Saturday, August 15, 2026

Treatment Through the Verses of Healing | Ayat-e-Shifa Se Ilaaj (آیاتِ شفاء سے علاج)

کسی بھی قسم کی بیماری، مشکل یا پریشانی کے وقت قرآنِ پاک کی درج ذیل چھ آیاتِ شفاء پڑھ کر دم کر لیجیے یا پانی پر دم کر کے مریض کو پلا دیجیے یا کسی پرچے پر لکھ کر تعویذ بنا کر پہن لیجیے، اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس کی برکت سے تمام بیماریوں سے شفاء حاصل ہو گی:

وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مَّؤْمِنِيْنَ

(پ۱۰، التوبة: ۱۴)

وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِ

(پ۱۱، يونس: ۵۷)

یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-

(پ۱۴، النحل: ۶۹)

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ

(پ۱۵، بنی اسرائیل: ۸۲)

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ

(پ۱۹، الشعراء: ۸۰)

قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ

(پ۲۴، حم السجدة: ۴۴)

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ(14)

تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا۔

{ قَاتِلُوْهُمْ : تم ان سے لڑو۔}  ارشاد فرمایا کہ تم ان سے لڑو،  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا وعدہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں سے قتل کے ذریعے انہیں عذاب دے گا اور انہیں   قید میں مبتلا کر کے   ذلیل ورسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا اور ان پر غلبہ عطا فرمائے گا اور ایمان والوں کے دلوں کو ٹھنڈا کردے گا۔  

( مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ:  ۱۴ ، ص ۴۲۸ ) 

                تاریخ شاہد ہے کہ  اللہ  تعالیٰ نے یہ سارے وعدے پورے فرمائے اور تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی دی ہوئی ساری خبریں سچ ثابت ہوئیں اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نبوت کا ثبوت واضح تر ہوگیا۔ اس  آیت سے معلوم ہوا کہ کفار سے اپنا بدلہ لینا جس سے مسلمانوں کے دلوں کا رنج نکلے جائز ہے بلکہ بعض اوقات بدلہ لینا ضروری ہے مگر ظلم و زیادتی نہ ہو۔ 

(پ۱۰، التوبة: ۱۴)

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(57)

اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔

{  یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ : اے لوگو!۔}  اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے نصیحت، شفا،ہدایت ا ور رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب اُن فوائدِ عظیمہ کی جامع ہے۔ 

قرآنِ مجید کے عظیم فوائد : 

              اس آیت میں قرآنِ کریم کے تین عظیم فائدے بیان کئے گئے 

( 1 )…  ’’  مَوْعِظَةٌ  ‘‘اس کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو پسندیدہ چیزکی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ۔ خلیل نے کہا کہ ’’  مَوْعِظَةٌ   ‘‘نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو۔  

( خازن، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۲  /  ۳۲۰

                تفسیر جمل میں ہے کہ ’’   مَوْعِظَةٌ ‘‘ کا معنی ہے وعظ و نصیحت یعنی مُکَلَّف کے سامنے نیک اعمال جو کہ اس کیلئے فائدہ  مند ہیں اور برے اعمال جو کہ اس کے لئے نقصان دِہ ہیں بیان کر کے اسے نصیحت کرنا اسی طرح اچھے عمل کرنے کی ترغیب دینا اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانا بھی اس میں داخل ہے۔  

( جمل، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۳  /  ۳۷۲  

اور قرآنِ کریم سے یہ فائدہ انتہائی احسن طریقے سے حاصل ہوتاہے۔ 

( 2 )…شفاء : اس سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی اَمراض کودور کرتا ہے، دل کے امراض سے مراد مَذموم اَخلاق ، فاسد عقائد اور مُہلِک جہالتیں ہیں ، قرآنِ پاک ان تمام اَمراض کو دور کرتا ہے۔  

( 3 )… قرآنِ کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا ،کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔  

( خازن، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۲  /  ۳۲۰ ، ملخصاً

شریعت ،طریقت اور حقیقت کی طرف اشارہ: 

