولیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں ہوئیٔ۔
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ
يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ
اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول
انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے۔
ترجمہ
کنزالایمان (پ 1، البقرہ: 129)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشارت عیسیٰ ہیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم
کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی پہلے ہی بشارت دے دی تھی۔
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَبَنِي
إِسْرَاءِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ
مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ
اور
یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں
اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو
میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔
ترجمہ
کنزالایمان
(پ
28، الصف: 6)
No comments:
Post a Comment