Sunday, August 16, 2026

درودِ پاک کی برکتیں، زبان کی حفاظت اور اچھی صحبت کی اہمیت

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِ سَیِّدُنا ابوالمُظَفَّر محمد بن عبد اللہ خَیَّام سَمَرْقَنْدِی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں ایک روز راستہ بھول گیا، اچانک ایک صاحب نظر آئے اور انہوں نے کہا: ”میرے ساتھ آؤ۔“ میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ مجھے گمان ہوا کہ یہ حضرتِ سَیِّدُنا خضر علیہ السلام ہیں۔ میرے اِستفسار (یعنی پوچھنے) پر انہوں نے اپنا نام خضر بتایا، ان کے ساتھ ایک اور بزرگ بھی تھے، میں نے ان کا نام دریافت کیا تو فرمایا: یہ اِلیاس (علیہ السلام) ہیں۔ میں نے عرض کی: اللہ پاک آپ پر رحمت فرمائے، کیا آپ دونوں حضرات نے سرورِ کائنات، شہنشاہِ موجودات، محمدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے عرض کی: سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنا ہوا ارشادِ پاک بتائیے تاکہ میں آپ سے روایت کر سکوں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھے گا اللہ پاک اس کا دل تر و تازہ رکھے گا اور اس کے دل کو مُنَوَّر فرمائے گا اور جو شخص مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھے اُس کا دل نفاق سے اِسی طرح پاک کیا جاتا ہے جس طرح پانی سے کپڑا پاک کیا جاتا ہے نیز جو شخص ”صَلَّی اللہُ عَلٰى مُحَمَّد“ پڑھتا ہے تو لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اگرچہ پہلے نفرت کرتے تھے اور ”صَلَّی اللہُ عَلٰى مُحَمَّد“ پڑھنے والا اپنے اوپر رحمت کے 70 دروازے کھول لیتا ہے۔

(1)... یہ مضمون امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب”گفتگو کے آداب“صفحہ 93 تا 103 سے لیا گیا ہے۔

 (القول البدیع، ص277 ملتقطاً)

زمانے والے ستائیں، دُرُودِ پاک پڑھو

جہاں کے غم جو رُلائیں، دُرُودِ پاک پڑھو

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

نافرمانی کا ایک لفظ بھی دوزخ میں پہنچا سکتا ہے

بعض اوقات مسلمان بے خیالی میں ایسی پیاری پیاری بات کر ڈالتا ہے جس کی خود اُسے بھی خبر نہیں ہوتی اور اللہ کریم اُس سے راضی ہو چکا ہوتا ہے اور کوئی تو بے پروائی میں ایک آدھ ایسی بات بک ڈالتا ہے کہ اُسے اِس کی سُدھ بھی نہیں ہوتی حالانکہ اِس بکواس کی نُحوست سے تباہی اُس کا مقدر بن چکی ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک بندہ کبھی اللہ پاک کی رضا مندی کا کوئی ایسا کلمہ (یعنی سینٹینس-SENTENCE) کہہ دیتا ہے کہ جس کی طرف اُسے دھیان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے اللہ پاک اُس کے بہت سے دَرجات (گریڈز-GRADES) بلند فرما دیتا ہے اور بے شک بندہ کبھی اللہ پاک کی نافرمانی کا کوئی ایسا کلمہ (SENTENCE) کہہ گزرتا ہے کہ اُس کی طرف اُس کو دھیان بھی نہیں ہوتا اور اِس کی وجہ سے دوزخ میں گرتا چلا جاتا ہے۔

 (مشکوۃ، 2/ 189، حدیث: 4813)

