Monday, August 10, 2026

شانِ مصطفیٰ ﷺ: بے مثال خصوصیات، عظیم معجزات اور رحمتِ عالم ﷺ

پانچ خصوصیاتِ مصطفٰے

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں: (1) ایک ماہ کی مسافت کے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی (2) میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا (3) میرے لیے تمام زمین کو سجدہ گاہ اور مٹی کو پاک بنایا گیا لہٰذا میرے کسی امتی کو نماز کا وقت ہو جائے تو وہیں نماز پڑھ لے (4) مجھے منصبِ شفاعت عطا کیا گیا (5) ہر نبی کو ایک خاص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا۔

 مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، ص 265، حدیث: 521

اوّلُ الْاَنْبِیَاء

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ یا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ ارشاد فرمائیے کہ آپ کو شرفِ نبوت سے کب سرفراز فرمایا گیا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ: میں اس وقت بھی نبی تھا جب کہ آدم کی تخلیق ابھی جسم اور روح کے مرحلے میں تھی۔

 ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبی، 5 / 351، حدیث: 3629

شانِ مصطفٰے بزبانِ عمر

صحابیِ رسول، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے ایک بار روتے ہوئے اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان بیان فرمائی۔ آپ کی اس حسین گفتگو کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! پہلے آپ کھجور کے ایک تنے پر خطبہ ارشاد فرماتے، لوگوں کی کثرت کی وجہ سے پھر آپ منبر پر خطبہ دینے لگے، کھجور کا وہ تنا آپ کی جدائی میں رویا یہاں تک آپ نے اپنا دستِ شفقت اس پر رکھا تو اسے قرار آیا۔ آپ کی جدائی پہ آپ کی امت رونے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کے رب کے ہاں آپ کا مقام اتنابلند ہے کہ اس نے آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:

مَّنۡ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی

پ5، النساء:80

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کے رب کے ہاں آپ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اس نے سب انبیاء کے بعد آپ کو بھیجا مگر آپ کا ذکر سب انبیاء سے پہلے فرمایا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیۡثَاقَهُمْ وَ مِنْکَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیۡمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیۡسَى ابْنِ مَرْیَمَ ۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ۙ

اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے اُن کا عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے (عہد لیا) اور ہم نے ان (سب) سے بڑا مضبوط عہد لیا۔

پ21، الاحزاب:7

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزہ دیا کہ پتھر (پر عصا مارنے) سے چشمے بہہ نکلے، لیکن اس سے بڑھ کر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوئے۔

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! اللہ پاک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہوا پر ایسا قابو دیا تھا کہ اس کا صبح کا چلنا ایک مہینہ کی راہ اور شام کا چلنا بھی ایک مہینے کی راہ کے برابر ہوتا تھا، لیکن اس سے بھی بڑھ کر تعجب خیز آپ کی سواری براق ہے جس پر سوار ہو کر آپ ساتوں آسمانوں کی سیر کر آئے اور اسی رات فجر کی نماز مکہ میں آ کر ادا فرمائی۔

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ کومردے زندہ کرنے کا معجزہ عطا فرمایا لیکن اس سے بڑھ کر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بکری بھنے ہوئے زہریلے گوشت نے آپ سے کلام کیا اور کہنے لگا: مجھے مت کھائیں کہ مجھ میں زہر ملا ہوا ہے۔

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! حضرت نوح نے اپنی قوم کی ہلاکت کیلئے دعا کی اور فرمایا:

رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾

اے میرے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ

پ29، نوح:26

اگر آپ بھی اسی طرح دعا کرتے تو ہم تباہ و برباد ہو جاتے، لیکن آپ کی شفقت ہے کہ آپ کو ستایا گیا، تکالیف دی گئیں، آپ کو زخمی کیا گیا تب بھی آپ نے خیر کے سوا کچھ نہ کہا، آپ کی قوم نے جب بھی تکلیف پہنچائی آپ کی زبانِ مبارک سے یہی الفاظ ادا ہوئے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیۡ فَاِنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ

اے اللہ! میری قوم کو معاف فرما کہ وہ مجھے نہیں جانتے۔

یا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! اعلانِ نبوت کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور آپ کی پیروی کرنے لگے، جبکہ حضرت نوح کے ساتھ ایسا نہ ہوا حالانکہ انہوں نے لمبی عمر بھی پائی اور کافی عرصہ تبلیغ بھی فرمائی، آپ کی زندگی میں ہی کثیر لوگ آپ پر ایمان لے آئے جبکہ حضرت نوح پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

 المدخل لابن الحاج المالکی، 3 / 173-174 ملتقطاً ولخصاً

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بے شمار فضائل، خصوصیات، معجزات اور کمالات سے نوازا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اقدس تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں سب سے بلند و برتر ہے اور آپ کو قیامت تک پوری انسانیت بلکہ تمام جہانوں کے لیے رسول بنا کر مبعوث فرمایا گیا۔ آپ کی نبوت کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، بلکہ آپ خاتم النبیین اور رحمت للعالمین ہیں۔

احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ پانچ خصوصی عطاؤں سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد رعب کے ذریعے فرمائی، مالِ غنیمت کو حلال فرمایا، پوری زمین کو امت کے لیے سجدہ گاہ بنایا، مقامِ شفاعت عطا فرمایا اور آپ کو تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نبوت حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی پہلے مقرر فرمائی گئی، جو آپ کے بلند مرتبہ ہونے کی عظیم دلیل ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ آپ کی شان و عظمت بیان فرمائی اور آپ کے بے مثال معجزات، اطاعتِ رسول کی اہمیت، امت پر آپ کی شفقت اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے مقابلے میں آپ کے خصوصی فضائل کو اجاگر فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی امت کے لیے ہمیشہ خیر چاہی، حتیٰ کہ شدید تکالیف اور ظلم کے باوجود اپنی قوم کے لیے بددعا کے بجائے مغفرت کی دعا فرمائی۔

لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت کو اپنے ایمان کا حصہ بنائے، آپ کی تعظیم و توقیر کرے، آپ کی سنتوں پر عمل کرے اور کثرت سے درود و سلام پیش کرے۔ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی زندگی کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق ڈھالیں اور آپ کی تعلیمات کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں

No comments:

Post a Comment