کسی بھی قسم کی بیماری، مشکل یا پریشانی کے وقت قرآنِ پاک کی درج ذیل چھ آیاتِ شفاء پڑھ کر دم کر لیجیے یا پانی پر دم کر کے مریض کو پلا دیجیے یا کسی پرچے پر لکھ کر تعویذ بنا کر پہن لیجیے، اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس کی برکت سے تمام بیماریوں سے شفاء حاصل ہو گی:
وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مَّؤْمِنِيْنَ
(پ۱۰،
التوبة: ۱۴)
وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِ
(پ۱۱،
يونس: ۵۷)
یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ
مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-
(پ۱۴،
النحل: ۶۹)
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ
شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ
(پ۱۵،
بنی اسرائیل: ۸۲)
وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ
(پ۱۹،
الشعراء: ۸۰)
قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ
شِفَآءٌ
(پ۲۴،
حم السجدة: ۴۴)
قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ
بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ
قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ(14)
تو
ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں
ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا۔
{ قَاتِلُوْهُمْ : تم
ان سے لڑو۔} ارشاد فرمایا کہ تم ان سے لڑو، اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں سے قتل کے ذریعے انہیں
عذاب دے گا اور انہیں قید میں مبتلا کر کے ذلیل
ورسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا اور ان پر غلبہ عطا فرمائے گا
اور ایمان والوں کے دلوں کو ٹھنڈا کردے گا۔
( مدارک،
التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۴ ، ص ۴۲۸ )
تاریخ
شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارے وعدے پورے فرمائے اور
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ کی دی ہوئی ساری خبریں سچ ثابت ہوئیں اور آپ صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کا ثبوت واضح تر
ہوگیا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار سے اپنا بدلہ لینا جس سے مسلمانوں
کے دلوں کا رنج نکلے جائز ہے بلکہ بعض اوقات بدلہ لینا ضروری ہے مگر ظلم و زیادتی
نہ ہو۔
(پ۱۰، التوبة: ۱۴)
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ
مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ
رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(57)
اے
لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور
رحمت ایمان والوں کے لیے۔
{ یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ : اے لوگو!۔} اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس
کے نصیحت، شفا،ہدایت ا ور رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب اُن فوائدِ عظیمہ کی
جامع ہے۔
اس
آیت میں قرآنِ کریم کے تین عظیم فائدے بیان کئے گئے
( 1 )… ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘اس
کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو پسندیدہ چیزکی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ۔ خلیل
نے کہا کہ ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس
سے دل میں نرمی پیدا ہو۔
( خازن، یونس، تحت
الآیۃ: ۵۷ ، ۲ / ۳۲۰ )
تفسیر
جمل میں ہے کہ ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘ کا معنی ہے وعظ و نصیحت
یعنی مُکَلَّف کے سامنے نیک اعمال جو کہ اس کیلئے فائدہ مند ہیں اور
برے اعمال جو کہ اس کے لئے نقصان دِہ ہیں بیان کر کے اسے نصیحت کرنا اسی طرح اچھے
عمل کرنے کی ترغیب دینا اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانا بھی اس میں داخل
ہے۔
( جمل، یونس، تحت
الآیۃ: ۵۷ ، ۳ / ۳۷۲ )
اور قرآنِ کریم سے یہ فائدہ انتہائی
احسن طریقے سے حاصل ہوتاہے۔
( 2 )…شفاء : اس سے
مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی اَمراض کودور کرتا ہے، دل کے امراض سے مراد مَذموم
اَخلاق ، فاسد عقائد اور مُہلِک جہالتیں ہیں ، قرآنِ پاک ان تمام اَمراض کو دور
کرتا ہے۔
( 3 )… قرآنِ کریم کی
صفت میں ہدایت بھی فرمایا ،کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق
دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے
فائدہ اٹھاتے ہیں۔
( خازن، یونس، تحت
الآیۃ: ۵۷ ، ۲ / ۳۲۰ ، ملخصاً )
شریعت ،طریقت اور حقیقت کی طرف اشارہ:
علامہ
صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت
کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ
نفع دینے والی چیزوں یعنی اچھے اعمال کی ہدایت اور نقصان دینے والی چیزوں یعنی برے
اعمال سے ڈرانا۔’’ مِنْ رَّبِّكُمْ ‘‘ ’’ مَوْعِظَةٌ ‘‘
کی صفت ہے اور ارشاد فرمایا ’’ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی
الصُّدُوْرِ ‘‘ اس میں سینوں سے مراد دل ہیں اور معنی یہ ہے کہ
قرآن وعظ و نصیحت کرنے والا ہے اورا سی کے ذریعے دلوں کے اَمراض
یعنی کینہ ،حسد، بغض اور برے عقائد سے شفاء نصیب ہوتی ہے۔اور ارشاد فرمایا
’’ وَهُدًى ‘‘ یعنی نور جو کہ کامل مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے
اور اس کے ذریعے وہ حق و باطل میں اِمتیاز کر لیتے ہیں۔ مزید فرماتے
ہیں ’’اس آیت میں شریعت ، طریقت اور حقیقت تینوں کی طرف اشارہ ہے۔
شریعت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’ مَوْعِظَةٌ مِّنْ
رَّبِّكُمْ ‘‘ میں ہے، کیونکہ شریعت سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے اور
طریقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی
الصُّدُوْرِ ‘‘ میں ہے کیونکہ طریقت باطن کو ہر نا مناسب چیز
سے پاک کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے ’’ وَ هُدًى
وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘ میں ہے کیونکہ حقیقت ہی کے
ذریعے دلوں میں ان اَنوار کی تجلیات پھیلتی ہیں جن کے ذریعے چیزیں اپنی حقیقت کے
مطابق نظر آتی ہیں۔ جب دلوں میں ان انوار کی تجلیات آ جائیں تو پھر
ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے اور
ہر چیز علمِ ذوقی کے اعتبار سے اس کے قریب ہو جاتی ہے،خلاصہ یہ
ہے کہ حقیقت طریقت کا ثمرہ ہے اور حقیقت، طریقت اور شریعت کو مضبوطی سے
تھامنے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے ،اسی لئے کہا گیا ہے کہ حقیقت شریعت کے
بغیر باطل ہے اور شریعت حقیقت کے بغیربیکار ہے۔
( صاوی، یونس، تحت
الآیۃ: ۵۷ ، ۳ / ۸۷۶ - ۸۷۷ )
(پ۱۱، يونس: ۵۷)
ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ
فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًاؕ-یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ
مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً
لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(69)
اور اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لیے
نرم و آسان ہیں اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے جس میں لوگوں کی
تندرستی ہے بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔
(پ۱۴،
النحل: ۶۹)
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ
شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا
خَسَارًا(82)
اور
ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے
ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔
(پ۱۵،
بنی اسرائیل: ۸۲)
وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ
اور
جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
{وَ اِذَا مَرِضْتُ: اور جب میں بیمار ہوں ۔} یہاں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
ادب کی وجہ سے بیماری کو اپنی طرف اور شفاء کو اللہ تعالٰی کی طرف منسوب
فرمایا اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہوتی ہیں
۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳ / ۳۸۹) اس سے معلو م ہوا کہ برائی کی نسبت
اپنی طرف اور خوبی و بہتری کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کرنی چاہیے۔
(پ۱۹،
الشعراء: ۸۰)
وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا
لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗؕ-ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّؕ-قُلْ
هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ-وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ
فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًىؕ-اُولٰٓىٕكَ یُنَادَوْنَ مِنْ
مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ(44)
اور
اگر ہم اُسے عجمی زبان کا قرآن کرتے تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی
گئیں کیا کتاب عجمی اور نبی عربی تم فرماؤ وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے
اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹَینٹ ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے
گویا وہ دُور جگہ سے پکارے جاتے ہیں۔
(پ۲۴،
حم السجدة: ۴۴)
No comments:
Post a Comment