Sunday, August 16, 2026

سوچ سمجھ کر بولیں: خاموشی میں سلامتی ہے

بات کو فضُولیات سے پاک کرنے کا بہترین نسخہ

گفتگو میں کمی لانے کے خواہش مندوں کیلئے اپنی بات کو فضُول لفظوں اور مختلف خرابیوں سے پاک کرنے کے لئے ”احیاء العلوم“ میں کچھ اس طرح لکھا ہے: گفتگو کی چار قسمیں ہیں:

﴿1﴾ مکمل نقصان دہ بات ﴿2﴾ مکمل فائدہ مند بات ﴿3﴾ ایسی بات جو نقصان دہ بھی ہو اور فائدہ مند بھی اور ﴿4﴾ ایسی بات جس میں نہ فائدہ ہو نہ نقصان تو پہلی قسم کی بات جو کہ مکمل یعنی ساری کی ساری نقصان دہ ہے اُس سے ہمیشہ بچنا ضروری ہے اور اسی طرح تیسری قسم والی بات کہ جس میں نقصان و فائدہ دونوں ہیں، اس سے بھی بچنا لازم ہے اور جو چوتھی قسم ہے وہ فضُولیات میں شامل ہے کہ اُس کا نہ فائدہ ہے نہ نقصان، لہٰذا ایسی بات میں وقت ضائع کرنا بھی ایک طرح کا نقصان ہی ہے، اس کے بعد صرف دوسری ہی قسم کی بات رہ جاتی ہے یعنی باتوں میں سے تین چوتھائی (یعنی 75%) قابلِ استعمال نہیں ہیں اور دوسری قسم کی بات جو کہ فائدہ مند ہے بس وہی قابلِ استعمال ہے مگر اس قابلِ استعمال بات کے اندر باریک قسم کی ریا کاری، بناوٹ، غیبت، تہمت، جھوٹے مبالغے، ”میں میں کرنے کی آفت“ یعنی اپنی فضیلت و پاکیزگی بیان کر بیٹھنے وغیرہ وغیرہ خطرے موجود ہیں، مزید یہ کہ فائدہ مند گفتگو کرتے کرتے فضول باتوں میں جا پڑنے پھر اس کے ذریعے اور آگے بڑھتے ہوئے خدا نخواستہ اِس میں گناہ ہو جانے وغیرہ وغیرہ کے خوف اور ڈر شامل ہیں اور ان خرابیوں کا شامل ہونا ایسا باریک ہے جس کا اکثر علم نہیں ہوتا، لہٰذا اس قابلِ استعمال بات کے ذریعے بھی انسان خطرات میں گھرا رہتا ہے۔

 (احیاء العلوم، 3/ 138)

دُنیوی بات منہ سے نکل جائے تو کچھ ذِکرُ اللہ کر لینا چاہئے

اللہ پاک کے نیک بندے خالص دُنیوی (غیر فضول) باتوں کو بھی اچھا نہ سمجھتے تھے، جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمہ رحمۃُ اللہِ علیہ جب کوئی دُنیوی بات کہہ دیتے تو اس کے بعد

 ”سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ“

 پڑھتے پھر فرماتے: ”ہمارے اَسلاف (یعنی گزرے ہوئے بزرگِ دین) کسی مجلس (یعنی بیٹھک) میں خالص دنیاوی کلام کرنا اچھا نہ جانتے تھے، جب تک کہ اُس کے ساتھ کوئی نیک بات نہ ملا لیتے۔

  (تنبیہ المغترین، ص190)

جب رحمت کی توجہ ہٹا دی جاتی ہے

باتونی شخص کو تو ڈر جانا چاہئے کہ کہیں اللہ رَبُّ العِزَّت نے میری طرف سے رحمت کی توجہ تو نہیں ہٹا دی! چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ مَعْرُوف کَرْخی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ”انسان کا بے کار باتیں کرنا اللہ پاک کا اُس کو بے مدد چھوڑ دینے کے باعث ہوتا ہے۔

  (تنبیہ المغترین، ص190)

حُسنِ اَخلاق اور دین کی سمجھ سے محروم

مُنافق دنیا داری کے معاملے میں کتنا ہی عَقلمند سہی مگر چونکہ وہ حُسنِ اَخلاق اور دین کی سمجھ بوجھ سے محروم ہوتا ہے اس لیے یقیناً وہ بد نصیب و محروم ہے۔ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ منافق میں دو خصلتیں جمع نہیں ہوتیں: ﴿1﴾ حُسنِ اَخلاق اور ﴿2﴾ دین کی سمجھ۔

 (ترمذی، 4/ 313، حدیث: 2693)