              علامہ صاوی    رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’   مَوْعِظَةٌ ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ نفع دینے والی چیزوں یعنی اچھے اعمال کی ہدایت اور نقصان دینے والی چیزوں یعنی برے اعمال سے ڈرانا۔’’   مِنْ رَّبِّكُمْ ‘‘   ’’   مَوْعِظَةٌ  ‘‘ کی صفت ہے اور ارشاد فرمایا ’’  وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ‘‘ اس میں سینوں سے مراد دل ہیں اور معنی یہ ہے کہ قرآن وعظ  و نصیحت کرنے والا ہے اورا سی کے ذریعے دلوں کے اَمراض یعنی کینہ ،حسد، بغض اور برے عقائد سے شفاء نصیب ہوتی ہے۔اور ارشاد فرمایا ’’ وَهُدًى ‘‘ یعنی نور جو کہ کامل مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ حق و باطل  میں اِمتیاز کر لیتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں ’’اس آیت میں شریعت ، طریقت اور حقیقت تینوں کی طرف اشارہ ہے۔ شریعت  کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ‘‘ میں ہے، کیونکہ شریعت سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے اور طریقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے’’  وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ‘‘ میں ہے کیونکہ طریقت باطن کو ہر نا  مناسب چیز سے پاک کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت کی طرف اشارہ آیت کے اس حصے ’’  وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘ میں ہے کیونکہ  حقیقت ہی کے ذریعے دلوں میں ان اَنوار کی تجلیات پھیلتی ہیں جن کے ذریعے چیزیں اپنی حقیقت کے مطابق نظر آتی ہیں۔  جب دلوں میں ان انوار کی تجلیات آ جائیں تو پھر ہر چیز میں   اللہ  تعالیٰ کی قدرت دکھائی دیتی ہے اور ہر چیز علمِ ذوقی کے اعتبار   سے اس کے قریب ہو جاتی ہے،خلاصہ یہ ہے کہ حقیقت طریقت کا ثمرہ ہے اور حقیقت، طریقت اور شریعت کو مضبوطی سے تھامنے  کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے ،اسی لئے کہا گیا ہے کہ حقیقت شریعت کے بغیر باطل ہے اور شریعت حقیقت کے بغیربیکار ہے۔    

( صاوی، یونس، تحت الآیۃ:  ۵۷ ،  ۳  /  ۸۷۶ - ۸۷۷

(پ۱۱، يونس: ۵۷)

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًاؕ-یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(69)

 اور اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لیے نرم و آسان ہیں اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے جس میں لوگوں کی تندرستی ہے بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔

(پ۱۴، النحل: ۶۹)

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا(82)

اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔  

(پ۱۵، بنی اسرائیل: ۸۲)

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ

 اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

{وَ اِذَا مَرِضْتُ: اور جب میں بیمار ہوں ۔} یہاں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ادب کی وجہ سے بیماری کو اپنی طرف اور شفاء کو اللہ تعالٰی کی طرف منسوب فرمایا اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہوتی ہیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳ / ۳۸۹) اس سے معلو م ہوا کہ برائی کی نسبت اپنی طرف اور خوبی و بہتری کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کرنی چاہیے۔

(پ۱۹، الشعراء: ۸۰)

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗؕ-ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّؕ-قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ-وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًىؕ-اُولٰٓىٕكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ(44)

اور اگر ہم اُسے عجمی زبان کا قرآن کرتے تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں کیا کتاب عجمی اور نبی عربی تم فرماؤ وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹَینٹ ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے گویا وہ دُور جگہ سے پکارے جاتے ہیں۔

(پ۲۴، حم السجدة: ۴۴)

Friday Night and Friday Day Wazaaif (شبِ جمعہ و روزِ جمعہ کے وظائف)

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جس نے شبِ جمعہ سورۂ یٰسٓین کی تلاوت کی اُس کی مغفرت کر دی جائے گی۔

(الترغیب والترہیب، ج1، ص298، حدیث: 4)

یہ مبارک فرمان شبِ جمعہ سورۂ یٰسٓین کی تلاوت کی فضیلت اور اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ جمعہ کا دن اور اس کی رات مسلمانوں کے لیے بڑی برکتوں والی ہے۔ اس موقع پر ہمیں چاہیے کہ دنیاوی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر اللہ تعالیٰ کی عبادت، قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر و اذکار، درودِ پاک اور استغفار میں گزاریں۔ سورۂ یٰسٓین کی تلاوت کرتے وقت اس کے معانی پر غور کرنا اور قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے کا عزم بھی کرنا چاہیے۔ گناہوں سے سچی توبہ، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنا اور نیک اعمال اختیار کرنا مسلمان کی زندگی کو سنوارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ جمعہ کی برکتیں حاصل کرنے، قرآنِ کریم سے محبت کرنے اور کثرت سے تلاوت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جو جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اُس کے لیے دو جمعوں کے درمیان ایک نور روشن کر دیا جاتا ہے۔

