Friday, August 14, 2026

Baarhwein Ka Noor Dil Pe Chaa Gya (بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

ہر غلامِ مصطفیٰ کہہ رہا ہے مرحبا

انس و جن، فرشتے، حور ہو رہے ہیں سب فدا

انس و جن، فرشتے، حور ہو رہے ہیں سب فدا

شان کی ادا، چہرہ چاند سا

آ گئے نبی، آ گئے نبی (1)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

مستی و سرور میں بزمیِ کائنات ہے

عاشقوں میں دھوم ہے، جشن والی رات ہے

عاشقوں میں دھوم ہے، جشن والی رات ہے

سج گئی زمین، عرش سج گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(2)

 

نورِ نگاہِ انبیا میرے حضور آ گئے

شان و نشانِ کبریا میرے حضور آ گئے

 

سرکار کی آمد: مرحبا!

سردار کی آمد: مرحبا!

مختار کی آمد: مرحبا!

غم خوار کی آمد: مرحبا!

آقا کی آمد: مرحبا!

داتا کی آمد: مرحبا!

مولا کی آمد: مرحبا!

ملجا کی آمد: مرحبا!

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

ربی ہب لی امتی" لب پہ ہے دعا سجی

رب نے بھی کرم کیا، یہ دعا قبول کی

رب نے بھی کرم کیا، یہ دعا قبول کی

پھر نہ کیوں گدا سارے ہوں فدا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(3)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

بی بی آمنہ کا گھر نور سے ہے سر بسر

آ گئے ہیں روشنی میں شام کے محل نظر

آ گئے ہیں روشنی میں شام کے محل نظر

جانِ آمنہ، نورِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(4)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

ہو مبارک آج تاج والے آقا آ گئے

جن کی ملکیت میں دو جہاں سب سما گئے

جن کی ملکیت میں دو جہاں سب سما گئے

مالکِ جہاں، نعمتِ خدا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(5)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

فانیِ حزیں کا گھر بھی قمقموں سے سج گیا

آرزو ہے جھوم کر لبوں پہ آئے یہ صدا

آرزو ہے جھوم کر لبوں پہ آئے یہ صدا

قبر میں تجھے دیکھ کر شہا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(6)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

سرکار کی آمد: مرحبا!

سردار کی آمد: مرحبا!

مختار کی آمد: مرحبا!

سردار کی آمد: مرحبا!

غم خوار کی آمد: مرحبا!

آقا کی آمد: مرحبا!

داتا کی آمد: مرحبا!

مولا کی آمد: مرحبا!

ملجا کی آمد: مرحبا!

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

پرچموں کی ہے بہار، ہے خوشی یہ شاندار

ہر طرف برس رہی ہے رحمتوں کی جو فوار

ہر طرف سماں کیف سے بھرا

آ گئے نبی، آ گئے نبی(7)

 

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

نور سے سجا عرشِ کبریا

آ گئے نبی، آ گئے نبی

بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا،

 آ گئے نبی، آ گئے نبی

 

 (1)یہ اشعار مشہور نعت رسول مقبول ﷺ "بارہویں کا نور دل پہ چھا گیا" کے ابتدائی مصرعے ہیں۔ ان اشعار میں نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی اور ان کے حسن و جمال کو بیان کیا گیا ہے۔

غلامانِ مصطفیٰ کی خوشی

نبی پاک ﷺ کی آمد پر ان سے محبت کرنے والا ہر امتی اور غلام خوشی اور مسرت کے ساتھ "مرحبا" (خوش آمدید) کہہ رہا ہے۔

تمام مخلوقات کی شیدائیت

آپ ﷺ کی ولادت کی خوشی صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ انس و جن، فرشتے اور حوریں سب آپ ﷺ کے حسن و جمال اور ذات پر فدا ہو رہے ہیں۔

حسن و جمال اور شان

آپ ﷺ کا رخِ انور چاند کی طرح روشن اور چمکتا ہوا ہے اور آپ ﷺ کی ہر ادا بے حد شان دار اور باوقار ہے۔

آمدِ مصطفیٰ ﷺ

کائنات کی تمام مخلوقات مل کر اس بات کا جشن منا رہی ہیں کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ دنیا میں تشریف لے آئے ہیں۔

 (2)یہ خوبصورت اشعار نعتِ پاک کے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت (آمد) کی رات اور اس کی وجہ سے پوری کائنات میں پھیلنے والی خوشیوں کا منظر پیش کیا گیا ہے:

کائنات میں خوشی کی لہر

حضور اکرم ﷺ کی ولادت کی رات پوری کائنات (زمین، آسمان اور تمام مخلوقات) مسرت، خوشی اور ایک خاص سرور (روحانی خوشی) میں ڈوبی ہوئی ہے۔

عاشقوں کی عید اور جشن

آپ ﷺ کے تمام شیدائی اور عاشقِ رسول اس عظیم رات کو عید کی طرح منا رہے ہیں۔ ہر طرف خوشی، ذکرِ نبی اور جشن کا سماں ہے۔

زمین و آسمان کی آرائش

آپ ﷺ کے قدم مبارک کی برکت سے نہ صرف یہ دنیا اور زمین سجائی گئی، بلکہ آسمانوں اور عرشِ معلیٰ پر بھی فرشتوں نے چراغاں اور سجاوٹ کر رکھی ہے۔

 (3)یہ اشعار نبی کریم ﷺ کی اپنی امت کے لیے بے مثال شفقت، محبت اور استجابِ دعا کا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں:

امتی امتی کی پہلی صدا

روایات کے مطابق، ولادتِ با سعادت کے لمحے سے ہی حضور اکرم ﷺ کی مبارک زبان پر اپنی امت کے لیے بخشش کی دعا "ربِّ هَبْ لِي أُمَّتِي" (اے میرے رب! مجھے میری امت عطا فرما/بخش دے) جاری تھی۔ آپ ﷺ نے دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے اپنی امت کو یاد فرمایا۔

