Sunday, August 16, 2026

خاموشی کی برکتیں: زبان کی حفاظت، فضول گفتگو سے بچنے اور گھریلو امن کا اسلامی نسخہ

کینسر کی مریضہ صحت یاب ہو گئیں

الحمدُ للہ! دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول کی بھی کیا خوب برکتیں ہیں، ان برکتوں کا اندازہ لگانے کے لئے ایک ”مدنی بہار“ سنئے اور جھومئے: اولڈ کانپور (ہند) کے ایک اسلامی بھائی کی خوش بختی کہ انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستگی نصیب ہوئی۔ ان کی نانی جان کی طبیعت بہت ناساز تھی، بہتیرا علاج کروایا مگر شفانہ مل سکی۔ ڈاکٹروں نے کہا: ”انہیں سرطان (یعنی CANCER) ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ خبر بھی سنا دی کہ یہ چند دنوں کی مہمان ہیں۔“ اس خبرِ وحشت اثر سے یہ گھبرا گئے، انہوں نے اللہ رَبُّ العِزَّت کے بھروسے نانی جان کی صحت یابی کی دعا مانگنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی اور رو رو کر دُعا کی: ”یا اللہ پاک! یہاں جو بھی تیرا محبوب (یعنی پیارا) بندہ ہے اس کے صدقے میری پیاری نانی جان کو صِحّت کی نعمت عطا فرما۔“ اگلے روز جب نانی جان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ اجتماع میں عاشقانِ رسول کے درمیان مانگی جانے والی دُعا کی برکت یوں ظاہر ہوئی کہ ان کی نانی جان اب نہ صرف بیٹھ رہی تھیں بلکہ تندرست ہو کر چل پھر رہی تھیں۔

تِرا شکر مولا دیا دینی ماحول | نہ چھوٹے کبھی بھی خدا دینی ماحول

سلامت رہے یاخدا دینی ماحول | بچے بد نظر سے صدا دینی ماحول

(وسائلِ بخشش، ص647)

کوئی بیماری لاعلاج نہیں

سُبْحٰنَ اللہ! اللہ پاک ہر شے پر قدرت رکھتا ہے، وہ چاہے تو کینسر بھی ٹھیک ہو جائے۔ یقیناً بڑھاپے اور موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ ہاں! یہ بات الگ ہے کہ کئی اَمراض کا علاج اَطِبّا (یعنی ڈاکٹرز) اب تک دریافت نہیں کر پائے۔ لہٰذا یہ کہنے کے بجائے کہ ”فلاں مرض کا علاج نہیں ہے“ مناسب یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ ہمارے پاس اس بیماری کا علاج نہیں یا ڈاکٹرز ابھی تک اس مرض کا علاج دریافت نہیں کر سکے۔ بہرحال ربِّ کریم چاہے تو دوا شفاکا ذریعہ (ذ-ری-عہ) بنے ورنہ عین ممکن ہے کہ وہی دواموت کا سبب بن جائے! اور یہ بھی اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ماہر ڈاکٹر کی طرف سے ملنے والی درست دوا کے باوجود کسی مریض کو منفی اثر (REACTION) ہو جاتا ہے۔

کینسر کا روحانی علاج

اوّل و آخر گیارہ (11) بار دُرُودِ ابراہیم اور درمیان میں ”سورۂ مُزَّمِّل“ پڑھ کر پانی پر دم کیجئے، ضرورتًا دوسرا پانی ملاتے رہئے، مریض وہی پانی سارا دن پیئے، یہ عمل چالیس (40) دن تک بلا ناغہ کرتے رہئے، اِنْ شَآءَ اللہ شفاحاصل ہو گی۔ (دوسرا بھی پڑھ کر دم کر کے مریض کو پلا سکتا ہے)

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

بیوقوف جب تک خاموش رہتا ہے پہچانا نہیں جاتا

خاموش رہنے سے بعض اوقات لوگوں پر دھاک بیٹھی رہتی ہے، لوگ عِزَّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جو ہر وقت بولتا رہتا ہے اس کا رُعب ختم ہو جاتا ہے اور اس کی بات کا ”وَزْن“ بھی نہیں رہتا۔ چنانچہ ابراہیم نَخَعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جو شخص غور کرے تو وہ تمام اَہْلِ مجلس سے اَشْرَف (یعنی شریف ترین) اور زیادہ رُعب دار اُس شخص کو پائے گا جو اکثر خاموش رہتا ہو، کیونکہ خاموشی عالم کے لیے زینت ہے اور جاہل کے لیے پردہ۔