(شعب الایمان، ج3، ص111، حدیث: 3044)

یہ مبارک فرمان جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کی فضیلت کو بیان کرتا ہے۔ سورۂ کہف کی تلاوت دل کو قرآن کی روشنی سے منور کرتی اور انسان کو آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جمعہ کے دن فرصت نکال کر سورۂ کہف کی تلاوت کریں، اس کے مضامین اور نصیحتوں پر غور کریں اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم سے سچی محبت، جمعہ کی برکتیں حاصل کرنے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جو جمعہ کے دن یا رات میں سورۂ دُخان پڑھے گا اللہ جنّت میں اُس کے لیے ایک گھر بنائے گا۔

(المعجم الکبیر، ج8، ص 201، حدیث: 8026)

یہ مبارک فرمان جمعہ کے دن اور رات قرآنِ کریم کی تلاوت کی فضیلت اور اس کے عظیم اجر کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ سورۂ دُخان کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے مضامین، اللہ تعالیٰ کی قدرت، آخرت کی جواب دہی اور نیک اعمال کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے۔ قرآنِ کریم صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ ہدایت اور اصلاحِ زندگی کے لیے بھی نازل ہوا ہے۔ ہمیں اس فضیلت کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنِ پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم سے محبت، اخلاص کے ساتھ تلاوت اور جنت میں گھر پانے والے اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   سورۂ قمر کو شبِ جمعہ میں پڑھنے سے دشمنوں پر فتح ملتی ہے اور مرادیں پوری ہوتی ہیں۔

(جنت کی چابیاں، ص59 / مکتبۃ المدینہ کراچی)

سورۂ قمر کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے مضامین اور نصیحتوں پر غور کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ قرآنِ کریم انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت، آخرت کی جواب دہی اور نیک اعمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اپنی حاجات اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگنی چاہیے اور اسی پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی تلاوت، سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   جو شخص جمعہ کے دن نمازِ فجر سے پہلے تین بار

اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ اَتُوْبُ اِلَيْهِ

پڑھے اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۔

(معجم اوسط، ج5، حدیث: 7177)

یہ مبارک عمل اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے اور اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جمعہ کا دن رحمتوں اور برکتوں والا دن ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس دن کثرت سے استغفار، درودِ پاک، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کریں۔ استغفار کے ذریعے بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری اور محتاجی کا اعتراف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار بنتا ہے۔ صرف زبان سے استغفار کرنے کے ساتھ دل سے گناہوں پر ندامت اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ بھی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ استغفار کرنے، گناہوں سے سچی توبہ کرنے اور اپنی رحمت و مغفرت سے مالا مال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ:

v   جو مجھ پر شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ سو بار درود شریف پڑھے اللہ پاک اس کی سو حاجتیں پوری فرمائے گا 70 آخرت کی اور 30 دنیا کی۔۔

(شعب الایمان، ج3، ص111، حدیث: 3035)

یہ مبارک فرمان جمعہ کے دن اور رات درودِ پاک کی کثرت کی فضیلت کو بیان کرتا ہے۔ جمعہ مسلمانوں کے لیے رحمت، برکت اور نیکیوں کا خصوصی دن ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس بابرکت موقع پر محبت و عقیدت کے ساتھ کثرت سے درودِ پاک پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کریں۔ درودِ پاک پڑھنے سے دل کو سکون، روح کو تازگی اور حضورِ اکرم ﷺ سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اپنی حاجات پیش کرتے وقت اللہ تعالیٰ ہی سے دعا مانگنی چاہیے اور اُس کی رحمت پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ صرف اپنی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی بھلائی، مغفرت اور سلامتی کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ درودِ پاک پڑھنے، سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کرنے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   جب نمازِ جمعہ کا سلام پھیرے تو حالتِ تشہد میں ہی کسی سے بات کرنے سے قبل سات مرتبہ سُوْرَةُ الْفَاتِحَه، سات مرتبہ سُوْرَةُ الْاِخْلَاص، سات مرتبہ سُوْرَةُ الْفَلَق، سات مرتبہ سُوْرَةُ النَّاس پڑھے، جو شخص ایسا کرے گا ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک محفوظ ہو جائے گا اور یہ وظیفہ اس کے لیے شیطان سے آڑ ہو گا۔