قبولیتِ دعا اور کرمِ الٰہی

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی اس التجا کو شرفِ قبولیت بخشا اور امت پر اپنا خاص فضل و کرم فرمایا کہ ان کے آقا کی شفاعت کو ان کا مقدر بنا دیا۔

گداؤں اور امتیوں کی فدائیت:

جب آقا ﷺ کا یہ عالم ہے کہ پیدا ہوتے ہی امت کی بخشش مانگ رہے ہیں، تو پھر ان کے در کے تمام محتاج، منگتے اور غلام (گدا) کیوں نہ ان کے نام اور ذات پر اپنی جان نثار کریں۔

 (4)یہ اشعار نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے وقت ظاہر ہونے والے عظیم معجزات اور انوار و تجلیات کا احاطہ کرتے ہیں:

سیدہ آمنہ کے گھر میں نور کا ظہور

نبی پاک ﷺ کے اس دنیا میں جلوہ گر ہوتے ہی سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کا پورا گھر اور ارد گرد کا ماحول اللہ تعالیٰ کے خاص نور سے سراپا روشن و منور ہو گیا۔

شام (Syria) کے محلوں کا روشن ہونا (معجزہ ولادت)

احادیثِ مبارکہ اور سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ حضور ﷺ کی ولادت کے وقت ایک ایسا عظیم نور ظاہر ہوا جس کی روشنی مکہ مکرمہ سے دور "بصریٰ" (ملکِ شام) کے محلوں اور ایوانوں تک پہنچ گئی اور وہ دور بیٹھے روشن نظر آنے لگے۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اسلام کا نور جلد پوری دنیا میں پھیلے گا۔

جانِ آمنہ اور نورِ الٰہی

آپ ﷺ اپنی والدہ محترمہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کا تارا اور ان کی جان ہیں، اور حقیقت میں اللہ تعالیٰ (کبریا) کے نورِ ہدایت کا مظہر بن کر دنیا میں تشریف لائے ہیں۔

 (5)یہ اشعار رسولِ اکرم ﷺ کی سلطنت، شانِ حاکمیت اور عطائے خداوندی کو نہایت عقیدت کے ساتھ بیان کرتے ہیں:

تاجدارِ مدینہ کی آمد کی مبارکباد

نبی کریم ﷺ کی ولادت پر دنیا کو تبریک و مبارکباد دی جا رہی ہے کہ تمام انبیا اور مخلوقات کے سرتاج، سچے تاجدار اور مالک و آقا اس دنیا میں جلوہ افروز ہو چکے ہیں۔

دونوں جہانوں پر تصرف و ملکیت

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اس کائنات (دنیا اور آخرت) میں وہ مقام و مرتبانہ عطا فرمایا ہے کہ دونوں جہان ان کے زیرِ نگیں اور ملکیت میں آتے ہیں۔ تمام جہانوں کا نظام انہی کے صدقے میں قائم ہے۔

مالکِ جہاں اور سب سے بڑی نعمت

آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جہان کا والی و وارث بنایا ہے اور آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کائنات کے لیے اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان اور عظیم ترین نعمت (نعمتِ عظمیٰ) ہے۔

 (6)یہ اشعار نعت کے خلوص، شاعرا نہ نذرانے اور آخرت کی سب سے بڑی آرزو کا خوبصورت عکاس ہیں:

عاجزی اور میلاد کی خوشی

یہاں "فانی" نعت گو شاعر کا تخلص ہے اور "حزیں" کے معنی غمگین یا عاجز کے ہیں۔ شاعر اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ جیسے ناکارہ اور غمزدہ امتی کے گھر پر بھی سرکارِ دو عالم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں چراغاں (روشنی اور قمقمے) ہو گیا ہے۔

دل کی سب سے بڑی تمنا

شاعر اپنے دل کی سب سے گہری اور شدید خواہش کا اظہار کر رہا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور خوشخبری یہی ہوگی کہ وہ لمحہ آئے جب وہ جھوم کر یہ بات کہہ سکے۔

قبر کا منظر اور آقا ﷺ کی زیارت

اسلامی عقیدے کے مطابق قبر میں میت سے سوال و جواب کے وقت رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا جاتا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ جب قبر کی تنہائی میں آقا ﷺ کا جلوہ اور زیارت نصیب ہو، تو وہ خوشی سے نعرہ لگائے اور پکار اٹھے کہ "میرے آقا و نبی تشریف لے آئے ہیں!"

 (7)یہ اشعار آمدِ مصطفیٰ ﷺ (عید میلاد النبی) کی جشن، مسرت اور برکاتِ میلاد کا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں:

سبز پرچم اور شاندار جشن

نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں عاشقانِ رسول نے جگہ جگہ سبز پرچم اور جھنڈیاں لگا رکھی ہیں، جس سے ہر طرف بہار کا سماں ہے۔ یہ ایک انتہائی شاندار اور بے مثال خوشی کا موقع ہے۔

رحمتوں کی بارش

نبی پاک ﷺ "رحمۃ للعالمین" (تمام جہانوں کے لیے رحمت) بن کر تشریف لائے ہیں۔ آپ ﷺ کی آمد کی برکت سے ہر سو رب العزت کی رحمتوں اور برکتوں کی پھوار برس رہی ہے۔

روحانی سرور اور کیف

حضور اکرم ﷺ کے ذکر اور آمد سے ماحول میں ایک خاص قسم کی روحانی خوشی، سکون اور سرور (کیف) پھیلا ہوا ہے، جس سے ہر دل منور اور شادمان ہے۔

No comments:

Post a Comment