(تنبیہ المغترین، ص190)

آدھی رات تک اگر سورج نہ ڈوبے تو؟ (واقعہ)

اے عاشقانِ رسول! واقعی زبان بند رکھنے سے بھرم قائم رہتا ہے، انسان جیسے ہی بولنا شروع کرتا ہے، اُس کا ”بھاؤ“ (یعنی سمجھداری کا) پتا چل جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرتِ امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ کے ساتھ ایک شخص بیٹھتا تھا مگر کبھی کچھ بولتا نہیں تھا۔ ایک بار حضرتِ امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ نے اُس سے فرمایا: آپ کبھی کوئی سوال کیوں نہیں کرتے؟ ہمیشہ چپ ہی رہتے ہیں؟ یہ سن کر اُس نے سوال کر دیا: اچھا یہ بتائیے کہ روزہ کب اِفطار کرنا چاہئے؟ فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے۔ وہ بولا: اگر آدھی رات تک سورج غروب ہی نہ ہو تو؟ یہ سوال سن کر حضرتِ امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ ہنس پڑے اور فرمایا: آپ کا خاموش رہنا ہی بہتر تھا، میں نے آپ کی زبان کھلوا کر غلطی کی۔ (

تاریخِ بغداد، 14/ 251)

کاش! میں گونگا ہوتا

اے عاشقانِ رسول! دیکھا جائے تو نابینا فائدے میں رہتا ہے کہ غیر عورتیں، فلمیں ڈرامے، کسی ”ہاف پینٹ“ والے شخص کے کھلے گھٹنے اور رانیں دیکھنے، اَمْرَد پر ”مخصوص لذّت“ والی نظر ڈالنے وغیرہ وغیرہ گناہوں سے بچا رہتا ہے، اسی طرح گونگا بھی زبان کی بے شمار آفتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ، عاشقِ اکبر، حضرتِ صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ (بطورِ عاجزی) فرماتے ہیں: ”کاش! میں گونگا ہوتا مگر ذِکرُ اللہ کی حد تک گوئیائی (یعنی بولنے کی صلاحیت) حاصل رہتی۔

(مرقاۃ المفاتیح، 10/ 87)

کاش! یہ گونگی ہوتی

احیاء العلوم“میں ہے: صحابیِ رسول، حضرتِ ابو دَرْدا رضی اللہ عنہ نے ایک زبان دراز (یعنی زیادہ باتیں کرنے والی) عورت دیکھی تو فرمایا: اگر یہ گونگی ہوتی تو اس کے حق میں بہتر تھا۔

(احیاء العلوم، 3/ 142)

گھر اَمن کا گہوارہ کیسے بنے!

اللہ پاک کے پیارے پیارے سب سے آخری نبی، مَکّی مَدَنی، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیارے صحابی حضرتِ ابو دردا رضی اللہ عنہ کے مبارک ارشاد سے خصوصاً ہماری وہ اسلامی بہنیں درس حاصل کریں جو فضول باتوں، غیر ضروری سوالوں، بدگمانیوں اور غیبتوں وغیرہ سے فرصت نہیں پاتیں، اسلامی بہنیں اگر صحیح معنوں میں خاموش رہنا سیکھ جائیں تو ان کی گھریلو پریشانیاں، رشتے داروں سے ناچاقیاں (یعنی ان بن) اور ساس بہو کی لڑائیاں وغیرہ بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور سارے کا سارا خاندان اَمن کا گہوارہ بن (یعنی پُر سکون ہو) جائے کیونکہ زیادہ تر گھریلو جھگڑے زبان کے غلط استعمال ہی کے سَبَب ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی ایک قابلِ غور پوسٹ

سوشل میڈیا کی ایک توجّہ طلب پوسٹ معمولی فرق کے ساتھ پیش کی جاتی ہے، کسی لڑکی نے پوسٹ کی: اگر شادی کے بعد ماں باپ کو ساتھ رکھنے کا حق بیٹیوں کو مل جاتا تو ملک میں ایک بھی ”اولڈ ہاؤس“ نہ ہوتا۔ اس پر کسی لڑکے نے بھی خوب جواب دیا کہ اگر وہی بیٹیاں شادی کے بعد ساس سسر ہی کو ماں باپ مان لیں تو ملک تو کیا پوری دنیا میں ایک بھی اولڈ ہاؤس باقی نہ رہے۔

