Monday, August 10, 2026

بچپنِ مصطفیٰ ﷺ سے جوانی تک: بابرکت واقعات، سفرِ شام اور حلفُ الفضول

والدہ کا وصال پر ملال

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک جب 6 سال ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو ساتھ لے کر مدینہ شریف میں آپ کے والد کے نھیال سے ملانے گئیں، اس سفر میں بی بی اُمّ ایمن بھی ساتھ تھیں۔ بی بی اُمّ ایمن آپ کے والد کی کنیز تھیں۔ واپسی پر ابواء (1) کے مقام پر آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور وہیں تدفین ہوئی۔ باپ کا سایہ پہلے اٹھ چکا تھا اور اب ماں کی آغوشِ شفقت اور محبت بھی چھوٹ گئی۔ حضرت اُمّ ایمن نے آپ کے آنسو پونچھے، آپ کو تسلی دی اور واپس مکہ شریف لا کر آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب کے سپرد کر دیاْ

(1) ابواء (Abwa) ایک وادی ہے جو مکہ شریف اور مدینہ شریف کے درمیان میں سمندر کی طرف واقع ہے۔ اس کا فاصلہ مکہ شریف سے تقریباً 261 جبکہ مدینہ شریف سے تقریباً 222 کلومیٹر ہے۔ وادی ابواء میں ایک غزوہ بھی درپیش آیا تھا جس میں لڑائی کی نوبت نہیں آئی تھی۔ آج کل وادی ابواء خریبہ کے نام سے مشہور ہے۔

والدین کے وصال کے بعد

والدین کے وصال کے بعد آپ کی پرورش آپ کے دادا جان کے یہاں ہوئی۔ان کا نام عبد المطلب رضی اللہ عنہ ہے، یہ مکہ کے سردار تھے، آپ سے بڑی محبت کرتے، ہر وقت انہیں اپنے ساتھ رکھتے، جب کہیں بیٹھتے تو اپنے ساتھ بٹھاتے، کھانا اپنے ساتھ کھلاتے، رات کو اپنے پہلو میں سللاتے۔ صحن کعبہ میں ان کے بیٹھنے کیلئے ایک تخت رکھا جاتا، کسی بڑے سے بڑے آدمی کی مجال نہ تھی اس پر قدم رکھتا، لیکن جب اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو بلا جھجھک اپنے دادا جان کی جگہ پر بیٹھنےکیلئے آگے بڑھ جاتے۔  (1)جب آپ کی عمر مبارک 8 سال کی ہوئی تو ان کا بھی وصال ہو گیا۔  (2)پھر آپ کی پرورش آپ کے چچا ابو طالب کے یہاں ہوئی۔ آپ کے مبارک بچپن کے متعلق ابو طالب کا کہنا ہے: میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی وقت بھی کوئی جھوٹ بولے ہوں یا کسی کو دھوکہ دیا ہو؛ یا کبھی کسی کو کوئی تکلیف پہنچائی ہو، یا بیہودہ بچوں کے پاس کھیلنے کے لئے گئے ہوں یا کبھی خلاف تہذیب بات کی ہو۔ ہمیشہ انتہائی خوش اخلاق، اچھی عادتوں والے، نرم گفتار، بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے پارسا اور پرہیزگار رہے۔(3)

 (1) السیرۃ النبوية لابن ہشام، اجلال عبد المطلب لہ: 1/ 306.

 (2) شرح الزرقاني علی المواهب، ذكر وفاة امه... الخ، 1/ 353.

 (3) سیرت مصطفےٰ: ص 83

لڑکےپن کی برکتیں

آپ آٹھ سال کی عمر میں اپنے چچا ابو طالب کے گھران کی کفالت میں آئے تو یہاں بھی خیر وبرکت کی بارشیں ہونے لگیں، یہ اپنے بچوں سے زیادہ پیار کرتے، اپنی نگاہوں سے دور نہ ہونے دیتے، ابو طالب کا بیان ہے کہ (سرکار علیہ السلام سے پہلے) جب بھی میرے بچے کھانا کھاتے تو پیٹ نہ بھرتا، لیکن جب سے حضور کے ساتھ کھانا تناول فرماتے تو سب بچوں کا پیٹ بھر جاتا، اس لئے جب بھی میں اپنے بچوں کو کھانا دینا چاہتا تو کہتا: رُک جاؤ! میرے بیٹے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آنے دو پھر کھانا شروع کرنا۔ اسی طرح جب بھی بچوں کو دودھ پلانا ہوتا تو آپ کو پہلے پلایا جاتا پھر بچوں کو دیا جاتا۔ اگر اس کے بینوں میں سے پہلے کوئی پی لیتا تو سارا برتن اکیلا ہی ختم کر دیتا۔ ابو طالب یہ دیکھ کر کہتے: اے محمد! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری برکتوں کا کیا کہنا۔(1)

 (1) دلائل النبوة، وفات عبد المطلب وضم ابی طالب رَسُولُ اللہ، 1/ 95

یمن کا سفر

جب آپ کی عمر مبارک دس (10) سال کی تھی تو آپ اپنے چچا زبیر کے ہمراہ یمن کی طرف سفر کے لئے نکلے، یہاں راستے میں ایک عجیب واقعہ ہوا کہ کسی وادی میں ایک اونٹ لوگوں کو گزرنے سے روک رہا تھا، جب اس اونٹ نے آپ کو دیکھا تو بیٹھ گیا اور اپنا سینہ زمین پر رگڑنے لگا تو آپ اپنے اونٹ سے اتر کر اس پر سوار ہوئے اور جب وادی کے دوسری طرف پہنچ گئے تو اس اونٹ کو چھوڑ دیا۔ جب سفر سے لوٹے تو دیکھا کہ وادی پانی سے بھری ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم میرے پیچھے آجاؤ، آپ اس وادی میں تشریف لے گئے اور سب قریش آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، اللہ پاک نے پانی خشک فرما دیا۔ جب لوگ مکہ واپس آئے تو سب کو یہ واقعہ سنایا، جسے سن کر انہوں نے کہا اس بچے کی شان نرالی ہے۔(2)