(قوت القلوب، ج1، ص 343 / مکتبۃ المدینہ کراچی)

یہ عمل قرآنِ کریم سے تعلق مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جمعہ کے دن نماز اور تلاوت کے ساتھ ذکر و اذکار، درودِ پاک اور استغفار کا بھی اہتمام کریں۔ خصوصاً معوذتین یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ نیک اعمال میں اخلاص اختیار کرے اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ فرمائے اور قرآنِ کریم کی برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین۔

v   جو جمعہ کے دن یہ کلمات 70 مرتبہ پڑھے اس کے رزق میں برکت ہو گی:

اَللّٰهُمَّ اَغْنِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَ اَکْفِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ

(راہِ علم، ص 93 / مکتبۃ المدینہ کراچی)

یہ نہایت جامع دعا ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے حلال رزق کے ذریعے حرام سے بچنے اور اپنے فضل کے ذریعے تمام مخلوق سے بے نیاز ہونے کی التجا کرتا ہے۔ جمعہ کا دن برکتوں اور رحمتوں والا دن ہے، اس لیے اس دن ذکر و اذکار، درودِ پاک، تلاوتِ قرآن اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ رزق میں برکت کے لیے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا رکھنے کے ساتھ حلال روزی کمانا، سچائی اختیار کرنا، نماز کی پابندی کرنا اور حرام ذرائع سے بچنا بھی ضروری ہے۔ اس دعا کو اخلاص اور یقین کے ساتھ پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق کی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے، حرام سے محفوظ رکھے اور اپنے فضل سے بے نیاز فرمائے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

v   جو کوئی (سال بھر میں جب بھی) نمازِ جمعہ سے قبل تین بار سُوْرَةُ الْقَدْر پڑھتا ہے اللہ عزوجل اس روز کے تمام نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے۔

(فیضانِ سنت، ج1، ص 1129 / مکتبۃ المدینہ)

سورۂ قدر میں شبِ قدر کی عظمت، قرآنِ کریم کے نزول اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں کا ذکر ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ نمازِ جمعہ کی تیاری وقت سے پہلے کرے، پاکیزگی اختیار کرے، اچھے لباس کا اہتمام کرے، درودِ پاک پڑھے، ذکر و اذکار کرے اور نماز سے پہلے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہے۔ ایسے نیک اعمال دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے منور کرتے اور آخرت کے لیے نیکیوں کا ذخیرہ فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں ہر عمل اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جمعہ کی برکتیں نصیب فرمائے، قرآنِ کریم کی محبت عطا فرمائے اور نیک اعمال کی توفیق دے۔ آمین بجاہ النبی ﷺ۔

يَا بَصِيْرُ

v   جو شخص جمعہ کی نماز سے پہلے 100 مرتبہ پڑھ لے تو اللہ اس کی بصیرت میں اضافہ فرمادے گا اور اسے اچھی باتوں اور نیک کاموں کی توفیق نصیب فرمائے گا۔

(روح البیان، سباء تحت الآیۃ11، 268/7)

 یَا بَصِیْرُ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہے، جس کے معنی ہیں: اے سب کچھ دیکھنے والے! اس ذکر کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور اپنے اعمال کے ہر وقت اس کے علم میں ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس ذکر کے ساتھ اخلاص، عاجزی اور پابندی اختیار کریں، نیکی کی طلب کریں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

يَا مُعِزُّ

v   جو کوئی اسے بعد نمازِ عشاء شبِ جمعہ 140 بار پڑھے مخلوق کی نظر میں اس کی عزت و حرمت اور ہیبت بڑھے گی۔

(مدنی پنج سورہ، ص 269، مکتبۃ المدینہ کراچی)

یَا مُعِزُّ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہے، جس کے معنی ہیں: ”عزت عطا فرمانے والا۔ حقیقی عزت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، اس لیے ذکر کرتے وقت اسی کی بارگاہ سے عزت اور خیر طلب کرنی چاہیے۔ اس وظیفے کو اخلاص، پاکیزہ نیت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ ساتھ ہی فرائض کی پابندی، سنتوں کی پیروی اور اچھے اخلاق اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