اس پوسٹ میں صرف اُن عورتوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جو اپنی ساس نندوں وغیرہ کے سامنے خوب زبان چلاتی ہیں اور گھر کا اَمن تہ و بالا کرتی ہیں، ورنہ معاشرے میں سسرال کے اندر ظلم سہنے والی خواتین کی بھی ایک تعداد ملے گی۔

ساس بہو کا جھگڑا نمٹانے کا نُسخہ

ساس اگر ڈانٹ ڈپٹ کرتی ہو تو ”بہو“ کو چاہیے کہ صرف اور صرف صبر کرے، جواباً ایک لفظ بھی نہ کہے اور اپنے شوہر کو شکایت بھی نہ کرے، منہ بھی نہ چڑھائے اور اپنے بچوں کو جھاڑ کر یا برتن وغیرہ پچھاڑ کر ان پر بھی غصہ نہ نکالے اور میکے میں بھی کچھ نہ بتائے، اِنْ شَآءَ اللہ الکریم آہستہ آہستہ گھریلو مسائل حل ہو جائیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی بہو اپنی ”ساس“ سے جھگڑا کرتی ہو تو ساس کو چاہئے کہ بالکل جوابی کارروائی نہ کرے، صرف خاموشی اختیار کرے، گھر کے کسی فرد حتّٰی کہ اپنے بیٹے کو بھی شکایت نہ کرے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الکریم اس کہاوت: ”ایک چپ سو سکھ“ کے مطابق سکھ چین پائے گی۔ جی ہاں! اگر صحیح معنوں میں سگِ مدینہ عَفِیَ عَنْہُ کے اس ”نُسخے“ پر عمل کیا گیا تو اِنْ شَآءَ اللہ الکریم جلد ہی ساس بہو کی لڑائی ختم ہو جائے گی اور گھر اَمن کا گہوارہ (یعنی راحتوں بھرا) بن جائے گا۔

خاموشی کی بَرَکت سے دیدارِ مصطفٰے

ایک اسلامی بہن نے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی طرف سے جاری کردہ خاموشی کی اہمیت پر مبنی سنّتوں بھرے بیان کی آڈیو کیسٹ سُن کر خاموش رہنا شروع کر دیا، تین ہی دن میں ان کو اندازہ ہو گیا کہ پہلے وہ کس قدر فالتو باتیں کیا کرتی تھیں! الحمدُ للہ الکریم خاموشی کی برکت سے انہیں اچھے اچھے خواب نظر آنے لگے، فضول باتوں سے بچنے کی کوشش کے تیسرے دن انہوں نے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ سنّتوں بھرے بیان کی ایک مزید آڈیو کیسٹ بنام ”اطاعت کسے کہتے ہیں“ سنی۔ رات جب سوئیں تو الحمدُ للہ الکریم کیسٹ میں بیان کردہ ایک واقعہ انہیں خواب میں دکھائی دینے لگا! ”جنگ کا نقشہ تھا، سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دشمن کی جاسوسی کے لیے اپنے پیارے صحابی حضرت حُذیفہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کرتے ہیں، وہ کفار کے خیموں کے پاس پہنچتے ہیں تو انہیں کفار کے سردار حضرت ابو سفیان (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں، موقع غنیمت جانتے ہوئے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کمان پر تیر چڑھا لیتے ہیں کہ انہیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ حکم یاد آتا ہے کہ ”کفار کو خبر نہ ہو“ چنانچہ اپنے پیارے آقا، مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت (یعنی فرماں برداری) کرتے ہوئے تیر چلانے سے باز رہتے ہیں، پھر حاضر ہو کر تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمتِ بابرکت میں کارکردگی پیش کرتے ہیں۔ الحمدُ للہ الکریم اس خواب میں ان اسلامی بہن کو سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور دو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہما کی صاف صاف زیارت نصیب ہوئی، باقی سب مناظر دھندلے (BLUR) نظر آرہے تھے۔ ”الحمدُ للہ! صرف تین دن کی فضول گوئی سے بچنے کی کوشش سے ان پر آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بہت بڑا کرم ہو گیا، ان کا کہنا تھا: بس میری تمنّا ہے کہ کبھی بھی میری زبان سے کوئی فالتو لفظ نہ نکلے۔

اللہ! کروں میں نہ کبھی فالتو باتیں

بس ذکر میں گزریں مرے دن اور میری راتیں

صَلُّوا عَلَى الْحَبِيْب! صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

No comments:

Post a Comment