(2) سبل الھدی والرشاد، الباب السابع فی سفرہ --- الخ، 2/ 139

شام کا پہلا تجارتی سفر

آپ کی عمر مبارک جب 12 برس ہوئی تو آپ نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ شام کی طرف پہلا تجارتی سفر فرمایا۔ جب قافلہ شہر بصرئ پہنچا تو وہاں کے ایک راہب بحیرا جس کا اصل نام ”برجیس“ تھا اس سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ اس نے آپ کو علاماتِ نبوت سے پہچان لیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر یہ اعلان کرنے لگا: یہ تمام جہانوں کےسردار ہیں، یہ ربّ العالمين کے رسول ہیں، اللہ کریم انہیں رحمۃ للعالمین (تمام جہانوں کیلئے رحمت) بنا کر بھیجے گا۔ پھر اس نے آپ اور اہل قافلہ کیلئے کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس دعوت میں اس نے مزید کچھ علاماتِ نبوت دیکھیں۔ اس نے ابو طالب سے کہا: انہیں شام مت لے جاؤ۔ اگر اہل شام نے انہیں علامات نبوت سے پہچان لیا تو انہیں قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا آپ اسی مقام سے واپس تشریف لے آئے۔ اس راہب نے آپ کو سفر کیلئے کچھ سامان بھی دیا۔(1)

(1) ترمذی، کتاب المناقاب، باب ماجاء فی بدء نبوة النبی، 5/ 356-357، حدیث: 3640 مأخوذاً

مزید تجارتی سفر

اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجارت کی غرض سے کئی سفروں پر تشریف لے گئے۔ دس برس کی عمر میں اپنے چچا حضرت زبیر بن عبد المطلب کے ساتھ یمن کا بھی تجارتی سفر فرمایا۔ (1) آپ نے جو تجارتی سفر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کیلئے کئے، ان میں سے دو سفریمن(2)  کی جانب بھی تھے۔ چنانچہ روایت میں ہے: حضرت خدیجہ نے آپ کو جُرَش (یمن میں ایک مقام) کی طرف دو بار تجارت کیلئے بھیجا اور ان میں سے ہر سفر ایک اونٹنی کے عوض تھا۔(4)

(2) سبل الھدی والرشاد، الباب السابع فی سفرہ --- الخ، 2/ 139

(3) یمن (Yemen) اور مکہ کا درمیانی فاصلہ تقریباً 1034 کلومیٹر ہے۔

(4) مستدرک، کتاب معرفة الصحابة منحم خدیجہ --- الخ، 4/ 178، حدیث: 4887

حلف الفضول میں شرکت

شہر زُبید کا ایک شخص اپنا مال بیچنے مکہ شہر میں آیا۔ عاص بن وائل نام کے ایک شخص نے اس سے مال خریدا مگر قیمت نہ دی۔ اس تاجر نے کچھ قبیلوں سے فریاد کی مگر کسی نے اس کی مدد نہ کی۔ پھر یہ شخص جبلِ ابی قبیس  (1)پر چڑھ گیا اور سب سے فریاد کی۔ اس پر قریش کے کچھ صلح پسند لوگوں نے ایک اصلاحی تحریک چلائی۔ قریش کے بڑے بڑے سردار عبداللہ بن جدعان کے گھر پر جمع ہوئے، وہاں نبی کریم علیہ السلام کے چچا زبیر بن عبد المطلب نے یہ رائے پیش کی کہ ہمیں باہمی معاہدہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ قریش کے سرداروں نے ایک معاہدہ کیا اور پکارا کہ ہم بے امنی کا خاتمہ، مسافروں کی حفاظت، غریبوں کی امداد، مظلوم کی حمایت اور ظالم کا محاسبہ کریں گے۔ اس معاہدہ میں آپ بھی شریک ہوئے۔ اعلانِ نبوت کے بعد بھی آپ اس معاہدہ میں شرکت پر مسرت کا اظہار کرتے اور فرماتے: اس معاہدہ سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس معاہدہ کے بدلے میں کوئی مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیتا تو مجھے اتنی خوشی نہیں ہوتی۔ آج بھی اگر کوئی مظلوم اس معاہدہ کے تحت مجھے مددکیلئے پکارے تو میں اس کی مددکیلئے تیار ہوں۔(2)

اس معاہدہ کو ”حِلفُ الفُضول“ کے نام سے موسوم کیا گیاْ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت پہلے مکہ میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدہ کا سبب بننے والوں میں سب کا نام ”فضل“ تھا۔ اسی وجہ سے اس معاہدہ کا نام ”حلف الفضول“ یعنی ان چند آدمیوں کا معاہدہ جن کے نام ”فضل“ تھے۔(3)

 

(1) ابوقبیس ایک پہاڑ ہے جو مسجد حرام کے باہر صفا و مروہ کے قریب واقع ہے۔ تعلیم النبی سے دنیا میں سب سے پہلی پہاڑ پیدا ہوا۔ اس پہاڑ کو ”الأمین“ بھی کہا جاتا ہے۔ (تفسیر در منشور، رپ 4، آل عمران، تحت الآية: 2/ 96، 266، بلدالامین، ص 206 ملخصاً).

(2) الروض الانف، حلف الفضول، 1/ 242-244 ملخصاً

(3) السیرۃ النبوية لابن ہشام، حرب الفجار، 1/ 265

No comments:

Post a Comment