بولنے والا بارہا پچھتاتا ہے

ایک نصیحت آموز عربی شعر کا ترجمہ ہے: ”علم زینت (یعنی خوبصورتی) ہے اور خاموشی سلامتی اور جب کبھی بولنا پڑے تو زیادہ نہ بولو۔ تم نے خاموشی پر کبھی شرمندگی نہیں اٹھائی ہوگی۔ مگر بول کر بہت بار ندامت (یعنی شرمندگی) اٹھائی ہوگی۔

 (تنبیہ الغافلین، ص116)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! واقعی یہ حقیقت ہے کہ خاموش رہنے میں ندامت (یعنی شرمندگی) کا امکان (یعنی CHANCE) بہت کم ہے جب کہ موقع بے موقع ”بول پڑنے“ کی عادت سے بارہا SORRY کہنا پڑتا اور معافی مانگنی پڑتی ہے یا پھر دل ہی دل میں پچھتاوا ہوتا ہے کہ میں یہاں نہ بولا ہوتا تو اچھا تھا کیوں کہ میرے بولنے پر سامنے والے کی جھجھک اڑ گئی، گھری گھری سننی پڑی، فلاں ناراض ہو گیا، فلاں کا چہرہ اتر گیا، فلاں کا دل دکھ گیا، اپنا امپریشن (IMPRESSION) بھی خراب پڑا وغیرہ وغیرہ۔ حضرت محمد بن نَضْر حارثی رحمۃُ اللہِ علیہ سے کتنی پیاری بات بیان کی گئی ہے: ”زیادہ بولنے سے (عزت و) وقار جاتا رہتا ہے۔

  (موسوعة لابن ابی الدنیا، 7/ 60، قول نمبر: 52)

بول کر“ پچھتانے سے ”نہ بول کر“ پچھتانا اچھا

سچ ہے، ”بول کر“ پچھتانے سے ”نہ بول کر“ پچھتانا اچھا اور ”زیادہ کھا کر“ پچھتانے سے ”کم کھا کر“ پچھتانا اچھا کہ جو بولتا رہتا ہے وہ مصیبتوں میں پھنستا رہتا ہے اور جو زیادہ کھانے کا عادی ہوتا ہے وہ اپنا معدہ تباہ کر بیٹھتا، اکثر مٹاپے کا شکار ہو جاتا اور طرح طرح کی بیماریوں کی زد میں رہتا ہے، اگر جوانی میں امراض سے قدرے بچت ہو بھی گئی تو جوانی ڈھلنے کے بعد بسا اوقات ”سراپا مرض“ بن جاتا ہے۔ زیادہ کھانے کے نقصانات اور مٹاپے کے علاج وغیرہ جاننے کے لئے فیضانِ سنّت جلد اوّل کے باب ”بھوک کے فضائل“ کا مطالعہ فرمائیے۔

زیادہ بولنے والے کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے

بُری صُحبت برباد کرتی، بُری جگہ جانے والا بدنام ہوتا اور باتونی آدمی کو آخر کار شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا لُقمان حکیم رحمۃُ اللہِ علیہ کے بارے میں کہا گیا ہے، انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے بیٹے! ﴿1﴾ جو شخص بُرے آدمی کا دوست اور ساتھی بنتا ہے اسے سلامتی نہیں ملتی اور ﴿2﴾ جو بُری جگہ پر جاتا ہے وہ بدنام ہوتا ہے اور ﴿3﴾ جو اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا وہ نادم (یعنی شرمندہ) ہوتا ہے۔

 (تنبیہ الغافلین، ص115)

جو تول کر بولتا ہے فضُول باتوں سے بچ جاتا ہے

عقلمند کی شان یہی ہے کہ سوچ سمجھ کر بات کرے، اپنا وقت فضول ضائع نہ کرے، اپنے معاملات پر پوری توجہ رکھے، اس طرح اُسے فضول باتوں کا موقع ہی کہاں ملے گا! حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذَر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سوال کیا کہ ابراہیمی صحیفوں (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہونے والی آسمانی کتابوں) میں کیا مضامین تھے؟ فرمایا: وہ سب عبرت و نصیحت پر مشتمل تھے (ان میں یہ بھی تھا)، عقلمند پر لازم ہے کہ اپنے زمانے کے حالات سے واقف ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرے۔ باتیں کرنے کے بجائے کام کرے اور اس کا کلام فضول باتوں پر مشتمل نہ ہو۔

 (اللہ والوں کی باتیں، 1/ 319۔ حلیۃ الاولیاء، 1/ 222)

No comments:

Post a Comment