بُری صُحْبَت نے برباد کر کے رکھ دیا تھا

اے عاشقانِ رسول! ابھی دل ہلا دینے والی حدیثِ پاک بیان ہوئی، واقعی زبان بہت ہی سوچ سمجھ کر چلانی چاہئے، زبان کی حفاظت کا ذہن بنانے میں دعوتِ اسلامی کا نہایت اہم کردار ہے، ہم سبھی کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں رہتے ہوئے خوب دینی کام کرنے چاہئیں اور ہمیشہ بُری صُحبت سے دور رہنا چاہئے۔ بُری صحبت سے برباد ہونے کے بعد ہدایت ملنے پر عاشقانِ رسول کی صحبتِ بابرکت میں آنے والے ایک خوش نصیب اسلامی بھائی کی ”مدنی بہار“ سنئے چنانچہ کراچی کے علاقے ”گلستانِ جوہر“ کے ایک اسلامی بھائی بڑے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے بد اخلاقی اور گناہوں کے دلدل میں پھنس چکے تھے، انہیں گانے سننے کا بہت زیادہ شوق تھا اور پھر یہ شوق اتنا بڑھا کہ وہ مختلف پروگراموں میں خود گانے گا کر لوگوں سے داد وصول کرنے لگے۔ اس کے علاوہ چرس پینا ان کا معمول تھا، گناہوں کی عادت اتنی زیادہ بڑھ چکی تھی کہ فُحش گوئی (یعنی بے حیائی کی باتیں) کرنا اور جھوٹ بولنا ان کے نزدیک گویا کوئی عیب ہی نہ تھا، خوش قسمتی سے 2005 میں انہیں مدینۃ الاولیا ملتان شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین دن کے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جہاں یہ غوثِ پاک رحمۃُ اللہِ علیہ کے مُرید بھی بنے، لیکن اجتماع سے لوٹنے کے بعد وہ دوبارہ بڑے دوستوں کی صحبت میں جا بیٹھے اور پھر سے گناہوں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ ایک دن اچانک انہیں کوئی ذہنی مرض لاحق ہو گیا جس کی وجہ سے انہیں سورۂ فاتحہ بھی یاد نہ رہی اور وہ اپنے ہی گھر میں پاگلوں کی طرح رہنے لگے، اپنے والدین کو اپنا دشمن سمجھنے لگے، ان کی حالت اتنی خراب ہو گئی کہ اپنے مرض کی وجہ سے نہ وہ کھانا کھا سکتے تھے اور نہ سو سکتے تھے، بالآخر انہیں نفسیاتی ہسپتال میں داخل کروا دیاگیا۔ ان کی امی جان سے اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اور وہ ان کے لئے کثرت سے دعائیں اور وظیفے کرتی رہیں، ایک رات ان کی امی جان کے خواب میں ایک بزرگ تشریف لائے اور کچھ عمل کرنے کو کہا۔ ان کی امی جان بلا ناغہ وہ عمل کرنے لگیں، اُس عمل کی برکت سے آہستہ آہستہ ان اسلامی بھائی کی حالت بہتر ہونے لگی اور وہ جسمانی طور پر صحت یاب ہونے لگے اور الحمدُ للہ ایک دن وہ بھی آیا کہ انہوں نے دعوتِ اسلامی کے سنّتیں سیکھنے سکھانے کے قافلے میں سفر کیا، جہاں انہیں عاشقانِ رسول کی صحبت میں گناہوں سے بچنے کا ذہن ملا اور وہ دینی ماحول میں رَچتے بستے چلے گئے اور دعوتِ اسلامی کے دینی کام کرتے کرتے ڈویژن سطح پر مدنی انعامات (جسے اب ”نیک اعمال“ کہتے ہیں) کے ذمہ دار بھی بنے۔

اے عاشقانِ صحابہ واہلِ بیت! بیان کردہ مدنی بہار ہمیں دعوتِ فکر دے رہی ہے کہ ہم اپنی صُحبتوں اور دوستیوں پر نظرِ ثانی کر لیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ نیک اعمال سے دوری کی وجہ ہماری بُری دوستی اور گندی صحبت ہو! حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ”بُروں کی صُحْبت فائدہ اور اَچھوں کی صُحْبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی۔ بھٹّی والے سے مُشک نہیں ملے گا، گرمی اور دھواں ہی ملے گا۔ مُشک (کی خوشبو) والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں، مُشک یا خوشبو ہی ملے گی۔مزید فرماتے ہیں: ”حتّیٰ الاِمکان بُری صُحبت سے بچو کہ یہ دین و دنیا برباد کر دیتی ہے اور اچھی صُحبت اختیار کرو کہ اس سے دین و دنیا سُنبل جاتے ہیں۔ سانپ کی صُحبت جان لیتی ہے۔ بُرے یار کی صُحبت ایمان برباد کر دیتی ہے۔

  (مرآۃ المناجیح، 6/ 591)

حضرت مولانا روم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:

صُحبتِ صَالِح تُرَا صَالِح کُند

صُحبتِ طَالِح تُرَا طَالِح کُند

یعنی اچھے کی صُحبت تجھے اچھا اور بُرے کی صُحبت تجھے بُرا بنا دے گی۔

 (مثنوی، دفتر اول، ص22)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

No comments:

Post a Comment